امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سی آئی اے کی سربراہ جینا ہیسپل کو گزشتہ سال اس اہم عہدے پر تعینات کیا تھا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے سیکریٹری خارجہ ریکس ٹلرسن کو عہدے سے برطرف کرنے کے بعد مائیک پومپیو کو اس عہدے پر مقرر کیا جبکہ جینا ہیسپل کو سی آئی کا سربراہ نامزد کیا۔ جینا ہیسپل کا بیرون ممالک کام کرنے کا وسیع تجربہ ہے اور وہ کئی اہم ممالک میں سی آئی اے کی سٹیشن چیف رہ چکی ہیں۔ ان کی نامزدگی کے فیصلے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے ایک غلط فیصلہ قرار دیا گیا تھا۔ اس کی وجہ ایسی متنازع جیل کی سربراہی تھی جس میں مشتبہ افراد سے واٹر بورڈنگ کے ذریعے تفتیش کی جاتی ہے۔
سی آئی اے کی سربراہ 2002ء میں تھائی لینڈ میں ایک ایسی ہی جیل کی سربراہ تھیں، جہاں القاعدہ کے مشتبہ افراد سے تفتیش کی جاتی رہی۔ بلیک سائٹس پر ہونے والی تنقید کے باوجود گذشتہ برس سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر مائیک پومپیو نے انھیں اپنا نائب مقرر کیا تھا۔ خیال رہے کہ سابق صدر باراک اوباما ایسے تمام سینٹرز کو بند کرنے کا حکم دیا تھا تاہم موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ زیادہ سختی سے تحقیقات کرنے کے حامی ہیں۔ جینا ہیسپل نیشنل کلینڈیسٹائن سروس کی ڈپٹی ڈائریکٹر اور نیشنل کلینڈیسٹائن سروس کے ڈائریکٹر کی چیف آف سٹاف کے عہدے پر بھی کام کر چکی ہیں۔
مشہور ہتھیار AK-47 المعروف کلاشنکوف کے موجد میخائیل کلاشنکوف کی 100 ویں سالگرہ منائی جارہی ہے۔ میخائیل کلاشنکوف 10 نومبر 1919 میں مغربی سایبریا میں پیدا ہوئے تھے۔ جنگ عظیم دوئم کے ابتدائی برسوں میں سوویت یونین کی جرمن فوجیوں کے ہاتھوں شکست اور 1941 میں ایک جھڑپ میں زخمی ہونے کے بعد کلاشنکوف نے 1947 میں اپنی رائفل ڈیزائن کی، جسے ”کلاشنکوف“ کے نام سے جانا گیا۔ کلاشنکوف کو ان کے ایجاد کیے گئے ہتھیار کے باعث سوویت یونین میں بطور قومی ہیرو جانا گیا اور وہ ماسکو کی ماضی کی عظیم فوجی طاقت کی علامت بنے
تاہم ان کے ایجاد کیا گیا ہتھیار دنیا میں لاکھوں لوگوں کی موت کا سبب بنا، کلاشنکوف سے بے گناہوں کی ہلاکت پر میخائل کو اکثر تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ میخائیل کلاشنکوف کو روس میں اس ایجاد پر تعریف کا مستحق قرار دیا گیا اور میخائیل کلاشنکوف کو رائفل بنانے پر ’ہیرو آف رشیا ایوارڈ‘ سے بھی نوازا گیا، تاہم مشہورِ زمانہ AK-47 رائفل کے بانی میخائیل کلاشنکوف اپنی موت سے قبل اپنے ایجاد کردہ ہتھیار سے پھیلی جانے والی تباہی اور اموات کے حوالے سے فکر مند تھے۔