ترک صدر طیب اردوان کی فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی اپیل

ترک صدر طیب اردوان نے ترکی کے عوام سے فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی اپیل کر دی ہے۔ ترک خبر رساں ادارے کے مطابق انقرہ میں میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے طیب اردوان نے کہا کہ مسلمانوں کے لیے مغربی ممالک میں اسلامی طرز حیات کے مطابق زندگی گزارنا مشکل ترین ہوتا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی اسلاموفوبیا کو قومی سلامتی کا مسئلہ سمجھتا ہے۔ یورپی یونین کی اولین ذمے داری ہے کہ اسلام کے خلاف منافرت کو روکے، اس معاملے کو اب مزید نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ترک صدر نے کہا کہ یورپی رہنماؤں کو یورپ میں نفرت کا پھیلاؤ روکنے کے لیے فرانسیسی صدر کی پالیسیوں کو روکنا چاہیے اور انہیں سمجھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ میلاد النبی ﷺ کی تقریب سے خطاب میں طیب اردوان نے فرانسیسی صدر کے اسلام مخالف بیانات پر فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی بھی اپیل کی۔

واضح رہے کہ فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے بعد اسلام مخالف تقاریر اور کارروائیوں میں تیزی آگئی ہے۔ فرانسیسی صدر میکرون نے نہ صرف گستاخانہ خاکوں کی تشہیر کی حمایت کی بلکہ اسلام کو بحرانوں کا مذہب اور مسلمانوں کو فرانس میں علیحدگی پسند جذبات کے رجحان کا ذمے دار قرار دیا۔ فرانسیسی صدر میکرون کے بیانات کے بعد فرانس سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں میں شدید غم و غصے کی لہردوڑ گئی ہے اور مسلم رہنماؤں میں طیب اردوان نے دو ٹوک مؤقف اختیار کیا ہے۔ اس سے قبل وہ فرانسیسی صدر کو اسلام مخالف بیانات پر دماغی علاج کروانے کا مشورہ بھے دے چکے ہیں۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز

کورونا ويکسين کی تياری ميں بڑی پيش رفت

آکسفورڈ يونيورسٹی اور ايسٹرا زينيکا کی کورونا ويکسين تمام عمر کے افراد ميں قوت مدافعت پيدا کرتی ہے اور طبی ماہرين پر اميد ہيں کہ جلد ہی اس ويکسين کی باقاعدہ منظوری ممکن ہے۔ يوں دنيا وبا کو مات ديتے ہوئے آگے بڑھ سکتی ہے۔ برطانوی اخبار ‘دا سن‘ نے اپنی رپورٹ ميں دعوی کيا ہے کہ لندن کے ايک ہسپتال کو آکسفورڈ يونيورسٹی اور ‘ايسٹرا زينيکا‘ نامی کمپنی کے اشترک سے بننے والی کورونا ويکسين کی پہلی کھيپ لگانے کی تياری کرنے کا کہا گيا ہے۔ رپورٹ ميں ہسپتال کا نام نہيں بتايا گيا مگر يہ لکھا ہے کہ دو نومبر سے شروع ہونے والے ہفتے سے يہ ويکسين فراہم کی جا سکتی ہے۔ دوسری جانب برطانوی وزير صحت ميٹ ہينکوک نے کہا ہے کہ ويکسين فی الحال تيار نہيں مگر اس کی صارفين تک فراہمی کو يقينی بنانے کے ليے انتظامی کام شروع کر ديا گيا ہے۔

برطانوی نشرياتی ادارے بی بی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے امکان ظاہر کيا کہ آئندہ برس کے اوائل سے يہ ويکسين لوگوں کو دی جا سکے گی۔ جب ان سے يہ سوال پوچھا گيا کہ کيا چند لوگوں کو ويکسين اس سال بھی فراہم کی جا سکتی ہے، تو ہينکوک نے جواب ديا، ”ميں اسے بعید از امکان قرار نہيں دے سکتا مگر ميری توقع ہے کہ ويکسينيشن کا عمل آئندہ برس ہی شروع ہو گا۔‘‘ دريں اثناء برطانوی دوا ساز کمپنی اور آکسفورڈ يونيورسٹی نے اعلان کيا ہے کہ کورونا سے بچاؤ کے ليے ان کی زير آزمائش ويکسين نوجوانوں اور معمر افراد سب ہی ميں اس وائرس کے خلاف قوت مدافعت پيدا کرتی ہے۔ طبی ماہرين اور سائنسدانوں نے يہ کہہ رکھا تھا کہ اگر کوئی آزمائشی ويکسين تمام عمر کے افراد ميں بچاؤ کا يکساں رد عمل پيدا کرنے ميں کامياب رہے، تو يہ ويکسين کی منظوری اور عوام تک فراہمی ميں ايک بڑی پيش رفت ہو گی۔

عمر بڑھنے کے ساتھ انسانوں ميں قوت مدافعت کمزور ہونے لگتی ہے۔ آکسفورڈ يونيورسٹی اور ‘ايسٹرا زينيکا‘ کی کورونا ويکسين نے معمر افراد ميں بھی اس وائرس کے خلاف مدافعت پيدا کی، جو مثبت اور اہم پيش رفت ہے۔ ايک اور جريدے فنانشل ٹائمز نے بھی قبل ازيں رپورٹ کيا کہ مذکورہ ويکسين حفاظتی اينٹی باڈيز اور ٹی سيلز کو جنم ديتی ہے۔ اب امکان ظاہر کيا جا رہا ہے کہ آکسفورڈ يونيورسٹی اور ‘ايسٹرا زينيکا‘ کی کورونا ويکسين کو وسيع پيمانے پر پيداوار کو عوام کو دينے کے ليے جلد منظوری مل جائے گی۔ ساتھ ہی دوا ساز کمپنيوں ‘فزر‘ اور بايو اين ٹيک‘ کی آزمائشی ونکسينز بھی منظوری کے قريب ہيں۔ اگر يہ ويکسين بقيہ مراحل سے گزرتے ہوئے کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہے، تو جلد ہی دنيا عالمی وبا کو پيچھے چھوڑتے ہوئے معمول کی طرف بڑھ سکتی ہے۔

بشکریہ ڈی ڈبلیو اردو