امریکا اپنی تاریخ کے 243 میں سے 225 سال حالت جنگ میں رہا

امریکا 1776 میں اپنے قیام کے 243 میں سے 225 سال حالت جنگ میں رہا ہے اس دوران محض 20 برس امن وسکون کے گزرے اس کا مطلب یہ ہوا کہ امریکا نے وجود میں آنے کے بعد 92 فیصد وقت جنگ و جدال میں گزارا۔ 2017 تک امریکا کی بیرون ممالک فوجی مداخلت کی تعداد 188 رہی۔ 1811 سے بیرون ممالک میں امریکا کی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ فوجی مداخلت کے بارے میں حقائق یہ ہیں کہ امریکا نے چلی پر حملہ کیا جب اس لاطینی امریکی ملک کو اسپین سے آزادی حاصل کئے سال بھر ہی گزرا تھا۔ 2017ء تک بیرون ممالک کے انتخابی عمل میں امریکا 188 اور 1946ء سے 2000 تک 117 بار مداخلت کی۔ اس دوران امریکا اور روس دونوں نے ہی کی بیرونی ممالک انتخابی دھاندلی میں ملوث ہونے اور فوجی حکومتوں کی حوصلہ افزائی کرنے کی طویل تاریخ ہے۔ 

امریکا نے 1948 سے 1991 کے درمیان 46 بار بیرون ممالک فوجی مداخلت کی 1992 سے 2017ء کے درمیان فوجی مداخلت میں چار گنا اضافہ ہو گیا۔  تعداد 188 تک پہنچ گئی۔ ایک امریکی ا خبار کے مطابق دسمبر 2016 تک سرد جنگ کے دوران 72 ممالک میں حکومتیں تبدیل کرانے کی کوشش کی۔ 1949 سے 2000 کے درمیانی عرصہ میں امریکا سے غیر ممالک میں 27 خفیہ فوجی آپریشن کئے 1954 میں امریکا ہی نے ایران میں وزیراعظم محمد مصدق کی جمہوری منتخب حکومت کا تختہ اُلٹا اوراس خبر کے جاری ہونے کو روکنے کی کوشش کی 1981ء میں اس وقت کے امریکی صدر رونالڈ ریگن نے نکارا گووا میں منتخب حکومت کا تختہ اُلٹنے کیلئے ’’خفیہ جنگوں‘‘ کے حوالے سے سی آئی اے کے لئے فنڈز کی منظوری دی۔

صابر شاہ

بشکریہ روزنامہ جنگ

کیا سڈنی اور میلبورن بھی جل جائیں گے؟

جنگلات میں لگی آگ نے ریاست وکٹوریا، نیو ساؤتھ ویلز اور ساؤتھ آسٹریلیا کو بری طرح متاثر کیا ہے اور دیگر ریاستوں کے جنگلات بھی اس آگ سے متاثر ہوئے ہیں۔ آگ سے متاثرہ بڑی ریاست نیو ساؤتھ ویلز کے دارالحکومت اور آسٹریلیا کے اہم ترین شہر سڈنی سے اگرچہ آگ اب بھی کافی دوری پر ہے اور اندازہ اس شہر سے آگ 100 میل سے کم دوری پر ہے تاہم آگ کے دھویں نے اس شہر کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کیا ہے۔ سڈنی تک آنے والے دھویں کی وجہ سے لوگوں کو سانس لینے میں مشکلات کا سامنا ہے جب کہ اسی ریاست کے قریب ہی دارالحکومت کینبرا واقع ہے اور وہاں تک بھی آگ کے دھویں کے اثرات پہنچے ہیں۔

اسی طرح ریاست وکٹوریا کے اہم ترین شہر میلبورن سے بھی آگ 50 سے 70 میل کی دوری پر ہے اور آگ کے اثرات شہر تک پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ وکٹوریا اور نیو ساؤتھ ویلز کی طرح ریاست ساؤتھ آسٹریلیا کا شہر ایڈیلیڈ بھی آگ سے 80 میل کی دوری پر ہے اور آگ کے دھویں نے اس شہر کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اس بات کے امکانات بہت کم ہیں کہ آگ مذکورہ شہروں تک پہنچے کیوں کہ ان تینوں شہروں میں آسٹریلوی فوج کے اڈوں سمیت فائر فائیٹرز اور دیگر حکومتی ادارے موجود ہیں اور مذکورہ شہروں میں فوج، فائر فائیٹرز اور دیگر ریسکیو اہلکاروں کو پہلے ہی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ تاہم آگ کے انتہائی قریب پہنچنے اور ان شہروں تک دھویں کے پھیلنے کی وجہ سے لوگوں میں خوف پایا جاتا ہے اور ایک بہت بڑی آبادی کو سانس لینے سمیت دیگر امور سر انجام دینے میں مشکلات درپیش ہیں۔

بشکریہ ڈان نیوز