ہم ایسی اطلاعات کا کیا مطلب لیں جو پچھلے کچھ دنوں سے منظر عام پر آ رہی ہیں کہ روسی اہلکار افغانستان میں امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنے پر طالبان جنگجوؤں کو انعام دے رہے ہیں۔ یہ رپورٹس کتنی درست ہو سکتی ہیں، اور کیا ان دعوؤں کو ثابت بھی کیا جا سکتا ہے، اور ایسی اطلاعات کی اہمیت کیا ہے؟ تینوں فریق روس، امریکہ اور طالبان ان اطلاعات کی تردید کر چکے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تردید کی ہے کہ انھیں اس بارے میں کوئی اطلاع دی گئی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ یہ معاملہ کبھی صدرِ امریکہ یا نائب صدر تک نہیں پہنچا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق ان اطلاعات کی درستگی کے حوالے سے انٹیلیجنس کمیونٹی میں بھی اتفاق رائے نہیں پایا جاتا۔
البتہ امریکہ کے مختلف ذرائع ابلاغ میں ذرائع کے حوالے سے خفیہ ادراروں کے تجزیوں پر مبنی ایسی رپورٹس شائع ہو رہی ہیں کہ رواں سال مارچ سے روس کے خفیہ ایجنٹس طالبان جنگجوؤں کو امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنے کے عوض انعام کی پیشکش کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں امریکی فوجیوں نے کئی چھاپوں میں کافی بڑی رقوم بھی برآمد کر لی ہیں۔ ان رپورٹس کے مطابق روسی ایجنٹوں کی طرف سے انعامی رقوم کے اعلان کی وجہ سے شاید امریکہ کے کچھ اہلکار مارے بھی جا چکے ہیں۔ ذرائع کے حوالے سے شائع ہونے والی ان رپورٹس میں عندیہ دیا جا رہا ہے کہ انٹیلیجنس اداروں کے اس تجزیے کے بارے میں انتہائی اعلیٰ سطح تک بریفنگ دی جا چکی ہے اور اسے صدرِ امریکہ کو روزانہ کی بنیاد پر دی جانے والی بریفنگ کا بھی حصہ بنایا جا چکا ہے۔ ڈیموکریٹ پارٹی کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن سمیت صدر ٹرمپ کے مخالفین ان رپورٹس کی بنیاد پر یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ امریکی مفادات کا تحفظ کرنے کے قابل نہیں ہیں۔
جیسا کرو گے ویسا بھرو گے؟
روس ایسا کیوں کرے گا؟ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ روس نے طالبان کے ساتھ قریبی روابط قائم کر رکھے ہیں۔ روس سمجھتا ہے کہ امریکہ افغانستان سے اپنا بسترہ بوریا گول کر رہا ہے۔ روس افغانستان میں ایک شدت پسند اسلامی حکومت کے قیام کے امکان سے پریشان ہے اور وہ شاید سمجھتا ہے کہ طالبان ایسی حکومت کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ روس نے طالبان کے کئی سرکردہ رہنماؤں کی مالی اور فوجی لحاظ سے مدد کی ہے۔ چونکہ روس کے افغانستان کی حکومت سے بھی تعلقات ہیں لہذا وہ افغانستان میں امن معاہدے کا بھی حامی ہے۔ روس افغانستان میں بدامنی کے حوالے سے اپنے آپشنز کو کھلا رکھے ہوئے ہے۔ لیکن اس کے ساتھ روس نے مغرب کے ساتھ ایک غیر اعلانیہ جنگ بھی شروع کر رکھی ہے۔ اس جنگ کے کئی محاذ ہیں جن میں سائبر حملے، غلط بیانی کی مہم، انتخابی مداخلت اور مغربی ممالک میں شدت پسندوں کی مالی معاونت بھی شامل ہے۔
