نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کرونا (کورونا) وائرس میں مبتلا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے علاج پر ایک لاکھ ڈالر سے زیادہ لاگت آئے گی۔ اخبار کی جانب سے کی گئی جمع تفریق کے مطابق صدر کی ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہسپتال آمد اور روانگی، متعدد ٹیسٹ، آکسیجن، سٹیرائڈز اور تجرباتی اینٹی باڈی علاج جیسے اخراجات پر کسی عام امریکی شہری کو دسیوں ہزاروں ڈالر خرچ کرنا پڑتے صدر کی حیثیت سے ٹرمپ کے علاج معالجے کی ذمہ داری وفاقی حکومت پر ہے۔ اخبار نے کہا ہے کہ اگرچہ صدر کے علاج پر بڑا خرچہ ان کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے والٹر ریڈ نیشنل ملٹری میڈیکل سینٹر کا سفر رہا لیکن ان کے علاج کے دیگر اخراجات کے لیے بھی بھاری رقم ادا کی جا رہی ہے۔ ٹائمز کے مطابق صدر کے بار بار کیے جانے والے کرونا ٹیسٹ اس حوالے سے شاید دوسرا سب سے بڑا خرچہ ہو سکتا ہے۔
اگرچہ ایک ٹیسٹ پر عام طور پر 100 ڈالر کی لاگت آتی ہے لیکن اس کی قیمت میں اتار چڑھاؤ آسکتا ہے، دوسری جانب انشورنس کمپنیوں کے ذریعے ادا کیے جانے والے تقریباً 2.4 فیصد ٹیسٹس میں بھی مریضوں کو کچھ نہ کچھ ادائیگی کرنا پڑی ہے۔ صدر کو گیلائڈ کی جانب سے دیے گئے کرونا کے علاج میں مددگار دوا ریمڈیسی ویر پر بھی عام شہری کو نجی انشورنس کے ذریعے تین ہزار 120 ڈالر خرچ کرنا پڑتے ہیں جبکہ میڈی کیئر اور میڈی کیڈ جیسے عوامی پروگرامز میں اس کی قیمت 2،340 ڈالر ہے۔ صدر کو دیے گئے ریجنرون نامی اینٹی باڈی کا کوئی معاوضہ نہیں لیا جاتا کیونکہ یہ فی الحال کلینیکل ٹرائل میں شریک افراد کو دی جا رہی ہے یا پھر ہمدردی کی بنیاد پر مخصوص لوگوں کو۔ کرونا وائرس کے مالی اثرات نے ملک بھر میں بہت سارے امریکیوں کو متاثر کیا ہے، جہاں ہسپتال میں داخل ہونے اور جان بچانے والے علاج معالجے کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔
ہسپتال سے روانہ ہونے والے 74 سالہ صدر نے کہا کہ ’ہمارے پاس بہترین طبی ساز و سامان موجود ہے لہذا لوگوں کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا: ’اسے خود پر حاوی نہ ہونے دیں۔ اس سے مت ڈریں اور خود پر اس کا غلبہ حاصل نہ ہونے دیں۔‘ ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ ’فیئر ہیلتھ‘ کے اعداد و شمار کے مطابق کرونا سے متاثرہ 60 سال سے زائد مریضوں کا ہسپتال میں داخلے کا عمومی خرچہ 61،912 ڈالر ہے۔ اسی تنظیم نے اندازہ لگایا ہے کہ ادا کی گئی اوسط رقم 31،575 بنتی ہے۔ علاج اور ہیلتھ کیئر پروگرام کے تحت مریضوں کے لیے یہ رقم مختلف ہوتی ہے۔ ’قیصر فیملی فاؤنڈیشن‘ کے مارچ کے تجزیے میں یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ انشورنس اور بغیر کسی پیچیدگی کے کووڈ 19 کے علاج کی اوسط لاگت تقریباً 9،763 ڈالر ہے۔ مرض میں پیچیدگی کی صورت میں یہی بل 20،292 ڈالر تک بڑھ جاتے ہیں۔
ایسا خیال کیا جا رہا تھا کہ امریکی امدادی پیکیجز کے ذریعے کرونا وائرس کے مریضوں کو بڑی حد تک اپنے علاج کی ادائیگی سے مستثنیٰ قرار دیا جائے گا تاکہ امریکیوں کو بڑی رقم خرچ کرنے سے بچایا جاسکے، تاہم ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن کے مطابق معیار پر پورا نہ اترنے، ہسپتالوں اور دیگر میڈیکل سہولیات فراہم کرنے والے اداروں کی جانب سے امدادی پروگراموں کا حصہ نہ بننے کی وجہ سے اور امداد کی منظوری سے قبل علاج کرانے والے افراد کو بھاری بل ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔ مارچ میں اس وبا کا آغاز ہونے کے بعد سے ہی امریکہ میں 75 لاکھ سے زائد افراد کرونا سے متاثر ہو چکے ہیں جس کے نتیجے میں 211،000 سے زیادہ امریکیوں کی زندگیوں کے چراغ گل ہو چکے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بعد کووِڈ 19 نے وائٹ ہاؤس کے عملے اور امریکی فوجی قیادت کو بھی اپنا شکار بنانا شروع کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی کوسٹ گارڈ کے وائس کمانڈنٹ ایڈمرل چارلس رے بھی کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں جس کے بعد یو ایس جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل مارک ملی اور دیگر اہم فوجی سربراہان نے خود کو قرنطینہ کر لیا ہے۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ کے مشیر اسٹیفن ملر، جو امریکی صدر کی تقریریں بھی لکھتے ہیں، گزشتہ روز اپنے کورونا وائرس سے متاثر ہونے اور خود کو قرنطینہ کرنے کی تصدیق کر چکے ہیں۔ انہیں کورونا وائرس سے متاثر ہوئے پانچ روز ہو چکے ہیں۔
قبل ازیں ان کی اہلیہ اور نائب صدر مائیک پینس کی ترجمان کیٹی ملر بھی مئی کے مہینے میں کورونا وائرس میں مبتلا ہو چکی تھیں تاہم بعد میں وہ صحت یاب بھی ہو گئیں۔ جولائی کے مہینے میں اسٹیفن ملر کی 97 سالہ دادی مسز گلوسر کا انتقال بھی کورونا وائرس سے ہوا تھا۔ یہ خبر چھپانے کے باوجود پھیل گئی تھی۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس ماہ کے آغاز میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد اسپتال میں داخل ہو گئے تھے۔ گزشتہ روز اسپتال سے واپسی پر انہوں نے احتیاطی تدابیر کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے ماسک اتار پھینکا اور عوام سے کہا کہ انہیں کورونا وائرس سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