سعودی عرب نے جاپان سے جی-20 کی صدارت حاصل کر لی اور وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والا پہلا عرب ملک بن گیا جبکہ مستقبل میں عالمی سطح پر ان کے وسیع کردار کی امید بحال ہو گئی ہے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی ‘اے ایف پی’ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے جی -20 کی صدارت سنبھال لی اور جاپان صدارت سے سبکدوش ہو گیا اور سعودی عرب اگلے برس ریاض میں عالمی سربراہی کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔ سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق سعودی عرب نے جی-20 کی صدارت سنبھال لی ہے اور ریاض میں عالمی سربراہی کانفرنس ہو گی، سعودی عرب اپنی صدارت کے دوران جاپان کی جانب سے شروع کیے گئے اقدامات کو جاری رکھنے اور عالمی سطح پر اتفاق رائے کو پیدا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اس پیش رفت کو عالمی اتفاق رائے کو ترتیب دینے کے لیے منفرد موقع قرار دیا۔ ایس پی اے کے مطابق سعودی عرب 100 سے زیادہ پروگراموں اور کانفرنسوں کی میزانی کرے گا جس میں وزرا کے اجلاس بھی شامل ہیں۔ گلوبل سلوشنز انشیٹیو نامی تھنک ٹینک کے صدر ڈینس اسنوور نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ ‘جب سعودی عرب جی-20 کی صدارت شروع کرے گا تو وہ پہلا عرب ملک ہو گا جو اس تنظیم کی سربراہی کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ‘ یہ صدارت سعودی عرب کے لیے ایک امتحان ہو گا کیونکہ عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی، کم شرح پیدائش، آبادی کے حوالے سے مسائل سمیت دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی قوم پرستی اور مقبولیت پرستی کثیرالجہتی ترقی کو روک رہی ہے۔
روس نے ایک پائپ لائن کے ذریعے چین کو گیس سپلائی کرنے کا اعلان کیا ہے جو دونوں عظیم ملکوں میں ایک غیر معمولی معاہدہ ہے۔ ان دونوں ملکوں میں طویل مناقشت کے بعد پہلی مرتبہ یہ دوستانہ پیشکش عمل میں آ رہی ہے یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ روس کا شمار دنیا بھر میں گیس کے سب سے بڑے ذخائر رکھنے والے ملک کے طور پر ہوتا ہے۔ روس رقبے کے حساب سے بے حد وسیع عریض مملکت ہے جس کا ہزاروں لاکھوں کلو میٹر پر محیط سائبیریا کا بیشتر علاقہ بیشتر گہری برف سے ڈھکا ہوا ہے اور اس برف زار کے بارے میں ماہرین کا اندازہ ہے کہ اس کے نیچے گہرائی میں گیس اور پٹرول کے لامحدود ذخائر چھپے ہوئے ہیں. اس حساب سے دیکھا جائے تو روس اور چین کا اشتراک دنیا میں ایک عظیم الشان اشتراک کی شکل میں ابھرے گا جس کے آگے امریکا کی سپر پاور پرِِکاہ کی حیثیت اختیار کر جائے گی بلکہ معدوم ہو جائے گی۔
اس وقت بھی روس کو دوسرے ممالک کو گیس برآمد کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک تصور کیا جا رہا ہے۔ روس چین معاہدے کو ویڈیو لنک کے ذریعے ٹیلی ویژن پر دکھایا گیا ہے۔ جس میں روسی لیڈر ولادی میرپیوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ دونوں کی شراکت نظر آتی ہے۔ اس مجوزہ پائپ لائن کا نام پاور آف سائبیریا پائپ لائن رکھا گیا ہے جو دونوں عظیم سلطنتوں میں اشتراک کی علامت بنے گی۔ دونوں ملکوں کے حکمرانوں نے کہا ہے کہ آج کا دن تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت اختیار کر جائے گا۔ دونوں ملکوں کے لیڈروں نے یہ بھی کہا ہے کہ روس چین اشتراک پوری دنیا کے ممالک کے لیے اشتراک کا ایک عظیم ماڈل ثابت ہو گا اور جوہری دنیا کے توانائی کے مسائل اس ماڈل کے ذریعے حل کیے جا سکیں گے۔
چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ روس چین تعلقات تعاون کے ایک مثالی دور میں تبدیل ہو رہے ہیں جن سے دنیا کے تمام ممالک کو سبق سیکھنا چاہیے اور اگر اسی طرح کے اشتراک عمل قائم ہو جائیں تو دنیا کا کوئی مسئلہ بھی باقی نہیں رہے گا۔ واضح رہے روس چین گیس پائپ لائن کی لمبائی 3000 کلو میٹر یا 1,850 میل ہو گی جسے پیوٹن نے دنیا کا سب سے بڑا تعمیراتی منصوبہ قرار دیا ہے۔ اس پائپ لائن سے روس چین کو 38 بلین کیوبک فیٹ گیس سپلائی کرے گا۔ یہ پائپ لائن 2025 میں پوری طرح آپریشنل یعنی روبہ عمل آ جائے گی۔