مقبوضہ کشمیر میں سفاک اور بے رحم کرفیو کے سو دن مکمل چکے ہیں لیکن کشمیریوں پر بھارتی افواج نے بدستور عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے، 30 ہزار سے زائد نوجوانوں کو گرفتار کر کے مقبوضہ کشمیر اور بھارت کی دیگر جیلوں میں بند کر رکھا ہے، پوری وادی حراستی مرکز میں تبدیل ہو گئی ہے، ہر دس نہتے کشمیریوں پر ایک فوجی مسلط ہے، چھ ہزار سے زائد نا معلوم قبریں دریافت ہو چکی ہیں، 80 ہزار سے زائد بچے یتیم ہو چکے ہیں، 49 فیصد بالغ کشمیری دماغی امراض کا شکار ہیں، سینکڑوں خواتین اور لڑکیوں کو اٹھا کر غائب کر دیا گیا۔ خوراک اور ضروریات زندگی کی قلت عروج پر ہے، زندگی بچانے والی ادویات نایاب ہو چکی ہیں۔ بھارت اور اس کی ریاستی مشینری دہشت گردی کی اندھی تاریخ رقم کرتے ہوئے کشمیریوں کو حق خود ارادیت مانگنے کی سزا دینا چاہتی ہے۔
یہ سب کچھ 21 ویں صدی میں ہو رہا ہے۔ انسانی حقوق کے علمبردار سب کچھ جانتے بوجھتے اور دیکھتے ہوئے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ بات بیانات، اعلانات اور قراردادوں سے آگے نہیں بڑھی اور سوالات وہیں کھڑے ہیں کہ مقبوضہ وادی میں فاشزم کب تک چلے گا۔ دنیا میں امن کے علمبردار اور انسانی حقوق پر چیخ و پکار کرنے والے عملا کب کشمیریوں کیلئے آواز اٹھائیں گے۔ کیا ہماری سفارتکاری نتیجہ خیز نہیں ہوئی ؟ کیا کشمیر میں مرنے والے انسان نہیں ؟ کیا بھارتی فوج کے ہاتھوں ان کا بہنے والا خون سرخ نہیں ؟ پاکستان، جس کی ریاستی پالیسی یہ طے پائی تھی ہم آخری گولی، آخری جوان اور آخری حد تک جائیں گے، کیونکر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا ہے ؟ بھارت نے کشمیر کی جنت نظیر وادی کو جہنم میں تبدیل کر دیا ہے لیکن عالمی طاقتیں خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہیں، بنیادی سوال یہی ہے کہ عالمی قوتیں کب حرکت میں آئیں گی ؟ عالمی ضمیر کب جاگے گا ؟
جہاں تک پاکستانی پالیسی اور حکمرانوں کے طرز عمل کا سوال ہے تو ابھی تک ہم اقوام متحدہ میں وزیراعظم کی تقریر کے نشے سے باہر نہیں آ رہے۔ ہم صرف اس امر پر خوش ہیں کہ اقوام متحدہ نے حق خود ارادیت سے متعلق اپنی ستر برس پرانی قراردادوں کو مؤثر قرار دیا اور اگر یہ قراردادیں مؤثر ہیں تو پھر سلامتی کونسل ان پر عملدرآمد کے حوالے سے متفکر کیوں نہیں ؟ امریکا جو خود کو سپر پاور اور دنیا کا بلا شرکت غیرے مالک تصور کرتا ہے، بھارت کا ہاتھ کیوں نہیں پکڑتا ؟ اس کا طرز عمل تو یہی ظاہر کر رہا ہے کہ بھارت جو چاہے کرتا رہے عالمی قوانین اور اصولوں کی دھجیاں بکھیرتا پھرے۔ پاکستان سب کچھ برداشت کرے ، خاموش رہے تا کہ کسی کشیدگی میں اضافہ نہ ہو۔ دوسری جانب انسانیت کا دشمن نریندر مودی اپنے انتہا پسندانہ عزائم پر کاربند ہے اسے کھلی چھٹی ملی ہے کہ وہ کشمیریوں پر قیامت صغریٰ نازل کرے، بھارتی فوجی گلی محلوں میں کشمیریوں کے خون سے ہاتھ رنگتے نظر آئیں اور کوئی انہیں پوچھنے والا نہ ہو۔
