صدر ٹرمپ نااہل اور ناکارہ لیڈر ہیں، برطانوی سفیر

امریکا میں برطانیہ کے سفیر کم ڈیروچ کے خفیہ سفارتی خط منظر عام پر آئے ہیں جن میں انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نااہل شخص قرار دیا ہے۔ برطانیہ کے اخبار ’’ڈیلی میل‘‘ میں شائع ہونے والے ان خفیہ سفارتی مراسلوں میں برطانوی سفیر نے صدر ٹرمپ کو نااہل اور ناکارہ لیڈر قرار دیا ہے۔ سفارتی مبصرین کا کہنا ہے کہ ان خفیہ مراسلوں کے منظر عام پر آنے سے امریکا اور اس کے قریب ترین اتحادی ملک برطانیہ کے دو طرفہ تعلقات میں سفارتی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ اخبار کے مطابق برطانوی سفیر نے اپنے سفارتی مراسلوں میں برطانوی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کا کیریئر ذلت اور رسوائی کے انداز میں ختم ہو سکتا ہے۔

مراسلوں میں وائٹ ہاؤس میں رونما ہونے والی صورت حال کو ’’چھریوں کی لڑائی‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اخبار کے مطابق یہ سفارتی مراسلے 2017 سے اب تک کے دوران برطانوی دفتر خارجہ کو بھیجے گئے جن میں صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی سے لیکر 2020 کے صدارتی انتخاب سے متعلق ان کے منصوبے کا احاطہ کیا گیا ہے۔ 22 جون کو لکھے گئے مراسلے کا حوالہ دیتے ہوئے اخبار لکھتا ہے کہ برطانوی سفیر ڈیروچ نے صدر ٹرمپ کی طرف سے ایران پر ہوائی حملہ کرنے کے اعلان اور اس کے فوراً بعد اپنا ارادہ بدلنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنا ارادہ اس لیے بدلا کیونکہ انہیں بتایا گیا تھا کہ اس بمباری کے نتیجے میں کم سے کم 150 ایرانی شہریوں کی جانیں ضائع ہو نے کا خدشہ ہے۔ 

ان خفیہ سفارتی مراسلوں کے لیک ہونے کے بارے میں امریکی حکومت یا وائٹ ہاؤس کی طرف سے کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا گیا ہے۔ یہ سفارتی مراسلے ایسے وقت میں لیک ہوئے جب برطانیہ کے سیاسی میدان میں خاصی ہلچل پائی جاتی ہے اور حکمران قدامت پسند جماعت تھیریسا مے کی جگہ نئے وزیر اعظم کا انتخاب کرنے میں مصروف ہے۔

بشکریہ وائس آف امریکہ

امریکہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دے سکتا

ایران نے مغربی ممالک کے ساتھ 2015ء کے معاہدے میں مقرر کی گئی افزودہ یورینیم کی حد سے زیادہ یورینیم ذخیرہ کر لی ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے اس بات کا اعلان کیا جس کی تصدیق جوہری نگران ادارہ انٹرنشینل اٹامک انرجی ایجنسی نے بھی کی۔ ایرانی وزیر خارجہ نے ایک نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر 300 کلو سے زیادہ ہو گئے ہیں‘۔ ایران نے امریکہ کے اس معاہدے سے انخلا اور دونوں ممالک کے مابین حالیہ تناؤ کے بعد گزشتہ مہینے اپنی جوہری پروگرام دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ دوسری جانب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے اس اعلان کے بعد کہا ہے کہ ’ایران آگ سے کھیل رہا ہے۔‘ وائٹ ہاؤس میں نامہ نگاروں سے بات چیت میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’وہ جانتے ہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور کس سے کھیل رہے ہیں۔

اس سے قبل وائٹ ہاؤس نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ ’ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔‘ نگران ایجنسی آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرہ معاہدے کی مقرر کردہ حد سے زیادہ ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے عالمی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کی ہے کیونکہ معاہدے کے مطابق کسی ایک فریق کے معاہدے سے دستبردار ہونے کے بعد دوسرا فریق ردعمل کے طور پر کچھ کر سکتا ہے۔ ایران اور مغربی طاقتوں کے مابین جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے ایک عالمی معاہدہ 2015 میں طے پایا تھا جس کے بعد ایران پر عائد جوہر پابندیاں ختم ہونی تھیں لیکن امریکہ نے گزشتہ سال اس معاہدے سے انخلا کا اعلان کیا تھا۔

اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے یورینیم کے ذخائر سے متعلق ایران کے بیان کو ’جوہری ہتھیار بنانے کی جانب اہم قدم‘ قرار دیا ہے اور یورپی ممالک سے کہا ہے کہ ایران پر پابندیاں عائد کی جائیں۔ برطانیہ کے وزیر خارجہ جرمی ہینٹ کا کہنا ہے کہ ایران کے اس اقدام پر ’بہت پریشان ہیں‘ اور انھوں نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ معاہدے کی پاسداری کرے۔ برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ برطانیہ ایران کے جوہری معاہدے کی حمایت کرتا ہے اور ’اگر ایران نے معاہدہ ختم کر دیا تو وہ بھی کر دیں گے۔‘ روس کے وزیر خارجہ سرگئے لاروف نے کہا کہ انھیں ’اس پر افسوس ہے لیکن اسے زیادہ ڈرامائی نہیں بنانا چاہیے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’حالیہ واقعات پر ایران کا فطری ردعمل ہے‘ اور یہ امریکہ کی ایران کے خلاف ایک مہم کے جواب ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ ایران کے جوہری معاہدے کے مخالف ہیں اُن کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے ذریعے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے نہیں روکا جا سکتا ہے۔ انھوں نے ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ ساتھ دوسرا ممالک پر بھی زور دیا ہے کہ وہ ایران سے تیل نہ خریدیں۔

بشکریہ وائس آف امریکہ

ایران نے طے یورینیم کے افزودہ ذخیرے کی حد پار کر لی

ایرانی حکومت اور بین الاقوامی انسپکٹروں نے کہا ہے کہ ایران نے یورینیم کے افزودہ ذخیرے کی وہ حد پار کر لی ہے جو 2015 میں عالمی طاقتوں کے ساتھ اس کے جوہری معاہدے کے تحت طے کی گئی تھی۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ایک سال قبل امریکہ کے ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے سے یک طرفہ اخراج کے بعد ایران نے پہلی بار معاہدے کی بڑی خلاف ورزی کی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کی جانب سے یورینیم کے افزودہ ذخائر کی حد پار کرنے کے اعلان سامنے آیا۔ جلد ہی ایٹمی معاملات کے نگران اقوام متحدہ کے ادارے کی جانب سے بھی اس کی تصدیق کر دی گئی، جس کے بعد ایٹمی معاہدے کو بچانے کے لیے یورپی ملکوں پر نیا دباؤ آ گیا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایران کو زیادہ سے زیادہ ہدف بنانے کی مہم بھی جاری ہے۔

ایران نے علیحدہ سے دھمکی بھی دی ہے کہ یورپی ملکوں کی جانب سے نئے ایٹمی معاہدے کی پیش کش نہ کیے جانے کی صورت میں وہ یورینیم کو اس قدر افزودہ کرنا شروع کر دے جس سے ایٹمی ہتھیار تیار کئے جا سکتے ہیں۔ اس اعلان کے بعد وسیع تر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ یہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب پہلے سے ہی ایران کی جانب سے امریکی ڈرون گرانے، ایرانی حمائت یافتہ حوثیوں کے ہتھیار بردار ڈرون سے سعودی عرب پر حملوں اور آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکروں پر پراسرار حملےسے خطے کے حالات کشیدہ ہیں۔ گذشتہ ماہ آئل ٹینکروں پر ہونے والے حملے کا الزام امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر لگایا ہے، جبکہ حوثیوں نے سعودی عرب کے ابہا کے ہوائی اڈے پر نئے حملے کا بھی دعویٰ کیا جس میں سعودی حکومت کے مطابق نو افراد زخمی ہوئے۔

یورپی یونین نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ یورینیم افزودہ نہ کرے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے ایرانی اقدام کو ’ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کی جانب اہم قدم قرار دیا ہے۔‘ یورپی خدشات کے باوجود ایران کا طویل عرصے سے اصرار ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ وائیٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رپورٹروں کو بتایا کہ ایران ’آگ سے کھیل رہا ہے۔‘ جبکہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ایران کی یورینیم کی ہرطرح کی افزودگی بند کروائے۔ حتیٰ کہ اس سطح کی افزودگی بھی نہ کی جائے جس کی ایٹمی معاہدے میں اجازت دی گئی تھی۔ مائیک پومپیو نے ایک بیان میں کہا کہ ’ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ایرانی حکومت خطے اور دنیا کے لیے زیادہ خطرناک ہو گی۔

