تعلیمی بحران : اقوام متحدہ کی ’ایک پوری انسانی نسل کے المیے‘ کے خلاف تنبیہ

کورونا وائرس کی وبا کے باعث دنیا کو ایک ایسے تعلیمی بحران کا سامنا ہے، جو تاریخ میں پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ اقوام متحدہ نے اسے ’ایک پوری نسل کا المیہ‘ قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش کے مطابق یہ وبا دنیا بھر میں تعلیمی شعبے کو ایک بےنظیر بحران سے دوچار کر چکی ہے۔ اس دوران دنیا کے 160 سے زائد ممالک میں لاکھوں اسکول بند کر دیے گئے اور ایک بلین سے زیادہ طلبا و طالبات کے لیے تعلیمی سلسلہ معطل ہو چکا ہے۔ عالمی ادارے کے سیکرٹری جنرل نے ایک بیان میں کہا کہ کووِڈ انیس کی عالمی وبا کی وجہ سے تعلیمی شعبے میں بحرانی حالات ‘ایک پوری نسل انسانی کے لیے تباہ کن اثرات‘ کا سبب بن سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق اس وبا کے نتیجے میں نہ صرف ایک بلین سے زائد بچوں کا تعلیمی کیریئر بری طرح متاثر ہو رہا ہے بلکہ کم از کم چالیس ملین چھوٹے بچے ایسے ہیں، جن کا اسکولوں میں داخلے سے پہلے کا ایک سال بھی ضائع ہو رہا ہے۔

دنیا بھر کے یہ چار کروڑ بچے وہ ہیں، جنہیں اس سال کنڈر گارڈنز اور نرسریوں میں بنیادی تربیت کے بعد پرائمری اسکولوں میں داخل ہونا تھا۔ مہاجرہ ارمانی افغانستان کے شمالی شہر جلال آباد میں بچیوں کو تعلیم دے رہی ہیں۔ مشکل اور نامساعد حالات کے باوجود اب افغانستان میں اسکول جانے والی چھوٹی عمر کی بچیوں کی تعداد چوہتر فیصد ہو چکی ہے۔ انٹونیو گوٹیرش نے اقوام متحدہ کی ‘ہمارا مستقبل بچاؤ‘  کے نام سے ایک بین الاقوامی مہم کا آغاز کرتے ہوئے کہا، ”آج کی دنیا میں شدید خطرہ پیدا ہو چکا ہے کہ ایک پوری نسل کو درپیش اس المیے سے بہت زیادہ انسانی صلاحیتیں ضائع ہو جائیں گی۔

اس کے علاوہ اسی وجہ سے نہ صرف گزشتہ کئی عشروں کے دوران کی جانے والی کوششیں بھی منفی طور پر متاثر ہوں گی بلکہ مختلف معاشروں میں پائی جانے والی عدم مساوات بھی بڑھ جائے گی۔‘‘ انٹونیو گوٹیرش نے مزید کہا کہ جب مقامی سطح پر کووِڈ انیس کی وبا پر قابو پا لیا جائے، تو ہر معاشرے میں بچوں کو جلد از جلد واپس تعلیمی اداروں میں بھیجنا قومی اور مقامی حکومتوں کی اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ عالمی سطح پر نئی نسل کی مناسب تعلیم و تربیت کے حوالے سے ایک اور پریشان کن بات یہ بھی ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ایک ارب سے زائد بچوں کی پڑھائی تو معطل ہو ہی چکی ہے، لیکن اس عالمی وبا سے پہلے تقریباﹰ 25 کروڑ بچے ایسے بھی تھے، جنہیں اسکولوں میں زیر تعلیم ہونا چاہیے تھا، مگر وہ اسکول جا ہی نہیں رہے تھے۔

بشکریہ ڈی ڈبلیو اردو

امریکا میں پابندی کی دھمکی، ٹک ٹاک کو چھ ہفتے کی ڈیڈ لائن

صدر ٹرمپ نے مطالبہ کیا ہے کہ چینی سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک کو اگر کوئی امریکی کمپنی خریدتی ہے، تو اس کی آمدنی کا اچھا خاصا حصہ امریکی حکومت کو ملنا چاہیے۔ امریکی کمپیوٹر ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ پہلے ہی ٹک ٹاک خریدنے کے لیے اس کی مالک چینی کمپنی سے مذاکرات کر رہی ہے۔ لیکن صدر ٹرمپ کے ٹک ٹاک سے متعلق سخت موقف نے بظاہر ان مذاکرات کو پیچیدہ کر دیا ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ انہوں نے چند دن پہلے مائیکروسافٹ کے سرابراہان سے فون پر بات چیت میں واضح کر دیا تھا کہ ان کی ممکنہ کاروباری ڈیل سے امریکی حکومت کے خزانے میں ‘خاطر خواہ‘ رقم آنا چاہیے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر پندرہ ستمبر تک کوئی ڈیل نہ ہوئی، تو وہ امریکا میں اس چینی ایپ پر پابندی لگا دیں گے۔

نوجوانوں میں مقبول ایپ
ٹک ٹاک ایپ امریکا سمت دنیا کے کئی ملکوں کے نوجوانوں میں بہت مقبول ہے۔ پچھلے سال یہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ ڈاؤن لوڈ کی جانے والی ایپس میں چوتھے نمبر پر رہی تھی۔ اس کمپنی کی مالیت 75 ارب ڈالر کے قریب ہے۔ اس ویڈیو شیئرنگ ایپ کے خلاف صدر ٹرمپ کا اقدام چینی ٹیلی کوم کمپنیوں کے خلاف وسیع ترکارروائی کا حصہ ہے۔ بھارت چین کے ساتھ حالیہ سرحدی کشیدگی کے دوران پہلے ہی ٹک ٹاک پر پابندی عائد کر چکا ہے۔

چینی امریکی الزام تراشی
ٹرمپ حکومت کا الزام ہے کہ چین کی ٹک ٹاک اور وی چیٹ جیسی کمپنیاں صارفین کا ڈیٹا بیجنگ حکومت کو مہیا کرتی ہیں اور وہ امریکا کی قومی صلاحیتوں کے لیے خطرہ ہیں۔ ٹک ٹاک چلانے والی کمپنی ‘بائٹ ڈانس‘ اور بیجنگ حکومت دونوں یہ الزامات رد کرتے ہیں۔ ٹک ٹاک کا موقف ہےکہ وہ امریکی شہریوں کا ڈیٹا امریکا ہی میں رکھتی ہے اور اس کے ملازمین کو اس ڈیٹا تک رسائی حاصل نہیں ہوتی۔ چین کے سرکاری اخبار چائنا ڈیلی نے اپنے ایک اداریے میں لکھا کہ ایک چینی ٹیکنالوجی کمپنی کو ‘چوری‘ کرنے کی کوشش بیجنگ حکومت کے لیے ناقابل قبول ہو گی۔ اخبار نے خبردار کیا، ”اگر امریکی حکومت نے کوئی زبردستی کی تو چین اس کا کئی طریقوں سے جواب دے سکتا ہے۔‘‘

بشکریہ ڈی ڈبلیو اردو