اوباما کا ٹرمپ کو مفید مشورہ اور تجویز

امریکا کے سابق صدر باراک اوباما نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں جاری انتشار کے باعث واشنگٹن کے دنیا کی بڑی طاقتوں روس اور چین سے تعلقات خراب ہو سکتے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق صدر نے موجودہ صدر کو مفید مشورہ و تجویز بھی دی جبکہ وائٹ ہاؤس سے متعلق اپنے خدشات کا اظہار بھی کیا۔ جو بائیڈن کی کامیاب انتخابی مہم کا حصہ رہنے والے باراک اوباما نے کہا ہے کہ یہ موجودہ صدر ٹرمپ کے لیے بہترین وقت ہے کہ وہ جو بائیڈن کے سامنے اپنی شکست تسلیم کر لیں۔ انٹرویو کے دوران جب ان سے سوال کیا گیا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو کیا نصیحت کریں گے تو اوباما نے کہا کہ ’’اگر آپ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کو اس طرح یا رکھیں کہ کوئی شخص آیا جس نے ’ملک پہلے‘ کا نعرہ لگایا تو آپ کو بھی یہی کرنا ہو گا۔

باراک اوباما نے خدشہ ظاہر کیا کہ وائٹ ہاؤس میں اقتدار کی منتقلی کے دوران ہونے والے انتشار کے اثرات بہت دور تک نظر آسکتے ہیں اور اس کے باعث واشنگٹن کے ماسکو اور بیجنگ کے ساتھ تعلقات خراب ہو سکتے ہیں۔ سابق صدر  نے کہا کہ ہمارے مخالفین ہمیں کمزور دیکھ رہے ہیں، یہ صرف حالیہ انتخابات کی وجہ سے نہیں بلکہ گزشتہ چند سالوں کے دوران پیدا صورتحال کے باعث بھی ہے۔ باراک اوباما کا کہنا تھا کہ ہماری سیاست میں دراڑ موجود ہے اور ہمارے مخالفین اس سے آگاہ ہیں اور وہ اسے مزید بڑھا سکتے ہیں۔ انھوں نے ری پبلکنز کے ایسے حامیوں کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جو ٹرمپ کے انتخابات میں دھاندلی کے دعوے کی حمایت کر رہے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

صرف ویکسین سے کورونا وائرس کی وبا کا خاتمہ نہیں ہو گا

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے کہا ہے کہ صرف ویکسین سے کورونا وائرس وبا کے پھیلاؤ کو نہیں روکا جا سکے گا۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیدروس ادھانوم غیبریسس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ویکسین وبا کو روکنے کے لیے کیے گئے اقدامات میں معاون ضرور ہو گی تاہم اسے احتیاطی تدابیر کا متبادل قرار نہیں دیا جاسکتا۔ صرف کسی ویکسین سے وبا کا خاتمہ نہیں ہو گا۔ عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ نے کہا کہ ابتدا میں ویکسین کی فراہمی صرف طبی عملے، عمر رسیدہ اور آبادی کے ایسے افراد کو فراہم کی جائے گی جنھیں وبا سے زیادہ خطرات لاحق ہیں۔ امید ہے اس حکمت عملی سے اموات میں کمی آئے گی اور نظام صحت پر دباؤ بھی کم ہو گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ویکسین آنے کے باجود وائرس کے پھیلاؤ کے راستے کھلے رہیں گے۔ ہمیں ہوشیار رہنا ہو گا اور کورونا وائرس کے ٹیسٹ، ٹریسنگ اور متاثرہ افراد سے رابطے میں آنے والوں کی آئسولیشن کے طریقہ کار کو جاری رکھنا ہو گا۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز

