کیا صدر ٹرمپ شام کی تیل کی تنصیبات پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے داعش کے سربراہ ابوبکر بغدادی کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ شام سے امریکہ کے تمام فوجیوں کو واپس بلانے کا ارادہ نہیں رکھتے اور کچھ امریکی فوجی ملک کے مشرقی علاقے میں موجود تیل کی تنصیبات کی حفاظت کی خاطر وہاں موجود رہیں گے۔ تاہم, بعض ماہرین اور مبصرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے اس بیان سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی موجودگی کا مقصد تیل کی آمدنی پر قبضہ کرنا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا، ’’ہو سکتا ہے کہ ہمیں تیل کیلئے لڑنا پڑے۔ ایسا کرنا بالکل ٹھیک ہو گا۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی اور بھی تیل حاصل کرنے کا خواہشمند ہو۔ تاہم, ایسی صورت میں اسے ہم سے لڑنا ہو گا۔ لیکن وہاں بہت بڑی مقدار میں تیل موجود ہے۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ امریکہ کی بڑی تیل کی کمپنی ایکسون موبل کے سپرد یہ کام کر سکتے ہیں کہ وہ وہاں تیل کی پیداواری گنجائش کو جدید بنانے کیلئے کام کرے، تاکہ آمدن کو وسعت دی جا سکے۔ واشنگٹن میں قائم مرکز برائے نیو امریکن سیکورٹی میں مشرق وسطیٰ سے متعلق محقق نکولس ہیراس کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کا یہ بیان تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے جس کا براہ راست فائدہ امریکہ کے دشمنوں کو پہنچ سکتا ہے، جن کا کہنا ہے کہ علاقے میں امریکہ کی مداخلت کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔ نکولس ہیراس کہتے ہیں کہ شام کے صدر بشارالاسد اور روس صدر ٹرمپ کے اس بیان کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شام کے مشرقی علاقے میں امریکی فوجیوں پر حملے کر سکتے ہیں اور یوں وہ امریکی فوجیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

ان کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ ترکی کی سرحد سے متصل شامی علاقے سے بیشتر امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد وہاں کم ہوتے ہوئے امریکی اثر و رسوخ کو ممکنہ طور پر بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ترکی اور روس نے بھی صدر ٹرمپ کے بیان کی مذمت کی ہے۔ شام میں روس کے سفیر ایلیگزانڈر لیکرینٹئیو نے کہا ہے کہ شام میں موجود تمام تیل کی تنصیبات کو ہر صورت شامی حکومت کے کنٹرول میں ہونا چاہئیے۔ اس سے قبل ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ترکی کے سوا شام میں دلچسپی رکھنے والے باقی تمام فریق شام کی تیل کی آمدن پر قبضہ کرنے کے متمنی ہیں۔ ایٹلانٹا کی ایموری یونیورسٹی میں بین الاقوامی قانون کے پروفیسر لوری بلینک کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ شام کی تیل کی تنصیبات میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے تو اسے شامی حکومت کی رضامندی درکار ہو گی۔

جان ہاپکنز یونیورسٹی کے پروفیسر اور مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ محقق ڈینئل سرور کہتے ہیں کہ شام میں امریکہ کی اس انداز کی مداخلت سے امریکی کانگریس کے قوانین کی بھی خلاف ورزی ہو گی، کیونکہ بیرون ملک سرمایہ کاری کیلئے حکومت کو کانگریس کی منظوری درکار ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شام میں امریکی مداخلت کیلئے کانگریس سے منظوری دہشت گردوں کے خلاف فوج کے استعمال پر بنیاد پزیر تھی جس کا مقصد مذکورہ تیل کی تنصیبات کو داعش اور دیگر دہشت گرد گروپوں سے محفوظ رکھنا تھا۔ 2011 میں شروع ہونے والی خانہ جنگی سے قبل شام 385,000 بیرل یومیہ کم معیار کا خام تیل پیدا کرتا تھا جس میں سے ایک لاکھ بیرل ان تیل کی تنصیبات سے پیدا ہوتا تھا جن پر صدر ٹرمپ ممکنہ طور پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی ایجنسی (آئی ایم ایف) کا کہنا ہے کہ یہ پیداوار 2016 میں کم ہو کر محض 40,000 بیرل یومیہ رہ گئی تھی۔ یہ دنیا کی تیل کی کل پیداوار کا ایک فیصد سے بھی کم ہے۔