اس صورتحال میں پاکستان کہاں کھڑا ہے، کیا ہم کشمیر سے نظریں پھیر چکے ہیں ؟ اگر ہم کشمیر کو زندگی موت کا مسئلہ سمجھتے ہیں تو پھر جان لیں کشمیر پر ہماری خاموشی بھارت کو اپنا ایجنڈا آگے بڑھانے پر اکسائے گی لہٰذا ہمیں اب کشمیر پر زبانی کلامی راگنی چھوڑ کر کچھ عملا ایسا کرنا ہو گا جس سے بھارت کی سفاکیت ایکسپوز ہو اور دنیا بھی محسوس کرے کہ یہ مسئلہ حل نہ ہوا تو پھر خطہ میں امن کی کوئی گارنٹی نہیں ہو گی۔ کشمیر پر کسی قسم کا صرف نظر تاریخ میں مجرمانہ غفلت کے مترادف ہو گا، کرتار پور راہداری کا جشن اپنی جگہ لیکن جب تک کشمیریوں کو حق خود ارادیت نہیں ملتا اور وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ نہیں کرتے نہ تو پاکستان مکمل ہو گا اور نہ ہی علاقائی امن، سلامتی اور بقا کی کوئی گارنٹی ہو گی۔
روہنگیا مسلمانوں کا دنیا کی مظلوم ترین اقلیت ہونا عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے لیکن اقوامِ متحدہ اس مسئلے کے حل میں بھی مسلمانوں کے دیگر مسائل کی طرح اب تک کوئی نتیجہ خیز کردار ادا نہیں کر سکی۔ تاہم مغربی افریقہ کا ملک اسلامی جمہوریہ گیمبیا قابلِ داد ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کا معاملہ اقوامِ متحدہ میں اٹھانے کا محرک اول بنا جس کے بعد یہ مقدمہ 57 ملکی اسلامی تعاون تنظیم کی جانب سے عالمی عدالت میں دائر کیا گیا ہے۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ میانمار نے اقوامِ متحدہ کے نسل کشی کنونشن 1948 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ریاست رخائن میں مسلم اقلیت کے خلاف فوجی کارروائی کی لہٰذا عدالت روہنگیا مسلمانوں کو مزید نقصان سے بچانے کے لئے فوری اقدامات کرے۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ دسمبر میں درخواست کی پہلی سماعت ہو گی۔ خونِ مسلم کی ارزانی کے مناظر دنیا بھر میں عام ہیں، مشرقِ وسطیٰ کی خانہ جنگی اورفلسطین، کشمیر اور میانمار میں نسل کشی کی شکل میں مسلمان لہولہان ہیں۔
تاہم میانمار کے مسلمانوں کو ان کی انتہائی کسمپرسی کے سبب دنیا کی مظلوم ترین اقلیت قرار دیا جاتا ہے۔ عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے عہد میں مسلمان تاجروں کے ذریعے اسلام اس علاقے میں پہنچا اور اتنا مقبول ہوا کہ ہندوستان میں مسلم حاکمیت سے بھی پہلے سلیمان شاہ نے رخائن میں اسلامی حکومت قائم کی جو 350 برس قائم رہی لیکن اس کے زوال کے بعد سے اب تک صوبہ رخائن کے مسلمان زیر عتاب ہیں، ان پر ہونیوالے مظالم پر پاکستان ، ترکی اور بنگلہ دیش کے سوا عالمی برادری ہی نہیں مسلم دنیا نے بھی کف افسوس ملنے کے سوا کچھ نہ کیا حالانکہ 57 مسلمان ملکوں میں دنیا کے انتہائی متمول ممالک شامل ہیں۔ اس معاملہ کا منصفانہ فیصلہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔ اس ضمن میں اسلامی جمہوریہ گیمبیا کی کاوش انتہائی لائقِ ستائش ہے اور اس اقدام کی کامیابی کے لیے اس کا مکمل ساتھ دینا پوری امت مسلمہ کا فرض ہے۔