امریکا کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے چین سے حساس حیاتیاتی تجربہ گاہوں تک رسائی دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مائیک پومپو نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس بات کا امکان مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ کورونا وائرس چین کے شہر ووہان کی کسی لیبارٹری سے لیک ہوا ہو۔ یاد رہنا چاہیے کہ چین کی ایسی تجربہ گاہیں ابھی بھی فعال ہیں جہاں پیچیدہ جرثوموں پر تحقیق ہو رہی ہے۔ اس نوعیت کی تحقیق صرف ووہان انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی ہی میں جاری نہیں۔ مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد دنیا کی سلامتی سے متعلق کئی تحفظات پیدا ہو گئے ہیں۔
اس لیے جس طرح جوہری تحقیق کے اداروں کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے انہی بنیادوں پر حیاتیاتی تجربہ گاہوں میں احتیاطی اور حفظاتی اقدامات کو یقینی بنانے کے لیے ایسے معائنے ہونے چاہییں۔ ان کا کہنا تھا کہ چین نے ابھی تک ابتدائی طور پر تشیخص ہونے والے وائرس کی تفصیلات فراہم نہی کی ہیں جس کا سائنسی نام سارس کووڈ -2 ہے۔ اس کے علاوہ ووہان کے جس علاقے سے یہ وائرس پھیلا دنیا کو اس تک رسائی بھی نہیں دی جارہی ہے۔ واضح رہے کہ چین کی جانب سے وائرس اس کی کسی لیبارٹری سے لیک ہونے کے دعوؤں کو مسترد کیا جاتا رہا ہے جب کہ امریکی ماہرین مسلسل چین کی حیاتیاتی تجربہ گاہوں کے حوالے سے سوالات اٹھا رہے ہیں۔
امریکی فیڈرل ریزرو کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے سبب امریکی معیشت پر بہت برا اثر پڑ ہے اور اس سے بھی بدترین وقت ابھی اس کا منتظر ہے۔ جرمنی میں روزگار سے متعلق تازہ اعداد و شمار جاری کیے جائیں گے جس سے معلوم ہو سکے گا کہ جاب مارکیٹ پر کورونا وبا کے کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ عالمی مالیاتی بحران کے سبب تقریبا ساڑھے چودہ لاکھ جرمن شہریوں نے اس اسکیم کے تحت فائدے کے لیے درخواستیں دی تھیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بار ریسٹورنٹ، ہوٹلز اور نجی کلینک جیسے چھوٹے کاروباریوں کی جانب بڑی تعداد میں درخواستوں کے آنے کی توقع ہے اس لیے اس بار یہ تعداد پہلے سے کہیں زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ جرمن وزیر خزانہ پیٹیر التمیر نے پہلے ہی بے روزگاری میں زبردست اضافے کی بات کہی ہے۔ مارچ میں جرمنی میں بے روزگاری کی شرح پانچ اعشاریہ ایک فیصد تھی۔
امریکا کی صورت حال
ان خبروں کے درمیان کہ گزشتہ ایک عشرے کے دوران امریکا کی مجموعی پیداوار میں سب زیادہ گرواٹ درج کی گئی ہے، امریکی فیڈرل ریزرو نے معاشی طور پر مزید برے وقت کے لیے متنبہ کیا ہے۔ امریکا کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق عالمی سطح پر سب سے بڑی معیشت کی ترقی چار اعشاریہ آٹھ فیصد کی سالانہ شرح سے کم ہوتی جارہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے عوام پر گھروں تک محدود رہنے سے متعلق جو پابندیاں عائد ہیں اس میں مزید توسیع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے یہ پابندیاں گزشتہ 45 روز سے نافذ ہیں اور اس سے متعلق ریاستوں کو گائیڈ لائنزجاری کی جائیں گی تاکہ جو ریاستیں معیشتوں کو کھولنا چاہتی ہیں وہ ایسا کرنے کی مجاز ہوں۔
ادھر جنوبی کوریا میں فروری میں اس وبا کے پھیلنے کے آغاز سے اب تک یہ پہلا موقع ہے کہ کورنا وائرس سے متاثر ہونے کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا ۔ اس دوران ایک اچھی خبر یہ ہے کہ یوروپ میں جن ممالک میں کورونا وائرس کے سبب لاک ڈاؤن تھا وہاں فضائی آلودگی میں کافی کمی آئی ہے اور ہوا کی کوالٹی بہتر ہوئی ہے۔ اس سے متعلق شائع ہونے والی ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کی وجہ سے تقریباً گیارہ ہزار قبل از وقت اموات کم ہوئی ہیں۔ لاک ڈاؤن کے سبب کروڑوں افراد گھروں میں رہے اور فیکٹریاں بند رہیں جس کی وجہ سے فضائی آلودگی میں کافی کمی دیکھی گئی ہے۔
مائیکروسافٹ کے سربراہ بل گیٹس چین کے حق میں سامنے آگئے اور بیجنگ کے خلاف وائرس پھیلانے کے پروپگینڈے کو غیر منصفانہ قرار دے دیا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کو ویڈیو لنک کے ذریعے انٹرویو دیتے ہوئے بل گیٹس کا کہنا ہے کہ چین پر کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا الزام عائد کرنا قبل از وقت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ جھوٹ ہونے کے ساتھ ساتھ غیر منصفانہ بھی ہے کیونکہ ایسا کرنے سے چین کی کورونا وائرس کے خلاف کوششوں میں خلل پیدا ہوسکتا ہے۔ کورونا کے بارے میں چین کو نومبر میں علم ہو گیا تھا، امریکا سی این این کو ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ چین نے ابتدا سے ہی کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے درست اقدامات کیے ہیں۔
بل گیٹس نے امریکی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ امریکا کا کووڈ 19 جیسی وبا سے نمٹنے کے لیے رد عمل بہتر نہیں تھا۔ مائیکرو سافٹ کے شریک بانی کا کہنا تھا کہ آپ جانتے ہیں کہ کچھ ممالک نے کورونا وائرس پر بہت تیز رد عمل دیا، اور ٹیسٹنگ کے عمل کو موثر بنایا اور معیشت پر پڑنے والے برے اثر کو برداشت کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہت دکھ کی بات ہے کہ امریکا، جسے ہم سمجھ رہے تھے کہ وہ اس وبا کے خلاف فوری رد عمل دے گا، لیکن اس نے بہت برے انداز میں اس کو لیا، تاہم اب یہ وقت ایسے باتیں کرنے کا نہیں ہے۔‘ اپنے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے بل گیٹس کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنی سائنس کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے، ٹیسٹ کٹکس کو ٹھیک کرنے کی، علاج لانے اور ادویات بنانے کی ضرورت ہے۔
بل گیٹس نے کہا کہ بہت سی چیزیں غلط ہو گئی ہیں جن پر ابھی بات کرنا مناسب نہیں ہے۔ واضح رہے کہ کچھ روز قبل امریکی خفیہ ادارے کے اہلکار نے کہا تھا کہ امریکی ادارے اس بات کی تحقیق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیا یہ وائرس ووہان کی لیب سے نکل کر دنیا میں پھیلا ہے یا پھر اس کے محرکات کچھ اور ہیں۔ امریکا میں اس وائرس کے پھیلاؤ کے ابتدا میں بھی امریکا نے چین کو وائرس کے پھیلانے پر موردِ الزام ٹھہرایا تھا تاہم چینی حکام امریکا کے اس الزام کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر چکے ہیں۔