بشکریہ وائس آف امریکہ

افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی

امریکہ نے افغانستان میں تعینات اپنی فوجیوں کی تعداد کم کر دی ہے۔ فوجیوں کی تعداد میں کمی گزشتہ ایک سال کے دوران کی گئی ہے۔ افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل اسکاٹ ملر نے امریکی وزیرِ دفاع مارک ایسپر کے ہمراہ ایک نیوز کانفرنس کی۔ جنرل ملز نے اس موقع پر انکشاف کیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران افغانستان سے دو ہزار امریکی فوجیوں کی واپسی ہوئی جس کے بعد افغانستان میں موجود امریکی فوجیوں کی کل تعداد گھٹ کر 12 ہزار رہ گئی ہے۔
نیوز کانفرنس کے دوران افغانستان کے قائم مقام وزیرِ دفاع اور وزارت دفاع کے اعلیٰ عہدے دار بھی موجود تھے۔ انہوں نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ امریکی فوجیوں کی واپسی کا انہیں بھی علم تھا۔

واضح رہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کی فوجیں نائن الیون واقعے کے بعد سے افغانستان میں موجود ہیں اور دہشت گردوں کے خلاف جنگ کر رہی ہیں۔ گزشتہ سال افغانستان میں کل 14 ہزار امریکی فوجی تعینات تھے جن کے انخلا کے لیے طالبان سے مذاکرات بھی گزشتہ برس ہی شروع کیے گئے تھے۔ گزشتہ ماہ تک طالبان سے مذاکرات کے نو ادوار مکمل ہو چکے تھے۔ مذاکرات کے دوران طالبان کا یہ مطالبہ رہا تھا کہ امریکہ افغانستان میں موجود اپنے فوجیوں کی تعداد میں خاطر خواہ کمی لائے جب کہ امریکہ کا مطالبہ تھا کہ پہلے طالبان اس بات کو یقینی بنائیں کہ افغانستان کی زمین کسی دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔

طالبان کی جانب سے مذاکرات کے دوران بھی حملے جاری رکھے گئے تھے جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ امن معاہدے سے عین قبل مذاکرات منسوخ کر دیے تھے اور انہیں مردہ قرار دیا تھا۔ بین الاقوامی امور کی تجزیہ کار ہما بقائی امریکی فوجیوں کی واپسی کو امریکی صدر کی پالیسیوں کا تسلسل قرار دیتی ہیں۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران افغانستان سے دو ہزار امریکی فوجیوں کی کمی صدر ٹرمپ کی پالیسی کا تسلسل ہے جس میں وہ واضح طور بیرون ملک تعینات امریکی فورسز کو وطن واپس لانے کا کہہ چکے ہیں۔

ان کے بقول اس پالیسی کا اہم نکتہ یہ تھا کہ صدر ٹرمپ دنیا میں امریکہ کا پولیس مین کا کردار کم کرنا چاہتے ہیں اور یہ بات آپ کو مشرقِ وسطیٰ میں شام کے بعد اب افغانستان میں بھی نظر آرہی ہے۔ دوسری جانب افغانستان کے دورے پر آئے ہوئے امریکی وزیرِ دفاع مارک ایسپر نے افغان قیادت سے ملاقات کی ہے جس میں انہوں نے افغانستان کے لیے اپنی حمایت اور شراکت داری جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ افغانستان کے ایک صدارتی ترجمان دعویٰ خان مینا پال نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ افغان صدر اشرف غنی اور مارک ایسپر کے درمیان ہونے والی ملاقات میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ، سیکیورٹی اور دیگر کئی اہم امور پر گفتگو ہوئی۔

افغان صدارتی ترجمان کے مطابق امریکی وزیر دفاع نے 28 ستمبر کو ہونے والے انتخابات کے لیے مؤثر سیکیورٹی انتظامات کرنے پر افغان سیکیورٹی فورسز کی کارکردگی کو بھی سراہا۔ یاد رہے کہ امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے بھی کانگریس کے وفد کے ہمراہ گزشتہ روز افغان صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ سے ملاقات کی تھی۔ امریکی قانون سازوں نے افغان قیادت کے ساتھ ملاقات میں افغانستان کی سیکیورٹی، اقتصادی ترقی اور دیگر امور پر تبادلۂ خیال کیا تھا۔

محمد جلیل اختر

بشکریہ وائس آف امریکہ