چینی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس کا تعلق کورونا وائرس کے خاندان سے ہے۔ یہ وائرس کھانسنے، چھینکنے یا کسی کو چُھونے سے بھی لگ جاتا ہے۔ چین سمیت تمام دنیا کے سائنسدان اس خطرناک وائرس کے تدارک کے لیے سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔ اس وائرس سے سینکڑوں افراد متاثر ہو چکے ہیں جن میں سے متعدد افراد کی حالت انتہائی تشویش ناک ہے۔ یہ خطرناک وائرس چین وسطی شہر وُوہان سے پھیلا اور اس نے دیکھتے ہی دیکھتے ملک کے دیگر حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
اس وائرس سے تھائی لینڈ اور جاپان کے شہریوں کے متاثر ہونے کی خبریں بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔ اندازوں کے مطابق یہ بیماری گزشتہ سال دسمبر کے آخری دنوں میں پھیلی تھی۔ یاد رہے کہ 2002ء میں بھی چین میں ایک بیماری پھیلی تھی جسے سارس وائرس کا نام دیا گیا تھا۔ اس وائرس کی وجہ سے تقریباً آٹھ ہزار افراد متاثر ہوئے تھے، جن میں سے تقریبا آٹھ سو مریضوں کی موت واقع ہو گئی تھی۔ اسی طرح 2012ء میں چین کو سانس لینے والی بیماری کے سینڈروم میرس‘ کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا۔
غربت میں کمی کے لیے کام کرنے والی ایک عالمی تنظیم نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ دنیا کے 2153 ارب پتی افراد کے پاس موجود دولت دنیا کی 60 فی صد آبادی کی مجموعی دولت سے زیادہ ہے۔ خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق برطانوی تنظیم ‘آکسفیم’ کا کہنا ہے کہ دنیا کے ارب پتی افراد میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران دگنا اضافہ ہو گیا ہے. آکسفیم کے مطابق لڑکیوں اور خواتین کو سب سے زیادہ غربت کا سامنا ہے۔ دنیا بھر کی خواتین کو مجموعی طور پر 12 ارب 50 کروڑ گھنٹے یومیہ بغیر معاوضے کے کام کرنا پڑتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ان گھنٹوں کا معاوضہ 10 ہزار 800 ارب ڈالر سالانہ بنتا ہے۔ آکسفیم کی عالمی عدم مساوات سے متعلق سالانہ رپورٹ اکنامک فورم کے افتتاح کے موقع پر جاری کی گئی۔
‘اے ایف پی’ کے مطابق آکسفیم کے بھارتی سربراہ امیتابھ بہار کا کہنا ہے کہ ہماری کمزور معیشتیں عام آدمی اور خواتین کے خرچوں پر ارب پتی افراد اور بڑے تاجروں کی جیبیں بھر رہی ہیں۔ اس میں حیرت کی بات کوئی نہیں کہ لوگ ارب پتیوں کی موجودگی کے جواز سے متعلق سوالات کر رہے ہیں۔ سوئٹزر لینڈ کے شہر ڈیوس میں آکسفیم کے تحت جاری سالانہ اکنامک فورم میں موجود امتیابھ بہار نے مزید کہا کہ عدم مساوات کے خاتمے کے بغیر امارت اور غربت کی درمیانی خلیج کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ امیتابھ کا کہنا تھا کہ دنیا کے 22 امیر ترین مردوں کے پاس افریقہ کی تمام خواتین سے زیادہ دولت ہے۔ انہوں نے کہا کہ غربت کا سب سے زیادہ بوجھ لڑکیوں اور عورتوں پر پڑتا ہے۔
آکسفیم کے اعداد و شمار کے مطابق پوری دنیا میں 42 فی صد خواتین بے روزگار ہیں۔ ان میں سے اکثر کے پاس تعلیم حاصل کرنے کے لیے وقت میسر نہیں ہے اور ان کی مالی حیثیت بھی اچھی نہیں۔ آکسفیم کے اعداد و شمار ‘فوربس میگزین’ اور ‘سوئس بینک کریڈٹ سوئس’ کے اعداد و شمار پر مبنی ہیں لیکن ان سے کچھ معاشی ماہرین نے اختلاف کیا ہے۔ تعداد کے مطابق صرف 2153 ارب پتی افراد کے پاس دنیا کے چار ارب 60 کروڑ غریبوں کی مجموعی دولت سے زیادہ سرمایہ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر دنیا کے صرف ایک فی صد امیر ترین افراد اپنی دولت پر 10 سال تک صرف اعشاریہ پانچ فی صد اضافی ٹیکس ادا کریں تو اس سے بزرگوں اور بچوں کی دیکھ بھال، ان کی تعلیم اور صحت کے شعبے میں 11 کروڑ 70 لاکھ نئی ملازمتیں پیدا کرنے کے لیے درکار سرمایہ کاری کی کمی دور ہو سکتی ہے۔