بھارت کی مرکزی حزب اختلاف کی جماعت کانگریس نے وال سٹریٹ جرنل میں شائع ہونے والے انکشافات کے بعد فیس بک انتظامیہ سے ان الزامات کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہندو قوم پرست حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سیاست دانوں کو اس پلیٹ فارم پر مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مواد پھیلانے کی کھلی چھوٹ دی گئی تھی۔ امریکہ کے معتبر اشاعتی ادارے کی رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ کس طرح وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت کے رکن ٹی راجا سنگھ نے اپنے ذاتی فیس بک پیج کا استعمال کرتے ہوئے روہنگیا تارکین وطن کو گولی مارنے اور مساجد گرانے کا مطالبہ کیا تھا۔ رواں برس مارچ میں فیس بک کے داخلی نگرانی کے شعبے نے اس اکاؤنٹ کو خطرناک قرار دیتے ہوئے راجا سنگھ پر فیس بک کے پلیٹ فارم کے استعمال پر پابندی لگانے کی سفارش کی تھی تاہم بھارت میں کمپنی کی پبلک پالیسی کی اعلیٰ ترین عہدیدار انکھی داس فیس بک کے نفرت انگیز مواد کے اصولوں کو یہاں نافذ کرنے کے خلاف تھی، جن کا ماننا تھا کہ ایسا کرنے سے بھارت میں فیس بک کے کاروبار پر اثر پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب ٹی راجا سنگھ کے فیس بک اور انسٹاگرام پر اکاؤنٹس تاحال موجود ہیں۔ ’فارن پالیسی‘ جریدے کے مطابق کانگریس پارٹی نے فیس بک کے سی ای او مارک زکربرگ کو لکھے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ وہ وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں لگائے گئے الزامات کی تحقیقات اور بھارت میں اپنی انتظامیہ کی ٹیم کو تبدیل کرنے پر غور کریں۔ دوسری جانب بی جے پی کے چیف انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی نے فیس بک کے حوالے سے ایک بھارتی اخبار میں لکھا ہے کہ کمپنی کو بی جے پی کی زر خرید لونڈی سمجھنا مضحکہ خیز الزام ہے۔ ادھر فیس بک کے اپنے ملازمین کمپنی کے اس دوہرے معیار کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور فیس بک انڈیا کے عملے کے 11 ملازمین نے کمپنی کی قیادت کو ایک کھلا خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے کمپنی کے نفرت انگیز مواد کے حوالے سے پالیسی پر عمل درآمد کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق خط میں لکھا گیا ہے کہ ان واقعات کو دیکھ کر غصے پر قابو پانا مشکل امر ہے اور فیس بک پر موجود مسلم کمیونٹی کے صارفین کمپنی کی قیادت سے اس بارے میں سننا چاہیں گے۔ یہ مسئلہ آسانی سے حل ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ اگلے ماہ پارلیمنٹ کے مون سون اجلاس میں ششی تھرور جیسے سیاست دان اس معاملے کی مزید تحقیقات کا مطالبہ کریں گے۔ دہلی میں ’عام آدمی پارٹی‘ کی ریاستی حکومت نے کہا ہے کہ وہ فیس بک کی سینیئر انتظامیہ کو اپنی ’امن و ہم آہنگی کمیٹی‘ کے روبرو طلب کرے گی۔ یہ کمیٹی رواں سال متنازع شہریت بل کے بعد مظاہروں کے دوران دہلی میں مسلمانوں کے قتل عام کے بعد قائم کی گئی تھی۔ بی جے پی رہنماؤں پر سوشل میڈیا کے ذریعے دہلی فسادات کی آگ بھڑکانے کا بھی الزام ہے۔ ممکن ہے کہ یہ دونوں اقدامات فیس بک کے لیے زیادہ شرمناک صورت حال پیدا کریں گے اور کمپنی پر بی جے پی کو ترجیحی سلوک سے نوازنے کے الزامات کی تحقیقات کے لیے دباؤ میں اضافہ ہو گا۔
