ٹرمپ رویے سے پریشان امریکا میں برطانوی سفیر مستعفی ہونے پر مجبور

سرکاری ای میلز میں امریکی صدر کو ہدف تنقید بنانے والے برطانوی سفیر سرکِم ڈارک نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا میں تعینات برطانوی سفیر سرکِم ڈارک نے ای میلز لیک اسکینڈل پر امریکی صدر سے شدید اختلافات کے بعد مستعفی ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ سرکم نے برطانوی وزیراعظم کی حمایت پر شکریہ بھی ادا کیا۔ برطانوی سفیر نے اپنے استعفیٰ میں لکھا کہ گو سال کے آخر میں میری ریٹائرمنٹ ہے تاہم میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ کشیدہ صورت حال میں نئے سفیر کی تعیناتی ضروری ہوگئی ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو گزند نہ پہنچے۔

چند روز قبل برطانوی اخبار میں سر کم ڈراک کی افشا ہونے والی ای میلز شائع ہوئی تھیں جس میں صدر ٹرمپ کو کند ذہن، نااہل اور ناکارہ کہا تھا جب کہ امریکا کو غیر محفوظ ملک اور امریکی پالیسیوں کو غیر یقینی بھی قرار دیا تھا۔ لیک ہونے والی ای میلز پر امریکی صدر نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے برطانوی سفیر کو احمق قرار دیا اور ان کے ساتھ مزید کام کرنے سے انکار کردیا تھا تاہم برطانوی وزیراعظم نے اپنے سفیر کو مکمل حمایت کا یقین دلاتے ہوئے کام جاری رکھنے کی ہدایت کی تھی۔

خوراک ضائع کرنے والے ممالک میں سعودی عرب پہلے نمبر پر

دنیا میں خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد کسی طور کم نہیں، مگر جہاں غریب افراد دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں وہیں کچھ ممالک ایسے بھی ہیں جو ایک خطیر لاگت کا کھانا ضائع کر دیتے ہیں۔ سعودی عرب کھانا ضائع کرنےوالے ممالک میں پوری دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ سعودی عرب کا شمار یوں تو امیر ممالک میں ہوتا ہے مگر یہاں بھی کئی لوگ غربت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ایک طرف غریب افلاس کے ہاتھوں بھوکا رہنے پر مجبور ہیں تو دوسری طرف روزانہ 70 ملین ریال لاگت کا کھانا کچرے کے ڈبوں میں چلے جاتا ہے۔ ہفت روزہ مجلہ سیدتی کے مطابق سعودی عرب کے 90 فیصد گھرانوں کے افراد بچ جانے والا کھانا ضائع کر دیتے ہیں۔ روزانہ 427 ٹن فاضل کھانا کچرے کے ڈبوں کی نذر کر دیا جاتا ہے۔

سعودی عرب میں علماء سماجی اور اقتصادی امور کے ماہرین فاضل کھانے کے ضیاع کے نقصانات کے بارے میں آگہی مہم چلا رہے ہیں۔ ملکی اور علاقائی سطح پر کئی ایسی انجمنیں قائم کر دی گئی ہیں جو فاضل کھانا جمع کر کے بھوکوں تک پہنچانے کا انتظام کر رہی ہیں۔ سبق نیوز کے مطابق ’اکرام‘ فلاحی انجمن نے جون 2019 کے دوران صرف مکہ مکرمہ سے 49 ٹن فاضل کھانا جمع کیا۔ یہ کھانا انجمن کے کارندوں نے شادی گھروں، ہوٹلوں، ریستورانوں، گھروں، سکیورٹی فورس کے اداروں سے حاصل کیا اور 89 ہزار سے زائد افراد میں تقسیم کیا۔

مکہ مکرمہ میں تحفظ خوراک انجمن اکرام نے فاضل کھانے سے متعلق اعداد و شمار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں نہیں پتہ کہ ہمارے رضا کاروں نے جو کام کیا اس پر ہم خوش ہوں یا ہیبت ناک اعداد و شمار کو دیکھ کر دکھی ہوں۔‘ ’ نہ جانے کتنا کھانا غفلت اور لاپروائی کی وجہ سے ضائع ہو گیا ہو گا جسے ہم جمع نہ کر سکے اور اس سے کسی کو فائدہ نہیں پہنچا سکے۔‘ فاضل کھانا جمع کرنے کے لیے قائم نجی انجمن ’خیرات ‘ کی چیئرپرسن نورہ بنت عبدالعزیز العجمی کہتی ہیں کہ ہمیں ہر روز فاضل کھانا ملتا ہے پھر ہم اسے حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق محفوظ کر کے تقسیم کر دیتے ہیں۔

سابق رکن شوریٰ ڈاکٹر احمد آل مفرح نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں کفایت شعاری کا نظام متعارف کرانا ہو گا اور کھانا ضائع کرنیوالوں پر جرمانے مقرر کرنا ہوں گے۔‘ شوریٰ کے ایک اور سابق رکن ڈاکٹر ناصر بن داؤد کا کہنا تھا کہ شادی گھروں اور مختلف تقریبا ت کے مراکز میں کھانا ضائع کرنیوالوں کے خلاف سزائیں مقرر کرنا ضروری ہیں۔ قانونی مشیر عبداللہ العنزی نے کہا کہ ہمارے یہاں تقریبات میں کھانا ضائع کرنیوالوں کی سزا کے لئے کوئی قانون نہیں۔ اطعام انجمن کے عامر البرجس نے بتایا کہ ہم نے فاضل کھانا جمع کرنے کے لئے بڑے بڑے شادی گھروں اور ہوٹلوں کے ساتھ معاہدے کر لیے ہیں۔ دوسری جانب وزارت زراعت کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں ایک تہائی غذ ا ضائع کر دی جاتی ہے۔

بشکریہ اردو نیوز