ریپبلک آف پاناما وسطی امریکہ میں واقع ہے۔ دارالحکومت اس کا پاناما,سٹی ہے جسکی کل آبادی 40 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے ۔ پاناما کے مغرب میں کوسٹاریکا اور جنوب مشرق میں کولمبیا واقع ہے ۔ 1903 میں پاناما کولمبیا سے آزاد ہو کر ایک خود مختار ملک بن گیا تھا۔ یہ انتہائی سر سبز ملک ہے۔ اس میں ہر طرف سبزہ اور چھوٹے چھوٹے پہاڑ ہیں۔ جب کہ کچھ جگہوں پر اونچے اور خنک پہاڑ بھی ہیں۔ جغرافیائی طور پر اسے اس لئے بھی اہمیت حاصل ہے کہ اسکے ایک طرف بحیرہ او قیانوس اور دوسری جانب بحرالکاہل ہے ۔ یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ بحرالکاہل دنیا کا سب سے بڑا اور گہرا سمندر ہے جو مشرق سے مغرب تک بے شمار ملکوں کو چھوتا ہوا گزرتا ہے ۔ پاناما وسطی امریکہ کی دوسری بڑی معیشت ہے ۔ پاناما کی معیشت کا زیادہ دارومدار اس کی نہر ” پاناما نہر ” کی آمدن سے ہے کیونکہ اس نہر کے ذریعے گزرنے والے تمام بحری جہازوں سے نہر کے استعمال کا معاوضہ دو لاکھ ڈالر وصول کیا جاتا ہے۔
اسی لئے اس منفرد آبی گزر گاہ کو ” طلسماتی گزر گاہ ” بھی کہا جاتا ہے ۔ اکثر لوگ سوچتے ہیں کہ آخر ایسی کون سی خاص بات ہے کہ ” امریکن سوسائٹی آف سول انجینئرز ” نے اسے دنیا کے سات عجائبات میں سے ایک قرار دیا ہے ۔ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لئے ہمیں اسکے جغرافیائی محل وقوع اور تکنیکی پہلوئوں کا احاطہ بھی کرنا ہو گا۔ جب ہم دنیا کے نقشے پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں دنیا کے دو بڑے سمندروں بحیرہ اوقیانوس اور بحر الکاہل کے درمیان شمالی امریکہ اور جنوبی امریکہ کے دو بڑے بر اعظم نظر آتے ہیں اور ساتھ ہی ان دونوں براعظموں کے درمیان خشکی کا طویل بل کھاتا ٹکڑا نظر آئے گا جو شمال سے جنوب کی طرف جاتے ہوئے بتدریج پتلا ہوتا چلا جاتا ہے اور میکسیکو سے شروع ہو کر پاناما, پر ختم ہوتا ہوا جنوبی امریکہ کے براعظم سے مل جاتا ہے ۔ اس براعظم پر بحیرہ اوقیانوس اور بحرالکاہل کا درمیانی فاصلہ گھٹ جاتا ہے اور پاناما میں ایک مقام پر محض 50 میل رہ جاتا ہے۔
بیسویں صدی سے پہلے اگر کوئی سمندری جہاز امریکہ کی مشرقی جانب سے مغرب کے کسی ملک جانا چاہتا تو اسے خشکی کے اس چھوٹے سے ٹکڑے کی وجہ سے پورے جنوبی امریکہ کا چکر لگا کر کم و بیش دس ہزار میل کا فاصلہ لگ بھگ ایک ماہ میں طے کرنا ہوتا تھا جن ممالک کو امریکہ کے مغرب میں تجارتی سفر کرنا پڑتے تھے ان کے دل میں یہ خیال آیا کہ اگر اس پچاس میل کے خشکی کے ٹکڑے کو کسی طرح جہازرانی کے قابل پانی میں تبدیل کر دیا جائے تو بحیرہ اوقیانوس سے براہ راست بحیرہ الکاہل میں اترنے کا شارٹ کٹ نکل آئے گا۔ اس زمانے میں پاناما کا علاقہ کولمبیا کے زیر اثر تھا۔ نہر پاناما کی تعمیر کا قصہ لگ بھگ ایک سو چالیس برس قبل شروع ہوا , چونکہ اتنا بڑا منصوبہ پاناما جیسی چھوٹی اور محدود وسائل والی ریاست کے لئے ممکن نہ تھا ۔ اس زمانے میں ہسپانیہ کی سلطنت عروج پر تھی اور پوری دنیا میں اسکی ترقی اور نئی آباد کاری کا ڈنکا بجتا تھا اس لئے اس نے یہاں آ کر نہر بنانے کا ارادہ کیا لیکن تھوڑے ہی عرصے بعد اس کی عدم دلچسپی کے باعث یہ منصوبہ آگے نہ بڑھ سکا اور ہسپانوی حکومت کو اس دعوے سے دست بردار ہونا پڑا ۔
اس کے بعد کولمبیا کی حکومت نے فرانس کی ایک کمپنی کو یہ علاقہ جہاں دونوں سمندروں کے درمیان نہر بنائی جا سکتی تھی 99 سالہ لیز پر ایک معاہدے کے تحت دے دیا۔ اس کمپنی کے انجینئر فرڈنینڈ نے 1881 میں اس علاقے میں کام کی شروعات کی ۔ جس میں 17000 مزدور کھدائی پر معمور کئے گئے ۔ یہ مزدور زیادہ تر ویسٹ انڈین تھے ۔ لیکن بد قسمتی سے یہ منصوبہ بائیس ہزار مزدوروں کی ہلاکتوں کے باوجود بھی ادھورے کا ادھورا ہی رہا۔ کیونکہ اس علاقے میں ملیریا, اور یرقان کی جان لیوا وبا اچانک پھوٹ پڑی علاوہ ازیں مٹی کے تودے گرنے سے بھی ہلاکتیں روز کا معمول بن چکی تھیں دوسری طرف یہاں چند گھنٹوں کی بارش مہینوں کے کام کو ملیا میٹ کر دیا کرتی تھی جسکے باعث فرانسیسی کمپنی کو بھی یہ منصوبہ 1889 میں ادھورا چھوڑ کر واپس جانا پڑ گیا ۔ اب متحدہ امریکہ ہی واحد ملک تھا جو اس کام کو پایہء تکمیل تک پہنچا سکتا تھا ۔ اور ویسے بھی اس نہر کی تعمیر سے سب سے زیادہ مفادات متحدہ امریکہ کے ہی وابستہ تھے۔ اس لئے پاناما نے 1903 میں متحدہ امریکہ کے ساتھ 99 سالہ لیز پر اس نہر کی تعمیر کا معائدہ کر لیا ۔
امریکہ نے فرانس کی ناکامیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے جو منصوبہ بنایا اس کے تحت دونوں سمندروں کو مدغم کرنے کی بجائے یہاں میٹھے پانی کی ایک مصنوعی نہر کی تعمیر کی منصوبہ بندی کی۔ خوش قسمتی سے اس علاقے میں ایک قدرتی دریا پہلے ہی سے موجود تھا ۔ اس لئے امریکیوں نے اس دریا پر بند باندھ کر ایک مصنوعی نہر تعمیر کی ۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ جس علاقے میں یہ نہر تعمیر کی گئی وہ دونوں سمندروں یعنی بحیرہ اوقیانوس اور بحرالکاہل کی سطح سے 26 میٹر بلند تھی۔ لہذا اگر جہاز بحیرہ او قیانوس میں ہے تو اسے اس نہر میں لانے کے لئے 26 میٹر اونچا کیسے کیا جائے؟ اور جب وہ نہر عبور کر کے بحر الکاہل کے پاس پہنچے تو اسے سطح سمندر تک کیسے لایا جائے؟ اور یہی مسئلہ ان جہازوں کے لئے بھی تھا جو بحرالکاہل سے بحیرہ اوقیانوس میں جانا چاہتے تھے۔ اس مسئلے کا جو حل نکالا گیا وہی پاناما نہر کا عجوبہ سمجھا جاتا ہے ۔ حل یہ نکالا گیا کہ اگر بحیرہ او قیانوس میں اس جگہ جہاز پہنچ جائے جہاں سے نہر شروع ہوتی ہے تو وہاں اسے ایک ایسے لمبے چوڑے حوض نما جھیل میں داخل کر دیا جائے جس کے دونوں طرف بڑے بڑے مضبوط دروازے لگے ہوئے ہوں۔