کئی بار تو روس نے مغرب کے خلاف براہ راست اقدام کیے ہیں، جیسا کہ اس نے زہریلی گیس کے ذریعے ایک سابق روسی ایجنٹ کو برطانوی شہر سالسبری میں قتل کرنے کی کوشش کی۔ اسی طرح شام میں روس کے فوجی ٹھیکیداروں نے امریکی ٹھکانوں پر براہ راست حملے کیے جس کے جواب میں امریکہ نے کارروائی کی جن میں متعدد ہلاکتیں بھی ہوئیں۔ روس صدر پوتن کی قیادت میں ان تمام ذلتوں کے بدلے لینے کی کوشش کر رہا ہے جو اسے سوویت یونین کے ٹوٹنے کے وقت سہنی پڑی تھیں۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ اسی کی دہائی میں افغان مجاہدین نے امریکی مدد سے سوویت یونین کو افغانستان سے بھاگنے پر مجبور کیا تھا۔ ایسے خیالات کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے کہ روسی قیادت امریکہ سے اپنے ماضی قریب اور حال کی مختلف ذلتوں کا بدلہ چکانے کی کوشش کر رہی ہے۔
ایسی رپورٹس روس اور امریکہ کے حالیہ تعلقات پر بھی روشنی ڈال رہی ہیں۔ روس کے بارے میں امریکی پالیسی انتشار کا شکار ہے۔ ایک طرف تو امریکہ کو روس کی جانب سے اپنے جوہری پروگرام کو جدید بنانے اور مشرق وسطیٰ اور دوسری جگہوں پر روسی طرز عمل پر خدشات ہیں تو دوسری جانب وہ روس کی امریکی انتخابات میں مداخلت کی تردید کو قبول کرتا ہے۔ اس ابہام کی بڑی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود ہیں جو مضبوط آمروں کو پسند کرتے ہیں۔ امریکی خفیہ اداروں کے تجزیے کو جس انداز میں لیا جا رہا ہے وہ ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کے طریقہ کار کو نمایاں کرتا ہے۔ اس سے ڈیموکریٹ پارٹی اور جان بولٹن جیسے سخت گیر موقف رکھنے والے ریپبلکن پارٹی کے ارکان کے اس موقف کو تقویت ملتی ہے کہ امریکہ میں قیادت کا فقدان ہے اور وہ اپنی سمت کو کھو چکا ہے۔
یہ ایک ایسی پیچیدہ کہانی ہے جو بہت آسانی سے منظر عام سے ہٹے گی نہیں۔ اگر اس میں تھوڑا بھی سچا ہے اور روسی ایجنٹوں سے انعام کی وصولی کے لیے اگر کچھ امریکی ہلاک ہوئے ہیں، تو یہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد روس اور امریکہ کے تعلقات خراب ترین پر سطح پر ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کہانی کے منظر عام پر آنے کے وقت کی بھی بہت اہمیت ہے۔ ایک ایسے وقت جب امریکہ میں صدراتی مہم کا آغاز ہو چکا ہے اور صدر ٹرمپ کووڈ 19 کے بحران اور سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت پر پھوٹنے والے احتجاج کی وجہ سے اپنی شہرت کے گراف کو سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں، اس وقت ایسی کہانی کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔ امریکہ کے دوستوں اور دشمنوں کے لیے ایک بات کو تسلیم کرنا ہو گا کہ نومبر کے صدارتی انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہار کا اب امکان پیدا ہو چکا ہے۔
کورونا کی وبا کے طبی، سماجی اور معاشی اثرات کے علاوہ بھی دنیا میں بہت کچھ چل رہا ہے۔ روس اور چین خود کو خطے کی طاقتیں منوانے کے لیے زور لگا رہے ہیں لیکن چین کی خواہشات تو شاید اس سے بھی بڑی ہوں۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو غرب اردن کو ضم کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ برطانیہ کی حکومت یورپی یونین سے نکلنے کے بعد اپنی خارجہ پالیسی کو ‘گلوبل برطانیہ’ کے نئے برینڈ کو متعارف کرانے کا سوچ رہی ہے۔ امریکی انتظامیہ کو، موجودہ یا نئی، اگلے چند ماہ میں ان تمام عناصر کو اپنا ردعمل دینا ہو گا۔ اگر افغانستان میں امریکی اہلکاروں کی ہلاکت پر روسی انعام والی کہانی حقیقت پر مبنی ہے تو ٹرمپ انتظامیہ کی نسبت بائیڈن انتظامیہ کے طرف سے روس کو للکارنے کے امکانات زیادہ ہیں۔
جوناتھن مارکس
بی بی سی کے سفارتی امور کے نامہ نگار
کرکٹ کی عالمی تنظیم آئی سی سی کی جانب سے ایک قوم کی حمایت سے متعلق دوہرا معیار سامنے آگیا۔ آئی سی سی نے جارج فلائیڈ کی موت پر مظاہروں کی حمایت میں ویسٹ انڈیز کے کھلاڑیوں کے لیے شرٹس پر بلیک لائیو میٹرز مہم کی حمایت کی اجازت دیدی۔ فوٹوز اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر ایک پیغام میں آئی سی سی نے ویسٹ انڈیز کے جیسن ہولڈر کی تصویر جاری کی۔ اس تصویر میں جیسن ہولڈر کی کی شرٹ کے کالر پر بلیک لائیوز میٹر لکھا ہوا ہے۔ آئی سی سی کا کہنا تھا کہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم بلیک لائیوز میٹر کے لوگو والی شرٹ پہن کر ٹیسٹ میچز کھیلے گی۔ واضح رہے کہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم اس وقت برطانیہ میں موجود ہے، جہاں وہ میزبان ٹیم کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں مدِ مقابل ہو گی۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سال 2014 میں انگلینڈ کے کھلاڑی معین علی نے فلسطینی قوم کی حمایت میں ’سیو غزہ‘ کا بینڈ پہن کر میچ کھیلا تھا۔ بھارت کے خلاف اس ٹیسٹ میچ کے دوران معین علی کے رسٹ بینڈ کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جس کے بعد آئی سی سی نے انہیں فلسطینی قوم کی حمایت کو سیاسی رنگ دے کر انہیں بینڈ پہننے سے روک دیا تھا۔ اس وقت آئی سی سی کا کہنا تھا کہ کرکٹ کونسل قوانین کھلاڑیوں کو بین الاقوامی میچز کے دوران کپڑوں یا دیگر چیزوں پر سیاسی، مذہبی یا نسلی بیانات دکھانے سے روکتے ہیں۔ خیال رہے کہ امریکا میں سیاہ فام جارج فلائیڈ کی پولیس اہلکار کے ہاتھوں ہلاکت کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے جو جلد ہی بلیک لائیوز میٹر کی مہم اختیار کر گئے جس میں کئی کھلاڑیوں نے بھی حصہ لیا۔
امریکہ میں سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی پولیس تحویل میں موت کے بعد جن احتجاجی مظاہروں نے جنم لیا، ان میں متعدد کنفڈریٹ یادگاری مجسموں کو بھی نقصان پہنچایا گیا یا مظاہرین نے انھیں ہٹا دیا۔ اب ایسے مطالبات میں تیزی پیدا ہورہی ہے کہ ان مجسموں کو ان کے موجودہ مقامات سے منتقل کر دیا جائے۔ ایسے ہی ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران رچمنڈ ورجنیا میں مظاہرین نے پر زور مطالبہ کیا کہ بعض مجسمےجو وہاں نصب ہیں انھیں فوری طور پر ہٹایا جائے یاد رہے کہ یہ مجسمے ان شخصیات کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے نصب کئے گئے تھے جنھوں نے امریکی کنفڈریسی اور غلامی کے تحفظ کے لئے کام کیا تھا۔ واشنگٹن ڈی سی کی مشہور ہاورڈ یونیورسٹی سے منسلک پروفیسر لوپیز میتھیو کہتے ہیں کہ حقیقت یہ ہے کہ غلامی کے خاتمے کو یوں تو تقریباً دو سو سال سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے لیکن ہمیں اب بھی نسل پرستی اور پولیس کے مظالم کا سامنا ہے اور ہم اب بھی عدم مساوات کی صورتحال کا مقابلہ کر رہے ہیں اور یہ کنفڈریٹ یادگاریں ماضی کی علامتیں ہیں۔
یاد رہے کہ اس نوعیت کے یادگاری مجسمے اٹھارہ سو اسی سے اٹھارہ سو نوے کی مدت میں امریکہ کے جنوب میں نصب کئے گئے۔ پنسلیونیا میں اکیڈمی آف فائن آرٹس کی پروفیسر سارا بیتھم نے اس جانب توجہ دلائی کہ ملک کے جنوب میں تقریباً ہر کاونٹی اور کورٹ ہاؤس کے احاطے میں کنفڈریٹ لیڈروں کو خراج عقیدت کے طور پر ان کے مجسمے نصب ہیں۔ ان کے مطابق، اس بات پر یقین نہ کرنا مشکل ہے کہ ریاست کی سرپرستی میں یہ یادگاریں بہرحال سفید فام برتری کا نشان ہیں۔ حال ہی میں واشنگٹن ڈی سی میں ایک مظاہرے کے دوران ہجوم نے تالیوں کی گونج میں کنفڈریٹ جنرل ایلبرٹ پائیک کے مجسمے کو گرا دیا۔ اسی طرح رالے نارتھ کیرولینا میں ایک ہجوم نے اس وقت نہایت خوشی کا اظہار کیا جب مقامی حکام نے ایسے ہی ایک مجسمے کو اس کی بنیاد سے جدا کر دیا۔
اسی طرح جارجیا میں بھی مظاہرین نے اس وقت اپنی مسرت کا اظہار کیا جب ایک جج نے پتھر کی بنی ہوئی ایک تختی کو ہٹانے کا حکم دیا جس کے بارے میں لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ سفید فام برتری کا احساس دلاتی ہے۔ تاہم، صدر ٹرمپ نے اس رویے پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے اس اختتام ہفتہ اوکلاہوما کی ایک ریلی میں کہا، کہ، بقول ان کے، بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے بلوائی ہماری تاریخ کو توڑ پھوڑ کا نشانہ بنارہے ہیں اور ہماری خوبصورت یادگاروں کی بے حرمتی کر رہے ہیں۔ ریپبلکن سینیٹر رائی بلنٹ نے سینیٹ میں ایک ایسے بل کی منظوری میں رکاوٹ ڈال دی جس میں کانگریس کی عمارت سے کنفڈریٹ مجسموں کو ہٹانے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔
ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بوکر کا کہنا ہے کہ کانگریس کی راہداریوں میں ایسے مجسموں کی موجودگی افریقی امریکیوں کی دل آزاری کا سبب ہے اور ہماری قوم کےنصب العین کی نفی ہے۔ وائس آف امریکہ کے لئے نامہ نگار مریامہ دیالو نے اپنی رپورٹ میں یاد دلایا ہے کہ امریکی کانگریس کی عمارت میں اس طرح کے کم سے کم بارہ مجسمے ان لوگوں کی یاد میں نصب ہیں، جنھوں نے اٹھارہ سو ساٹھ کےعشرے میں امریکہ کی خانہ جنگی کے دوران کنفڈریٹ اسٹیٹس آف امریکہ کے لئے اپنی وفاداریوں کا اعلان کر رکھا تھا، جبکہ خانہ جنگی کا محور امریکہ میں غلامی کا خاتمہ کرنا تھا۔ مبصرین کی نگاہ میں جارج فلائیڈ کی موت نے نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا بھر میں نسل پرستی اور اس کی علامتوں کے خاتمے اور تمام انسانوں کی برابری کے لئے کی جانے والی جدوجہد کو یقیناً ایک نئی جہت دی ہے۔