مئی جون 2020 میں مشرقی لداخ کی گلوان وادی میں بھارتی و چینی فوجوں کے مابین ہونے والی جھڑپوں نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی۔ یہ جھڑپیں عالمی توجہ کیونکر نہ حاصل کرتیں کہ چین عالمی سیاست کا ایک اہم کھلاڑی ہے جبکہ انڈیا اس جستجو میں سرگرداں ہے کہ اس کی فوجی قوت اور، چین کے بڑھتے ہوئے عالمی کردار کے حوالے سے شکوک رکھنے والے مغربی ممالک میں اس کی سفارتی سرگرمیوں کے نتیجے میں اسے عالمی قوتوں میں شمار کیا جائے۔ لداخ میں پہلی جھڑپ پانچ مئی کو ہوئی جب دونوں ملکوں کے فوجی آمنے سامنے آ گئے۔ مختصر جسمانی مڈبھیڑ میں دونوں اطراف کے فوجی زخمی ہوئے۔ صورتحال کو سنبھالنے کے لیے دونوں جانب کے مقامی کمانڈروں کے مابین ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات کے نتیجے میں ”محاذ‘‘ عارضی طور پر ٹھنڈا پڑ گیا۔ جون کے وسط میں گلوان وادی میں پھر جھڑپ ہوئی اور چینی فوجیوں نے خاردار تار لگی چھڑیوں کی مدد سے لائن آف ایکچوئل کنٹرول پار کرنے والے انڈین فوجیوں کو پیچھے دھکیل دیا۔
یاد رہے یہ وہ کنٹرول لائن ہے جو بھارتی انتظام میں لداخ اور چین علاقے اکسائی چن کو تقسیم کرتی ہے۔ بھارتی فوجی چینی سپاہیوں کے اتنا نزدیک آگئے تھے کہ گالیوں کا تبادلہ ہونے لگا تھا۔ چینی سپاہیوں نے لمبی خاردار چھڑیوں کی مدد سے انڈین فوجیوں کا بھرکس نکال دیا۔ اس جھڑپ میں بیس بھارتی فوجی مارے گئے اور بہت سے زخمی ہوئے۔ دونوں جانب کے سینئر افسران نے ایک بار پھر صورتحال کو سنبھالنے کیلئے ملاقات کی۔ اگرچہ اس ملاقات کے بعد کوئی جھڑپ نہیں ہوئی؛ تاہم صورتحال گمبھیر ہے اور انڈین فوج اور حکومت چینی فوج کے ہاتھوں اٹھائی جانے والی ہزیمت اور بے عزتی پر پریشان ہے۔ مزید یہ کہ چینی فوجیوں نے کچھ جگہوں پر پیش قدمی کی اور انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ علاقے ان کے ہیں۔ یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ چین بھارتی ریاست اروناچل پردیش کے کچھ علاقوں پر بھی دعویٰ رکھتا ہے۔
سنہ 2017 میں انڈیا اور چین کے مابین ڈوکلام کے علاقے میں مختصر عسکری جھڑپیں ہوئی تھیں۔ اس کے بعد چین لائن آف ایکچوئل کنٹرول کے اپنے علاقے میں واپس لوٹ گیا تھا۔ اب جون جولائی 2020 میں ہونے والی جھڑپوں کے بعد یوں محسوس ہوتا ہے کہ چین نے لداخ میں جس بھارتی علاقے کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے وہ اس کنٹرول کو برقرار رکھے گا۔ ابھی تک فریقین نے اُس معاہدے، جس کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ ملحق سرحدوں پر ہتھیار استعمال نہیں کرتے، کی پاسداری کرتے ہوئے لداخ کے علاقے میں آتشیں ہتھیار استعمال نہیں کیے؛ تاہم جون میں ہونے والی جھڑپوں کے بعد دونوں ممالک نے تباہ کن ہتھیار اس علاقے میں پہنچائے ہیں۔ مشرقی لداخ کے علاقے میں ہوئی تازہ ترین جھڑپوں میں بھارتی فوجیوں کی ہلاکت نے مودی حکومت کیلئے بے عزتی کا بڑا سامان پیدا کر دیا ہے۔ ان جھڑپوں نے انڈیا کی ان کاوشوں کو بھی دھچکا پہنچایا ہے جو وہ خود کو چینی متبادل کے طور پر پیش کرنے کیلئے کرتا رہا ہے۔
