امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کورونا ہونے کے کیا معنی ہیں؟ بہت سے معنی ہیں۔ پہلا، اس سے قطع نظر کہ کوئی شخص کتنا ہی طاقت ور کیوں نہ ہو، وہ بیماری اور موت سے مبرا نہیں ہے۔ ٹرمپ دنیا کے سب سے طاقتور آدمی ہیں، کیونکہ وہ دنیا کے سب سے طاقتور ملک کے صدر ہیں۔ کسی بھی قوم کے وزیر اعظم کے پاس اتنے آئینی اختیارات نہیں ہوتے جتنے امریکی صدرکے پاس ہیں۔ کورونا نے ثابت کیا ہے کہ وہ صدر اور جھاڑو دینے والے کے مابین فرق نہیں کرتا ہے۔ دوسرا، کورونا نے ٹرمپ کی بیباکی کو پنکچر کر دیا ہے۔ کورونا کچھ بھی نہیں ہے، اس سے کیوں ڈرتے ہو، پوری دنیا میں امریکی صحت کی دیکھ بھال بہترین ہے۔ ٹرمپ کا تکبر کورونا کو قبول کرنے کو تیار نہیں تھا۔ انہوں نے اپنے حریف جو بائیڈن کا مذاق اڑایا تھا‘ جس کے بارے میں بائیڈن نے ایک عوامی ٹی وی مباحثے میں بات کی تھی۔ کورونا نے یہ ثابت کیا ہے کہ قائدین‘ چاہے وہ کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں، کو اپنا طرز عمل برقرار رکھنا چاہئے تاکہ عام عوام ان کی پیروی کر سکیں۔ یہ لاپروائی بھارت سے چار پانچ گنا چھوٹے امریکہ میں 2 لاکھ 10 ہزار افراد کی موت کی ایک بڑی وجہ ہے۔ تیسرا، امریکہ جیسے امیر اور ترقی یافتہ ملک میں، لوگوں کے اعتماد کی سطح بہت زیادہ ہے۔
اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ ساحلوں، ہوائی جہازوں، میٹرو ریلوں اور سڑکوں پر بھی، لوگ بغیر کسی ماسک کے چکر لگاتے ہیں، ایک دوسرے سے جسمانی فاصلہ نہیں رکھتے ہیں اور ہوٹلوں میں قربت میں بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں۔ وہ اپنے قائدین کی پیروی کرتے ہیں۔ چوتھی چیز جو خود ٹرمپ کے متعلق ہے۔ انہیں ہلکا بخار ہوا تھا اور سانس لینے میں دشواری تھی۔ اس کے باوجود انہوں نے مہم جاری رکھی۔ دو دن بعد انہیں ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ ان کے بارے میں ڈاکٹروں اور ان کے نوکروں کی اطلاعات مماثل نہیں ہیں۔ پھر بھی، اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہو گی اگر وہ ڈاکٹروں کے مشورے کے خلاف انتخابی میدان میں جاتے ہیں۔ پانچویں چیز کی قطعی تصدیق ہو جاتی ہے یعنی‘ صدارتی انتخابات میں ان کی شکست۔ اس کی تصدیق ان کو کورونا سے ہوتی ہے۔ بائیڈن اس وقت ان سے 13 پوائنٹس آگے ہیں۔ اگر ٹرمپ کچھ دن ہسپتال میں رہے تو وہ پیچھے رہ سکتے ہیں۔ امریکہ میں ابھی سے اس کا اندازہ لگانا شروع ہو گیا ہے کہ ٹرمپ کہیں کورونا کی وجہ سے اس صدارتی انتخاب سے ہی باہر نہ ہو جائیں۔ دیکھئے کیا ہوتا ہے
چین مخالف چوکڑی؟
