امریکا نے اسرائیل کا نیا نقشہ پیش کر دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور مشیر خاص کشنر نے اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو سے ان کے دفتر میں ملاقات کر کے امریکا کا تیار کردہ نیا اسرائیلی نقشہ پیش کیا۔ اسرائیلی اخبار ’ہیرٹز‘ کے مطابق امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اور داماد جیریڈ کشنرنے گزشتہ روز تل ابیب پہنچنے کے بعد صیہونی وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ کشنر کے ہمراہ اس ملاقات میں مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی نمائندہ خصوصی برائے امن جیسن گرین بیلٹ، ایران کے لیے امریکی ایلچی برائن ہک اور اسرائیل میں امریکی سفیر رون دیرمر بھی موجود تھے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ نے اس ضمن میں انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر کے داماد کشنر نے گزشتہ روز نیتن یاہو سے ملاقات کے دوران امریکا کا تیار کردہ اسرائیلی نقشہ صیہونی وزیراعظم کو پیش کر دیا ہے۔ ویب سائٹ کے مطابق 1967 کے بعد پہلی مرتبہ جو نقشہ پیش کیا گیا ہے اس میں مقبوضہ گولان کو اسرائیل کا حصہ بتایا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جون میں مناما میں امریکا اور بحرین امن اقتصادی کانفرنس میں امریکی صدر کی ہدایت پر تیار کردہ ’مشرق وسطیٰ امن منصوبہ‘ ڈیل آف دی سنچری‘ کو پیش کیا جائے گا۔
چین کی معروف ٹیلی کام کمپنی ‘ہواوے’ نے اپنے ملازمین کو امریکی اداروں سے ‘تکنیکی روابط’ کو منسوخ کرنے کا حکم دیتے ہوئے اپنے چینی ہیڈ کوارٹر سے متعدد امریکی ملازمین کو برطرف کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ ہواوے کی جانب سے یہ اقدام ایسے موقع پر سامنے آیا جب امریکا اور چین کے درمیان تجارتی و ٹیکنالوجی کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کا اصل ہدف ہواوے ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘اے پی’ کی رپورٹ میں ‘فنانشل ٹائمز’ اخبار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہواوے کے چیف اسٹریٹجی آرکٹیکٹ ڈانگ وینشوان کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ تجارت کی فہرست، جس کے تحت امریکی اداروں کو سرکاری اجازت نامے کے بغیر ہواوے کو ٹیکنالوجی کے فروخت کی اجازت نہیں ہوتی، کے بعد ہواوے کے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ شعبے سے امریکی شہریوں کو 2 ہفتے قبل برطرف کر دیا گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہواوے اپنے ملازمین اور امریکی شہریوں کے درمیان بات چیت کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اخبار کے مطابق ہواوے میں امریکی ملازمین سے اپنے لیپ ٹاپ واپس کرنے اور کمپنی کی حدود چھوڑنے کا کہا گیا ہے۔ تاہم ہواوے نے اخبار کی رپورٹ پر رائے دینے سے معذرت کر لی ہے۔ چینی وزارت تجارت نے اعلان کیا ہے کہ غیر ملکی کمپنیوں، اداروں اور اشخاص کے حوالے سے ہم بھی اپنی فہرست تیار کریں گے اور اس میں انہیں ڈالیں گے جو ان کے لیے ‘ناقابل بھروسہ’ ہیں۔ ان کا یہ اعلان ممکنہ طور پر امریکی بلیک لسٹ کا رد عمل ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران وزارت کے ترجمان گاؤ گینف کا کہنا تھا کہ ‘ادارے اس وقت ناقابل بھروسہ ہوتے ہیں جب وہ مارکیٹ کے قواعد کی پاسداری نہ کریں، معاہدوں سے پیچھے ہٹیں اور چینی اداروں کی سپلائی کو روکیں’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ایسے اداروں کے خلاف اقدامات کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ‘اس فہرست کا مقصد طرفداری، تجارتی تحفظ اور چینی مفاد کا تحفظ ہے’۔