جب سمندر سے جہاز اس حوض میں آ جائے تو دونوں دروازے بند کر دئے جائیں اور اس حوض میں اتنا پانی بھر دیا جائے کہ وہ نہر کی سطح کے برابر پہنچ جائے۔اس وقت نہر کی طرف دروازہ کھول دیا جائے اور جہاز نہر عبور کرنے کے قابل ہو جائے۔ پھر جب وہ بحرالکاہل کے قریب پہنچے تو وہاں پھر ایک اور حوض میں داخل ہو جو داخلے کے وقت نہر کی سطح کے برابر اور سمندر کی سطح سے بلند ہو۔ یہاں دونوں طرف دروازے بند کر کے اس حوض سے پانی نکالا جائے ۔ جس کے ذریعے جہاز نیچے جانا شروع ہو جائے یہاں تک کہ جب وہ سمندر کی سطح کے برابر آ جائے تو سمندر کی طرف کا دروازہ کھول دیا جائے اور جہاز بحر لکاہل میں داخل ہو جائے گا۔ جہاز کے اوپر اور نیچے ہونے کا عمل تین مرحلوں میں مکمل ہو گا اور ہر مرحلے پر وہ ایک بڑے حوض میں داخل ہو کر پانی بھرنے یا پانی نکالنے کا انتظار کرے گا ۔ جس کے ذریعے اس کی سطح اونچی یا نیچی ہوتی رہے گی۔ ان تینوں مراحل سے ہر اس جہاز کو گزرنا پڑے گا جو بحیرہ او قیانوس سے بحرالکاہل یا بحر الکاہل سے بحیرہ اوقیانوس جانا چاہیں گے۔
متحدہ امریکہ کی دس سال کی شب وروز محنت نے رنگ دکھایا اور انجینئرنگ کی تاریخ کے اس ناقابل یقین منصوبے نے نہ صرف اس وقت کی دنیا کو حیرت زدہ کر ڈالا بلکہ اب بھی دنیا تعمیر کے اس لازوال شاہکار پر کو خراج تحسین پیش کرتی ہے ۔ اس منصوبے سے 50 میل کا فاصلہ اس مصنوعی نہر کے ذریعے اوسطا” بیس سے بائیس گھنٹوں میں طے ہو جاتا ہے جبکہ اس سے پہلے ایک سمندر سے دوسرے سمندر تک پہنچنے کے لئے اسے پورے جنونی امریکہ کا چکر لگا کر کم بیش ایک ماہ کا عرصہ درکار ہوتا تھا۔ 1977 تک امریکہ نے اس نہر کے اردگرد قائم ” پاناما کینال زون ” پر اپنا کنٹرول قائم رکھا لیکن اس کے بعد پاناما اور امریکہ نے ایک نیا معاہدہ ” پاناما کینال معاہدہ ” کیا جس کے تحت اس کا کنٹرول مشترکہ طور پر دونوں ممالک کے دائرہ اختیار میں چلا گیا اور پھر 1999 میں نہر پاناما کے علاقے کا مکمل کنٹرول ریاست پاناما کے حوالے کر دیا گیا۔ اس نہر کی تعمیر پر فرانس 1881 سے 1889 تک مصروف کار رہا جبکہ امریکہ نے 1904 میں تعمیراتی کام کا آغاز کر کے 15 اگست 1914 تک اسے مکمل کر لیا ۔ اس نہر کی تعمیر پر کل 33 کروڑ 66 لاکھ 50 ہزار ڈالر خرچ ہوئے جبکہ تقریبا 24 کروڑ مربع فٹ زمین کی کھدائی کی گئی۔ اس نہر کی کھدائی کے دوران فرانس کے کام کرنے والے 22000 لوگوں کو اور امریکہ کے 5600 کے لگ بھگ لوگوں کو جان سے ہاتھ دھونا پڑے ۔ آج نہر پاناما دنیا کی اہم ترین بحری گزر گاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے ہر سال لگ بھگ 14000 سے زائد بحری جہاز گزرتے ہیں۔