امریکہ، جاپان، آسٹریلیا اور بھارت‘ ٹوکیو میں ہونے والے اس چار رکنی گروپ کا اجلاس حیران کن تھا۔ ان چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک دوسرے سے ملاقات کی اور چاروں نے بحرالکاہل کے خطے میں امن و سلامتی کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ یہ چوکڑی امریکہ کے اقدام پر بنائی گئی ہے۔ جس طرح امریکہ نے نیٹو اور سینٹو ملیشیا کو سوویت یونین کے خلاف کھڑا کیا تھا، اب وہ یہ چاہتا ہے کہ وہی چکر ویو چین کے خلاف شروع کیا جائے۔ یہ ڈونلڈ ٹرمپ کی دماغی مشق ہے۔ صدر بارک اوباما ہنری کسنجر کے خواب کو آگے بڑھانا چاہتے تھے اور ایشیاء میں چین کو خصوصی اہمیت دینا چاہتے تھے۔ ابتدائی طور پر ٹرمپ کا رویہ یکساں تھا، لیکن تجارت کے معاملے میں چین کا سخت موقف ٹرمپ کا مسئلہ بن گیا۔ ٹرمپ نے پہلے چین کے بارے میں نرم رویہ اختیار کیا، لیکن پھر چین پر کورونا کی وبا کا الزام لگا کر انہوں نے اس کے خلاف کھلی جنگ کا آغاز کر دیا۔ اب وہ چاہتے ہیں کہ چین کو سبق سکھایا جائے۔
یہی وجہ ہے کہ ان کے وزیر خارجہ مائک پومپیو نے ٹوکیو اجلاس میں چین پر شدید الزامات عائد کیے۔ انہوں نے چینی کمیونسٹ پارٹی کا نام لے کر کہا کہ اس کے استحصال، بد عنوانی اور ظلم کی بھرپور مخالفت کی جانی چاہئے۔ انہوں نے ہانگ کانگ اور تائیوان کے خلاف ہونے والے مبینہ چینی مظالم کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے ‘ہندوستان بحرالکاہل کے خطے‘ کو چینی دبائو سے آزاد کرنے کا نعرہ بھی لگایا۔ انہوں نے بھارت کو خوش کرنے کیلئے لداخ میں ہونے والے انکائونٹر کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے چین میں کورونا کی وبا کا تمام تر الزام بھی عائد کیا‘ لیکن باقی تین ممالک کے وزرائے خارجہ کی تقاریر میں ان میں سے کسی نے چین کا نام تک نہیں لیا۔ ان میں سے کوئی چین سے بھڑنے کو تیار نہیں تھا۔ ان کی تقاریر کا خلاصہ یہ تھا کہ انڈوپیسیفک ریجن میں قانون کی حکمرانی چلنی چاہئے اور سمندری راستے سب کے لئے کھلے ہونے چاہئیں۔ جب یہ چاروں وزرائے خارجہ جاپان کے نئے وزیر اعظم یوشیحید سوگا سے ملنے گئے تو انہوں نے بھی یہی کہا۔ دوسرے الفاظ میں، اس چوکڑی کے باقی تین ارکان امریکی فٹ پاتھ پر پھسلنے کو تیار نہیں تھے۔ اسی وجہ سے کورونا دور میں ہوئی اس حالیہ میٹنگ میں کوئی مشترکہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ ہاں، چینی حکومت نے امریکی موقف کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسی تنظیموں کو کسی اور قوم کی ٹانگیں کھینچنے کے بجائے باہمی تعاون بڑھانے پر اصرار کرنا چاہئے۔
امریکا کے قانون کے مطابق اگر امریکی صدر فوت ہوجائے یا پھر بیمار ہوجائے تو صدر کے آئینی اختیارات کسے منتقل ہوتے ہیں؟ یہ معاملہ امریکا میں زیرِ بحث ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کے بعد آج کل امریکی آئین میں شامل 25ویں ترمیم بہت زیادہ زیر بحث آرہی ہے، اس کے بارے میں چند اہم چیزیں جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
