پاکستان کے پاس انڈیا سے زیادہ جوہری بم ہیں

انڈیا اور پاکستان میں گزشتہ دس برس میں جوہری بموں کی تعداد دُگنی ہو گئی ہے اور گذشتہ چند برسوں میں پاکستان نے انڈیا سے زیادہ جوہری بم بنائے ہیں۔ یہ بات دنیا میں ہتھیاروں کی صورتحال اور عالمی سلامتی کا تجزیہ کرنے والے سویڈین کے موقر ادارے سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سیپری) نے اپنی تازہ سالانہ رپورٹ میں کہی ہے۔ سیپری کے جوہری عدم توسیع، آرمز کنٹرول اور ڈس آرمامنٹ پروگرام کے سربراہ شینن کائل نے سٹاک ہوم سے فون پر بی بی سی کے نامہ نگار کو بتایا کہ دنیا میں جوہری ہتھیاروں کی مجموعی تعدار میں کمی آئی ہے لیکن جنوبی ایشیا میں اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا ’سنہ 2009 میں ہم نے بتایا تھا کہ انڈیا کے پاس 60 سے 70 کی تعداد میں جوہری بم ہیں۔ 

پاکستان کے پاس اس وقت تقریباً 60 بم تھے لیکن سنہ 2019 میں ان دس برس کے دوران دونوں ملکوں نے اپنے جوہری بموں کی تعداد دگنی کر لی ہے۔‘ شینن کائل نے بتایا کہ پاکستان کے پاس اب انڈیا سے زیادہ جوہری بم ہیں ’مختلف ذرائع سے جمع کی گئی معلومات کی بنیاد پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ انڈیا میں اس وقت 130 سے 140 جوہری بم ہیں جبکہ پاکستان میں جوہری بموں کی تعداد 150 سے 160 تک پہنچ گئی ہے۔‘ شینن کائل کا کہنا ہے کہ انڈیا اور پاکستان میں کشیدگی اس وقت اپنے عروج پر ہے اور جوہری بموں کی تیاری بھی خطے کی صورتحال کی عکاس ہے۔ لیکن دونوں ملکوں کے درمیان جوہری ہتھیاروں کی اس طرح کی دوڑ نہیں ہے جو سرد جنگ کے دوران امریکہ اور روس کے درمیان تھی۔ 

انھوں نے کہا ’میں اسے سٹریٹیجک آرمز کمپٹیشن یا سلو موشن نیوکلیئر آرمز ریس سے تعبیر کروں گا۔ میرے خیال میں مستقبل قریب میں اس صورتحال میں کسی تبدیلی کے آثار نہیں ہیں۔‘ شینن نے یہ بھی بتایا کہ انڈیا اور پاکستان میں جوہری ہتھیاروں کا پروگرام اولین بجٹ ترجیحات میں شامل ہے۔ لیکن حکومتیں ان پروگراموں پر کتنا خرچ کر رہی ہیں اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ ’یہ ایک بڑا حکومتی پروگرام ہے اور بدقسمتی سے اس کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں جن سے یہ معلوم ہو سکے کہ وہ ان پروگراموں پر کتنا پیسہ صرف کرتی ہیں۔‘ انھوں نے جوہری ہتھیاروں کی سلامتی اور محفوظ سٹوریج سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ دونوں حکومتیں ان کے مکمل تحفظ کا دعویٰ کرتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ جوہری بم انتہائی محفوظ طریقے سے سٹور کیے گئے ہیں ۔  سیپری کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں مجموعی طور پر جوہری بموں کی تعداد میں کمی آئی ہے لیکن جوہری ہتھیاروں کے نظام کی جدید کاری کا عمل جاری ہے۔ امریکہ، روس اور انگنینڈ کے جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں گزشتہ برس کے مقابلے کمی آئی ہے۔ امریکہ کے پاس اس وقت 6185 جوہری بم ہیں جبکہ روس کے پاس 6500 ہیں۔ انگلینڈ کے جوہری بموں کی تعداد 200 اور فرانس میں 300 بم ہیں۔ چین کے پاس 290 جبکہ اسرائیل نے 80 سے 90 بم بنا رکھے ہیں۔ شمالی کوریا کے بارے میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ اس نے 20 سے 30 جوہری بم بنا لیے ہیں۔

بشکریہ بی بی سی اردو

ڈونلڈ ٹرمپ کیا چاہتے ہیں؟ جنگ یا امن

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطی کے حوالے سے کیا حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں؟ ڈوئچے ویلے کے تبصرہ نگار پیٹر فلپ کے خیال میں ٹرمپ اس جارحیت کے ساتھ امن کے اپنے ہی منصوبوں کو برباد کر رہے ہیں۔ تبصرہ ملاحظہ فرمائیں۔

