چین میں کورونا وائرس سےہلاک افراد کی تعداد 813 ہو گئی جس کے بعد یہ تعداد سارس وائرس سے دنیا بھر میں ہوئی اموات سےبڑھ گئی ہے۔ کورونا وائرس سے چین میں متاثر افراد کی تعداد 36 ہزار 693 ہو گئی ہے، یہ بیماری ووہان شہر میں دسمبر میں پھیلی تھی جس کے بعد اس نے چین کے مختلف حصوں اور دنیا کے 2 درجن سے زائد ممالک کو بھی متاثر کیا ہے۔ 2002ء سے 2003ء کے درمیان سارس بیماری کے سبب 774 افراد ہلاک اور 8 ہزار 100 بیمار ہوئے تھے، یہ صورت حال 8 ماہ کے دوران 26 ملکوں میں پیش آئی تھی، جبکہ 45 فیصد اموات چین میں ہوئی تھیں۔
کورونا سے صرف ہوبے صوبے میں 780 افراد ہلاک اور 27 ہزار 100 بیمار ہوئے ہیں تاہم ہوبے میں نئے کیسز کی تعداد میں کمی آنا شروع ہو گئی ہے اور آج صرف 2 ہزار 139 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جو پچھلے ایک ہفتے کے دوران سب سے کم ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے امکان ظاہر کیا ہے کہ خطے میں کورونا وائرس کی صورتحال اب مستحکم ہونا شروع ہو گئی ہے، تاہم سنگاپور میں مزید 7 کیسز رپورٹ ہونے سے وہاں تعداد 40 ہو گئی ہے جبکہ فرانس کے پہاڑی مقام میں چھٹیاں گزارنے والے 5 برطانوی شہری بھی کورونا کا شکار ہوئے ہیں۔
چینی میڈیا کے مطابق کرونا وائرس کی ممکنہ وبا کے بارے میں خبردار کرنے والے چینی ڈاکٹر، ڈاکٹر لی وینلیانگ، اسی وائرس سے ہلاک ہو گئے ہیں۔ ڈاکٹر لی وینلیانگ نے سب سے پہلے اپنے ساتھی ڈاکٹروں کو اس خطرے سے آگاہ کرنے کی کوشش کی تھی جس کی وجہ سے پولیس نے انہیں تنبیہ بھی دی تھی۔ ڈاکٹر لی وینلیانگ اس بیماری کے بارے میں خبردار کرنے والے ان آٹھ افراد میں شامل تھے جنہوں نے دسمبر کے اخر میں دوسرے ڈاکٹروں کو سارس کی طرح کی بیماری کے بارے میں پیغام پہنچانے کی کوشش کی تھی۔ چینی کمیونسٹ پارٹی سے منسلک انگریزی زبان کے اخبار ’گلوبل ٹائمز‘ نے اس سے پہلے رپورٹ کیا تھا کہ ووہان سنٹرل ہسپتال میں داخل ڈاکٹر لی کے دل نے ’دھڑکنا بند کر دیا‘ جس کے بعد ان کی حالت نازک ہو گئی تھی۔
ہسپتال نے ویبو (چین میں استعمال کی جانے والی سماجی رابطوں کی ویب سائٹ) کے اکاؤنٹ پر ایک بیان میں کہا کہ ڈاکٹر لی ایمرجنسی علاج کے بعد (چینی وقت کے مطابق) دو بج کر اٹھاون منٹ پر انتقال کر گئے۔ اس سے پہلے اطلاعات سامنے آئیں تھیں کہ وہ ڈاکٹر لی کو ایمکو (سانس کے مصنوعی نظام) پر رکھا گیا ہے اور ڈاکٹر ان کی حالت میں بہتری لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دسمبر میں پولیس نے ڈاکٹر لی پر افواہیں پھیلانے کا الزام لگایا تھا اور حکومت کے پبلک سیفٹی بیورو نے انہیں طلب کیا تھا جہاں انہیں خبردار کیا گیا تھا انہیں ایسے بیانات نہٰیں دینے چاہییں جن سے ’معاشرے میں بے چینی پھیلتی ہو۔
ڈاکٹر لی کو دیے گئے خط میں کہا گیا: ’ہم آپ کو باضابطہ طور پر خبردار کرتے ہیں: اگر آپ ایسی بےتکی ضد پر قائم رہے اور اس غیرقانونی سرگرمی کو جاری رکھا تو آپ کو انصاف کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کیا آپ بات سمجھ گئے؟‘ چین کی سپریم کورٹ نے بعد میں ووہان میں کریک ڈاؤن پر پولیس پر تنقید کی اور تسلیم کیا کہ کرونا وائرس کے بارے میں اطلاع مکمل طور پر غلط نہیں تھی۔ کرونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹر لی میں بھی وائرس کی موجودگی کی تشخیص 30 جنوری کو ہوئی۔ وائرس کے نتیجے میں اب تک سات سو سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 30 ہزار سے زیادہ ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے ہنگامی حالات کے پروگرام کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مائیک رائین نے ڈاکٹر لی موت کی خبر کے بعد جنیوا میں ایک پریس کانفرنس میں کہا: ’ہمیں اگلی صفوں میں کام کرنے والے ایک ایسے کارکن کی موت کا بہت دکھ ہوا ہے جنہوں نے مریضوں کی دیکھ بھال کی کوشش کی۔ ہم خود اگلی صفوں میں کام کرنے والے اپنے دوستوں کو کھو چکے ہیں اس لیے ہمیں ڈاکٹر لی کے ساتھ کام کرنے والوں کے ساتھ مل کر ان کی زندگی پر خوش اور موت پر غم زدہ ہونا چاہیے۔‘ برطانیہ میں کرونا وائرس کا تیسرا کیس رپورٹ کیا گیا اگرچہ حکومتی چیف میڈیکل افسر کرس ویٹی نے کہا کہ مریض کو بیماری برطانیہ میں نہیں لگی۔
ایسا چین کے لندن میں سفیر کے برطانیہ پر الزام کے چند گھنٹے بعد ہوا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ برطانیہ کرونا وائرس کی وبا پر ضرورت سے زیادہ ردعمل کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ برطانوی حکومت نے چین میں موجود اپنے شہریوں کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کی تھی۔ برطانیہ میں چینی سفیر لیو شیاؤمنگ نے کہا: ’ہم نے انہیں زور دے کر کہا ہے کہ ضرورت سے زیادہ ردعمل کا مددگار نہیں ہو گا۔ ہم نے ان سے کہا کہ وہ ایک معقول ردعمل کے لیے عالمی ادارہ صحت کے ساتھ مشورہ کریں۔ ضرورت سے زیادہ ردعمل کا مظاہرہ نہ کریں۔‘ انہوں نے مزید کہا: ’برطانیہ سمیت تمام ملکوں کو سمجھنا چاہیے اور چین کی مدد کرنی چاہیے۔ ضرورت سے زیادہ ردعمل اور خوف پھیلانے سے گریز کیا جائے اور ملکوں کے درمیان معمول کا تعاون اور تبادلے یقینی بنائے جائیں۔
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کی ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں نریندر مودی کی پارٹی کو واضح شکست کا سامنا ہے۔ ایک مرتبہ پھر عام آدمی پارٹی نے میدان مار لیا ہے۔ نئی دہلی کی اسمبلی کے انتخابات کی ووٹنگ ختم ہونے کے بعد جاری ہونے والے ایگزٹ پولز کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی کی حکمران سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو ایک ‘بڑی اور عبرتناک شکست‘ کا سامنا ہے۔ عام آدمی پارٹی کی حکومت ختم کرنے کا بی جے پی کا خواب ادھورا رہا۔ دہلی کے نائب وزیراعلیٰ منیش سوسوڈیا نے عام آدمی پارٹی کی جیت کا ابتدائی دعویٰ کر دیا ہے۔
نئی دہلی کے مختلف علاقوں میں عام آدمی پارٹی کے امیدواروں کے پولنگ دفاتر میں پرجوش حامیوں نے جمع ہونا شروع کر دیا ہے۔ ایگزٹ پولز کے مطابق اروند کیجری وال کی سیاسی جماعت اسمبلی کے ستر رکنی ایوان میں کم از کم باون نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ بظاہر بھارتیہ جنتا پارٹی دوسری پوزیشن پر ہے لیکن کامیابی سے بہت دور ہے۔ یہی حال کانگریس کا ہے۔ سابقہ انتخابات میں کیجری وال کی سیاسی جماعت 67 سیٹیں جیت پائی تھی۔ مودی حکومت کے وزیر داخلہ امیت شاہ نے فوری طور پر بی جے پی کی میٹنگ طلب کر لی ہے۔
نئی دہلی کی ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں امیت شاہ نے ہی زور شور سے بھارتیہ جنتا پارٹی کی انتخابی مہم کی قیادت سنبھال رکھی تھی۔ مرکز میں قائم مودی حکومت کو گزشتہ پندرہ ماہ کے دوران پانچ مختلف ریاستوں کے صوبائی انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، ان میں راجستھان، مدھیہ پردیش، مہارشٹر، چھتیس گڑھ اور جھاڑکھنڈ شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے دوبارہ الیکشن جیتنے کے لیے شہری سہولیات بہتر کرنے کی بنیاد پر مہم چلائی اور دہلی کے باسیوں کو بہتر اور عوام دوست حکومت کے حق میں ووٹ ڈالنے کی درخواست کی تھی۔