ہمارے دانشور امریکا اور یورپ کو ہمارے لیے آئیڈیل کے طور پر پیش کرتے ہیں‘ بعض حضرات جو اپنے آپ کو دانشِ حاضر کا نبّاض اور ماہر سمجھتے ہیں، وقتاً فوقتاً ہمیں بتاتے رہتے ہیں :”مغربی دنیا یا جدید دنیا نے جمہوریت کی شکل میں اپنے مسائل کا حل تلاش کر لیا ہے، الغرض جمہوریت میں ہر مسئلے کا حل موجود ہے‘‘، اگر انہیں جمہوریت کے نقائص کی طر ف متوجہ کیا جائے تو فرماتے ہیں: ”ان کا حل بھی مزید جمہوریت ہے ‘‘۔ لیکن امریکا کے حالیہ انتخابات نے امریکی جمہوریت پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں، الیکٹورل کالج اور پاپولر ووٹ میں واضح شکست کے باوجود موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے حریف جوبائیڈن کی فتح کو تسلیم کرنے پر آسانی سے تیار نہیں ہوئے اور وہ اسے ردّ کرنے کے لیے مختلف حیلے بہانے تلاش کرنے میں مصروف رہے۔ امریکی جمہوریت کو دو سو سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔ کہا جاتا تھا کہ اُن کے ادارے مضبوط ہیں، اقدار و روایات مستحکم ہیں، لہٰذا اُن کے پاس ہر مسئلے کا حل موجود ہے، مگر اب یہ دعویٰ بے جان معلوم ہوتا ہے۔
سی این این پر اُس کے معروف اینکر کرس کومو کا پروگرام پرائم ٹائم چل رہا تھا اور پروگرام کا ٹائٹل تھا: ”امریکا بحران کی زَد میں ‘‘، اس ٹائٹل کے نیچے بتایا جارہا تھا : ”تقریباً ساڑھے پانچ کروڑ امریکی بھوک سے دوچار ہیں، بے روزگاری ہے، ملک کووِڈ 19 کی وبا کی زَد میں ہے، لیکن امریکی کانگریس بے عملی سے دوچار ہے، مفلوج ہے، سیاسی پولرائزیشن ہے، بعض ڈیموکریٹس اور ریپبلکن کانگریس اراکین نے 908 ارب ڈالر کا ریلیف پیکیج تجویز کیا ہے، لیکن اُس پر بھی اتفاقِ رائے نہیں ہو پارہا۔ یہ بھی بتایا جارہا تھا کہ کورونا ویکسین کی پہلی شپمنٹ بعض ریاستوں کے طبی عملے کے لیے بھی ناکافی ہے۔ مختصر یہ کہ جمہوریت اور جمہوری ادارے امریکا کے قومی مسائل کو حل کرنے سے عاری نظر آتے ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ہماری پارلیمنٹ مفلوج ہے، بے عملی سے دوچار ہے، جو کچھ ہو رہا ہے، پارلیمنٹ سے باہر ہو رہا ہے۔ جوبائیڈن کو ٹرمپ کے مقابلے میں ستّر لاکھ سے زیادہ پاپولر ووٹوں کی برتری حاصل ہے اور پانچ سو اڑتیس کے الیکٹورل کالج میں دوسو بتیس کے مقابلے میں تین سو چھ کی برتری حاصل ہے لیکن ٹرمپ اُسے تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ امریکا کا صدارتی انتخابی نظام باقی دنیا سے بالکل مختلف ہے، اس میں حقیقی جمہوریت نہیں ہے۔