اگرچہ آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے امریکی ڈرون مار گرانے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کا حکم دے کر واپس لے لیا تھا، امریکی حکومت نے طیارہ بردار جہاز، ایٹمی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے بی 52 بمبار طیارے اور مزید فوج علاقے میں بھیج دی ہے۔ اس صورت حال سے یہ خوف بڑھ گیا ہے کہ کوئی غلط اندازہ یا اور کوئی واقعہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کا سبب بن سکتا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے رپورٹروں سے بات چیت میں اعتراف کیا کہ ایران نے ایٹمی معاہدے کے تحت طے کی گئی یورینیم کی افزودگی کی حد پار کر دی ہے۔ ان کا کہنا تھا: ’ہم نے پہلے ہی اس کا اعلان کر دیا تھا اور شفاف انداز میں کہہ دیا تھا کہ ہم ایسا کرنے جا رہے ہیں۔ ہم وہی کرنے جا رہے ہیں جس کا ہم اعلان کر چکے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایسا کرنا ہمارا حق ہے جو ایٹمی معاہدے نے ہمیں دیا‘۔

اقوام متحدہ کے ایٹمی توانائی کے ادارے انٹرنیشنل اٹومک انرجی ایگنسی نے کہا ہے کہ اس کے انسپکٹر جنرل نے حکام کو بتایا ہے کہ ایران کی جانب سے یورینیم کی افزودگی کی حد توڑنے کی تصدیق کر لی گئی ہے۔ ایٹمی معاہدے کی شرائط کے تحت ایران نے یورینیم کے ذخائر تین سو کلو گرام سے کم رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔ اسی طرح یورنیم کو زیادہ سے زیادہ 3.67 فیصد تک افزودہ کیا جا سکتا ہے۔ اس سے پہلے ایران نے یورینیم کو 20 فیصد تک افزودہ کیا جس کا مطلب یہ ہے تکنیکی اعتبار سے یہ یورنیم ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کے قابل معیار سے کچھ ہی کم معیار کی تھی۔ ایران کے پاس اعلیٰ درجے کی افزودہ یورینیم کی مقدار 10 ہزار کلوگرام تک تھی۔

ایرانی وزیر خارجہ یا اقوام متحدہ کے ایٹمی توانائی کے ادارے میں سے کسی نے یہ نہیں بتایا ہے کہ اس وقت ایران کے پاس کتنی یورینیم ہے۔ گذشتہ ہفتے ویانا میں ایک ایرانی عہدیدار نے کہا تھا کہ ایران کی یورنیم کی مقدار ایٹمی معاہدے کی حد سے 2.8 کلوگرام کم ہے۔ ایران نے کم معیار کی افزودہ یورینیم کی پیدوار میں چار گنا اضافہ کر دیا ہے۔ 3.67 فیصد تک افزودہ یہ یورنیم بجلی پیدا کرنے کے لیے ایٹمی ری ایکٹر چلانے کے لیے کافی ہے۔ اس یورینیم سے ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے جا سکتے۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا ہے کہ ایران کم افزودہ یوینیم کو خام یورینیم میں ملا کر اسے افزودگی کی مقررہ حد میں رکھ سکتا تھا۔ حد توڑنے کا مطلب یورپی ممالک کو نوٹس دینا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپی ممالک کے اقدامات کافی نہیں ہیں اس لیے ایران اپنے منصوبوں کے ساتھ آگے بڑھے گا جیسے کہ پہلے بھی اعلان کیا جا چکا ہے۔

جواد ظریف نے کہا کہ افزودہ یورینیم اور بھاری پانی کے ذخائر میں اضافے کے معاملے میں ایران اپنے اقدامات کے پہلے مرحلے پر عمل کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایران کی جانب سے یورینیم کی مقدار کی حد توڑنے سے ایک سال کی اس مدت میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں ہو گی جو ایٹم بم کی تیاری کے لیے مطلوبہ مواد اکٹھا کرنے کے لیے ضروری ہے تاہم اس کے لیے شرط یہ ہے کہ ایران یورینیم کی مقدار میں اضافہ جاری رکھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے یورینیم کے ذخائرمیں اضافہ اور اعلیٰ درجے کی افزودگی ایک ساتھ کرنے سے ایک سال کی کھڑکی بند کرنے کا عمل شروع ہو جائے گا اور ایٹمی معاہدہ بچانے کی سفارتی کوششوں کے راستے میں رکاوٹ آئے گی۔ 2015 میں ایٹمی معاہدے پر ایران، امریکہ، چین، روس، جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے اتفاق کیا تھا۔ اس موقعے پر ماہرین کا خیال تھا کہ ایران چند ہفتوں سے لے کر تین ماہ میں ایٹم بم تیار کر سکتا ہے۔

بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو