بھارت : بی جے پی اب جھاڑکھنڈ میں بھی شکست سے دوچار

ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو مہاراشٹر کے بعد اب مشرقی ریاست جھاڑکھنڈ کے اسمبلی انتخابات میں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انتخابات کے نتائج اور رجحانات کے مطابق 81 رکنی ریاستی اسمبلی میں کانگریس، جھاڑکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) اتحاد کو 47 سیٹیں حاصل ہو رہی ہیں جب کہ حکمراں بی جے پی 24 سیٹوں تک سمٹ گئی ہے۔ بی جے پی کے وزیر اعلی رگھوبر داس نے الیکشن میں اپنی شکست تسلیم کر لی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جھاڑکھنڈ اسمبلی انتخابات کے نتائج سے یہ بات زیادہ واضح ہو گئی ہے کہ عوام نے مقامی مسائل کے بجائے ملکی معاملات کی بنیاد پر ووٹ مانگنے کی وزیر اعظم مودی کی پالیسی مسترد کر دی ہے۔ کانگریس اتحاد نے جہاں قبائلیوں کے مسائل نیز جنگل اور ان کی زمین سے متعلق معاملات کو زور شور سے اٹھایا، وہیں بی جے پی نے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کرنے، بابری مسجد معاملہ، تین طلاق اور شہریت ترمیمی قانون جیسے موضوعات پر توجہ مرکوز رکھی۔

اقتصاد ی سست رفتاری شکست کی وجہ
سیاسی تجزیہ کار اور انگلش جریدہ ہارڈ نیوز کے ایڈیٹر سنجے کپور نے جھاڑکھنڈ الیکشن کے نتائج کے حوالے سے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ”اس الیکشن میں بی جے پی کی شکست کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ عوام اقتصادی سست رفتاری سے بہت زیاہ پریشان ہیں۔ اس کا سب سے زیادہ منفی اثر دیہی اور قبائلی علاقوں کے لوگوں پر پڑا ہے جو کہ عام طور پر شہری علاقوں میں لوگوں کو دکھائی نہیں دیتا ہے۔”  سنجے کپور کا مزید کہنا تھا، ”سن دو ہزار چودہ کے عام انتخابات کے بعد بی جے پی کا نہایت غیر معمولی طور پر عروج ہوا تھا اور وہ بہت سی ریاستوں میں اپنی حکومت بنانے میں کامیاب رہی تھی لیکن دو ہزار انیس میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں مہاراشٹر، ہریانہ اور جھاڑکھنڈ میں ہار گئی۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ بہت کم وقت میں ہی بی جے پی کے حوالے سے ووٹروں کی ترجیح بدل ہو گئی ہے۔”

غرور کا سر نیچا
کانگریس کے سینئر رہنما اور جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی غلام نبی آزاد نے جھاڑکھنڈ اسمبلی کے نتائج پر اپنے ابتدائی تبصرے میں کہا کہ یہ بی جے پی کے گھمنڈ اور غرور کا انجام ہے، ” پچھلے چھ برسوں کے دوران بی جے پی کی حکومت میں عوام بری طرح پریشان ہیں۔ مودی حکومت نے متنازعہ قوانین لا کر ملک کو مصیبت میں مبتلا کر دیا ہے۔ وزیر اعظم نے جتنے وعدے کئے تھے، ان میں سے ایک بھی پورا نہیں کیا اور تمام وعدے جھوٹے ثابت ہوئے۔

ڈبل انجن تھیوری ناکام
جھاڑکھنڈ الیکشن کے نتائج نے وزیر اعظم مودی کی ڈبل انجن کی تھیوری کو بھی غلط ثابت کر دیا۔ 2014ء میں ملک کی اقتدار سنبھالنے کے بعد سے وہ ڈبل انجن کی تھیوری یعنی مرکز اور ریاست میں ایک ہی پارٹی کی حکومت پر زور دیتے رہے ہیں۔ وہ اسے ترقی کا اہم ذریعہ بتاتے اور غیر بی جے پی ریاستی حکومتوں پر ترقی کی راہ میں رخنہ ڈالنے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔ ابتدا میں عوام نے ان کی اس تھیوری کو پسند بھی کیا اور اسی کا نتیجہ تھا کہ 2014ء کے بعد ہونے والے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی اکیس ریاستوں میں اپنا پرچم لہرانے میں کامیاب ہو گئی جب کہ اس سے پہلے صرف سات ریاستوں میں تنہا اور دو ریاستوں میں حلیف جماعتوں کے مل کر حکومت میں تھی۔

سال 2018ء سے شکست کا آغاز
سال 2018ء کا آغاز تو بی جے پی کے لیے اچھا رہا اور پارٹی نے تریپورا میں حکومت بنا کر نئی تاریخ رقم کی لیکن اس کے بعد سے پارٹی کے لیے بری خبریں آنے لگیں۔ مئی 2018ء میں کرناٹک میں اسمبلی انتخابات میں وہ حکومت بنانے میں ناکام رہی۔ ہندی بیلٹ والی تین ریاستوں مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں بی جے پی اقتدار سے باہر ہو گئی اور وہاں کانگریس حکومت بنانے میں کامیاب رہی۔ تلنگانہ میں بھی بی جے پی کے ہاتھ کچھ نہیں لگا۔ سن 2019ء میں اب تک سات ریاستوں کے اسمبلی انتخابات ہو چکے ہیں۔ ان میں بی جے پی کو چار ریاستوں میں شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ جھاڑکھنڈ میں آج کی شکست کے بعد بی جے پی مہاراشٹر سمیت دو اہم ریاستیں بھی گنوا چکی ہے۔ یعنی ملک کے نقشے پر بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے اور ایسا اس وقت ہے، جب مرکز میں بی جے پی 2014ء کے مقابلے میں کہیں زیادہ سیٹیں حاصل کر کے اقتدار میں ہے اور نریندر مودی کے ہاتھوں میں اقتدار کی کمان ہے، جنہیں کچھ لوگ موجودہ سیاست کا سب سے بڑا فاتح قرار دیتے ہیں۔

بشکریہ ڈی ڈبلیو اردو

امریکا میں بے گھر افراد کی بڑھتی تعداد، لوگ گاڑیوں کے اندر سونے پر مجبور

امریکا میں بے گھر افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے صرف کیلی فورنیا میں 16 ہزار بے گھر افراد کا رات کو گاڑیوں میں سونے کا انکشاف ہوا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق امریکا میں بے گھر افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور ان بے گھر افراد میں سے کئی ہزار افراد ایسے ہیں جو مالی وسائل میں کمی کے باعث گھر کرائے پر نہ لینے کے سبب اپنی گاڑیاں کسی بھی اسپتال، کلب، چرچ یا کسی محفوظ جگہ پارک کر کے اس میں گزارنے پر مجبور ہیں۔ آن لائن ٹیکسی سروس اوبر کے ڈرائیور کی حیثیت سے کام کرنے والی خاتون لارن کش اپنی کار کو دو مقصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ 36 سالہ لارن ایک بے گھر خاتون ہیں جو دن میں ٹیکسی چلاتی ہیں مگر ہر رات وہ اسی کار میں سوتی ہیں اپنی گاڑی کی عقبی نشست کو ایک بستر میں تبدیل کر دیتی ہیں۔

لارن کش نے لاس اینجلس میں مکان کرائے پر حاصل کرنے کی استطاعت ختم ہونے پر اپنی کار میں ہی سونے کا فیصلہ کیا جہاں ایک بیڈروم کے مکان کا درمیان کرایہ 2350 ڈالر ماہانہ ہے، لارن کشن کیلی فورنیا کے ان 16 ہزار بے گھر افراد میں سے ایک ہیں جو گھر کرائے پر نہ ملنے کے سبب اپنی کار میں سونے پر مجبور ہیں اور یہ یہاں موجود 60 ہزار بے گھر افراد کا ایک چوتھائی حصہ ہے۔ لارن نے سی این این کو بتایا کہ عموماً میں نیند سے کئی بار بیدار ہوتی ہوں، کروٹیں بدلتی ہوں کیوں کہ کار میں سونا آرام دہ نہیں ہے اور میرا قد پانچ فٹ چھ یا سات انچ ہے جس کے باعث میری ٹانگیں ٹھیک طرح سے سیدھی نہیں ہو پاتیں۔

چند روز قبل ہی یو ایس ڈیپارٹمنٹ اینڈ اربن ڈیولپمنٹ نے اپنی پریس ریلیز میں کہا ہے کہ کیلی فورنیا میں رواں سال بے گھر افراد کی تعداد میں 2.7 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ایسے ہی مجبور افراد کے لیے لاس اینجلس کے علاقے کوریا ٹاؤن میں واقع چرچ انہیں مارچ 2018ء سے رات میں گاڑیاں پارک کرنے کی محفوظ سہولت فراہم کر رہا ہے۔ لوگوں کا بالخصوص خواتین بے گھر افراد کا کہنا ہے کہ یہاں گاڑیاں پارک کر کے اس میں سوتے وقت انہیں رہزنی کا کوئی خطرہ درپیش نہیں ہوتا یہ ایک محفوظ ترین جگہ ہے۔ چرچ کے ساتھ کئی این جی اوز جڑی ہیں جو ان بے گھر افراد کو نہانے کی سہولت بھی فراہم کرتی ہیں کہ کار میں سونے والے افراد کے لیے بنیادی سہولتوں کا بڑا فقدان ہے۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز