فضا میں موجود شدید آلودگی کے باعث دہلی ’گیس چیمبر‘ بن گیا

گذشتہ تین دن سے فضا میں موجود شدید آلودگی کے باعث نئی دہلی میں پبلک ہیلتھ ایمرجنسی کا اعلان کر دیا گیا۔ حکام نے تمام سکول بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور سپریم کورٹ کے تعینات کردہ پینل کا کہنا ہے کہ سموگ کی وجہ سے ’تمام شہریوں خاص طور پر بچوں کی صحت پر شدید اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔‘ پینل کی جانب سے ایمرجنسی کے اعلان کے ساتھ شہر میں تمام تعمیراتی منصوبوں پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ شہر کے وزیر اعلیٰ ارویند کیجریوال نے پہلے ہی نجی گاڑیوں کے سڑکوں پر نکلنے کے ’جفت طاق‘ کی حکمت عملی کا اعلان کیا ہے۔

انہیں اس حوالے سے ہنگامی اقدامات اٹھانا پڑے ہیں کیونکہ شہر کے کئی مقامات پر فضائی معیار کوالٹی انڈیکس یعنی اے کیو انڈیکس کے پوائنٹس 500 سے بھی زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ اے کیو آئی انڈیکس پر صفر سے 50 کے درمیان پوائنٹس ’بہتر‘، 400 سے 500 کے درمیان پوائنٹس ’خطرناک‘ جبکہ 500 سے زائد پوائنٹس’شدید خطرناک ایمرجنسی‘ قرار دیے گئے ہیں۔ سکولوں کو کلاسیں معطل کرنے اور کھلے علاقوں میں کی جانے والی تمام سرگرمیاں روکنے کا حکم ملا ہے۔ آج صبح کجریوال نے شہریوں میں 50 لاکھ فری ماسک تقسیم کرنے کے منصوبے کا سکول کے بچوں سے افتتاح کیا۔ انہوں نے پڑوسی ریاستوں میں زرعی باقیات کے جلائے جانے کو اس بحران کی وجہ قرار دیا۔

انہوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا: ’دہلی گیس چیمبر میں تبدیل ہو چکا ہے جس کی وجہ ہمسایہ ریاستوں میں فصلوں کی باقیات جلائے جانا ہے، خود کو اس زہریلی ہوا سے بچانا ہمارے لیے بہت ضروری ہے۔‘ میڈیا رپورٹس کے مطابق سموگ کو دیوالی پر پھوڑے جانے والے پٹاخوں کا نتیجہ بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ دیوالی ہندوؤں کا ایک تہوار ہے۔ کارخانوں، بجلی گھروں اور صنعتی یونٹ علاقے بھی فضا میں زہریلی ہوا پھیلانے میں بڑا کردار ادا کرتے ہیں۔ ان مسائل پر سیاست دان کم ہی توجہ دیتے ہیں۔ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کانپور کے مطابق دہلی میں پائی جانے والی آلودگی دارالحکومت کے اندر ہی 75 کلو میٹر کے قطر میں پیدا ہوتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ٹریفک کنٹرول کے’جفت طاق‘ کے اقدامات اٹھانے میں کافی تاخیر ہو چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق آلودگی سے نمٹنے کے لیے ’سب سے اہم وقت‘ 29 اکتوبر سے شروع ہو چکا ہے اور آلودگی کم کرنے کے لیے ہونے والے اقدامات کو بعد میں لینے سے ’کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔‘ دہلی میں موسم مستحکم ہونے کے بعد ٹھنڈ ہونے اور ہوا نہ چلنے کے باعث سموگ اگلے تین مہینے کے لیے یہاں موجود ہو گی۔ میٹرو لوجسٹس کے مطابق دسمبر 30 سے 5 جنوری کے درمیان اس میں اضافہ متوقع ہے۔ ایشیا کے دوسرے بڑے شہروں کے برعکس دہلی کے شہریوں نے ماسک کی عادت اپنانے میں کافی دیر کر دی ہے۔ ایسا شدید فضائی آلودگی کے حوالے سے مصروف ترین دنوں میں بھی دیکھنے میں آیا۔

دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں کئی شہر بھارت میں ہیں جس کی وجہ سے عالمی سطح پر بھارت کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دہلی میں ٹی ٹوئنٹی میچ کی تیاری کرنے والی بنگلہ دیشی ٹیم کو دھند کے باعث فیس ماسک پہنے ٹریننگ کرتے دیکھا گیا۔ بھارت کی کرکٹ گورننگ باڈی بی سی سی آئی کے سربراہ سارو گنگولی کا کہنا ہے: ’بی سی سی آئی مستقبل میں موسم سرما کے دوران شمالی بھارت میں میچ رکھنے کے فیصلے پر ’حقیقت پسندانہ ‘ سوچ اپنائے گا۔

ایڈم وِٹنال

بشکریہ دی انڈپینڈنٹ

یونان میں پناہ گزینوں کی صورت حال ’انتہائی خوفناک‘ ہے

یورپی کونسل کی کمشنر برائے انسانی حقوق نے یونان میں مختلف مہاجر کیمپوں کا دورہ کر کے وہاں مقیم مہاجرین کی صورت حال کو انتہائی خوفناک قرار دیا ہے۔ دوسری جانب یونان سیاسی پناہ کے ملکی قوانین مزید سخت بنانے کا سوچ رہا ہے یورپی کونسل کی کمشنر برائے انسانی حقوق دنیا میاتووچ کا یونان کے لیسبوس، ساموس اور شہر کورنتھ میں واقع مہاجر کیمپوں کا دورہ کرنے کے بعد کہنا تھا کہ یہ ایک ‘تباہ کن صورت حال‘ ہے۔ ان کیمپوں میں نہ صرف ادویات اور مناسب طبی دیکھ بھال کی کمی ہے بلکہ ٹوائلٹس بھی بہت ہی کم ہیں۔ اس خاتون کمشنر کے مطابق ساموس مہاجر کیمپ میں تو بہت سے خاندانوں نے خود لکڑیاں اکھٹی کر کے ہنگامی رہائش گاہیں تعمیر کر رکھی ہیں۔

دوسری جانب بیت الخلا میں جانے اور کھانا حاصل کرنے کے لیے بھی انہیں کئی کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑتا ہے۔ خاتون کمشنر کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ”یہ سیاسی پناہ کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ تو زندہ رہنے کی جنگ میں تبدیل ہو چکا ہے۔‘‘ میاتووچ کا یورپی یونین کی طرف سے ملنے والی مالی امداد کی تعریف کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ مسئلہ صرف مالی امداد سے حل نہیں ہو گا بلکہ یونانی حکام کو تمام نوکر شاہی رکاوٹیں دور کرنا ہوں گی تاکہ امداد کا صحیح استعمال ممکن ہو سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یورپی ممالک کو یونان میں موجود مہاجرین کو اپنے ہاں سیاسی پناہ دینے کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔

حالیہ کچھ عرصے سے یونانی جزیروں پر تارکین وطن کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ یونان کے صرف پانچ جزیروں پر موجود مہاجرین کی تعداد 35 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ وہاں کے مہاجر کیمپوں میں گنجائش کم اور افراد کی تعداد زیادہ ہو چکی ہے۔ یونان کے موریا مہاجر کیمپ میں چودہ ہزار سے زائد مہاجرین موجود ہیں اور یہ تعداد وہاں گنجائش سے پانچ گنا زیادہ بنتی ہے۔ ترکی اور یورپی یونین کے مابین ہونے والے معاہدے کے مطابق یورپی یونین ترکی کے راستے یونان پہنچنے والے تمام مہاجرین کو واپس ترکی بھیجنے کا اختیار حاصل ہے۔ لیکن یونانی اداروں میں ملازمین کی کمی کی وجہ سے سیاسی درخواستوں پر کام ہی انتہائی سست رفتاری کا شکار ہے۔

بشکریہ ڈی ڈبلیو اردو