امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے میزبان وین جونز جو بائیڈن کی جیت کی خبر پر جذباتی ہو گئے اور دورانِ نشریات رو پڑے۔ وین جونز کا کہنا تھا کہ آج امریکا کے لیے بہت بڑا دن ہے۔ آج اس ملک میں تارکین وطن، سیاہ فام اور مسلمانوں سمیت بہت سے لوگوں نے سکھ کا سانس لیا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ جہاں جارج فلوائڈ کی طرح کتنے لوگوں کی سانس رکی ہوئی تھی۔ اب امریکا میں مسلمانوں کو اس بات پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کہ آپ کے صدر کو آپ کا امریکا میں ہونا پسند نہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آج اس ملک میں باپ کے لیے آسان ہے کہ وہ اپنے بچوں کو بتائے کہ اچھا انسان ہونا کتنا اہم ہے۔ واضح رہے کہ ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن امریکا کے 46ویں صدر منتخب ہو گئے ہیں، ریاست پنسلوانیا میں ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد جو بائیڈن کے الیکٹورل ووٹوں کی تعداد 273 ہو گئی۔ جبکہ اُن کے حریف ری پبلکن امیدوار اور موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے الیکٹورل ووٹوں کی تعداد 214 ہے۔
امریکا میں صدارتی انتخاب کے مکمل نتائج میں مزید وقت درکار ہے لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن کے مقابلے میں پہلے ہی کامیابی کی نوید سنا دی۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق ڈیمو کریٹک پارٹی نے چند ہفتے قبل ہی خدشہ ظاہر کیا تھا کہ انتخابی نتائج کو متنازع بنانے میں ٹرمپ کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔ جس کے بعد عدالتوں، سیاستدانوں اور کانگریس کے ذریعے ہی صدارت کا تعین کیا جاسکتا ہے۔
قانونی چارہ جوئی
ڈیموکریٹس نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ پنسلوانیا اور وسکونسن میں ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے سے قبل ہی فتح کا اعلان کر دیں گے۔ قریب قریب انتخابی نتائج کے نتیجے میں ریاستوں میں رائے دہندگی اور بیلٹ گنتی کے طریقہ کار پر قانونی چارہ جوئی ہو سکتی ہے۔ انفرادی ریاستوں کی جانب سے دائر پٹیشن بالآخر امریکی سپریم کورٹ تک پہنچیں گی۔ جیسا کہ فلوریڈا کے انتخابات 2000 میں ہوا تھا۔ ہائیکورٹ نے فلوریڈا میں انتخابی نتائج پر دوبارہ گنتی سے متعلق پٹیشن خارج کر دی تھی اور ری پبلکن کے جارج ڈبلیو بش نے ڈیموکریٹ کے الگور کو محض 537 ووٹوں سے شکست دے دی تھی۔ ادھر ٹرمپ نے صدارتی انتخاب سے قبل امی کوی بیریٹ کو سپریم کورٹ کا جسٹس مقرر کیا ہے۔ اگر سیاسی فریقین عدالتوں سے رجوع کرتے ہیں تو ممکن ہے کہ امریکی صدر کو تھوڑی رعایت مل جائے۔ ٹرمپ نے کہہ چکے ہیں کہ ‘ہم چاہتے ہیں کہ قانون کا صحیح استعمال کیا جائے ورنہ ہم سپریم کورٹ جائیں گے’۔
الیکٹورل کالج
عام طور پر گورنرز اپنی اپنی ریاستوں میں نتائج کی تصدیق کرتے ہیں اور کانگریس کے ساتھ معلومات شیئر کرتے ہیں۔ لیکن کچھ ماہرین تعلیم نے ایک ایسے منظر نامے کا خاکہ پیش کیا ہے جس میں فریقین کے انتخابی نتائج میں بہت کم فرق ہونے پر گورنر اور مقننہ نے دو مختلف انتخابی نتائج پیش کیے تھے۔ دوسری جانب پنسلوانیا، مشی گن، وسکونسن اور شمالی کیرولائنا کی ریاستوں میں ڈیموکریٹک گورنرز ہیں جبکہ مقننہ کی سطح پر ریپبلکن کا کنٹرول ہے۔ اگر گورنر اور مقننہ کی سطح پر تنازع ہوتا ہے تو ہے فریقین تعطل کو حل کرنے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔
بائیڈن اور ٹرمپ دونوں کا فتح کا دعویٰ
