دنیا کی بڑی کمپنیوں کا فیس بک پر اشتہارات کا بائیکاٹ

نفرت اور نسل پرستی کیخلاف دنیا کی 90؍ بڑی کمپنیوں کی طرف سے فیس بک پر اشتہارات کا بائیکاٹ کر دیا گیا ہے، یورپ کی سب سے بڑی کمپنی یونی لیور کی طرف سے فیس بک پر اشتہارات کے بائیکاٹ کے اعلان سے صرف ایک دن میں زکر برگ 7؍ ارب ڈالر (تقریبا سوا 11؍ کھرب پاکستانی روپے) سے محروم ہو گئے۔
اشتہارات کے بائیکاٹ سے فیس بک کے حصص کی گراوٹ سے 938؍ ارب روپے کا نقصان ہوا اور زکر برگ کی دولت کم ہو کر 82 عشاریہ 3 ارب ڈالر تک رہ گئی اور یوں دنیا کا تیسرا امیر ترین آدمی اب چوتھے نمبر پر جا پہنچا۔ بلوم برگ بلینئرز انڈیکس کے مطابق اب دنیا کے تیسرے امیر ترین آدمی برنارڈ آرنالٹ کے باس لوئس ووٹن ہیں جو جیف بیزوس اور بل گیٹس کے ساتھ کھڑے ہو گئے ہیں۔ کمپنیوں نے انسانی اقدار اور زندہ معاشرے کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے کارپوریٹ مفاد کو مدنظر نہیں رکھا اور نہ مسابقتی کمپنیوں کی دوڑ میں بے حسی کا مظاہرہ کیا۔

انہوں نے رنگ و نسل، مذہبی و سیاسی وابستگیوں کی بنیاد پر نفرت انگیز پوسٹوں کے خلاف متحد ہونے کا فیصلہ کیا۔ کیونکہ فیس بک کی انتظامیہ نے پولیس کی طرف سے نسل پرستی پر مبنی نفرت انگیز مواد اور غلط معلومات کو آن لائن ہٹانے میں کوئی موثر قدم نہیں اٹھایا۔ زکر برگ نے ٹرمپ کی پوسٹوں کے خلاف ایکشن لینے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ جس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ میل کے ذریے ووٹنگ ووٹر کو فراڈ کی طرف لے جائے گی۔ عوام کا حق ہے کہ وہ سیاسی رہنماؤں کے بیانات بغیر فلٹر کے پڑھیں۔ اب بائیکاٹ اور مارکیٹ قدر کھو دینے کے بعد فیس بک کے بانی نے فلٹر پالیسی میں تبدیلیوں کی بات کی ہے۔ عالمی میڈیا میں شائع رپورٹس کے مطابق دنیا کی متعدد کمپنیوں نے فیس بک اشتہارات کا بائیکاٹ کر کے زکربرگ کو ایک دن میں سات ارب ڈالر سے محروم کر دیا۔ نوے سے زائد دنیا کی بڑی کمپنیوں نے فیس بک سے اشتہارات کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا جس کی بڑی وجہ سائٹ پر نفرت انگیز مواد ہے۔

تین ماہ سے سوشل نیٹ ورک پر کئی فرموں کی طرف سے اشتہاروں کا بائیکاٹ کیا جا رہا تھا ۔ فیس بک کے آٹھ فی صد اور ٹوئٹر کے سات فی صد حصص گر گئے جب بن اینڈ جیری، لپٹن چائے اور ڈوو کے بعد یورپ کی بڑی کمپنی یونی لیور نے فیس بک اشتہارات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔ یورپی کمپنی کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ قدم آن لائن نفرت انگیز مواد کے خلاف احتجاج کے طور پر اٹھایا ہے۔ کوکا کولہ نے بھی تیس دن کا بائیکاٹ کر دیا۔ انہوں نے کہا دنیا میں نسل پرستی کی کوئی جگہ نہیں اور سوشل میڈیا پر بھی اس کی کوئی جگہ نہیں۔ امریکن ہنڈا نے بھی کہا کہ وہ جولائی میں فیس بک پر اشتہارات روک دے گا اور اس نے ان لوگوں کا ساتھ دینے کا انتخاب کیا ہے جو نفرت اور نسل پرستی کے خلاف متحد ہیں۔ امریکی ٹیلی کام ویرزون ،کھیلوں کے ساز و سامان تیار کرنے والی کمپنیاں پیٹاگونیا، نارتھ فیس اور آر ای آئی بھی اس بائیکاٹ میں شامل ہیں۔ زکربرگ نے سائٹ پر غلط معلومات کے بارے میں بڑھتی ہوئی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کمپنی اعلان کرتی ہے کہ کمپنی ووٹنگ سے متعلق تمام پوسٹوں پر ایک لنک کے ساتھ لیبل لگائے گی جس سے صارفین اپنے نئے ووٹر انفارمیشن ہب کو دیکھنے کے لئے حوصلہ افزائی کریں گے۔ فیس بک نے ممنوعہ نفرت انگیز تقریر کی اپنی تعریف میں بھی توسیع کر دی ۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