بھارت صارفین کے لحاظ سے فیس بک کی سب سے بڑی منڈی ہے جو اس کی آمدنی کا ایک بہت بڑا ذریعہ بھی ہے۔ اس کمپنی کے بھارت میں سیاسی روابط بھی مضبوط ہیں، جن کی مثال انکھی داس اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں کے لیے کی گئی لابنگ اور کمپنی کے سی ای او زکربرگ کی نئی دہلی اور کیلیفورنیا میں نریندر مودی سے کی گئی ذاتی ملاقاتیں شامل ہیں۔ اور اب اس سال ارب پتی مکیش امبانی کی کمپنی ریلائنس میں فیس بک کی 5.7 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری نے کمپنی کو دہلی کی سیاسی راہداریوں تک بالواسطہ رسائی دلا دی ہے۔ اس طرح اب فیس بک کے پاس تعلقات عامہ کے بحرانوں سے نمٹنے کے لیے ایک موثر مشینری موجود ہے اور کسی بھی ممکنہ کارروائی سے بچنے کے لیے ایک مضبوط قانونی ٹیم بھی۔
عالمِ اسلام اور اُمتِ مسلمہ کا اجتماعی ضمیر اسرائیل کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہے۔ ارضِ فلسطین اور فلسطینی مسلمانوں کے خلاف اسرائیلی مظالم اور استحصالی ہتھکنڈے اس قدر شدید اور اتنے زیادہ ہیں کہ ایک ارب سے زائد مسلمانوں کی اکثریت اسرائیل کو بطورِ ایک جائز مملکت ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس کے باوجود کسی کو چاہے کتنا ہی بُرا کیوں نہ لگے، عالمِ عرب کے ایک معروف مسلم ملک، متحدہ عرب امارات، اسرائیل کو تسلیم کرنے کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے۔ کوئی دن جاتا ہے جب یو اے ای اور اسرائیل ایک دوسرے کے ساتھ باقاعدہ سفارتی تعلقات کے بندھن میں بندھ جائیں گے ۔ کورونا (کووِڈ19) پر مشترکہ تحقیقی کاوشیں کرنے کے لیے تو یہ دونوں ملک اکٹھے بیٹھ چکے ہیں۔ مبینہ طور پراسرائیل کی مشہور خفیہ ایجنسی ’’موساد‘‘ کا سربراہ متحدہ عرب امارات کا پہلا دَورہ بھی کر چکا ہے ۔ اس کے علاوہ اسرائیل نے عالمِ عرب کے ایک اور مسلم ملک ، عمان، سے بھی رابطہ کیا ہے اور بحرین ایسے چھوٹے مگر دولتمند عرب مسلمان ملک سے بھی نامہ و پیام جاری ہے۔
مصدقہ خبریں ہیں کہ اسرائیلی وزیر خارجہ (گابی اشکنیزی) نے عمان کے وزیر خارجہ ( یوسف بن علاوی بن عبداللہ) سے مفصل ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات کے اسرائیل سے سفارتی مصافحے کے بعد پورے عالمِ اسلام میں ایک ہیجان کی سی کیفیت دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ہر مسلمان مضطرب ہے، حالانکہ اس سے قبل مصر، اردن اور ترکی بھی اسرائیل سے سفارتی ، سیاحتی ، دفاعی اور تجارتی تعلقات استوار کر چکے ہیں۔ پھر ابوظہبی اور تل ابیب کے سفارتی مصافحے اور معانقے پر یہ اضطراب و ہیجان کیوں؟۔ ہمارے امیرِ جماعتِ اسلامی ، محترم سراج الحق، اور امیرِ جے یو آئی ایف، حضرت مولانا فضل الرحمن، تو شبہات کا اظہار کر چکے ہیں کہ نئے حالات میں شائد ہمارے ہاں بھی کچھ لوگ اسرائیل بارے نرم گوشہ رکھ رہے ہیں۔ ایسے پُر شور اور پُر شبہ ماحول میں وزیر اعظم عمران خان نے غیر مبہم الفاظ میں کہا ہے: ’’پاکستان کا موقف بالکل واضح ہے۔