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی انتخاب میں بڑی فتح کا دعویٰ کیا ہے اور اپنے حریف جو بائیڈن کی جانب سے فتح کا دعویٰ کیے جانے کے بعد ڈیموکریٹس پر الیکشن کو چرانے کی کوشش کرنے کا الزام عائد کر دیا۔ بائیڈن کی جانب سے اپنے حامیوں کو مخاطب کرتے ہوئے بڑی فتح کا دعویٰ کیے جانے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ہم بڑی فتح کی جانب گامزن ہیں لیکن وہ الیکشن چرانے کی کوشش کر رہے ہیں، ہم انہیں ایسا نہیں کرنے دیں گے، پولز ختم ہونے کے بعد ووٹ نہیں ڈالا جا سکتا۔ غلط معلومات کے خلاف کارروائی کا دعویٰ کرنے والے ٹوئٹر نے فوری طور پر ٹرمپ کی وہ ٹوئٹ ہٹا دی جس میں انہوں نے الیکشن کو چرانے کا الزام عائد کیا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بغیر ثبوت کے ایک عرصے سے الزام عائد کرتے آرہے ہیں کہ ‘میل-ان بیلٹس’ الیکشن میں عوام کو دھوکا دینے کا ایک طریقہ ہے۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے ملک بھر میں چین کی ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک پر مکمل پابندی کے حکم کو امریکی عدالت نے معطل کر دیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق پنسلوانیا کی عدالت نے امریکی صدر کی ہدایت پر محکمہ تجارت کی جانب سے ملک بھر میں چین کی ایپلی کیشن ٹک ٹاک کی بندش کے حکم کو معطل کر دیا ہے۔ اس سے قبل واشنگٹن کی عدالت نے 28 ستمبر کو ٹک ٹاک کی ڈاؤن لوڈنگ کے حکم کو بھی معطل کر دیا تھا۔ یاد رہے کہ امریکا کے محکمہ کامرس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایات کے بعد ستمبر کے وسط میں ٹک ٹاک کی ڈاؤن لوڈنگ پر 27 ستمبر سے جب کہ 12 نومبر سے ملک بھر میں مکمل پابندی کے احکامات جاری کیے تھے تاہم چینی ایپ ٹک ٹاک کے مالکان نے عدالت سے رجوع کیا تھا جس پر عدالت نے حکومتی حکم کو معطل کر دیا۔
پنسلوانیا عدالت کا اپنے فیصلے میں کہنا تھا کہ ٹک ٹاک کو یومیہ کی بنیاد پر 10 کروڑ صارفین استعمال کرتے ہیں جو پابندی کے حکم سے متاثر ہوں گے اس لیے صارفین کو ان کے حق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔ عدالتی فیصلے پر امریکی حکومت کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ واضح رہے کہ صدر ٹرمپ ٹک ٹاک پر امریکا کی چین کے لیے جاسوسی اور صارفین کا ڈیٹا دینے کا الزام عائد کرتے آئے ہیں جس کے جواب میں ٹک ٹاک نے الزام کو نہ صرف مسترد کیا بلکہ معاملات کو بہتر بنانے کیلیے امریکی کمپنیوں اوریکل اور وال مارٹ کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عندیہ بھی دیا تھا۔
بھارت میں فیس بک اور اس کے لابنگ ایگزیکٹو اَنکھی داس نے ‘نفرت انگیز مواد’ کو ریگولیٹ کرنے کے حوالے سے قواعد سے متعلق ایک اخبار کی رپورٹ میں الزامات اور ان پر اس سلسلے میں ہونے والے دباؤ کے بعد عہدہ چھوڑ دیا۔ اگست میں بھارت میں مسلمانوں کے خلاف تشدد اور مساجد جلانے کے لیے اکسانے والی حکمراں جماعت کے دائیں بازو کے انتہا پسند رہنما پر نفرت انگیز تقریر کے قواعد کی خلاف ورزی سے متعلق وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد سیاسی طوفان برپا ہوا تھا۔ وال اسٹریٹ جرنل نے رواں برس اگست میں انکشاف کیا تھا کہ اَنکھی داس نے اس بات کی مخالفت کی تھی کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی پارٹی کے رہنماؤں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز مواد پر فیس بک کی پالیسی کا اطلاق نہیں ہونا چاہیے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں فیس بک کے ملازمین بھارت میں کمپنی کی قواعد و پالیسی پر اطلاق ہونے یا نہ ہونے سے متعلق سوالات اٹھا رہے تھے۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ بھارت میں فیس بک ایگزیکٹو انکھی داس نے عملے سے کہا تھا کہ مودی کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سیاستدانوں پر نفرت انگیز تقاریر کے اصولوں کا اطلاق کرنے سے ‘ملک میں کمپنی کے کاروباری امکانات کو نقصان پہنچے گا’۔ بعد ازاں فیس بک کے 11 ملازمین نے کمپنی کی قیادت کو ایک کھلا خط لکھ کر مطالبہ کیا تھا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف ہونے والے تعصب کا جائزہ لیں اور ان کی مذمت کریں۔ مراسلے میں کہا گیا تھا کہ فیس بک کو پالیسی میں مزید مستقل مزاجی لانے کی ضرورت ہے۔
اب برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق فیس بک کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ اَنکھی داس جو بھارت، جنوبی اور وسطی ایشیا کے لیے فیس بک کی پبلک پالیسی کی سربراہ تھیں، انہوں نے عوامی خدمت میں دلچسپی کے باعث عہدے سے دستبرداری کا فیصلہ کیا۔ فیس بک کے بیان میں کہا گیا کہ اَنکھی داس بھارت میں ان کے ابتدائی ملازمین میں سے ایک تھیں اور انہوں نے کمپنی کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ نئی دہلی میں مقیم ٹیکنالوجی پالیسی تجزیہ کار پرسانتو رائے نے کہا کہ وہ بھارت میں ملٹی نیشنلز میں سب سے زیادہ بااثر پبلک پالیسی پروفیشنل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اَنکھی داس نے بھارت میں فیس بک کو ایک سمت دی اور ان کا عہدہ چھوڑنا بڑی بات ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے بعد فیس بک انڈیا کے سربراہ اجیت موہن نے ایک کمیونٹی پوسٹ میں ان کا اور کمپنی پالیسیز کا دفاع کیا تھا۔
اَنکھی داس کو بھارت کے بااثر کارپوریٹ لابنگ ایگزیکٹوز میں شمار کیا جاتا ہے اور 2011 میں کمپنی میں شامل ہونے کے بعد سے وہ بھارت میں فیس بک صارفین کے اضافے میں مرکزی کردار ادا کر رہی تھیں۔ خیال رہے کہ بھارت میں فیس بک کی ایک بڑی مارکیٹ ہے جہاں اس کے 30 کروڑ سے زائد صارفین موجود ہیں۔ اَنکھی داس نے ایک ایسے وقت میں کمپنی سے علیحدگی اختیار کی ہے جب فیس بک سمیت دیگر ٹیکنالوجی کمپنیاں بھارت میں ڈیٹا اسٹوریج اور پرائیویسی سے متعلق نئے سخت قوانین کی تیاریاں کر رہی ہیں۔ بھارت کی جانب سے ڈیٹا اسٹوریج اور پرائیویسی سے متعلق نئے قوانین کا مسودہ تیار کیا جارہا ہے اور ٹیکنالوجی انڈسٹری کے ایگزیکٹوز کا کہنا ہے کہ نئے قوانین سے غیر ملکی کمپنیوں کو ممکنہ طور پر دھچکا لگ سکتا ہے۔
دی ٹائم کی رپورٹ کے مطابق فیس بک ترجمان نے ٹائم کو بتایا کہ اَنکھی داس کی روانگی کا پارلیمانی انکوائری یا میڈیا رپورٹس سے کوئی تعلق نہیں۔ اَنکھی داس نے ایک بیان میں کہا کہ میں نے لوگوں کے درمیان رابطہ قائم کرنے اور کمیونیٹیز بنانے کے طویل مشن کے بعد فیس بک میں اپنے عہدے سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اب اپنی ذاتی دلچسپی کے باعث عوام کی خدمت کرنا چاہتی ہوں۔ اَنکھی داس نے کہا کہ جب میں نے 2011 میں فیس بک میں شمولیت اختیار کی تھی تو ملک میں انٹرنیٹ بہت کم تھا اور میں اکثر حیران ہوتی تھی کہ ملک میں سماجی اور معاشی عدم مساوات کو کیسے حل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہم ایک چھوٹا اسٹارٹ اَپ تھے اور ہمارا مشن اور مقصد بھارت میں لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑنا تھا۔ اَنکھی داس نے کہا کہ 9 برس بعد میں یہ محسوس کرتی ہوں کہ مشن بڑے پیمانے پر مکمل ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے کمپنی کے باصلاحیت اور اسمارٹ لوگوں سے بہت کچھ سیکھا ہے، خاص طور پر پالیسی ٹیم سے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ خاص کمپنی اور خاص لوگوں کا گروہ ہے، اَنکھی داس نے مارک زکر برگ کا شکریہ بھی ادا کیا۔ اَنکھی داس نے کہا کہ میں نے کمپنی کی بہت اچھے سے خدمت کی ہے اور میں جانتی ہوں کہ ہم فیس بک پر رابطے میں رہیں گے۔