ڈوئچے ویلے کے تبصرہ نگار پیٹر فلپ کے مطابق امریکی ڈرون طیارے کی تباہی کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بہت ہی یقین کے ساتھ ٹویٹ کی’ ایران نے ایک بہت بڑی غلطی کی ہے۔‘ اس سے زیادہ انہیں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں تھی۔ پیٹر فلپ لکھتے ہیں کہ ایسا لگتا ہے کہ کوئی بھی امریکا اور ایران کے مابین جنگ کے خطرے پر بات کرنے کو تیار نہیں۔ فریقین بدستور اس پر بحث و تکرار میں مصروف ہیں کہ ڈرون طیارہ ایرانی فضائی حدود میں تھا یا نہیں۔ ٹرمپ کے رد عمل نے صورتحال کو واضح کرنے کے بجائے مزید مبہم بنا دیا ہے۔ ڈرون کی تباہی کے چند گھنٹوں کے بعد ہی صدر نے ایران کے خلاف حملے کی تیاری کے احکامات دے دیے۔ کہا گیا کہ امریکی طیارے عام شہریوں کی ہلاکتوں کو کم از کم رکھنے کے لیے ایرانی ریڈار اور میزائل تنصیابات کو نشانہ بنائیں گے۔

دھمکی اور ساتھ ہی مذاکرات کی پیشکش
ڈی ڈبلیو کے تبصرہ نگار مزید لکھتے ہیں کہ اس واقعے کے فوری بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے عمان سے ثالثی کی درخواست کی۔ اس سلطنت کی جانب سے امریکی انتباہ کچھ اس طرح سے پہنچایا کہ حملہ کی تیاری ہے لیکن صدر ٹرمپ جنگ نہیں چاہتے بلکہ وہ ایرانی قیادت سے مذاکرات کرنے کے خواہش مند ہیں اور تہران حکومت کی رضامندی ایک فضائی حملے کو ٹال سکتی ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر واشنگٹن کے ساتھ بات چیت کو پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں۔ تاہم امریکی پیغام ان تک پہنچا دیا جائے گا۔ پیٹر فلپ کے بقول ٹرمپ نے خود کو ایک مشکل میں پھنسا دیا ہے۔ خلیج فارس اور بحیرہ ہند میں تعینات امریکی دستے کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیار ہیں۔

تاہم امریکا کی جانب سے حملے کی دھمکی اور تیاری صدر ٹرمپ کے اس موقف کی ایک طرح سے نفی ہے کہ وہ مذاکرات چاہتے ہیں۔ ممکن ہے کہ صدر ٹرمپ خود پیدا کردہ ان حالات سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ تلاش نہ کر پائیں۔ انہوں نے یہ بھی محسوس کیا ہو گا کہ سخت گیر موقف رکھنے والے ان کے مشیر جان بولٹن اور وزیر خارجہ مائیک پومپیو جیسے لوگ بھی شاید اس سلسلے میں ان کی مدد نہ کر پائیں۔ ایسا ہو سکتا ہے کہ انہی نا معلوم فوجی مشیروں نے ان کی رہنمائی کی ہو، جنہوں نے حالیہ تنازعے میں انہیں خبردار بھی کیا ہو گا۔ عین ممکن ہے کہ ان مشیروں نے ٹرمپ پر واضح کیا کہ یہ انتہائی غیر دانشمندانہ فیصلہ ہو گا کہ اگر کوئی فوجی کارروائی اپنی مرضی سے شروع کی جائے اور انہیں یہ یاد دہانی کرائی ہو گی کہ ایسے کسی بھی فیصلے سے قبل سیاسی سطح پر اتفاق رائے لازمی ہے۔

پیٹر فلپ کے بقول ایران کے ساتھ جنگ ان انتحابی وعدوں کی خلاف ورزی ہو گی، جو انہوں نے مہم کے دوران کیے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ مشرق وسطی کے خطے میں تعینات اپنے فوجیوں کو گھر واپس لانا چاہتے۔ اور اب وہ انہی فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کر رہے ہیں اور ایک ایسی جنگ میں دھکیل رہے ہیں، جس کے نتائج کا کسی کو علم نہیں۔ ڈوئچے ویلے کے تبصرہ نگار پیٹر فلپ مزید لکھتے ہیں کہ اگر یہ جنگ نہیں بھی ہوتی تو پھر بھی ٹرمپ نے خطے کے لیے جو بڑے بڑے اعلانات کیے تھے، ان میں بہت کم ہی باقی بچا ہے۔ مثال کے طور پر اسرائیل اور فلسطین کے مابین قیام امن کا ”صدی کا منصوبہ‘‘۔ 

اس منصوبے کی تفصیلات ابھی تک عام نہیں کی گئی ہیں اور شاید کبھی کی بھی نہ جائیں۔ بس یہ واضح ہے کہ اس میں تمام اور جماعتیں شامل ہیں۔ ٹرمپ کی اسرائیل کی غیر مشروط حمایت اور دو ریاستی حل سے دوری کی وجہ سے فلسطینی امریکی منصوبوں سے نالاں ہیں۔ مثال کے طور پر امریکی ایماء پر عمان میں منعقد ہونے والے ایک اجلاس میں کوئی بھی فلسطینی شریک نہیں ہو گا۔ ساتھ ہی اسرائیل کی بھی باقاعدہ نمائندگی نہیں ہو گی۔ ساتھ ہی خطے کے دیگر ممالک نے بھی اگر اس اجلاس میں شرکت کی تو وہ اپنے اعلی اہلکار نہیں بھیجیں گے۔

تبصرہ: پیٹر فلپ
ترجمہ: عدنان اسحاق

بشکریہ ڈی ڈبلیو اردو