امریکی آئین میں شامل 25 ترمیم کیا ہے؟
جب موجودہ صدر بیمار ہو جائے یا اچانک وفات پا جائے تو پھر یہ بات یقینی ہو جاتی ہے کہ امریکی صدر کے اختیارات آئین کے مطابق اس کے نائب یعنی ملک کے نائب صدر کو منتقل ہو جاتے ہیں۔ اگر امریکی صدر کسی خطرناک بیماری میں مبتلا ہو جائے اور اپنے اختیارات نیچے منتقل نہیں کرتا تو پھر نائب صدر اور کانگریس مل کر اس کے بارے میں فیصلہ کر سکتے ہیں، نائب صدر اور کانگریس کے دونوں ایوان مل کر دو تہائی ووٹوں کی اکثر یت سے صدر کو ہٹانے کا فیصلہ کر سکتے ہیں
پچسویں شق میں ترمیم کی وجہ کیا بنی؟
سنہ 1963 میں جب امریکی صدر جان ایف کینیڈی کے قتل کے بعد یہ صورتِحال پیدا ہو گئی تھی کہ اب ان کی جگہ ملک کا انتظام کون چلائے گا، اس صورت حال کے بعد کانگریس نے امریکی آئین میں شامل 25 ویں شق میں ترمیم کر کے اسے منظور کیا تھا۔ یاد رہے کہ 1841 میں جب امریکی صدارت کی کرسی پر براجمان ولیم ہیریسن انتقال کر گئے تو اس کے بعد یہ بحث شروع ہوئی تھی کہ امریکا کے صدر کا جانشین کسے مقرر کیا جائے۔ اس دوران جان ٹیلر امریکا کے نائب صدر تھے، ان سے متعلق یہ بحث گرم تھی کہ وہ نائب صدر رہیں گے، صدر بنیں گے یا پھر قائم مقام صدر ہوں گے۔ تاہم اس دوران ایک ہوٹل کے کمرے میں جان ٹیلر نے ایڈمنسٹریٹر جج کے سامنے حلف لیا اور خود کو امریکا کا صدر منتخب کروا دیا۔
کیا اس سے پہلے 25 ویں ترمیم کا استعمال کیا گیا ہے؟
اس سے قبل دو امریکی صدور جن میں جارج بش اور رونلڈ ریگن شامل ہیں، نے اپنا اقتدار اس ترمیم کے تحت اپنے نائب کو منتقل کیا جس میں سے جارج بش نے دو مرتبہ جبکہ رونلڈ ریگن نے ایک مرتبہ اس سے فائدہ اٹھایا۔ تاہم یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ اس ترمیم کا استعمال کبھی بھی کسی صدر کو مستقل طور پر ہٹانے کے لیے نہیں کیا گیا، جبکہ 25ویں ترمیم کا استعمال ہمیشہ نائب صدر کو اختیارات دینے کے لیے کیا گیا۔ 25 ویں ترمیم سے پہلے جب امریکا کے 39ویں نائب صدر اسپرو ایگنیو 1973 میں ٹیکس نہ دینے کے الزام میں استعفیٰ دے کر چلے گئے تھے تو اس وقت امریکی صدر رچرڈ نکسن نے جیرالڈ فورڈ کو نائب صدر کے لیے نامزد کیا تھا۔ جب رچرڈ نکسن ایک سال بعد مستعفی ہوئے تو جیرالڈ فورڈ صدر منتخب ہو گئے جبکہ انھوں نے نیلسن راک فیلر کو اپنا نائب نامزد کیا جسے کانگریس نے منظور کر لیا تھا۔
دنیا میں اسلحے کی تجارت سب سے زیادہ ہوتی ہے، ہر قسم کا اسلحہ اوپن اور بلیک مارکیٹ میں مل جاتا ہے۔ اسلحے کی تجارت پر نظر رکھنے والا عالمی ادا رہ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ جو عرف عام میں ”سپری” کہلاتا ہے‘ اس نے ایک رپورٹ جاری کی ہے‘ اس میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں سالانہ 398 ارب ڈالر کی اسلحے کی تجارت ہوتی ہے۔ سرمایہ دار ممالک میں اسلحہ ساز ادارے نجی ملکیت میں ہوتے ہیں‘ حکومتیں بھی ان سے مال خریدتی ہیں۔ 2017ء میں سو بڑے اسلحہ ساز اداروں نے 398.2 ارب ڈالر کا کاروبار کیا‘ چین کے اسلحے کی تجارت کے اعداد و شمار شامل نہیں ہیں ۔ روسی اسلحہ ساز تجارت میں دوسرے نمبر پر رہے‘ پہلی مرتبہ ایک روسی کمپنی امریکی اور یورپی کمپنیوں کے ساتھ ٹاپ 10 ملٹی نیشنل کارپوریشنوں میں آئی۔