ہم اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کر سکتے، جب تک فلسطینیوں کو اُن کا حق نہیں ملتا۔‘‘ وزیر اعظم مزید مستحکم لہجے میں کہتے ہیں: ’’ قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے کہا تھا کہ فلسطینیوں کو حق ملے گا تو اسرائیل کو تسلیم کریں گے۔ اگر ہم اسرائیل کو تسلیم کر لیں تو مقبوضہ کشمیر کو بھی چھوڑ دینا ہو گا کیونکہ دونوں کا معاملہ یکساں ہے۔ فلسطین کے بارے میں ہم نے اللہ کو جواب دینا ہے ۔ میرا ضمیر کبھی بھی فلسطین کو تنہا چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہو گا۔‘‘ فلسطین نے اس پر خان صاحب کا شکریہ ادا کیا ہے۔ ہمارے وزیر اعظم صاحب کے اس بیان سے یہ تو واضح ہو جاتا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے بارے میں اُن کا ذہن صاف اور ابہام سے پاک ہے۔ پاکستان سمیت عالمِ اسلام کی اکثریت اسرائیل کو اُسی طرح ایک غاصب ملک سمجھتی ہے جس طرح مقبوضہ کشمیر بارے بھارت کو ایک غاصب مملکت سمجھا جاتا ہے۔
یہ دونوں حل طلب تنازعات اسلامیانِ عالم کے لیے نہایت حساس موضوعات ہیں۔اپنی کئی کمزوریوں کے باوجود یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ہمارے حکمران کشمیر و فلسطین سے دستکش ہو جائیں ۔ یہ تنازعات حل ہوں گے تو ہی جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کی فضاؤں کا راج ہو گا۔ اسرائیل مگر بضد اور مُصر ہے کہ وہ امریکی آشیرواد اور پشت پناہی سے عالمِ عرب کو مجبور کر دے گا کہ وہ اُسے ایک جائز مملکت تسلیم کر لیں ۔ امریکی صدر اپنے داماد و مشیر جیرڈ کشنر، جو ایک معروف امریکی یہودی خاندان کا فرد ہے ، کی وساطت سے اسرائیلی لابنگ کر رہے ہیں کہ جانتے ہیں کہ یوں اگر امریکی و اسرائیلی یہودی خوش ہو جائیں تو دوسری بار کی امریکی صدارت اُن کی جھولی میں آگرے گی۔
اسرائیل کا یہ دعویٰ محض کھوکھلی بَڑ نہیں ہے کہ ’’متحدہ عرب امارات کے بعد بحرین اور عمان بھی اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کر سکتے ہیں۔‘‘ حیرت خیز بات یہ ہے کہ اس بیان پر بحرین اور عمان کی طرف سے تردید یا تصدیق میں کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا۔ اس خاموشی کا دراصل مطلب کیا ہے ؟ نوبت ایں جا رسید کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور وہائٹ ہاؤس کے ترجمان ، جیرڈ کشنر، نے 19 اگست 2020 کو امریکی صحافیوں کو دی گئی ایک بریفنگ میں تحکم سے کہا: ’’ یہ سعودی عرب کے مفاد میں ہو گا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے، جیسا کہ متحدہ عرب امارات نے کیا ہے۔ یہ اقدام سعودی عرب کے دفاع اور کاروبار کے لیے بہت اچھا ہو گا۔‘‘ یہ تو نہایت اچھا ہُوا ہے کہ سعودی وزیر خارجہ ( شہزادہ فیصل بن فرحان) نے ترنت جواب دیا ہے: ’’جب تک یہودی ریاست ، اسرائیل، فلسطینیوں سے امن معاہدے پر دستخط نہیں کرتی، اسرائیل سے تعلقات ممکن نہیں۔
واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے باہمی معاہدے پر عربوں کی ایک بڑی تنظیم (جی سی سی) میں سے بحرین اور عمان نے تو اس کا خیر مقدم کیا ہے لیکن کویت اور قطر ابھی تک خاموشی کی چادر اوڑھے ہُوئے ہیں ۔ عالمِ عرب کے کنٹرولڈ میڈیا میں یو اے ای اور اسرائیل کے ’’ امن معاہدے‘‘ بارے کم کم اختلافی آوازیں اُٹھ رہی ہیں۔ اس کے برعکس ایرانی اور ترک میڈیا اس معاہدے بارے خاصا مشتعل محسوس ہو رہا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے اسرائیل کی عسکری طاقت کے سامنے عالمِ عرب پورے قد کے ساتھ کھڑا ہونے کی سکت ہی نہیں رکھتا ۔ ترپن سال قبل عالمِ عرب کے تین ممالک ( مصر، اردن ، شام) نے ہمت اور اتحاد سے اسرائیل پر بیک وقت حملہ کیا تھا لیکن اسرائیل نے پلٹ کو ان تینوں کو نہ صرف عبرتناک شکست دی بلکہ تینوں اسلامی ممالک کے کئی علاقوں پر فوجی قبضہ بھی کر لیا۔ مصر اور اُردن کے کئی زیر قبضہ علاقے تو اسرائیل نے ’’مہربانی‘‘ سے چھوڑ دیے لیکن شام کے پہاڑی علاقے (گولان ہائٹس) ابھی تک اُس کی گرفت میں ہیں ۔