امریکی معاشرہ تباہی کی دہلیز پر

پندرھویں صدی کے اوائل تک دنیا کے نقشوں پر برطانیہ عظمیٰ نہیں ملے گا کیوں کہ اس وقت تک برطانیہ کی حیثیت سمندری قزاقوں کے ایک جزیرے سے زیادہ نہیں تھی۔ پھر برطانیہ دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے اگلے چند سو سالوں میں اپنی پالیسیوں کی بدولت ایک بڑی قوت بن گیا۔ برطانیہ کی قوت و اہمیت میں اضافے اور لوگوں کا معیارِ زندگی بہتر ہو جانے سے برطانوی عوام کے اندر سیاسی شعور کو بہت بڑھاوا ملا۔ برطانوی قیادت نے تاریخ کے اس اہم دوراہے پر اپنے معاشرے کو مجرموں اور شرپسندوں سے پاک کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کے موجب ایسے تمام برطانوی مجرم جن کو موت یا عمر قید کی سزا ہوئی ان کو برطانیہ سے نکال کر اپنی نو آبادی آسٹریلیا یوں بھیج دیا گیا کہ وہ کبھی برطانوی زمین پر دوبارہ قدم نہ رکھ سکیں۔ یہ بالکل اسی طرح ہوا جس طرح برطانوی راج کے دنوں میں ہندوستان سے عمر قید کے مجرموں کو کالے پانی کی سزا دے دی جاتی تھی، ان کو جزائر انڈیمان بھیج دیا جاتا تھا جہاں سے وہ کبھی اپنے وطن لوٹ نہیں سکتے تھے۔

برطانیہ کے وہ شہری جو مجرم تو نہیں ہوتے تھے لیکن جن کی زبان اور اقدامات سے برطانوی سماج کو نقصِ امن کا خطرہ ہوتا تھا۔ ان کو برطانیہ سے نکال کر نئی کالونی امریکا بدر کر دیا جاتا تھا جہاں امریکا کے وسیع و عریض ملک میں ان کے لیے بے شمار مواقع ہوتے تھے۔ زیادہ تر برطانیہ اور کسی حد تک مغربی یورپ جیسے اسپین اور پرتگال سے جانے والوں کو مزدوروں کی ضرورت پڑی تو برطانیہ نے تاریخ کا انتہائی گھناؤنا اور مجرمانہ کھیل کھیلا۔ افریقہ اور آئرلینڈ سے معصوم اور ہنستے بستے نہتے لوگوں کو اغوا کر کے امریکا پہنچانا شروع کر دیا تاکہ ان کو غلامی میں بیچ کر دولت کمائی جا سکے۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگ کی تباہ کاریوں سے پورا یورپ متاثر ہوا اور تباہ حال یورپی لوگوں نے امریکا کی طرف نقل مکانی میں عافیت سمجھی۔ امریکا دریافت ہوا تو وہاں پر مقامی آبادی موجود تھی جن کو توپ و تفنگ کے زور پر ان کی زمینوں اور علاقوں سے بے دخل کر کے دوسرے درجے کے شہری بنا دیا گیا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ان تھوڑے سے مقامی لوگوں کے علاوہ باقی سارا امریکا نقل مکانی کرنے والے لوگوں کا ملک ہے۔

امریکی معاشرہ دنیا کا سب سے زیادہ متفرق معاشرہ ہے۔ یہ اتنا متنوع معاشرہ ہے کہ اس کی مثال کہیں اور ملنا مشکل ہے۔ اس وسیع و عریض ملک میں پھلنے پھولنے اور ترقی کرنے کے اتنے وافر مواقع موجود ہیں کہ دنیا کے کونے کونے سے لوگ یہاں کھنچے چلے آتے ہیں۔ اگر آپ گوروں کو ہی لیں تو وہ بھی کسی ایک ملک سے تعلق رکھنے والے نہیں ہیں۔ بظاہر تو وہ سارے سفید فام کہلائیں گے لیکن کوئی شمالی آئرلینڈ سے ہے تو کوئی اسکاٹ ہے، کوئی اسپین سے آیا ہے تو کوئی انگلینڈ سے۔ غیر سفید فام لوگوں میں کوئی جنوبی امریکا سے نقل مکانی کر کے پہنچا ہے تو کوئی جنوبی افریقہ سے۔ کوئی چین، جاپان اور فلپائن سے ہے تو کوئی پاک وہند سے۔ کوئی وسطی ایشیا سے ہے تو کوئی مشرقِ وسطیٰ سے۔ دنیا کا ہر مذہب آپ کو امریکا میں مل جائے گا حتیٰ کہ وہ مذاہب بھی اپنے پیروکاروں کے ساتھ مل جائیں گے جو اپنی اصل دھرتی پر ختم ہو چکے ہیں۔ امریکی شہروں میں ایک ہی گلی میں آپ کو عیسائی بھی رہتے ہوئے ملیں گے اور مسلمان بھی، سکھ ، ہندو، بدھ کے ماننے والے ملیں گے تو پارسی بھی مل جائیں گے۔