دنیا کے دس بڑے اسلحہ ساز کارپوریشنوں کا ایک جائزہ بتاتا ہے۔ ایک امریکی اسلحہ سازکمپنی کی سالانہ فروخت 44.9 ارب ڈالر ہے۔ یہ دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ دوسرے نمبر پر بھی ایک امریکی ادارہ ہے‘ اس کے اسلحہ کی فروخت 26.9 ارب ڈالر ہے۔ تیسرے نمبر پرناروے کی کمپنی ہے‘ اس کے اسلحے کی فروخت 23.9 ارب ڈالر ہے۔ چوتھے نمبر پر برطانوی کمپنی ہے، اس کمپنی کی کل فروخت 22.9 ارب ڈالر سالانہ ہے۔ پانچویں نمبر پر پھر ایک امریکی کمپنی ہے اور اس کے تیار کردہ اسلحے اور پرزہ جات کی سالانہ فروخت 22.4 ارب ڈالر سالانہ ہے۔ چھٹے نمبر پر بھی امریکی کمپنی ہے‘ اس کی سالانہ فروخت 19.5 ارب ڈالر ہے۔ ساتویں نمبر پر ایک یورپی کمپنی ہے‘ اس کے اسلحے کی سالانہ برآمدات 11.3 ارب ڈالر ہے۔ آٹھویں نمبر پر فرانسیسی کمپنی ہے‘ اس کی سالانہ فروخت 9 ارب ڈالر ہے۔ نویں نمبر پر اٹلی کی کمپنی ہے‘ اس کی سالانہ فروخت 8.9 ارب ڈالر ہے۔ دسویں نمبر پر روسی کمپنی ہے‘ اس کی سالانہ فروخت 8.6 ارب ڈالر ہے۔
ان ممالک کا ایک جائزہ جو اسلحہ کی فروخت میں نمایاں رہے۔ ان اعداد و شمار کا تعلق پچھلے پانچ سال (2015-2019) سے ہے‘ اس عرصے کے دوران امریکا‘ روس‘ فرانس‘ جرمنی اور چین نے سب سے زیادہ اسلحہ فروخت اور برآمد کیا‘ اسلحے کی مقدار پچھلے پانچ سال (2010-14) کے مقابلے میں 5.5% فیصد زیادہ ہے‘ اس سروے کے مطابق سعودی عرب‘ انڈیا‘ مصر‘ آسٹریلیا اور چین نے سب سے زیادہ اسلحہ درآمد کیا‘ ایشیاء اوشیانہ کے ملکوں نے اس عرصے میں 41%‘ مشرق وسطی کے ممالک نے 35% یورپی ممالک نے 11%‘ افریقی ممالک نے 7.2 % اور امریکی ممالک نے 5.7% کا اسلحہ اس عرصے میں خریدا اور امپورٹ کیا۔ اس عرصے میں امریکی اسلحہ کی فروخت 23 فیصد بڑھی ہے‘ دنیا میں اسلحے کی کل برآمدات کا 36% یہاں سے جاتا ہے۔ کل 96 ممالک یہ اسلحہ خریدتے ہیں‘ مشرق وسطی کے ممالک نے اس عرصے میں امریکی اسلحے کا 51% خریدا جو پچھلے عرصے کے مقابلے میں 79 فیصد زیادہ ہے۔
یورپ اور شمالی امریکا سے باہر تین ممالک بھی اسلحے کے دس بڑے برآمد کنندگان میں شامل تھے۔ ان میں چین‘ اسرائیل اور جنوبی کوریا شامل ہیں۔ چین کا دنیا بھر میں اسلحہ کی برآمدات میں پانچواں نمبر ہے‘ یہ کل برآمدات کا 5.5% برآمد کرتا ہے‘ 2015-19ء میں ایشیاء اوشیانہ کو چین نے 74%‘ افریقہ کو 16% اور مڈل ایسٹ کو 6.7% اسلحہ برآمد کیا‘ آج چین 53 ممالک کو اسلحہ فروخت کرتا ہے۔ اسرائیل 2015-19ء کے پانچ سال میں دنیا بھر میں اسلحہ کے برآمد کنندگان میں آٹھویں نمبر پر رہا ’اسرائیل کے اسلحے کی مارکیٹ میں 77% اضافہ ہوا‘ جو دنیا میں سب سے زیادہ تھا۔ جنوبی کوریا کا اسلحے کی برآمدات میں 10واں نمبر تھا اور اس کا عالمی مارکیٹ میں کل حصہ 2.1% رہا‘ اس کی اسلحے کی برآمدات میں اضافہ 143% تھا‘جو اس تجارت کے ٹاپ ٹین ممالک میں سب سے زیادہ ہے‘ یہ 17 ملکوں کو اپنا اسلحہ جس میں ہلکے جیٹ جہاز شامل ہیں فروخت کرتا ہے۔
یورپی ممالک سے دنیا کے کل اسلحے کی تجارت کا 26% برآمد ہوتا ہے‘ یہ پچھلے پانچ سال کے مقابلے میں 9% زیادہ ہے‘ فرانس‘جرمنی‘ برطانیہ‘ سپین اور اٹلی سب سے زیاد برآمد کنندگان میں شامل ہیں۔ فرانس کے اسلحے کی برآمدات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے‘ یہ 1990ء کے بعد سب سے زیادہ یعنی 72% اضافہ ہے‘ فرانس کو سب سے زیادہ فائدہ مصر‘ قطر اور انڈیا کو اسلحہ فروخت کرنے سے ہوا‘ خاص کر رفال جہازوں اور دیگر اسلحے کی فروخت سے۔ جرمنی کے اسلحے کی برآمدات میں 17% اضافہ ہوا اور اس کا عالمی اسلحے کی تجارت میں حصہ 5.8% ہے‘ اس کی برآمدات کا 24% مشرق وسطی کے ممالک کو جاتا ہے۔ برطانیہ دنیا کا چھٹا اسلحے کا برآمد کنندہ تھا‘ اب اس کی برآمدات 15% کم ہو گئی ہیں لیکن اس کے باوجود دنیا کے اسلحے کے کاروبار میں اس کا حصہ 3.7% ہے‘ برطانیہ کے اسلحے کی برآمدات میں کمی کی بڑی وجہ سعودی عرب کو اسلحے کی فروخت میں کمی ہے کیونکہ سعودی عرب کی مارکیٹ امریکا نے حاصل کر لی ہے اور انڈیا کی مارکیٹ فرانس نے لے لی ہے۔ روس کے اسلحے کی برآمدات دنیا بھر کے کاروبار کا 21% ہے ‘حالانکہ اس کے اسلحے کی برآمدات میں 18% کمی ہوئی ہے ہندوستان روسی اسلحے کی بڑی مارکیٹ تھی لیکن اب وہ اس کے ہاتھ سے نکل گئی ہے‘ حالانکہ مصر اور عراق کو اسلحے کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے۔
امریکہ اور ایران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران پر دوبارہ عائد کی گئی پابندیوں کے خلاف لڑائی کے سب سے بڑے راؤنڈ میں اقوام متحدہ کی اعلیٰ عدالت میں ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران کے ساتھ اہم عالمی ایٹمی معاہدے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی علیحدگی کے بعد امریکہ نے اس پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دی تھیں جس کے بعد 2018 میں تہران واشنگٹن کو عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں لے گیا تھا۔ امریکہ اور ایران اس بات پر بحث کریں گے کہ آیا دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم ہونے والی اس عدالت کو اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے درمیان تنازعات میں کردار ادا کرنے کا واقعی اختیار ہے یا ایسا نہیں ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اس پر دوبارہ پابندیاں لگا کر دونوں ملکوں کے درمیان 1955 میں ہونے والے ‘صلح کے معاہدے’ کی خلاف ورزی کی۔ یہ معاہدہ ایران میں 1979 کے انقلاب سے بہت پہلے کیا گیا تھا۔