فرض کریں: ایک ریاست کے الیکٹورل ووٹ پچاس ہیں، ایک امیدوار اُس ریاست سے ڈالے گئے پچاس اعشاریہ ایک فیصد پاپولر ووٹ حاصل کرتا ہے اور دوسرا انچاس اعشاریہ نو فیصد پاپولر ووٹ حاصل کرتا ہے، ہارنے والے کے حق میں ڈالے جانے والے سارے ووٹ قدر و قیمت کے اعتبار سے زیرو ہو جاتے ہیں۔ ہماری سوچی سمجھی رائے ہے کہ جمہوریت ایک فریب ہے، سَراب ہے، یہ جمہور کی حکمرانی کا نام نہیں بلکہ اکثریت کی حکمرانی کا نام ہے اور اکثریت بھی بعض اوقات مذاق بن جاتی ہے، مثلاً: ماضی میں ایم کیو ایم کے بائیکاٹ کے نتیجے میں ڈیڑھ پونے دو ہزار ووٹ لینے والے قومی اسمبلی کے ممبر بنے ہیں، حالانکہ ایک حلقۂ انتخاب میں ووٹ دینے والے اہل افراد کی تعداد تقریباً کم وبیش پانچ لاکھ ہوتی ہے، جب پانچ لاکھ ووٹر کے حلقے میں ڈیڑھ دو ہزار ووٹ لینے والا ایم این اے بن جائے تو اسے بھی شاید جمہوریت کا حُسن کہا جاتا ہو گا۔
گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ حالات میں امریکی دستوری نظام کو اگر کسی ادارے نے بچایا ہے تو وہ امریکی عدلیہ ہے، ورنہ ٹرمپ نے انتقالِ اقتدار کے مرحلے کو ناممکن العمل بنا دیا تھا، امریکا کی دنیا بھر میں رسوائی ہوتی، مگر اب لگتا ہے کہ 14 دسمبر کو امریکی الیکٹورل کالج کا اجلاس امریکی نائب صدرمائیک پینس کی صدارت منعقد ہو جائے گا اور جوبائیڈن کو الیکٹورل کالج کے ذریعے صدر منتخب کر لیا جائے گا۔ ہٹلر اور مسولینی بھی جمہوریت کے راستے سے آئے اور پھر فاشزم اور نازی ازم کے عذاب سے دنیا کو گزرنا پڑا۔ ٹرمپ بھی جمہوری طریقے سے صدر بنا، پھر اس نے امریکا کو دنیا سے کاٹ کر رکھ دیا، جذباتی اور جنونی انداز میں فیصلے کرتا رہا، آئے دن کلیدی عہدوں پر تقرریاں ہوتیں اور پھر انہیں ایک ٹویٹ کے ذریعے برطرف کر دیا جاتا، یعنی دنیا کی سپر پاور کی حکومت ٹویٹر پر چلتی رہی۔ امریکی کانگریس اُس کے لیے چیک اینڈ بیلنس کا کوئی طریقۂ کار وضع نہ کر سکی، ریپبلکن کانگریس مین اُس کی حمایت پر اپنے آپ کو مجبور پاتے۔
ہائوس آف کامنز نے اکثریتی فیصلے کے نتیجے میں ٹرمپ کے مواخذے کی قرارداد پاس کی لیکن اس کے باوجود ریپبلکن اکثریت پر مشتمل سینیٹ نے اُسے مواخذے سے بچا لیا، ٹرمپ سرِ عام ہائوس آف کامنز کی سپیکر نینسی پلوسی کا مذاق اڑاتا رہا۔ پہلی بار ایسا ہوا کہ وفاقی سطح پر امریکی سپریم کورٹ کے نو کے نو جج صاحبان ریپبلکن نامزد تھے، لیکن انہوں نے پارٹی وابستگی سے بالاتر ہو کر امریکی نظام کو بچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اسی طرح پنسلوینیا، مشی گن اور فلوریڈا وغیرہ کی سپریم کورٹس نے بھی دانش مندی پر مبنی فیصلے کیے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر آئینی ادارے مضبوط ہوں، پارٹی وابستگی سے بالاتر ہو کر دستور کی سربلندی کے لیے کھڑے ہو جائیں‘ تو دستور اور نظام کو بچالیا جاتا ہے، ورنہ نتائج اس کے برعکس بھی نکل سکتے ہیں۔ نومنتخب امریکی صدر جوبائیڈن کی کلیدی عہدوں پر تقرریوں سے ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ اپنے ملک اور نظام کو نسلی عصبیت سے بچانا چاہتے ہیں، افریقی امریکن کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں؛ چنانچہ انہوں نے ایک غیر سفید فام خاتون کملا ہیرس کو اپنا نائب صدر نامزد کیا، وزیرِ دفاع بھی ایک سفید فام جنرل لائیڈ آسٹِن کو نامزد کیا ہے جو امریکن سینٹرل کمانڈ کے سربراہ رہ چکے ہیں۔
اسی طرح اُن کے تمام کلیدی عہدوں پر نامزد افراد ملے جلے ہیں اور ایک طرح سے پوری قوم کی نمائندگی کر رہے ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ” بلیک لائیوز میٹر ‘‘، یعنی سیاہ فاموں کی زندگیاں بھی قدروقیمت رکھتی ہیں، کی تحریک دب جائے گی اور جوبائیڈن قومی وحدت کی فضا پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ٹرمپ نے امریکا میں سفید فام نسلی عصبیت کو ابھارا ہے، اسی کو فاشزم کہتے ہیں، کچھ ایسی ہی صورتِ حال سے برطانوی جمہوریت بھی دوچار ہے، انگریزوں نے پہلے یورپی یونین کو جوائن کیا، پھر اچانک انہیں احساس ہوا کہ اُن کا ماضی کا تفاخر یورپین یونین کے گہرے سمندر میں ڈوبا جارہا ہے، اُن کی شناخت خطرے سے دوچار ہے، اُن کی دانش جس کے کبھی چہاردانگ عالَم ڈنکے بجتے تھے، زیرو ہو چکی ہے، چنانچہ جذبات میں آکر انہوں نے یورپی یونین سے خروج کا فیصلہ کیا اور وہ اب تک اُن کے گلے میں اٹکا ہوا ہے، 31 دسمبر 2020ء آخری تاریخ ہے، مگر ابھی تک حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا، الیکشن میں تو وزیراعظم بورس جانسن نے جذبات کو ابھار کر بریگزٹ کیلئے کوئی واضح متبادل پروگرام دیے بغیر دوتہائی اکثریت حاصل کر لی، لیکن چھچھوندرا بھی تک گلے میں اٹکا ہوا ہے۔
ہماری سیاست گری بھی حد درجہ خوار ہے، ایک دوسرے کی تذلیل کا بازار گرم ہے، سیاست میں دُشنام کے ماہرین کی مانگ زیادہ ہے، اقدار تباہ ہو چکی ہیں، اپنی عزت بچانے سے زیادہ دوسروں کی تذلیل کر کے راحت محسوس کی جارہی ہے اور قوم کے لیے ماحصل شرمندگی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ اگر گزشتہ ڈھائی سال سے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر استعمال کی جانے والی زبان، لغت اور لب ولہجے کو کتابی شکل دی جائے تو ایک نئی سیاسی لغت مرتب ہو سکتی ہے۔ شرقِ اوسط کے ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین وغیرہ کے ساتھ ہمارے روابط اتنے پست درجے میں کبھی نہ تھے، جتنے کہ اب ہیں، لاکھوں پاکستانیوں کے لیے ان ممالک میں روزگار کے مواقع 1970 کے عشرے سے رہے ہیں، مگر اب بساط سمٹ رہی ہے اوراس کے نتیجے میں خدانخواستہ ہمارے وطنِ عزیز میں بے روزگاری کی شرح پہلے سے بہت زیادہ بڑھ سکتی ہے، ایران اور شرقِ اوسط کے ممالک کا تنائو ہمارے لیے پلِ صراط پر چلنے کے مترادف ہے،
ہم کسی ایک کی بھی ناراضی کا خطرہ مول لینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اور دوست ممالک واضح اور جانبدارانہ حمایت کے خواہاں ہیں، وزارتِ خارجہ خوبصورت تقاریر اور لفاظی کا نام نہیں ہوتا، یہاں ایک ایک لفظ ناپ تول کر بولا جاتا ہے، مصلحتیں کام نہیں آتیں، جب تک آپ دوسرے کی ضرورت یا مجبوری نہیں بن جاتے، آپ کی جگہ نہیں بنتی۔ اسی لیے کہا جاتا ہے: ”ممالک کی دوستیاں اور دشمنیاں دائمی نہیں ہوتیں، مفادات پر مبنی ہوتی ہیں، مفادات کا پنڈولم گردش میں آجائے تو دوستی اور دشمنی کی ترجیحات بھی بدل جاتی ہیں‘‘۔ کل ہی سینئر کالم نگاروں سے بات کرتے ہوئے جنابِ وزیراعظم نے کہا: ”بعض ممالک اپوزیشن کی پشت پناہی کر رہے ہیں ‘‘، اگر اُن کا یہ محض واہمہ نہیں ہے بلکہ درست دعویٰ ہے اور اُن کے پاس اس کے کچھ شواہد بھی ہیں، تو یہ ہمارے ملک کے لیے اچھی علامت نہیں ہے کہ اڑوس پڑوس کے چھوٹے ممالک ہماری سیاست کے مہروں کو چلائیں، عام طور پر ایسی باتوں پر پردہ ڈالاجاتا ہے اور پسِ پردہ سفارت کاری کے ذریعے ان کا حل تلاش کیا جاتا ہے، مگر ٹرمپ کی طرح ہمارے محترم وزیر اعظم بھی” آئوٹ سپوکن ‘‘ مزاج کے حامل ہیں اور سفارتی آداب کی زیادہ پروا نہیں کرتے۔
مختلف ممالک کی تیارکردہ کورونا ویکسین کی مارکیٹنگ شروع ہوا چاہتی ہے، ان میں چین، برطانیہ، امریکا اور روس وغیرہ شامل ہیں، بہت سے ممالک نے پیشگی آرڈر دے رکھے ہیں، مثلاً: انڈیا کے بارے میں آیا کہ ایک ارب ساٹھ کروڑ ویکسین کی خوراکوں کا آرڈر دے رکھا ہے، جبکہ پاکستان کی طرف سے کسی پہلے آرڈر کا کوئی اشارہ ہمیں نظر نہیں آیا۔ ویکسین تیار کرنے والے تمام ممالک کی اولین ترجیح اُن کے اپنے شہریوں کا تحفظ ہو گا، ترقی پذیر، پسماندہ اور غریب ممالک کا نمبر بعد میں آئے گا۔ امریکا کی فائزر کمپنی کی ویکسین کا پبلک استعمال شروع ہو چکا ہے، امریکا نے مختلف کمپنیوں کو اسّی کروڑ ویکسین کی خوراک کے آرڈر دیے ہیں، لیکن تاحال امریکا اور یورپ میں اموات کی شرح کنٹرول نہیں ہو پا رہی، ایسا لگتا ہے کہ 2021ء کی دوسری سہ ماہی تک صورتِ حال کنٹرول میں آجائے گی، لیکن ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک کو کچھ اور وقت انتظار کرنا پڑے گا۔