انڈیا ان سرحدی جھڑپوں کو اس خطے کی سلامتی اور امن کے لیے بھی خطرہ بنا کر پیش کر رہا ہے کہ اس کے بعد چین کا حوصلہ اتنا بڑھ جائے گا کہ وہ ایشیا پیسفک ریجن اور سائوتھ چائنہ سی میں اپنی پوزیشن مزید مضبوط بنا لے گا۔ انڈیا عالمی سطح کے فورمز مثلاً جی ٹونٹی، انڈیا، امریکہ جاپان اور آسٹریلیا کے مابین موجود چارملکی بندوبست اور امریکہ اور انڈیا کے مابین موجود تعاون کے باہمی معاہدوں سے مدد حاصل کرنے کیلئے کوشش کر رہا ہے۔ انڈیا ان سرحدی جھڑپوں کو یوں پیش کر رہا ہے جیسے یہ جمہوریت و آمریت کے مابین ہونے والی رسہ کشی ہو اور یوں کہ اس لڑائی کو لڑنے کیلئے انڈیا جمہوریت کے مغربی علمبرداروں، خصوصاً امریکہ کے ساتھ ساجھے داری کیلئے تیار ہے تاکہ چین کی ابھرتی ہوئی قوت کو روکا جا سکے۔ اس کیلئے انڈیا چاہتا ہے کہ امریکہ اور یورپ سفارتی، معاشی اور عسکری میدانوں میں اس کے ساتھ زیادہ نمایاں تعاون کریں تاکہ چین کو اندازہ ہو جائے کہ انڈیا اس کے سامنے مزاحمت کرنے کیلئے اکیلا نہیں ہے۔
دوسری جانب یہ عسکری قدم اٹھا کر چین بھی کئی مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس نے انڈیا کو باور کرا دیا ہے کہ وہ چین کے خلاف مخاصمانہ پوزیشن اختیار کرنے سے گریز کرے۔ پچھلے کچھ عرصے سے انڈیا لداخ میں سڑکوں کی تعمیر میں مصروف تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اس علاقے میں ہوائی پٹیوں کی توسیع بھی کر رہا تھا تاکہ علاقے میں بڑے ائیرکرافٹ اتارے جا سکیں۔ ان پیش قدمیوں نے چینیوں کے کان کھڑے کر دیے۔ چین پہلے ہی پانچ اگست 2019 کے انڈیا کے اس فیصلے پر اپنے تحفظات ظاہر کر چکا ہے جس کے تحت مودی سرکار نے کشمیر کو دو وفاقی علاقوں میں تقسیم کر دیا اور لداخ کو ایک وفاقی علاقہ قرار دے کر اس علاقے پر اپنی گرفت کومضبوط بنا لیا۔ چین نے انڈیا، امریکہ، آسٹریلیا اور جاپان کے مابین بڑھتے ہوئے فوجی تعاون کا نوٹس بھی لیا اور اسے سائوتھ چائنہ سی اور ایشیا پیسفک علاقے میں چین پر دبائو بڑھانے کی کوشش خیال کیا۔
آسٹریلیا اور انڈیا کے مابین معاہدے کے بعد دونوں ممالک ایک دوسرے کی فوجی تنصیبات استعمال کر سکیں گے۔ جاپان اور امریکہ چاہتے ہیں کہ سائوتھ چائنہ سی کے علاقے میں چینی موجودگی اور اس کا اثرورسوخ کم ہو۔ خطے اور عالمی سیاست میں جاری اس کھینچاتانی میں انڈیا بخوشی کودنے کوتیار ہے۔ چین کیلئے تیسری اہم چیز پاکستان اور چین کے مابین بننے والا پاک چین اکنامک کوریڈور (سی پیک) ہے۔ یہ منصوبہ عالمی سطح پرچین کی معاشی جُڑت کے پروگرام بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹیو کا حصہ ہے۔ انڈیا نے اس منصوبے کے خلاف پروپیگنڈا مہم میں امریکہ کے کندھے سے کندھا جوڑ رکھا ہے۔ گوادر کی بندرگاہ اور یہاں سے چین کے علاقے سنکیانگ تک بذریعہ سڑک رسائی چین کے مغربی علاقے میں سماجی و معاشی ترقی کیلئے بڑی اہمیت کی حامل ہے۔
چین اور پاکستان کو سی پیک سے حاصل ہونے والے فوائد کو دیکھتے ہوئے انڈیا کے پیٹ میں مروڑ اٹھنا لازمی تھا کیونکہ وہ ایسے کسی بھی منصوبے کو اس علاقے میں اپنے بڑے کردار کیلئے خطرہ تصور کرتا ہے۔ شنید ہے کہ چین، پاکستان کے اس دعوے کی پوری طرح حمایت کرتا ہے کہ انڈیا پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں دہشتگردوں اور علیحدگی پسندوں کی مدد کرتا ہے تاکہ سی پیک منصوبے کو سبوتاژ کیا جا سکے۔ پاکستان نے لداخ کے علاقے میں جاری چین بھارت سرحدی کشیدگی کے دوران چین کو مکمل سفارتی مدد توفراہم کی لیکن وہ یہاں چین کی کوئی فوجی مدد نہیں کر سکا‘ اور حقیقت یہ ہے کہ چین کو ایسی مددکی ضرورت بھی نہیں؛ تاہم دونوں ملک لداخ اورکشمیر کے دیگر حصوں میں انڈیا کی عسکری نقل و حرکت کے بارے میں خفیہ معلومات کا تبادلہ کر سکتے ہیں۔