انقلاب کے بعد ایران اور امریکہ کے تعلقات ختم ہو گئے تھے۔ 2018 میں تہران کو اس وقت ابتدائی کامیابی ملی تھی جب عالمی عدالت انصاف نے حکم دیا تھا کہ مقدمے کو مجموعی طور پر نمٹانے کے عمل کے دوران ایران کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی سامان کی ہنگامی فراہمی کے لیے پابندیاں نرم کی جائیں۔ امریکہ نے اس کے جواب میں وہ معاہدہ باضابطہ طورپر ختم کر دیا جو دونوں ملکوں کے دوران شاہ ایران کے دور میں کیا گیا تھا۔ امریکہ نے ایران پر الزام لگایا کہ وہ عالمی عدالت انصاف کو پروپیگنڈے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ امریکہ پہلے عدالت کو بتائے گا کہ آیا اس کے ججوں کو اس مقدمے کی سماعت کا اختیار ہے یا نہیں جبکہ ایران اپنا مؤقف بیان کرے گا۔ سماعت کے اختیار کا فیصلہ ہونے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں جبکہ حتمی فیصلہ آنے میں کئی سال لگیں گے۔ انقلاب کے بعد سے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی چلی آ رہی ہے، جس میں مئی 2018 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے سے یک طرفہ علیحدگی کے بعد اضافہ ہو گیا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل اراکین برطانیہ، فرانس، چین، روس، امریکہ اور جرمنی کے ساتھ معاہدے کے بعد ایران نے ایٹمی پروگرام کومحدود کر دیا تھا۔ بعد میں امریکہ نے ایران اور اس کے ساتھ کام کرنے والی کمپنیوں پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دیں۔ خاص طور پر تیل کے اہم ایرانی شعبے اور مرکزی بینک کو نشانہ بنایا گیا اور بڑی عالمی فرموں نے ایران میں اپنی سرگرمیاں روک دیں۔ عالمی عدالت انصاف میں تنازعے کے حل تک عبوری اقدامات کی ایرانی درخواست کے جواب میں دو سال پہلے ججوں کے علم میں آیا کہ ایران پر عائد بعض پابندیوں سے 1955 کے معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ عدالت نے واشنگٹن کو حکم دیا کہ وہ ایران کو ادویات، طبی سامان، خوراک، زرعی اجناس اور طیاروں کے پرزوں اور سروسز کی فراہمی پر عائد پابندیاں اٹھا لے۔ آئی سی جے ایک علیحدہ مقدمے کی سماعت بھی کر رہی ہے، جس میں ایران نے درخواست کی ہے کہ اسے امریکہ میں منجمد کیے گئے دو ارب ڈالر کے اثاثے واپس دلوائے جائیں۔ فروری 2019 میں عدالت نے کہا تھا کہ یہ مقدمہ آگے بڑھ سکتا ہے۔ عدالت نے امریکہ کا ‘ایران کے ہاتھ آلودہ ہونے’ کا مؤقف مسترد کر دیا تھا، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مبینہ طورپر دہشت گرد گروپوں کی معاونت کر رہا ہے، اس لیے اسے یہ مقدمہ لڑنے کا حق نہیں ہے۔