اجازت ہو تو تمہاری لاشوں پر گولف کھیل لوں

گزشتہ ماہ 26 جون کو امریکا اور میکسیکو کے بارڈر پر امریکا میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران دریائے ریو گرینڈے میں پانی کی لہروں میں چل بسنے والے ایل سلواڈور کے مہاجر باپ اور بیٹی کی موت کی تصاویر نے دنیا کو جھنجوڑ دیا تھا۔ پانی کی لہروں میں ڈوب کر ہلاک ہونے والے ایل سلواڈور کے 25 سالہ آسکر البرٹو اور ان کی 2 سالہ بیٹی کی پانی میں تیرتی لاش کی تصاویر سامنے آنے کے بعد دنیا بھر میں غم کی لہر چھا گئی تھی اور لوگوں نے ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کرنا شروع کر دی تھی۔ امریکا اور میکسیکو کے بارڈر بند ہونے کی وجہ سے وسطی اور شمالی امریکی ممالک کے سیکڑوں مہاجرین مشکلات کا شکار ہیں اور کئی لوگ غیر قانونی طور پر امریکا میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران یا تو گرفتار ہو جاتے ہیں یا پھر وہ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

ان ہی مشکلات کی وجہ سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ ایل سلواڈور کے مہاجر والد اور ان کی بیٹی کی موت کی تصاویر وائرل ہونے کے بعد کینیڈا کے ایک کارٹونسٹ نے باپ اور بیٹی کے موت کی تصویر کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک ڈرائنگ تیار کی تھی۔ کینیڈین کارٹونسٹ مائیکل ڈی آدر نے ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ ڈرائنگ 26 جون کو ہی بنائی تھی جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگئی تھی۔ مائیکل ڈی آدر نے اپنی ڈرائنگ میں ڈونلڈ ٹرمپ کو مہاجر باپ اور بیٹی کی موت کی تصویر پر گولف کھیلنے کے لیے تیار دکھایا تھا۔ ڈرائنگ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھ میں گولف کلب دکھائی گئی تھی اور انہیں گولف گاڑی کے ساتھ مہاجر باپ اور بیٹی کی لاش کے قریب پہنچ کر پریشان دکھایا گیا تھا۔

بشکریہ روزنامہ ڈان

غیر فوجی علاقے میں ٹرمپ اور شمالی کوریائی لیڈر کی ایک اور تاریخی ملاقات

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی کوریا اور شمالی کوریا کو تقسیم کرنے والے غیر فوجی علاقے میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان سے ملاقات کی ہے، اس دوران صدر ٹرمپ شمالی کوریا میں داخل ہو گئے۔ صدر ٹرمپ پہلے امریکی صدر ہیں جنھوں نے شمالی کوریا کی سرزمین پر قدم رکھا ہے۔ کم جونگ ان سے ملاقات کے بعد ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ‘یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ میں غیر فوجی علاقے کے اس پار شمالی کوریا میں موجود ہوں۔’ صدر ٹرمپ نے کم جونگ ان سے اپنی دوستی کی تجدید کرتے ہوئے کہا کہ ‘یہ ایک تاریخی موقع ہے کہ میں کم کے ساتھ واک کرتا ہوا شمالی کوریا میں داخل ہوا ہوں

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے صدر ٹرمپ کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اسے ٹرمپ کا دلیرانہ اقدام قرار دیا، انھوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر ایک نئے سفر کا آغاز کیا جائے۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے دوران شمالی کوریا کے رہنما بھی کچھ دیر کے لیے جنوبی کوریا کی حدود میں موجود رہے، اس دوران صدر ٹرمپ نے کم جونگ ان کو دورہ امریکہ کی دعوت بھی دی۔ شمالی اور جنوبی کوریا کے غیر فوجی علاقے میں دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ یہ ملاقات قابل قبول جوہری معاہدے کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔

خیال رہے کہ صدر ٹرمپ جی 20 ممالک کے سربراہ اجلاس کے لیے جاپان میں موجود تھے، انھوں نے شمالی کوریا کے رہنما کو جنوبی کوریا کے بارڈر پر ملاقات کی دعوت دی تھی۔ صدر ٹرمپ نے ایک ٹویٹ کے ذریعے شمالی کوریا کے رہنما سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تھی۔ صدر ٹرمپ ہفتے کو دو روزہ دورے پر جنوبی کوریا پہنچے تھے، اس دورے کا مقصد شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کو روکنا ہے۔ امریکہ کا یہ مطالبہ رہا ہے کہ پابندیوں سے بچنے کے لیے شمالی کوریا اپنے ایٹمی ہتھیار تلف کرے۔

دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ دو سال کے دوران اس ضمن میں مذاکرات کے دو دور ہو چکے ہیں، رواں سال فروری میں ویتنام جبکہ گزشتہ سال سنگا پور میں ہونے والے مذاکرات نتیجہ خیز نہیں ہو سکے تھے۔ حال ہی میں شمالی کوریا کی جانب سے مزید میزائل تجربات کیے گئے تھے جس کے بعد کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔ صدر ٹرمپ متعدد بار شمالی کوریا کو جوہری پروگرام آگے نہ بڑھانے کی تنبیہ کر چکے ہیں تاہم حالیہ عرصے میں ان کے لہجے میں نرمی آئی ہے اور وہ کم جونگ ان کا اپنا دوست قرار دیتے آئے ہیں۔ چند روز قبل صدر ٹرمپ نے کم جونگ ان کو ایک خط بھی بھیجا تھا جس کے مندرجات کو شمالی کوریا کے رہنما نے شاندار قرار دیا تھا۔

بشکریہ وائس آف امریکہ