یہ مختلف مذاہب، رنگ و نسل کے لوگ ہر شہر، محلے اور گلی میں خوش و خرم رہتے نظر آئیں گے جن کے درمیان کوئی جھگڑا نہیں، کوئی چپقلش نہیں۔ وہ جو اپنے اپنے وطن میں ایک دوسرے کو دیکھنا اور ہاتھ ملانا گوارا نہیں کرتے، امریکی معاشرہ میں گھُل مل کر رہ رہے ہیں۔ یہ سب اس لیے ہے کیونکہ امریکا ایک مواقع کی سرزمین ہے۔ دنیا بھر سے عزم و حوصلہ رکھنے والے اپنے اپنے گھروں کو چھوڑ کر امریکی خواب کی تعبیر میں مصروف ہیں۔ مختلف معاشروں میں ہوشیار لوگ اپنے ملک کے وسائل استعمال کرتے ہوئے تعلیم اور ہنر سے بہرہ مند ہوئے اور پھر اپنا مستقبل بنانے کے لیے امریکا جا بسے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان کا ہنر اور تعلیم ان کے اپنے ملک کے کام آتی لیکن یہ سارا ٹیلنٹ امریکا کے پاس چلا گیا جس سے یہ معاشرہ افزودگی ہوا۔ آئن اسٹائین جیسے بہترین دماغ امریکا کو میسر ہو گئے کیونکہ اس ملک میں لوگوں کو اپنے ٹیلنٹ کو بہترین جگہ پر استعمال کرنے کے مواقع بدرجہء اتم موجود تھے۔

امریکا ایک نیا ملک تھا۔ اس کی اپنی کوئی تاریخ، کوئی کلچر اور کوئی جداگانہ تہذیب نہیں تھی۔ سب کچھ ہی نیا بن رہا تھا۔ ان ہی بہترین دماغوں سے سائنس و ٹیکنالوجی اور صنعت و حرفت کے میدان میں وہ ترقی ہوئی جس کی مثال بہت کم ہی مل سکتی ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی میں سب سے آگے بڑھ جانے کی وجہ سے ایک طرف تو امریکا دنیا کا سب سے ترقی یافتہ ملک بن گیا دوسری طرف وہ سب سے بڑی فوجی قوت بن کر اُبھرا۔ دفاعی ساز و سامان کی فروخت سے امریکی معیشت کو چار چاند لگ گئے۔ ایک معمولی نوعیت کا پرزہ جو کسی اہم فوجی ہتھیار میں استعمال ہو سکتا ہو وہ چند ڈالر میں بنا کر مہنگے داموں بیچنے پر امریکی معیشت کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ خزانے بھر جانے سے ریسرچ اور ڈیولپمنٹ میں خاطر خواہ سرمایہ کاری ہوئی۔ نت نئے ہتھیار اور آلات وجود میں آنے لگے۔ امریکا ایسا مقناطیس ثابت ہوا جس نے ہر جگہ سے قابل ترین لوگوں کو اپنے ہاں کھینچ لیا ہم یہ بات بآسانی کہہ سکتے ہیں کہ ساری دنیا سے برین ڈرین ہوا تو امریکا بنا۔ امریکا اب سب سے طاقتور فوجی قوت اور سب سے بڑی معیشت ہے۔

