امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید سخت پابندیوں کے حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس حکم نامے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای پر پابندیوں کا نفاذ بھی کیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایران کی جانب سے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی پالیسیوں کا ذمہ دار خامنہ ای کو قرار دیا۔ اوول آفس میں اس حکم نامے پر دستخط کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران پر دباؤ میں اضافہ کرتا رہے گا۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر پائے گا۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے بہتر ردعمل کا مظاہرہ کیا گیا، تو اس کے خلاف پابندیاں فوری طور پر ختم بھی کی جا سکتی ہیں۔ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان سن 2015 میں جوہری معاہدہ طے پایا تھا، تاہم گزشتہ برس صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے کو ناقص قرار دیتے ہوئے اس سے اخراج کا اعلان کر دیا تھا اور ایران کے خلاف پابندیوں کا دوبارہ نفاذ کر دیا گیا تھا۔
دونوں ممالک کے درمیان اسی تناظر میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔ چند روز قبل آبنائے ہرمز کے قریب دو آئل ٹینکروں پر حملے کا الزام بھی امریکا نے ایران پر عائد کیا تھا، جسے ایرانی حکومت نے رد کر دیا تھا۔ جب کہ ایران کی جانب سے ایک امریکی ڈرون طیارے کی تباہی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تناؤ اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈرون طیارے کی تباہی کے بعد ایران میں چند مخصوص اہداف پر حملے کے احکامات دیے تھے، لیکن بعد میں یہ احکامات واپس لے لیے۔ صدر ٹرمپ یہ احکامات واپس لینے کی وجہ یہ بتائی تھی کہ ان حملوں کی وجہ سے چند ہی منٹوں میں قریب ڈیڑھ سو افراد ہلاک ہو سکتے تھے، جو ایک ڈرون طیارے کی تباہی کے ردعمل میں طاقت کا غیر ضروری استعمال ہوتا۔
فلسطین کے وزیرِ خزانہ نے امریکہ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں امن کے منصوبے کے اقتصادی حصے کو غیر حقیقی اور ایک خواب و خیال قرار دیا ہے۔ وزیرِ خزانہ شُکری بشارا نے کہا ہے کہ فلسطینی خطے میں امن چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنے ملک کی تعمیر کر سکیں۔ انھوں نے کہا کہ فلسطینیوں کو بحرین میں ہونے والی کانفرنس میں اربوں ڈالرز کے منصوبوں پر بات چیت کی ضرورت نہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت بحرین میں ہونے والی کانفرنس میں فلسطین اور اس کے عرب ہمسایہ ممالک کے لیے 50 ارب ڈالرز کی مالیت کے ایک اقتصادی ترقی کے منصوبے کا اعلان کرنے جا رہے ہے۔ اس تجویز کا عرب ممالک میں خیر مقدم نہیں کیا گیا ہے البتہ خلیجی بادشاہتوں اور امارتوں میں اس کا خاموش قسم کا خیر مقدم ہوتا نظر آرہا ہے۔ سعودی عرب جیسے ممالک اس کانفرنس میں شرکت کریں گے لیکن فلسطینی اتھارٹی نے اس کانفرانس کے بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
بحرین کے دارالحکومت مناما میں ایک کانفرنس میں اس امریکی تجویز پر غور کیا جائے گا جسے صدر ٹرمپ کے داماد جاریڈ کُشنر اسرائیل اور فلسطینے تنازعے کے حل کے لیے پیش کریں گے۔ 50 ارب ڈالرز کے ایک عالمی فنڈ کے ذریعے عرب ممالک اور فلسطینیوں کے علاقوں کی اقتصادی حالت بہتر کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اسے ‘امن سے خوشحالی’ کا نام دیا گیا ہے۔ اگرچہ اس میں کئی عرب ممالک شرکت کریں گے لیکن فلسطینی حلقے اسے اصل تنازع کو نظر انداز کرنے کو کوشش قرار دیتے ہیں۔ فلسطینی سنہ 1967 سے پہلے کے آزاد فلسطینی علاقے پر اپنی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں۔ فلسطینی وزیرِ خزانہ نے کہا ہے کہ ہم امن چاتے ہیں تاکہ ہم ترقی کر سکیں۔ ‘پہلے ترقی اور پھر امن ایک غیر حقیق خواب و خیال ہے۔
‘سب سے پہلے ہمیں ہماری زمین اور آزادی واپس کی جائے۔’ جیراڈ کشنر نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو کہا ہے کہ جس منصوبے کو ‘ڈیل آف دی سینچری’ (اس صدی کا سب سے بڑا معاہدہ) اُسے دراصل ‘آپورچیونیٹی اف دی سینچری’ (صدی کا سب سے بڑا موقع) کہا جا سکتا ہے۔ فلسطینی وزیرِ خزانہ بشارا نے کہا کہ فلسطینیوں کو ‘اوسلو اکارڈ’ کے بعد سے امریکہ کے ساتھ کام کا تلخ تجربہ ہوا ہے۔ امریکہ نے اقوام متحدہ کے ذریعے فلسطینیوں کو ملنے والی مالی امداد بھی بند کر دی ہے۔ انھوں نے کہ کہ ہم اس ڈیل آف دی سینچری کے بارے میں محتاط ہیں اور شک و شبہات رکھتے ہیں۔