کہا جاتا ہے کہ اگر شام، اردن اور مصر میں آمریتیں نہ ہوتیں تو شائد جمہوریت اور عوامی طاقت سے تینوں ممالک کے عوام غاصب اسرائیل کے سامنے ڈٹے رہتے۔ بد قسمتی سے یہ تینوں ملک اب بھی جمہوریت کی نعمت سے محروم ہیں؛ چنانچہ ان کی طاقت اور مزاحمتی قوت بھی ہمارے سامنے ہے۔ پھر جمہوری اور جوہری اسرائیل کے سامنے عالمِ عرب کے حکمران کس طرح ہمت و قوت سے ڈٹ سکتے ہیں ؟ سچ یہ ہے کہ عراق و شام کے ڈکٹیٹروں نے اسرائیل کے مقابل اپنے عوام کو مایوس کیا ہے ۔ جمال عبدالناصر، صدام حسین اور حافظ الاسد اسرائیل کے سامنے ریت کے ٹیلے ثابت ہُوئے۔ بس ڈینگیں اور بڑھکیں مارتے رہے ۔ جب وقتِ قیام آیا تو عشروں تک عوام کی گردنوں پر سوار یہ آمر مسلمان حکمران اسرائیل کے سامنے ’’سجدے ‘‘میں چلے گئے۔
اسرائیل کے خلاف نہ جمال ناصر کی ’’طاقتور ایئر فورس‘‘ بروئے کار آئی، نہ صدام حسین کے سکڈ میزائل کام آ سکے ، نہ حافظ الاسد کی ’’ بعث پارٹی ‘‘ نے وطن پر قربان ہونے کی ہمت کی اور نہ اردن کے شاہ حسین کی ہاشمی بادشاہت اسرائیل کے سامنے دَ م مار سکی ۔ سب بھوسہ ثابت ہُوئے۔ اسرائیل نے عراقی ایٹمی پلانٹ تباہ کر ڈالا لیکن صدام کچھ بھی نہ کر سکا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اسرائیل سے شکست کے بعد بھی یہ چاروں آمر حکمران مدتوں اقتدار سے چپکے رہے۔ تو کیا اس پس منظر میں متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی راہ اپنائی ہے؟ اگرچہ متحدہ عرب امارات میں 15 لاکھ سے زائد پاکستانی مزدوری کر رہے ہیں لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان فلسطینیوں کی طرف پشت کر کے فی الحال اسرائیل کو تسلیم نہیں کر سکتا۔
متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان معاہدے کی گونج نے خطے میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس معاہدے پر پاکستان کا موقف بھی سامنے آچکا ہے۔ ترکی نے معاہدے کی نہ صرف شدید الفاظ میں مذمت کی بلکہ متحدہ عرب امارات سے سفارتی تعلقات معطل کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔ ایران نے اس معاہدے کو شرمناک قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس سے علاقے میں خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر مصر کے علاوہ ابھی تک کسی عرب یا مسلم ملک کا کوئی خاص رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ مصر نے اس معاہدے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ مسلم ممالک کے علاوہ دنیا کے دیگر اہم ممالک نے بھی تا حال اس معاہدے پر اپنا رد عمل ظاہر نہیں کیا ۔ صرف برطانیہ نے اس معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے۔ پاکستان نے اگرچہ اپنے رد عمل میں کوئی واضح موقف ظاہر نہیں کیا لیکن ایسا لگتا ہے کہ پاکستان نے اپنے رد عمل کے اظہار میں جلدی کی ہے۔ کیونکہ ابھی نہ تو اس معاہدے کے اہم نکات واضح ہیں نہ یہ معلوم ہوا ہے کہ اس معاہدے کا مستقبل کیا ہے۔ پاکستان کے بعض عوامی حلقوں نے معاہدے کی مذمت کی ہے۔ لیکن اس معاملے پر جذبات کے اظہار کے ساتھ ساتھ ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچنا ضروری ہے۔