اقوامِ عالم میں اس مقامِ بلند کی وجہ سے امریکی ہونا ایک فخر کی بات ہے۔ لوگ اپنے آپ کو امریکی کہلوانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ برتر فوجی قوت اور بڑی معیشت کی وجہ سے اکثر ٹرانزکشنز امریکی کرنسی میں ہی ہوتی ہیں۔ لیکن یہ سارا دبدبہ، اقوامِ عالم میں وقار اور عزت صرف اس وجہ سے ہے کیونکہ امریکا اپنے ساحلوں سے دور کہیں بھی مار دھاڑ کر سکتا ہے۔ امریکی پابندیاں کسی بھی ملک کی معیشت کا کچومر نکال سکتی ہیں لیکن ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ریاست ہائے متحدہ امریکا ہمیشہ اپنے موجودہ مقامِ بلند کو برقرار رکھ پائے گا۔ قرآنِ کریم میں مالکِ کائنات نے واضح طور پر بتا دیا ہے کہ ہم ایام کو اقوام کے درمیان پھراتے رہتے ہیں۔ ہر قوم کے لیے مقامِ بلند حاصل کرنے کا موقع ہے لیکن مقامِ بلند پر رہنے کا ایک وقت متعین ہے۔ ابنِ خلدون نے اپنے مشہور مقدمے میں یہ قرار دیا ہے کہ عام طور پر قوموں کے عروج کو 90 سال کے بعد زوال کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔

اس رائے کو سامنے رکھیں تو امریکی عروج کا زمانہ پورا ہوتا نظر آتا ہے۔ شاید امریکی بھی اسے دیکھ رہے ہیں لیکن اس تلخ حقیقت سے آنکھیں ملانے کے لیے فہم و فراست والی بہترین قیادت درکار ہے۔ 2016 میں ٹرمپ کا انتخاب یہ عندیہ دیتا ہے کہ اب امریکا میں قحط الرجال ہے۔ اس وقت تک امریکی ہونا ایک فخر کی علامت ہے لیکن کسی بھی جھگڑے اور خلفشار کی صورت میں یہ فخر بھک سے اُڑ جائے گا۔ افریقی نژاد امریکیوں اور مسلمانوں کے ساتھ جو زیادتیاں ہو رہی ہیں وہ پہلے تو چھُپی رہ سکتی تھیں لیکن میڈیا کے موجودہ دور میں یہ معاشرے کے توڑ پھوڑ کا موجب ہوں گی۔ صدر ٹرمپ نے بین الاقوامی معاہدوں سے امریکا کو علیحدہ کر کے اور بدزبانی کو عام کر کے امریکا کے ساتھی ملکوں میں کمی کی ہے۔  3 نومبر 2020 کے صدارتی انتخابات ہو چکے ہیں۔ بائیڈن واضح اکثریت سے کامیاب ہو گئے ہیں لیکن ابھی صورتحال واضح نہیں۔ عین ممکن ہے امریکی آئین میں کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر سفید فام اکثریت ٹرمپ کو صدر رکھنے میں کامیاب ہو جائے۔ ایسے میں قانون کی حکمرانی کو بہت بڑا دھچکا لگے گا اور امریکی جمہوریت کی بنیادوں کو شدید نقصان پہنچے گا۔ یہ قانون کی حکمرانی اور جمہوریت ہی ہے جس نے امریکا کو امریکا بنا رکھا ہے۔ جس دن قانون کی حکمرانی اور جمہوریت رخصت ہو گئی اس دن عوام کا اپنے ملک سے تعلق کمزور پڑ جائے گا۔گلی گلی میں جھگڑے ہوںگے اور یہ امریکی معاشرے کو اندرونی دھماکے سے اُڑا دے گا کیونکہ امریکی متفاوت معاشرے میں مصنوعی اتحاد ہے۔

عبد الحمید جمعـہ

بشکریہ ایکسپریس نیوز