امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ’یوٹرن‘، بھارت سرکار حیران

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کشمیر کے حوالے سے بیان نے نئی دہلی حکومت کو حیران کر دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ کے انکار کے باوجود ٹرمپ کا یہ بیان مسئلہ کشمیر پر پاکستانی ’موقف کی فتح‘ ہے۔ پاکستانی وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات میں امریکی صدر نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ان سے ثالث کا کردار ادا کرنے کا کہا تھا۔ بھارتی وزارت خارجہ نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کے مطابق ایسی کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق اس بیان نے بھارت سرکار کو حیران کر دیا ہے۔

بین الاقوامی تعلقات کی ماہر ڈاکٹر ہما بقائی نے ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا، ”امریکی صدر کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیش کش غیر متوقع تھی مگر ڈونلڈ ٹرمپ اسی انداز کے لیے مشہور ہیں۔ ماضی میں امریکی عہدیدار مسئلہ کشمیر پر لب کشائی سے گریز کرتے تھے کیونکہ بھارت کی ناراضی کا خدشہ رہتا تھا لیکن ڈونلڈ ٹرمپ غیر روایتی صدر ہیں۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ”اکتوبر میں ریاست ممبئی کے انتخابات ہیں لہذا نریندر مودی کی کشمیر پر پیش قدمی کا امکان نہیں لیکن مستقبل قریب میں نہ صرف امریکا بلکہ اس حوالے سے چین کا کردار بھی اہم ہو گا۔

ملاقات کے بعد پاکستانی سفارت خانے میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاک امریکا تعلقات میں جو سرد مہری آئی تھی، اس میں کمی ہوئی ہے اور اب دروازے کھل چکے ہیں۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے امریکا کی ثالثی کی پیش کش کے حوالے سے شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ مسئلہ کشمیر کو حل ہونا چاہیے، اسے مذاکرات کے ذریعے حل کرنا ہو گا، دو ایٹمی قوتیں تصادم کا خطرہ مول نہیں لے سکتیں۔
معروف تجزیہ کار امتیاز گل کہتے ہیں کہ ”پاکستان کی بڑی کامیابی ہے کہ امریکی صدر نے کشمیر پر بھارت کی بجائے پاکستانی موقف کو تسلیم کیا ہے۔

امریکی صدر ابتدا میں پاکستان مخالف بیانات دیتے تھے لیکن پھر انہوں نے اچانک یو ٹرن لیا اور خود ہی خط لکھ کر وزیر اعظم عمران خان کو دورے کی دعوت دے دی۔ عمران خان کو جس انداز میں وائٹ ہاؤس بلایا گیا اور ڈونلڈ ٹرمپ نے برملا افغانستان کے غیر فوجی حل کے لیے پاکستان کے کردار کو تسلیم کیا، اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ صدر ٹرمپ آئندہ انتخابات میں اس کریڈٹ کے ساتھ جانا چاہتے ہیں کہ انہوں نے مسئلہ افغانستان پرامن طریقے سے حل کیا یا پھر اس کے لیے راہ ہموار کر دی ہے۔

بشکریہ ڈی ڈبلیو اردو

فلسطینیوں کی ہلاکتوں کا کوئی نوٹس ہی نہیں

حمیدو فاخوری کو وہ لمحہ اب تک یاد ہے، جب مبینہ طور پر اسرائیلی فورسز نے معذور فلسطینی محمد حبلی کو ہلاک کیا تھا۔ ویسٹ بینک کے شہر طولکرم کا رہائشی یہ نوجوان حمیدو کے ہمسائے میں واقع ایک کیفے میں کام کرتا تھا۔ حمیدو فاخوری نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ویسٹ بینک کے شمالی شہر طولکرم میں اسرائیلی فورسز کے آپریشن کے بعد اس نے ذہنی معذور محمد حبلی کو سڑک پر دیکھا، جو اپنی لکڑی کی بیساکھیوں کے ساتھ وہاں موجود تھا۔ پھر اچانک حمیدو نے فائرنگ کی آواز سنی اور چند ساعتوں میں ہی حبلی مردہ حالت میں وہاں پڑا ہوا تھا۔

حمیدو نے بتایا، ”میں یہ کبھی نہیں بھول سکتا اور یہ بھی ہمیشہ یاد رکھوں گا کہ اس غریب شخص کو کس طرح ہلاک کیا گیا۔‘‘ اس واقعے کی ویڈیوز منظر عام پر آنے کے بعد نہ صرف فلسطینیوں بلکہ انسانی حقوق کے کارکنوں کی طرف سے بھی اس واقعے کی شدید مذمت کی گئی تھی۔ سخت دباؤ کے باعث اسرائیلی حکام نے اس واقعے سے متعلق حقائق جاننے کی خاطر چھان بین کا عمل شروع کر دیا ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حبلی کی ہلاکت اسرائیلی فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں ہوئی۔ اسرائیلی فورسز نے اعتراف کیا کہ فائرنگ کی گئی تھی جبکہ حبلی کی ہلاکت کی اس مبینہ وجہ سے بھی انکار نہیں کیا گیا۔ لیکن سات ماہ گزر جانے کے بعد بھی اس کیس کی چھان بین میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ اس تفتیش کا مقصد یہ جاننا ہے کہ آیا اسرائیلی فوجیوں نے کسی مجرمانہ عمل کا ارتکاب کیا تھا۔

اسرائیلی فوج مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ پٹی میں فوجی فائرنگ کے ایسے چوبیس واقعات کی تفتیش کر رہی ہے، جن میں خدشہ ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے مجرمانہ طور پر کارروائی کی تھی۔ یہ تمام واقعات سن دو ہزار اٹھارہ کے ہیں۔ تاہم اے پی کے مطابق ان تمام کیسوں میں اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ نہ تو کسی کو مجرم قرار دیا گیا اور نہ ہی کسی پر فرد جرم عائد کی گئی۔ زیادہ تر واقعات میں فوج نے اہم عینی شاہدین اور مقتولین کے رشتہ داروں کے انٹرویو تک نہ کیے۔ گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران اسرائیلی فورسز کی طرف سے شوٹنگ کے تقریباﹰ دو سو واقعات کی مجرمانہ تفتیش کی گئی۔

اسرائیل کی انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق یہ فائرنگ کے ایسے واقعات تھے، جن میں فلسطینی ہلاک یا زخمی ہوئے تھے۔ ان میں سے صرف دو واقعات میں سزائیں سنائی گئیں۔ اس ادارے نے اسرائیلی فورسز کی طرف سے فلسطینیوں پر فائرنگ کے واقعات کی سخت مذمت کرتے ہوئے اس تناظر میں نظام انصاف کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ دوسری طرف اسرائیل کا کہنا ہے کہ ویسٹ بینک میں باقاعدہ طور پر فوجی کارروائیوں کی ضرورت ہے تاکہ یہودی آبادیوں کا فلسطینی حملہ آوروں سے تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔ اپنے ایک تازہ بیان میں اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ فوج پر عائد الزامات کی چھان بین کا عمل تیز ہونا چاہیے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ تحقیقات شفاف اور مؤثر ہونا چاہییں اور اس تناظر میں تمام امکانات کو مد نظر رکھنا ضروری ہے تاہم سکیورٹی سے جڑے خدشات اور زمینی حالات کے باعث تحقیقات کا یہ عمل ‘پیچیدہ اور طویل‘ ہو جاتا ہے۔

بشکریہ ڈی ڈبلیو اردو