ٹوئٹر حلف برداری کے دن صدارتی اکاؤنٹ جو بائیڈن کو دے گا

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگر الیکشن میں ہار تسلیم نہیں کرتے تو وہ حلف برداری کے دن صدارتی ٹوئٹر ہینڈل کا اکاؤنٹ نو منتخب صدر جو بائیڈن کو دے دیں گے۔ پوٹس کا اکاؤنٹ امریکی صدر کا آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ ہوتا ہے۔ فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ٹوئٹر کے ترجمان نک پیچیلو نے ایک ای میل کے ذریعے پولیٹکو کو بتایا ہے کہ ٹوئٹر وائٹ ہاؤس کے انسٹیٹیوشنل اکاؤنٹس کی منتقلی کے لیے تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل قومی آرکائیوز کے مشورے سے کیا جا رہا ہے، ایسا 2017 میں بھی ہوا تھا۔

صدر کے علاوہ خاتون اول، اور پریس سیکریٹری کے اکاؤنٹس سمیت وائٹ ہاؤس کے مزید اکاؤنٹس کی بھی منتقلی ہو گی۔ ٹوئٹر کی جانب سے وائٹ ہاؤس اکاؤنٹس کو ریسیٹ کیا جائے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنہوں نے ابھی تک تین نومبر کے انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سیاسی سرگرمیوں کے لیے اپنا ذاتی اکاؤنٹ استعمال کرتے ہیں۔ امریکی صدر کے ذاتی اکاؤنٹ پر آٹھ کروڑ 80 لاکھ فالورز ہیں جبکہ ان کے آفیشل اکاؤنٹ پر تین کروڑ 20 لاکھ فالورز ہیں۔  پوٹس کا اکاؤنٹ بڑے پیمانے پر صدر کے ذاتی اکاؤنٹ کے ساتھ ساتھ وائٹ ہاؤس کے دیگر اکاؤنٹس کو بھی ریٹویٹ کرتا ہے۔

بشکریہ اردو نیوز

روسی صدر کی ضرورت مند ممالک کو’کورونا ویکسین‘ کی فراہمی کی پیشکش

صدر ولادیمیر پوٹن نے جی-20 سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ضروت مند ممالک کو روس میں تیار کردہ کورونا ویکسین ‘اسپوٹنک وی’ کی فراہمی کی پیشکش کی ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب میں جاری جی-20 سربراہ کے ورچوئل اجلاس سے آن لائن خطاب کرتے ہوئے روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے کہا کہ ہر شخص کو مؤثر اور محفوظ کورونا ویکسین فراہم ہونی چاہیئے جس کے لیے روس ضرورت مند ممالک کو اپنی خدمات پیش کرتا ہے۔ روس کے صدر کا مزید کہنا تھا کہ جی-20 کے اس اجلاس کے دنیا کو منصفانہ طور پر موثر اور محفوظ کورونا ویکیسن کی فراہمی کے مسودے کے حامی ہیں اور ضرورت مند ممالک کو اپنی کورونا ویکسین ‘اسپوٹنک وی’ فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔

صدر ولادیمیر پوٹن نے مزید بتایا کہ روس میں تیار ہونے والی ‘اسپوٹنک وی’ ویکسین دنیا کی پہلی رجسٹرڈ ویکسین ہے جبکہ نووسیبیرسک ریسرچ سینٹر کی دوسری ویکسین ‘ایپی ویک کورونا’ بھی تیار ہے اسی طرح روس میں تیسری ویکسین کی بھی تیاری آخری مرحلے میں ہے۔ روسی صدر کا کہنا تھا کہ انسانوں کو 2020 میں عالمی لاک ڈاؤن کا سامنا رہا اور معاشی سرگرمیاں معطل ہونے کے باعث معاشی بحران پیدا ہوا جس سے باہر نکلنے کا واحد حل ویکسین ہے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب کی سربراہی میں جی-20 سربراہ ورچوئل اجلاس گزشتہ روز شروع ہوا تھا جس میں امریکی صدر نے بھی آن لائن شرکت کی تھی جب کہ آج اختتامی روز روس کے صدر نے خطاب کیا ہے۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز