فرانسیسی صدر ایمانیول میکرون چرچ کے دورے کے دوران فرانسیسی اہلکاروں کے ساتھ اسرائیلی سیکورٹی اہلکاروں کو دیکھ کر برہم ہو گئے، ڈانٹ کر باہر نکلنے کا حکم دے دیا، فرانسیسی صدر نے مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد الاقصیٰ کا بھی دورہ کیا۔ فرانسیسی صدر ایمانیول میکرون ان دنوں اسرائیل کے دورے پر ہیں جہاں چرچ کے دورے کے دوران وہ فرانسیسی اہلکاروں کے ساتھ اسرائیلی سیکورٹی اہلکاروں کو دیکھ کر برہم ہو گئے۔ ایمانیول میکرون نے ڈانٹتے ہوئے اسرائیلی سکیورٹی اہلکار سے باہر نکلنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ صرف فرانسیسی اہلکار ہی رہیں گے۔ مقبوضہ بیت المقدس کا چرچ آف سینٹ این فرانس کی ملکیت ہے جو سلطنت عثمانیہ نے 1856 میں فرانسیسی شہنشاہ نپولین سوئم کو بطور تحفہ دیا تھا۔ فرانسیسی صدر نے مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد الاقصیٰ کا بھی دورہ کیا۔
سالہا سال سے ذرائع ابلاغ سمیت تمام دستیاب وسائل تمباکو نوشی کے جان لیوا اثرات کی آگہی کے لئے استعمال کرنے کے باوجود اِس خطرناک نشے کی عادتِ بد جڑ سے اکھاڑنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں حالانکہ قوم اِس کے بھیانک نتائج قیمتی جانوں کے ضیاع کی صورت میں مسلسل بھگت رہی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سگریٹ سمیت مختلف شکلوں میں تمباکو کا استعمال روز بروز بڑھتا جا رہا ہے اور ایڈز، ملیریا، ٹی بی اور دہشت گردی سے زیادہ اموات تمباکو نوشی سے ہو رہی ہیں۔ پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری نے ایک بریفنگ میں انکشاف کیا ہے کہ ہر سال ایڈز کی وجہ سے 55، ملیریا سے 5 اور ٹی بی کے باعث 30 ہزار افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جبکہ تمباکو نوشی کی وجہ سے سالانہ ایک لاکھ 63 ہزار لوگ مر رہے ہیں۔
دہشت گردی کے عفریت نے بھی اب تک 70 ہزار جانیں لی ہیں جو تمباکو نوشی سے مرنے والوں کے مقابلے میں نصف سے بھی کم ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ سگریٹ نوشی دنیا بھر میں موت کا سبب بننے والی چھ اہم وجوہات میں سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عوام خصوصاً نئی نسل میں سگریٹ نوشی کے رجحان کو کم کرنے کے لئے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے تمباکو نوشی کی روک تھام کے متعلق عالمی معاہدے پر عملدرآمد کیا جانا چاہئے۔ اس معاہدے کے تحت دکانوں پر تمباکو کی مصنوعات کے اشتہارات پر پابندی، سگریٹوں پر ہیلتھ لیویز کا نفاذ اور سگریٹ پیک پر ہیلتھ وارننگ اور تمباکو کے استعمال سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے آگاہی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ دفاتر اور پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی پر بھی پابندی ہونی چاہئے۔ اس حوالے سے محکمہ صحت، اطبا، والدین اور اساتذہ کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہئے تاکہ اس مہلک عادت سے لوگوں کی جان چھڑائی جا سکے۔