پاکستان کو پریشانی یہ ہے کہ انڈیا لائن آف کنٹرول پر مستقل نوعیت کی جارحانہ عسکری کارروائیاں کر سکتا ہے تاکہ انڈیا کے اندررائے عامہ کی توجہ چینیوں کے ہاتھوں اٹھائی جانے والی ہزیمت سے ہٹائی جا سکے۔ پاکستان کیلئے پریشانی کا باعث بننے والی دوسری چیز یہ ہے کہ انڈیا کی انٹیلی جنس ایجنسیاں کشمیر میں یا اپنے ملک کے کسی دوسرے حصے میں بڑے دہشتگرد حملے کا ڈرامہ رچا کر اس واقعے کا الزام پاکستان پر دھرنے کی کوشش کریں گی۔ اس ڈرامے کو جواز بنا کر بعد ازاں انڈیا پاکستانی علاقے میں محدود نوعیت کے فضائی حملے کر سکتا ہے اور دعویٰ کر سکتا ہے کہ اس نے دہشتگردی کے اڈوں پر حملہ کیا ہے۔ ویسا ہی فضائی حملہ جیسا انڈیا نے 26 فروری 2019 کو بالاکوٹ پر کیا تھا۔ تب پاکستان نے انڈیا کی اس حرکت کاموثر جواب دیا تھا اوریقینا آئندہ بھی انڈیا نے ایسی کوئی کوشش کی تو اسے منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
کورونا وائرس کی وبا کو دنیا میں پھیلے چھ مہینے ہو گئے ہیں، امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باوجود سائنسدانوں کے پاس اب بھی اس بنیادی سوال کا حتمی جواب موجود نہیں کہ آخر ’یہ وائرس کتنا مہلک ہے؟‘ ایک ٹھوس اندازہ حکومتوں کو اس بات کی پیشنگوئی کرنے میں مدد کر سکتا ہے کہ اگر وائرس قابو سے باہر ہوتا ہے تو کتنی اموات واقع ہوں گی؟ کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کے اعداد و شمار محکمہ صحت کے حکام کو بتا سکتے ہیں کہ برازیل، نائجیریا اور انڈیا جیسے گنجان آبادی والے ممالک میں پھیل رہی اس وبا سے کیا توقع رکھنی چاہیے۔ حتیٰ کہ غریب ممالک جہاں خسرہ اور ملیریا مستقل موجود ہیں، جہاں بجٹ سے متعلق مشکل فیصلے معمول ہیں، وہاں اعداد و شمار حکام کو اس بات کا فیصلہ کرنے میں مدد کر سکتے ہیں کہ آیا وینٹیلیٹرز پر زیادہ پیسہ خرچ کرنا چاہیے یا خسرے اور مچھروں کے انسداد پر۔
گذشتہ ماہ یہ سوال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گیا جب امریکی سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول نے ڈیٹا شائع کیا کہ امریکہ میں ہر رپورٹ ہونے والے کورونا انفیکشن کے ساتھ ساتھ 10 ایسے کیسز بھی ہیں جو رپورٹ نہیں ہوئے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ کچھ لوگوں میں کورونا کی علامات ظاہر نہ ہوئی ہوں یا ان میں شدت نہ آئی ہو۔ اگر کورونا وائرس کے بغیر علامات والے مریض اندازوں سے زیادہ ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وائرس کم مہلک ہے لیکن اس کے باوجود اس کا حساب لگانا ایک مشکل کام ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے دنیا بھر کے 13 سو سائنسدانوں کے ساتھ آن لائن میٹنگ کے بعد، ادارے کے چیف سائنسدان ڈاکٹر سومیا سوامی نیتھن نے کہا کہ اب تک کے لیے اتفاق رائے یہ ہے کہ آئی ایف آر (شرح اموات) صفر اعشاریہ چھ فیصد ہے، جس کا مطلب ہے کہ مرنے کا خطرہ ایک فیصد سے کم ہے۔
اگرچہ انہوں نے اس پر غور نہیں کیا کہ دنیا کی صفر اعشاریہ چھ فیصد آبادی چار کروڑ 70 لاکھ افراد پر مشتمل ہے اور جبکہ امریکہ کی صفر اعشاریہ چھ فیصد آبادی 20 لاکھ افراد بنتے ہیں۔ لہذا کورونا وائرس اب بھی ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے ایمرجنسی پروگرامز کے کلینکل کیئر کے سربراہ ڈاکٹر جینٹ ڈیاز کے مطابق اب تک زیادہ تر ممالک میں کورونا وائرس کے 20 فیصد مریضوں کو اضافی آکسیجن کی ضرورت پڑی۔ صحت یاب ہرنے والے مریضوں کے بچ جانے پیچھے کئی عوامل کار فرما تھے جیسے کہ عمر اور میڈیکل کیئر وغیرہ۔ شرح اموات ان ممالک میں کم ہونے کی توقع ہے جن میں نوجوان آبادی کا تناسب زیادہ اور موٹاپا کم ہے۔ یہ اکثر غریب ترین ممالک ہیں۔ اس کے برعکس کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد ان ممالک میں زیادہ ہونی چاہیے جہاں آکسیجن ٹینکس، وینٹیلیٹرز اور ڈائیلاسز مشینوں کی کمی ہے، اور جہاں لوگ ہسپتالوں سے بہت دور رہتے ہوں۔ ایسا بھی عموماً غریب ترین ممالک میں ہوتا ہے۔