اس معاہدے کے فلسطینیوں، خطہ اور خصوصاً پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ آنیوالے چند دنوں میں اس معاہدے پر وائٹ ہائوس میں فریقین کے دستخط کی تقریب منعقد ہونیوالی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ جلد دیگر عرب ممالک بھی اسرائیل کے ساتھ معاہدہ کر لیں گے۔ اور یہ بات تو واضح ہے کہ امریکہ ہمیشہ کی طرح اب بھی اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے۔ صدر ٹرمپ تو اس معاملہ میں دیگر کئی امریکی صدور کے مقابلہ میں اسرائیل کا بہت زیادہ ساتھ دے رہے ہیں۔ یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان معاہدے سے دونوں ممالک کو تو بہت مالی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں لیکن بلاشبہ فلسطینی کاز کو بہت زیادہ نقصان پہنچے گا۔ فلسطینی مسلمانوں کی جو تھوڑی بہت امیدیں عرب ممالک سے وابستہ تھیں وہ دم توڑ دیں گی۔ بھارت کے لئے یہ معاہدہ وقتی طور پر خوش کن لیکن مستقبل قریب میں نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ اس لئے بھارت کو اس معاہدے سے خوش نہیں ہونا چاہئے کیونکہ بھارت کے دونوں ممالک کے ساتھ پہلے سے تعلقات قائم ہیں۔
اسرائیل سے تو کسی اچھائی کی امید نہیں کی جا سکتی لیکن یہ بات یقینی ہے کہ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور دیگر مسلم ممالک کبھی بھی مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر بھارت کا ساتھ نہیں دیں گے۔ سعودی عرب پاکستان کا اسلامی برادر ملک ہے اور مسلمانوں خصوصاً پاکستانیوں کے دل میں سعودی عرب کے لئے بہت عقیدت اور احترام کے جذبات ہیں اور یہ جذبات تاقیامت قائم رہیں گے۔ وقتی گلہ شکوہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں کسی بڑی خلیج کا باعث نہیں بن سکتا۔مصدقہ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق حال ہی میں پیدا ہونے والی بعض غلط فہمیاں کافی حد تک دور ہو چکی ہیں۔ پاکستانی عسکری قیادت کے حالیہ دورے کے بعد تعلقات میں مزید استحکام آجائے گا۔ سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بات صدر ٹرمپ اور ان کے داماد کی طرف سے کی گئی ہے لیکن شاید یہ اتنا آسان نہیں ہو گا۔
متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان معاہدہ اگرچہ دونوں ممالک کا اندرونی معاملہ ہے لیکن اس معاہدے کے اثرات پورے خطے پر پڑ سکتے ہیں۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی سے دیگر کئی عرب ممالک بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بھی اسرائیلی نقش قدم پر چلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن فلسطین اور کشمیر میں بڑا فرق ہے۔ اب دنیا کے حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں اب مودی کو بھی اپنی سوچ تبدیل کرنا پڑے گی۔ خود بھارت تیزی سے تقسیم کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان معاملات انتہائی کشیدہ ہیں۔ دوسری طرف اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کیخلاف اسرائیل میں ہی متعدد احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ با الفاظ دیگر یہ کہا جا سکتا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو ایسے اقدامات محض اپنی سیاسی بقا کے لئے اٹھا رہے ہیں۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان کوئی بھی حادثہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ اور احادیث مبارکہ کے مطابق یہ ایک بڑی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ یہ یاد رہے کہ خدانخواستہ اگر ایسی صورتحال بن گئی تو اس کے صرف ایران اور اسرائیل ہی فریق نہیں رہیں گے۔
سعودی عرب نے کہا کہ وہ اس وقت تک متحدہ عرب امارات کی تقلید میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم نہیں کر سکتا جب تک یہودی ریاست فلسطینیوں کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط نہ کر دے۔ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے برلن کے دورے کے موقع پر صحافیوں کو بتایا کہ وہ اقوام متحدہ کے دو ریاستی حل کے فارمولے اور عرب امن منصوبے کے پابند تھے اور رہیں گے. اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے بین الاقوامی معاہدوں کی بنیاد پر فلسطینیوں کے ساتھ امن ضروری ہے، فلسطینیوں کو حقوق ملنے کے سب کچھ ممکن ہے۔ اپنے جرمن ہم منصب ہائیکو ماس کے ساتھ نیوز کانفرنس میں شہزادہ فیصل بن فرحان نے اسرائیل کی مقبوضہ مغربی کنارے میں وابستگی اور بستیوں کی تعمیر کی یکطرفہ پالیسیوں پر تنقید کی جو دو ریاستوں کے حل کے لیے ناجائزاور نقصان دہ ہے۔
سعودی وزیر خارجہ نے زور دیا کہ اسرائیل کے جانب دارانہ اقدامات فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان امن کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں، امارات کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے پر اپنے پہلے رد عمل میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے 2002 میں عرب امن منصوبے کی سرپرستی کی تھی لیکن اب فلسطینی امن معاہدے کے بغیر اسرائیل کے سفارتی تعلقات کی گنجائش نہیں ہے۔ شہزادہ فیصل بن فرحان کے مطابق ان کے جرمن ہم منصب ہائیکو ماس کے ساتھ بات چیت میں ایران پر عائد ہتھیاروں کی پابندی میں توسیع کی ضرورت کا معاملہ زیر بحث آیا ہے۔ لیبیا کے حوالے سے فیصل بن فرحان کا کہنا تھا کہ ہم لیبیا کا بحران حل کرنے کے لیے قاہرہ منصوبے اور برلن کانفرنس کے اعلان کو سپورٹ کرتے ہیں، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے معاہدے کا اعلان کیا گیا تھا۔
متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے نتیجے میں اسرائیل مغربی کنارے کے حصوں کے الحاق کو مؤخر کرنے پر راضی ہوا ہے، تاہم اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو یہ بھی واضح کر چکے ہیں کہ یہ منصوبہ اب بھی موجود ہے۔ یو اے ای اور اسرائیل کے معاہدے پر خلیج تعاون ممالک (جی سی سی) میں سے بحرین اور عمان نے اس کا خیر مقدم کیا تھا، اب تک عرب دنیا کی سب سے بڑی معیشت سعودی عرب، یو اے ای اور اسرائیل کے مابین معاہدے پر خاموش تھی لیکن مقامی عہدیداروں کے مطابق امریکی دباؤ کے باوجود ریاض نے اپنے اہم علاقائی اتحادی (یو اے ای) کے نقش قدم پر چلنے کا امکان ظاہر نہیں کیا۔