
ایف بی آئی کے سربراہ نے کہا ہے کہ چین دنیا کا اکیلا سپر پاؤر بننے کے لیے کچھ بھی کر گذرنے کے لیے تیار ہے اور وہ بیرون ملک مقیم اپنے باشندوں کی زبردستی وطن واپسی کے لیے بھی ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے۔ ایف بی آئی کے سربراہ کرسٹوفر رے واشنگٹن کے ہڈسن انسٹیٹیوٹ میں ایک سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔ ایک گھنٹے کی اپنی تقریر میں انہوں نے کہا کہ چین کی طرف سے امریکی معیشت، ٹیکنالوجی اور سیاست میں مداخلت امریکا کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن کر اُبھر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان دنوں امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارہ تقریبا ہر دس گھنٹے میں چین کی طرف سے ایک نئے انٹیلیجنس حملے سے نبرد آزما ہونے میں لگا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا،”اس وقت ہم ملک بھر سے کاؤنٹر انٹیلیجنس کے جن تقریبا پانچ ہزار کیسز سے نمٹ رہے ہیں، ان میں سے آدھے کیسز کا تعلق چین سے ہے۔” انہوں نے کہا کہ چین کا انٹیلیجنس آپریشن لگاتار امریکی حکومت، اس کی پالیسیوں اور موقف کو ٹارگٹ کر رہا ہے، جس کا اثر صدارتی الیکشن پر بھی پڑ سکتا ہے۔
بیجنگ کا آپریشن ‘فوکس ہنٹ
ایف بی آئی کے ڈائریکٹر نے کہا کہ چین کی حکومت ایک حکمت عملی کے تحت بیرون ملک مقیم اپنے باشندوں کو بھی نشانہ بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کے تحت چین سے تعلق رکھنے والے ایسے شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو اپنے ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز اٹھاتے ہیں۔ کرسٹوفر رے نے الزام لگایا کے چینی حکومت کے ‘فوکس ہنٹ’ نامی اس پروگرام کی نگرانی خود صدر شی جِن پِنگ کرتے ہیں۔ چین کی حکومت اس پروگرام کے وجود سے انکار نہیں کرتی تاہم اس کا کہنا ہے کہ اس کا نشانہ کرپشن میں ملوث افراد ہیں جو ملک سے غبن کرکے پیسہ باہر لے جاتے ہیں۔


