ٹک ٹاک اپنے عالمی توسیعی پروگرام کے لیے تین ہزار انجینئرز بھرتی کرے گا

مختصر دورانیہ کی مقبول ویڈیو ایپ، ٹِک ٹاک آئندہ تین برسوں میں تین ہزار مزید انجینئرز بھرتی کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ کمپنی نے یہ بات خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتاتے ہوئے کہا کہ ان میں سے زیادہ تر انجینئرز کو یورپ، کینیڈا اور سنگاپور میں تعینات کیا جائے گا۔ اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹک ٹاک اپنی ملکیت برقرار رکھنے کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال کے باوجود اپنے توسیعی منصوبوں پر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ ٹک ٹاک استعمال کرنے والوں کے ذاتی ڈیٹا کی سیکیورٹی کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات کے پیش نظر ، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حکم دیا تھا کہ چین کی بائٹ ڈانس کمپنی، اپنی ایپ ٹک ٹاک کو اس کے ملکیتی حقوق سے الگ کر دے۔

ٹک ٹاک کے ترجمان نے رائٹرز کو بتایا کہ کمپنی کی تیزی سے بڑھتی عالمی ترقی کے لئے، ٹک ٹاک اپنے عالمی انجینئروں کی ٹیم کو وسعت دینے کا منصوبہ رکھتی ہے اور آئندہ تین برسوں کے دوران، اس میں تقریبا تین ہزار مزید انجینئر شامل کئے جائیں گے جنہیں امریکہ سمیت کینیڈا، یورپ اور سنگاپور میں تعینات کیا جائے گا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکہ کمپنی کے لئے بدستور انجنئیرنگ کا گڑھ رہے گا اور اس کے لئے مزید سٹاف بھرتی کیا جائے گا۔  اس وقت تقریباً ایک ہزار انجنیئرز کمپنی کے لئے کام کر رہے ہیں، جن میں سے قریباً نصف، ریاست کیلیفورنیا میں ماؤنٹ وِیو میں تعینات ہیں۔ قبل ازیں رائٹرز نے خبر دی تھی کہ بائٹ ڈانس سنگاپور میں اربوں ڈالر کی سرمایا کاری اور سینکڑوں ملازمتیں فراہم کرنے ارادہ رکھتا ہے۔

جس کا انتخاب اس نے جنوب مشرقی ایشیا میں کمپنی کے صدر دفتر کے طور پر کیا ہے۔ گزشتہ ماہ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ٹک ٹاک میں شراکت کے ابتدائی معاہدے کے لئے، اوریکل کارپوریشن اور وال مارٹ انک کو ان کی تائید و حمایت حاصل ہے۔ تاہم یہ معاہدہ اس وقت مسائل کا شکار ہو گیا جب بائٹ ڈانس نے کہا کہ وہ ٹک ٹاک ایپ کے لئے اپنے اکثریتی شیئر نہیں دے گا چار نومبر کو ایک جج یہ فیصلہ دیں گے کہ آیا امریکی حکومت کو یہ اجازت دی جا سکتی ہے کہ وہ امریکی ایپ سٹوروں سے ٹک ٹاک کی ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے پر پابندی عائد کر دے۔ بائٹ ڈانس نے متنبہ کیا ہے کہ اس اقدام سے امریکہ میں اس ایپ کے استعمال پر پابندی عائد ہو جائے گا۔

 بشکریہ وائس آف امریکہ

امریکا میں کورونا وائرس کی ’’تیسری لہر‘‘ کا آغاز

اس وقت جبکہ ناول کورونا وائرس کی عالمی وبا کی دوسری لہر نے پوری دنیا کو لپیٹ میں لے رکھا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا میں اس وبا کی تیسری لہر بھی شروع ہو چکی ہے۔ واضح رہے کہ کووِڈ 19 کی عالمی وبا سے مقابلے میں امریکا اور بھارت کو ناکام ترین ممالک قرار دیا جارہا ہے جہاں اب تک اس وبا کی شدت نہ صرف برقرار ہے بلکہ اس میں اضافہ بھی ہو رہا ہے۔  واشنگٹن پوسٹ میں شائع شدہ ایک تجزیئے کے مطابق، امریکا میں اب تک کورونا وائرس کی دو لہریں آچکی ہیں جبکہ کورونا وائرس متاثرین کی تعداد میں حالیہ اضافے کو تیسری لہر قرار دیا جارہا ہے۔ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ تیسری لہر کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے جبکہ دسمبر 2020 تک امریکا میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد تین لاکھ سے بھی زیادہ ہونے کا خدشہ ہے۔ سرِدست یہ تعداد ڈھائی لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے جبکہ اکتوبر کا مہینہ بھی ختم نہیں ہوا ہے۔

امریکا میں ادویہ اور غذاؤں سے متعلق مرکزی ادارے ’’فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن‘‘ (ایف ڈی اے) کے سابق سربراہ اسکاٹ گوٹلیب نے گزشتہ روز سی این بی سی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں خیال ظاہر کیا کہ بیشتر امریکی ریاستوں میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ بہت کم وقت میں اور بہت تیزی سے بڑھ سکتا ہے۔ طبی ماہرین ٹرمپ انتظامیہ کے طرزِ عمل پر شدید نالاں ہیں جس نے پہلے اس وبا کی موجودگی سے انکار کیا، پھر اس کا پھیلاؤ روکنے میں تاخیر کرنے کے ساتھ ساتھ ناکافی اقدامات کا سہارا لیا۔ اب امریکی حکومت کا سارا زور اس وائرس کی دوا (بشمول ویکسین) تیار کرنے پر ہے لیکن اب بھی کورونا وبا کو قابو کرنے پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جارہی۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا میں کورونا وبا کی پہلی لہر کبھی ختم ہی نہیں ہوئی تھی اس لیے یہاں دوسری اور تیسری لہر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس سے قطع نظر کہ امریکا میں کورونا متاثرین کی تعداد میں حالیہ اضافے کو تیسری لہر کہا جائے یا نہیں، اتنا بہرحال طے ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایک بڑی وبا کے مقابلے میں خود کو بدترین طور پر ناکام ثابت کر دیا ہے۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز