فلسطینیوں کے لئے کچھ بھی نہیں

’’انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹرٹیجک اسٹڈیز‘‘ لندن میں مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی اور دیگر معاملات کے ماہر ایمل ہوکاٹیم نے ’’یو اے ای‘‘ اور اسرائیل کے مابین ہونے والے حالیہ امن معاہدے پر اپنے تبصرہ میں کہا ہے کہ اس معاہدہ میں فلسطینیوں کے لئے کچھ بھی نہیں ہے کیونکہ مذکورہ معاہدے میں جو بڑا خطرہ ہے وہ یہ کہ متحدہ عرب امارات، دنیا کے مسلمان ممالک خصوصاً خطے کے عرب ممالک میں بڑی حد تک غیر مقبول ، غیر اہم اور تنقید کی زد میں ہو گا اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس مسئلہ کے سب سے بڑے فریق فلسطین کی قیادت کو اس معاملے میں شامل ہی نہیں کیا گیا۔ لیکن ایسا ضرور ہو گا کہ امریکہ، سعودی عرب اور دیگر امریکی اتحادی ممالک ’’یو اے ای‘‘ کی انتہائی ستائش کریں گے۔ ایمل ہوکاٹیم نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ اس معاہدے کےمحرکات کیا ہیں اور ’’یو اے ای‘‘ جو خود 1971ء میں قائم ہوا اس کا اس میں کیا فائدہ ہے۔

ادھر ایران اور ترکی نے اس معاہدے پر شدید ترین اور واضح تنقید کی ہے اور ترکی نے تو اس کو ’’یو اے ای‘‘ کا منافقانہ طرز عمل قرار دیا ہے کیونکہ ترکی سمجھتا ہے کہ ’’متحدہ عرب امارات‘‘ نے یہ معاہدہ خطے میں امن کے قیام یا فلسطینیوں کے مفاد کے لئے نہیں بلکہ صرف اپنے مفاد کے لئے کیا ہے۔ مذکورہ معاہدے پر پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان ’’اقوام متحدہ‘‘ اور ’’او آئی سی‘‘ کی قراردادوں کے مطابق دونوں ریاستوں (اسرائیل، فلسطین) کے مابین امن معاہدے کا حامی ہے۔ بظاہر یہ معاہدہ اسرائیل اور ’’یو اے ای‘‘ کے درمیان ہوا ہے لیکن اصل میں یہ معاہدہ امریکہ اور اسرائیل کی منصوبہ بندی اور خواہش کی تکمیل کے طور کیا گیا ہے۔ تاریخی حوالے کچھ بھی ہوں اور سیاسی موشگافیاں خواہ کوئی بھی تصویر دکھا رہی ہوں لیکن آنکھوں دیکھے حقائق بہر حال معتبر ترین ہوتے ہیں کیونکہ 2019ء میں ’’المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ (اے ایم ڈبلیو ٹی) کے چیئرمین عبدالرزاق ساجد کے ہمراہ میں خود فلسطین اور اسرائیل کا تفصیلی دورہ کر چکا ہوں اور اس دورے کا لب لباب یہ ہے کہ بیت المقدس مسجد اقصیٰ، انبیاء کرام کے مزارات سمیت سب کچھ اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے کنٹرول میں ہے حتیٰ کہ وہ فلسطینی علاقے بھی جہاں فلسطینیوں کی اکثریت ہے وہاں بھی اسرائیل کا ’سکہ‘ ہی چلتا ہے۔

فلسطینیوں کے پاس نہ تو ان کا ریاستی پاسپورٹ ہے اور نہ ہی اپنی کرنسی، زیادہ تر فلسطینیوں کے پاس اردن یا مصر کا پاسپورٹ ہوتا ہے۔ فلسطینی نبیوں کے مزارات اور مسجد اقصیٰ میں نماز کی ادائیگی کے لئے بھی خاصی شرائط کے ساتھ آ جا سکتے ہیں اور وہ بھی روزانہ نہیں۔ فلسطینیوں کے لئےان کا اپنا وطن ہی ایک کھلی جیل کے مترادف ہے۔ ابھی چند ہفتے پہلے ہی اسرائیل نے دو طرفہ ریاستی حدود کا ایک نیا نقشہ جاری کیا تھا جس میں اپنے اور فلسطینیوں کے علاقے دکھائے گئے تھے اس نقشے میں وہ علاقے بھی اسرائیل میں شامل کئے گئے جو پچھلے سال ہمارے دورے کے دوران فلسطینی علاقے تھے۔ اسرائیل نے ازخود یہ علاقے اپنے ظاہر کر کے یہ نیا نقشہ بنایا اور اب ایک ایسے ملک کے ساتھ ایک نام نہاد قسم کا ’امن معاہدہ‘ کر لیا جو نہ تو اس جھگڑے کا فریق ہے اور نہ ہی اس تنازع کے کلیدی فریق فلسطین نے ’’یو اے ای‘‘ سے فریق بننے یا معاہدہ کرنے کی کوئی درخواست کی ہے۔

یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ سینکڑوں سال پہلے بھی اور آج بھی اسلامی یا مسلمانوں کی تاریخ بھری پڑی ہے کہ جب بھی سیاسی دھوکہ بازی ہوئی اور دوسری قوموں نے اسلامی سلطنتوں کو تاراج کیا تو اس میں غیر نہیں اپنے ہی ہم مذہب ملوث تھے، آج بھی یہی کچھ ہو رہا ہے چنانچہ اس حقیقت میں کوئی دو آرا نہیں ہیں کہ فلسطینی زمین پر یہودی بستیوں کی تعمیر اور قبضے کا کوئی قانونی اور اخلاقی جواز نہیں ہے۔ امریکی محققین پروفیسر اسٹیفن والٹ اور پروفیسر جان میئر شمیر نے اپنی کتاب ’’دی اسرائیل لابی اینڈ یو ایس فارن پالیسی‘‘ میں ایک خط نقل کیا ہے جس کے مطابق اسرائیل کے پہلے وزیراعظم ڈیوڈ بن گوریان نے عالمی یہودی کانگریس کے صدر ناہم گولڈ مین کو لکھے گئے اپنے تاریخی اہمیت کے حامل خط میں برملا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اگر میں کوئی عرب لیڈر ہوتا تو اسرائیل سے کبھی سمجھوتہ نہ کرتا، یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم نے فلسطینیوں سے ان کا ملک چھینا ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ بات درست ہے کہ ہمارا تعلق اسرائیل سے ہے لیکن یہ دو ہزار سال پہلے کی بات ہے!! لیکن افسوس کہ وہ بات جو ایک یہودی جو وزارت عظمیٰ جیسے کلیدی عہدے پر رہ چکا ہو جب یہ بات کر رہا ہے تو پھر دوسرے کسی حوالے کی تو ضرورت ہی نہیں رہ جاتی۔ یہ اصل بات اب مسلمان دنیا خصوصاً عرب ملکوں کے درمیان نفاق، کشیدگی، ہٹ دھرمی اور اختلافات کے ملبے تلے دب چکی ہے اور برائے نام امت مسلمہ کے لئے ایک کہانی بن کر رہ گئی ہے۔
سنہ2002 ء کے عرب امن معاہدے میں اسرائیل سے  مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ 1967 کی جنگ کے بعد فلسطینیوں کے قبضے کئے گئے علاقوں سے دستبردار ہو جائے تو قیام امن کے اس اقدام کے بدلے وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات مکمل طور پر بحال کر سکتے ہیں لیکن ایسا آج تک ممکن نہیں ہو سکا۔ لیکن اس کے برعکس اسرائیل بےوجہ فلسطینیوں پر بمباری بھی کر رہا ہے اور اپنی مرضی سے نئے نقشے بھی بنا رہا ہے اور ستم بالائے ستم کہ ایسی صورتحال کے باوجود عرب دنیا کی سب سے بڑی معیشت سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے اپنی پالیسیاں تبدیل کیں اور چند ہی برسوں میں اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات بحال کرنے میں ہی بہتری سمجھی اور نتیجتاً ’’متحدہ عرب امارات‘‘ اور اسرائیل نے فلسطینیوں کی مرضی و منشا کے خلاف ایک کھوکھلا معاہدہ کر کے اپنے مفادات کی ترویج کو مقدم رکھا ہے۔

وجاہت علی خان

بشکریہ روزنامہ جنگ

ٹرمپ کا عجب سیاسی کھیل

جب کسی شخص کو خود اس کے گھر والے جھوٹا اور دھوکے باز قرار دے دیں تو پھر اس شخص کے کردار کے بارے میں کسی اور کی گواہی کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ ٹرمپ امریکا کے صدر تو بن گئے مگر ان کی کاروباری ذہنیت اب بھی ان پر غالب نظر آتی ہے۔ انھیں بہرحال امریکی صدارت سے رخصت ہونے کے بعد اپنے کاروبار کی طرف واپس لوٹنا ہے۔ یہودی دنیا میں کاروبار کے معاملے میں سب سے زیادہ کامیاب واقع ہوئے ہیں عالمی تجارت کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جس میں ان کا عمل دخل نہ ہو چنانچہ جہاں دیدہ ٹرمپ یہودیوں سے قربت کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ وہ ان کی اکلوتی ریاست اسرائیل کے سب سے زیادہ خیرخواہ ہیں اور اس کی ناجائز خواہشات کو پورا کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کر رہے ہیں۔ وہ یہودیوں کی مدد سے ہی گزشتہ الیکشن جیتے تھے اور انھیں اگلے الیکشن بھی ان کی مدد کے بغیر جیتنا محال نظر آتا ہے۔

کوئی سابق امریکی صدر بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالخلافہ تسلیم کرنے کی ہمت نہ کر سکا مگر ٹرمپ نے نہ صرف بیت المقدس کو اسرائیل کا کیپٹل تسلیم کر لیا بلکہ فلسطینیوں کے علاقوں پر اسرائیلی قبضے کو درست قرار دیدیا۔ اب وہ غرب اردن پر بھی اسرائیل کو قابض کرانیوالے ہیں مگر یہ کام ایک خاص مقصد کے تحت کچھ عرصے کے لیے معطل کر دیا ہے۔ نومبر کے مہینے میں امریکی صدارتی انتخاب منعقد ہونے والا ہے اور پورے امریکا میں ان کی پوزیشن انتہائی خراب ہے۔ انھوں نے گزشتہ الیکشن میں عوام سے جو وعدے کیے تھے ان میں سے کوئی بھی پورا نہیں ہو سکا۔ اس وقت امریکا سخت معاشی مشکلات میں مبتلا ہے۔ مہنگائی اور بیروزگاری کی شرح اتنی بلند ہے کہ پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا پھر انتظامی طور پر بھی ٹرمپ بالکل ناکام ثابت ہوئے ہیں ملک میں کورونا نے تباہی مچا رکھی ہے وہ اس بیماری کی روک تھام کرنے کے بجائے سیاسی کھیل کھیل رہے ہیں امریکا میں تیزی سے پھیلتے ہوئے کورونا کی وجہ چین کو قرار دے رہے ہیں گویا کہ وہ اس بیماری کا ذمے دار چین کو قرار دے کر خود کو اس سے بری الذمہ سمجھتے ہیں عوام ان کی منطق سے سخت نالاں ہیں۔

ادھر ملک میں نسل پرستی عروج پر ہے کالوں سے سخت نفرت کا پرچار اب ان کے اپنے گلے پڑ گیا ہے امریکی پولیس نے کچھ ہی عرصے میں تین کالے نوجوانوں کو بغیر کسی قصور کے ہلاک کر ڈالا ہے۔ پولیس کے ہاتھوں پہلا قتل جارج فلوئیڈ نامی نوجوان کا ہوا تھا جسے بڑی سفاکی سے مارا گیا تھا۔ پولیس کی اس سفاکی پر پورے امریکا میں کئی ماہ تک ٹرمپ کے خلاف مظاہرے ہوئے تھے ابھی ایک نئے کالے کی ہلاکت پر پھر مظاہرے شروع ہو گئے ہیں دراصل ٹرمپ نے اقتدار سنبھالتے ہی کئی غیر دانشمندانہ فیصلے کیے تھے جن میں تارکین وطن کے خلاف سخت قوانین کا نفاذ بھی شامل تھا ان قوانین کے نفاذ سے مقامی لوگ بھی ان کے خلاف ہو گئے تھے، انھوں نے اپنی صدارت کے پورے چار سال مسلم دشمنی اور جنگجویانہ پرچار سے پوری دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے قریب کر دیا ہے۔ چین کو انھوں نے خاص نشانے پر لیا ہوا ہے۔ اسے جنگ کرنے کے لیے اشتعال دلاتے رہتے ہیں۔

ٹرمپ اپنی جنگجویانہ مہم جوئی سے امریکی عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ وہ امریکا کے کتنے وفادار ہیں جب کہ امریکی عوام ان کی اس روش سے سخت بیزار ہیں اور چین کو خوامخواہ امریکا کا دشمن بنانے پر سخت ناراض ہیں دراصل ٹرمپ دنیا کو جنگ میں جھونک کر اپنا اگلا الیکشن جیتنا اور یہودیوں کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ نے اس وقت بھارت کو قربانی کا بکرا بنا رکھا ہے وہ اسے چین کے خلاف لڑانے کے لیے اس کی پیٹ ٹھونک رہے ہیں اور بیوقوف مودی ٹرمپ کی چال میں پھنس کر خود کو مغرب کے قریب ہونے پر پھولا نہیں سما رہا ہے۔ ٹرمپ چین اور ایران کا ہوا کھڑا کر کے بھارت اور عربوں کو اپنے ہتھیار فروخت کرنے کے ساتھ ساتھ اسرائیلی اسلحہ بھی بکوا رہے ہیں۔ ٹرمپ کے مقابلے میں اس وقت ان کے حریف جوبائیڈن کی عوام میں مقبولیت دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق اس وقت ٹرمپ کی مقبولیت صرف 12 فیصد رہ گئی ہے جب کہ جوبائیڈن کی عوامی مقبولیت 52 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ 

ایسے حالات میں ٹرمپ امریکی عوام میں اپنی ساکھ بہتر بنانے کے لیے اسرائیل کو خلیجی ممالک سے تسلیم کرانے کا کارنامہ انجام دینا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں ٹرمپ کے یہودی داماد مسٹر کرائسز اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس وقت ٹرمپ کو اپنے داماد کے ذریعے ایک بڑی کامیابی متحدہ عرب امارات سے اسرائیل کو تسلیم کرا کے ملی ہے جس کا اعلان انھوں نے خود واشنگٹن سے کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ اس نے اسرائیل کو اس کی اس یقین دہانی پر تسلیم کیا ہے کہ وہ مزید فلسطینی علاقوں پر قبضہ نہیں کریگا مگر اسرائیلی وزیر اعظم نے معاہدے کے فوراً بعد اس شرط کو ماننے سے صاف انکار کر دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ فلسطینی زمین کے حقوق سے انھیں کوئی دست بردار نہیں کر سکتا۔ اس طرح اسرائیل کو فلسطینی علاقوں پر قبضہ کرنے سے روکنا ایک دھوکے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اسرائیل معاہدے کے بعد سے ہی فلسطینیوں پر جنگی جہازوں سے روز ہی حملے کر رہا ہے۔ 

ادھر فلسطینی انتظامیہ نے اس معاہدے کو جعلی اور دھوکا قرار دیکر رد کر دیا ہے۔ ادھر سعودی حکومت نے اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان کر کے ٹرمپ کے الیکشن جیتنے اور اسرائیل کو خوش کرنے کے سازشی منصوبے کو ناکام بنا دیا ہے۔ سعودی حکومت نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات کی پیروی نہیں کریگی وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کریگی جب تک فلسطینیوں اور اسرائیلی حکومت کے درمیان دو ریاستی فارمولے کے تحت امن معاہدہ طے نہیں ہو جاتا۔ سعودی حکومت نے دراصل یہ فیصلہ اپنی عالمی ذمے داریوں کو سامنے رکھ کر کیا ہے پھر وہ عالم اسلام کے قائد کا کردار بھی ادا کر رہا ہے۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے اس کی او آئی سی کی قیادت پر بھی حرف آ سکتا تھا اور او آئی سی بھی بکھر سکتی تھی۔ کشمیریوں اور فلسطینیوں کو بھارتی اوراسرائیلی غلامی سے نکالنا او آئی سی کی ذمے داری ہے سعودی حکومت کشمیریوں کی آزادی کی اب بھی علمبردار ہے۔ 

عربوں کو اسرائیل اور بھارت پر کسی صورت میں اعتبار نہیں کرنا چاہیے۔ جہاں تک متحدہ عرب امارات کا تعلق ہے اسے اسرائیل کو تسلیم کرانے کے لیے مجبور کرنیوالا امریکا ہے۔ امریکی حکومت نے لگتا ہے اسے F-35 جدید اسٹیلتھ طیارے دینے کا لالچ دیکر منایا ہے۔ بھارت کے حکمرانوں کا خیال تھا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بعد وہ عرب دشمنی ترک کردیگا مگر اس نے متحدہ عرب امارات کو F-35 طیاروں کو دینے کی سخت مخالف کی ہے جس نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اب بھی اپنی عرب دشمنی پر قائم ہے۔ اس سے برہم ہو کر محمد بن زید نے نیتن یاہو سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ لگتا ہے متحدہ عرب امارات کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے۔ اس طرح دونوں کے درمیان امن معاہدہ کسی وقت بھی ردی کی ٹوکری کی زینت بن سکتا ہے۔

عثمان دموہی 

بشکریہ ایکسپریس نیوز