چینی صدر نے فوج کو پوری توجہ اور توانائی کے ساتھ جنگ کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کر دی ہے۔ چین کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ہانگ کانگ کی سرحد سے ملحقہ صوبے گوان دونگ میں پیپلز لبریشن آرمی کی میرین کور کا معائنہ کرنے کے موقعے پر صدر شی جن پنگ نے کہا کہ چاق چوپند رہتے ہوئے، پورے خلوص اور وفاداری کے ساتھ جنگ کے لیے تیار رہیں۔ امریکی نیوز نیٹ ورک سی این این مطابق صدر شی جن پنگ کے گوان دونگ صوبے کے دورے کا اصل مقصد 1980 میں قائم ہونے والے شینژن اقتصادی زون کی چالیسویں سالگرہ میں شرکت تھا۔ چین کو دنیا کی دوسری بڑی معاشی قوت بنانے میں یہ اقتصادی زون بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ تاہم تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت اور کورونا وائرس کےباعث چین اور امریکا کے مابین کشیدگی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے ، اس لیے دورے میں فوج دستے کے معائنے کے موقعے پر چینی صدر کی تقریر کو اہمیت دی جارہی ہے۔
واضح رہے کہ چین تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے اور اسی لیے امریکا کے اس سے بڑھتے ہوئے تعلقات چین کے لیے ہمیشہ ناپسندیدہ رہے ہیں۔ دوسری جانب امریکا نے نہ صرف تائیوان کےساتھ سفارتی اور اقتصادی مراسم بڑھانا شروع کردیے ہیں بلکہ چند روز قبل اسے جدید ہتھیار اور راکٹ سسٹم فروخت کرنے کی تجویز کانگریس میں پیش کی گئی ہے۔ جس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے چینی دفتر خارجہ امریکا کو تائیوان کے ساتھ عسکری تعلقات استوار کرنے سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔ اس سے قبل چینی صدر شی جن پنگ بھی ایک بیان میں واضح کر چکے ہیں کہ تائیوان پر چینی حق تسلیم کروانے کے لیے عسکری قوت کا استعمال خارج از امکان نہیں۔
سعودی عرب میں سالانہ چالیس ارب ریال مالیت کی خوراک ضائع ہو رہی ہے۔ سب سے زیادہ خوراک کا ضیاع مکہ ریجن میں ہو رہا ہے۔ پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کے ماتحت خوراک کمپنی ’سالک ‘ نے ٹوئٹر پر بیان میں کہا کہ مملکت میں سب سے زیادہ جو خوراک ضائع ہو رہی ہے وہ چاول ہے۔ آٹا دوسرے اور مرغی تیسرے نمبر پر ہے۔ سالک کمپنی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں سب سے زیادہ خوراک مکہ مکرمہ ریجن میں ضائع کی جارہی ہے۔ مشرقی ریجن دوسرے اور ریاض تیسرے نمبر پر ہے۔ خوراک کا سب سے کم ضیاع الجوف ریجن میں ہے۔
سالک کے مطابق چاول کے ضیاع کی شرح 31 فیصد، آٹے اور روٹی کے ضیاع کا تناسب 25 فیصد، مچھلیوں کا 14.5 فیصد، مرغیوں کا 16 فیصد اور کھجوروں کا 5.5 فیصد ہے۔ واضح رہے کہ جنوری 2020 میں وزارت بلدیات و دیہی امور نے ایک حکم نامہ جاری کیا ہے جس میں تمام ریسٹورنٹ اور شادی ہال کو اضافی خوارک کے تحفظ کے لیے فوڈ بینکوں سے معاہدوں کا پابند بنایا گیا تھا۔