امریکہ میں وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ان پر لگائے گئے الزامات اور کردار کشی کی کوششوں کو ’ناسمجھ‘ اور ’احمقانہ‘ قرار دیا ہے۔ ڈاکٹر فاؤچی کا کہنا تھا کہ ’انتظامیہ کا ایسا کرنے سے صدر کو ہی نقصان پہچنے گا۔ یہ ان کا برا تاثر قائم کرے گا۔‘ حالیہ دنوں میں ڈاکٹر فاؤچی اور امریکی صدر کے درمیان کورونا وائرس کے وبا سے نمٹنے کے لیے امریکی کوششوں کے اوپر اختلافات ہوئے ہیں اور وائٹ ہاؤس نے ڈاکٹر فاؤچی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے ایک فہرست جاری کی جس میں ڈاکٹر فاؤچی کی جانب سے کورونا وائرس کے حوالے سے دیے گیے وہ بیانات تھے جو کہ بعد میں غلط ثابت ہوئے تھے۔
امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا نے روس پر کورونا وائرس کی ویکسین سے متعلق تحقیقاتی مواد چرانے کی کوشش کا الزام لگایا ہے۔ خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق ویکسین کے حوالے سے مثبت پیش رفت سامنے آئی تھی جب آکسفورڈ یونیورسٹی نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کی تیار کردہ ویکسین کورونا کے خلاف درست مدافعتی ردعمل حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے، جو کورونا سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہو گی۔ اس اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی برطانوی نیشنل سائبر سکیورٹی سنٹر نے کہا کہ ’اے پی ٹی 29‘ نامی ہیکنگ گروہ نے برطانوی لیبارٹری کو جاسوسی کا ہدف بنایا ہے جو کورونا وائرس پر تحقیق کر رہی تھی۔ سائبر سکیورٹی سنٹر نے دعویٰ کیا ہے کہ اس ہیکنگ گروپ کا مقصد قیمتی انٹلیکچوئل پراپرٹی چوری کرنا تھا۔
سنٹر کا کہنا تھا کہ انہیں 95 فیصد سے زیادہ یقین ہے کہ ہیکنگ گروہ روسی خفیہ ایجنسی کا حصہ ہے جس کا مقصد کورونا کی ویکسین سے متعلق تحقیق پر معلومات جمع کرنا تھا۔ امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ نے مشترکہ سکیورٹی ایڈوائزری میں روس کو ہیکنگ کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ موسکو نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ہیکنگ کی کوششوں سے روس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ یاد رہے کہ دو روز قبل روس کی وزارت دفاع نے کورونا وائرس کی ’محفوظ‘ ویکسین کلینکل ٹرائلز کے بعد تیار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ اے ایف پی کے مطابق روسی وزارت دفاع نے کہا تھا کہ کورونا وائرس سے متعلق ویکسین کے تحقیقاتی تجربے میں 18 رضا کاروں نے حصہ لیا تھا جو بغیر کسی پیچیدگیوں کے ڈسچارج کر دیے گئے تھے۔
وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ ’رضاکاروں میں سے کسی پر بھی ویکسین کے منفی اثرات مرتب نہیں ہوئے، نہ صحت کے حوالے سے کوئی شکایت آئی، اور نہ ہی کوئی اور پیچیدگی سامنے آئی ہے۔’ وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ کلینیکل ٹرائلز پر مبنی نتائج کی وجہ سے یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ ویکسین مریضوں کے استعمال کے لیے محفوظ ہے۔ عالمی وبا سے اب تک دنیا بھر میں 5 لاکھ 88 ہزار افراد ہلاک جبکہ ایک کروڑ سے زیادہ متاثر ہو چکے ہیں۔ گزشتہ سال دسمبر میں پھوٹنے والی اس وبا سے عالمی معیشت کو بے حد نقصان پہنچا ہے۔ وائرس کے پھیلاؤ کے باعث پیدا ہونے والی مشکل صورتحال کا حل صرف ویکسین کی تیاری پر ہی منحصر ہے۔