فلسطینی علاقے، نیتن یاہو کا متنازعہ پلان مشکلات کا شکار

اسرائیلی وزیراعظم نے کہا تھا کہ اس پلان پر پہلی جولائی تک عمل ہو جائے گا۔ تاہم انہیں حکومت میں شامل اپنی حریف جماعتوں سے سخت تحفظات کا سامنا ہے۔ اسرائیلی وزیر جارجہ گابی اشکینازی نے کہا ہے کہ غرب اردن کو اسرائیل کے ساتھ ملانے کے مجوزہ اقدام پر آج کوئی عمل ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ ان کا تعلق مخلوط حکومت میں شامل نیتن یاہو کی حریف جماعت بلو اینڈ وائٹ پارٹی سے ہے۔ پارٹی کے سربراہ وزیر دفاع بینی گینٹز پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اس معاملے میں جلد بازی کی کوئی ضرورت نہیں اور اسرائیل کو اس وقت اپنی تمام تر توجہ کورونا کے بحران پر دینی چاہییے۔ لیکن وزیراعظم نیتن یاہو کی کوشش ہے کہ اس پلان پر جلد از جلد عمل کیا جائے۔ اسرائیل کے اس مجوزہ اقدام کی اقوام متحدہ، یورپی یونین اور عرب ممالک سخت مخالفت کرتے ہیں تاہم بنجمن نیتن یاہو کو یک طرفہ الحاق کے اس منصوبے میں امریکی صدر ٹرمپ کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔

اس سلسلے میں نیتن یاہو نے اسرائیل میں متعین امریکی سفیر ڈیوڈ فریڈمن سے ایک تفصیلی ملاقات کی۔ امریکی سفیر خود بھی فلسطینی علاقوں کے اسرائیل کے ساتھ الحاق کے بڑے حامی ہیں۔ اس ملاقات کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے غرب اردن پر اسرائیلی “خودمختاری کے مسئلے پر بات کی۔ ابھی ہم اس پر کام کر رہے ہیں اور آنے والے دنوں میں بھی کریں گے۔” نیتن یاہو کے اس بیان سے پہلی بار یہ تاثر سامنے آیا کہ انہیں اپنے پلان پر عمل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے اور یہ اتنا آسان نہیں جتنا شاید وہ سمجھ رہے تھے۔   مبصرین کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم اپنے متنازعہ پلان پر عملدرآمد کے لیے اس لیے بھی بے چین ہیں کیونکہ انہیں ڈونلڈ ٹرمپ کا سیاسی مستقبل مشکل میں نظر آ رہا ہے اور ان کی خواہش ہے کہ اس پر ان کے دور صدارت میں پیش رفت ہو جائے۔

امریکا میں نومبر کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کے مدمقابل ڈیمو کریٹک پارٹی کے امیدوار اباما دور کے نائب صدر جو بائیڈن ہیں۔ انہوں نے واضح کر رکھا ہے کہ اسرائیل کا غرب اردن سے متعلق ایسا کوئی یک طرفہ اقدام نہ اسرائیل کے حق میں ہے نہ ہی خطے کو اس سے کوئی فائدہ ہو گا۔  اسرائیلی میڈیا کے مطابق قوی امکان ہے کہ نیتن یاہو اپنی ضد پوری کرنے کے لیے غرب اردن میں محدود پیمانے پر فی الحال صرف چند مقبوضہ یہودی آبادیوں کو اسرائیلی خودمختاری میں لانے کا اعلان کر دیں۔ ان کے نزدیک یہ ان کے وسیع پلان کا ایک علامتی آغاز ہو گا، لیکن فلسطینیوں کے مطابق ایسا کوئی بھی اقدام خطے کو خانہ جنگی کی طرف لے جانے کی شروعات ہو گی۔ غزہ اور غرب اردن میں اسرائیل کے مجوزہ منصوبے کے خلاف مظاہروں کا اہتممام کیا گیا ہے۔ حماس نے کہا ہے کہ اسرائیل کا ایسا کوئی اقدام “اعلان جنگ” تصور کیا جائے گا، جبکہ فلسطینی انتظامیہ نے کہا ہے کہ اگر نیتن یاہو فلسطینی علاقے ہڑپ کرنے کی کوششوں سے باز آجائیں تو وہ دوبارہ مذاکرات کی میز پر آنے پر غور کر سکتے ہیں۔

بشکریہ ڈی ڈبلیواردو