ہواوے پر پابندی، کب کیا ہوا؟
واضح رہے کہ کینیڈا نے گزشتہ سال امریکا کی درخواست پر ‘ہواوے’ کی ایگزیکٹو کو گرفتار کیا تھا۔ خیال رہے کہ امریکا کے سیکریٹری خزانہ اسٹیون مینیچ نے تجارتی تنازعات کے حل کے لیے جلد از جلد چین کا دورہ کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’قومی سلامتی کو درپیش ناقابل قبول خطرات‘ اور ’امریکی عوام کے تحفظ‘ کو بنیاد بنا کر صدارتی حکم کے ذریعے ملک بھر میں ہواوے کی مصنوعات کی خرید و فروخت پر پابندی لگا دی تھی۔ وائٹ ہاؤس نے الزام لگایا تھا کہ چین، ہواوے کی مدد سے ملک کی خفیہ معلومات چوری کر سکتا ہے۔
اس ضمن میں امریکی محکمہ تجارت نے ہواوے کو بلیک لسٹ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس طرح کمپنی فون، ٹیلی کام، ڈیٹابیس اور دیگر الیکڑونک اشیا میں استعمال ہونے والے اہم امریکی آلات سے محروم ہو جائے گی۔ ادھر چین کی حکومت نے واضح کیا تھا کہ وہ امریکا کے ساتھ تجارتی امور پر مذاکرات کا خیر مقدم کرتی ہے، تاہم چین کے مفادات سے متصادم نکات پر ہرگز سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ہواوے نے امریکی انتظامیہ کی جانب سے کمپنی کو بلیک لسٹ کیے جانے کے فیصلے کو امریکی عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے قانونی جنگ کو تیز کر دیا ہے۔ چینی کمپنی نے ایک درخواست دائر کرتے ہوئے اس کی مصنوعات پر نیشنل ڈیفنس اتھارائزیشن ایکٹ کے تحت پابندیوں کی آئینی حیثیت پر سوال اٹھایا ہے۔
امریکا کے محکمہ انصاف نے گوگل کے خلاف کاروباری معاملات میں اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے تحت تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ امریکی اخبارنے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی محکمہ انصاف نے گوگل کے خلاف سرچنگ کے ذریعے بزنس کے فروغ پر عدم اعتبار کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ گوگل کے خلاف تحقیقات کا یہ فیصلہ سرچ انجن کے ذریعے ہونے والی تجارتی سرگرمیوں میں ہیر پھیر کا الزامات سامنے آنے کے بعد کیا گیا ہے، کئی اہم پروڈکٹس سرچ کے دوران صارفین کی رسائی سے محروم رہ جاتیں جب کہ کچھ غیر معیاری پروڈکٹس سرفہرست نظر آتیں۔
پاکستان کی تحریک جاری تھی‘ قائداعظم محمد علی جناح ووٹ مانگ رہے تھے‘ یہ کراچی تشریف لائے‘ عوام سے پاکستان کی حمایت کی درخواست کی‘ شرکاء میں موجود کسی شخص نے کہا ’’ہم آپ کو ووٹ نہیں دیں گے‘‘ قائداعظم نے مسکرا کر پوچھا ’’کیوں؟‘‘ وہ شخص بولا’’ ہم سنی العقیدہ ہیں اور آپ اہل تشیع ہیں‘ ہم آپ کو ووٹ نہیں دیں گے‘‘ قائداعظم مسکرائے اور بولے ’’ہندوستان میں مسلمان محمد علی جناح اور کٹر ہندو موہن داس کرم چند گاندھی کے درمیان مقابلہ ہے‘ آپ اگر مجھے شیعہ سمجھ کر ووٹ نہیں دیں گے تو پھر آپ کا ووٹ گاندھی کے پاس چلا جائے گا‘‘ وہ رکے اور پھر فرمایا ’’آپ مجھے ووٹ نہیں دیں گے تو کیا آپ گاندھی کو دیں گے اور کیا گاندھی سنی ہے‘‘ وہ شخص خاموش ہو گیا۔
قائداعظم محمد علی جناح شروع میں ’’ہندو مسلم بھائی بھائی‘‘ کے قائل تھے‘ یہ 1906 سے 1913 تک آل انڈیا کانگریس میں بھی شامل رہے‘ قائد اعظم مہاتما گاندھی کی طرح ’’ایک ہندوستان‘‘ کے لیے لڑتے رہے‘ یہ بھی سمجھتے تھے خون عقیدے سے گاڑھا ہوتا ہے اور ہندوستان کے تمام لوگوں کو مذہب سے بالاتر ہو کر آزادی کے لیے لڑنا چاہیے‘یہ گاندھی کے سیکولرازم کے حامی بھی تھے لیکن پھر اچانک حقیقت قائداعظم کے سامنے آ گئی‘ یہ جان گئے ہندو اور مسلمان الگ الگ قومیں ہیں‘ دونوں کے درمیان صرف عقائد نہیں بلکہ تہذیب‘ فکر‘ رسم‘ رواج‘ خوراک‘ لباس اور زبان کی دیواریں بھی حائل ہیں‘ مسلمان اور ہندو تیرہ سو سال اکٹھے رہے‘ یہ ان تیرہ سو برسوں میں ایک نہیں ہو سکے‘ یہ مزید ہزار سال بھی یک جان نہیں ہو سکیں گے اور یہ جان گئے ہندوستان کے ہندو آزادی کے بعد مسلمانوں پر دائرہ حیات تنگ کر دیں گے۔
مسلمانوں کا کلچر‘ زبان‘ لباس‘ عقائد حتیٰ کہ عبادت گاہیں تک ہندوؤں کے ہاتھوں محفوظ نہیں رہیں گی‘ قائداعظم نے یہ جاننے کے بعد دو قومی نظریئے کو حقیقت مان لیا اور یہ 1913 میں کانگریس کو خیرباد کہہ کر مسلم لیگ میں شامل ہو گئے‘ یہ وقت گزرنے کے ساتھ دو قومی نظریئے کے سب سے بڑے داعی بن گئے‘ یہ کانگریس میں مولانا ابوالکلام آزاد جیسے مسلمان لیڈروں کو بھی سمجھایا کرتے تھے آپ یاد رکھیں آپ اور آپ کی نسلوں کو اس حماقت کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا لیکن وہ نہیں مانتے تھے بہرحال قصہ مختصر 14 اگست 1947ء کو ہندوستان دو قومی نظریہ پر تقسیم ہو گیا‘ مسلمان پاکستان میں اکٹھے ہو گئے اور ہندوؤں نے بھارت کو اپنا ملک بنا لیا‘ تقسیم کے وقت انڈیا میں 68 لاکھ سکھ اور83 لاکھ عیسائی بھی تھے۔
آزادی کے بعد آل انڈیا کانگریس ’’سیکولر انڈیا‘‘ کے منشور کے ساتھ اقتدار میں آ گئی مگر یہ سیکولرازم زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا‘بھارت نے مسلم ریاست جموں اینڈ کشمیر پر بھی قبضہ کر لیا اور حیدرآباد دکن کو بھی زبردستی بھارت کا حصہ بنا لیا اور پنجاب کے سکھوں کو بھی ذلت اور خواری کے علاوہ کچھ نہ مل سکا تاہم ہمیں یہ ماننا ہو گا کانگریس بی جے پی سے نسبتاً بہتر تھی‘ اس نے 1967 میں مسلمان ڈاکٹر ذاکرحسین کو صدر بنا دیا‘ ڈاکٹر عبدالکلام بھی 2002 میں صدر بنے اور کانگریس نے من موہن سنگھ کو بھی دو بار وزیراعظم بنا کر سکھوں کے دل بھی جیت لیے‘ کانگریس نے اے کے انتونی ‘آسکر فرنینڈس اور اگاتھا سنگما جیسے عیسائیوں کو بھی وزیر بنایا اور اس کی کابینہ میں پارسی اور بودھ بھی شامل رہے‘ یہ لوگ خواتین کو بھی نمائندگی دیتے رہے لیکن پھر کانگریس بھارت کی سیاست سے نکل گئی اور شدت پسند جماعت بی جے پی سامنے آتی چلی گئی۔
نریندر مودی کا تعلق ہندوانتہا پسند جماعت آر ایس ایس سے تھا‘ یہ انتہائی شدت پسند تھے‘ ہندوستان کو صرف اور صرف ہندوؤں کی سرزمین سمجھتے تھے اور دھرتی ماتا سے عیسائیوں‘ مسلمانوں اور سکھوں کو صاف کرنا چاہتے تھے‘ یہ 1971 میں مکتی باہنی کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف لڑتے بھی رہے‘مودی نے7 جون 2015 کو ڈھاکہ یونیورسٹی میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا ’’مکتی باہنی کی حمایت میں ‘میں نے بھی بطور رضاکار شرکت کی ‘‘ یہ 7 اکتوبر 2001 کو گجرات کے چیف منسٹر بن گئے‘ فروری 2002 میں گجرات میں مسلم کش فسادات ہوئے اور ڈیڑھ ہزارمسلمان شہید ہو گئے‘ مسلمانوں کی جائیدادیں‘ دکانیں‘ دفاتر اور گاڑیاں تک جلا دی گئیں‘ سیکڑوں عورتوں کی آبرو ریزی ہوئی ‘ درجنوں بچے سڑکوں پر کچل دیے گئے اور ہزاروں مسلمان نقل مکانی پر مجبور کر دیے گئے‘ بھارت کے اپنے اداروں اور میڈیا نے نریندر مودی کو ان فسادات کا ذمہ دار قرار دیا لیکن اس ظلم اور فلاسفی کے باوجود نریندر مودی 26 مئی 2014 کو وزیراعظم بن گئے۔
مودی سرکار نے اپنے دور حکومت میں بابری مسجد کو مندر بنانے کا کام بھی شروع کر دیا‘ پنجاب میں بھی گڑ بڑ کا آغاز ہو گیا‘ سکھوں کو بھی بلاوجہ تنگ کرنا شروع کر دیا گیا‘ عیسائیوں پر عرصہ حیات تنگ ہو گیا‘ بھارت عیسائیوں کے خلاف پر تشدد کارروائیوں میں 10 بدترین ممالک میں بھی شامل ہو گیا‘ 2018 میں مسیحی برادری کے خلاف تشدد آمیز کارروائیوں کے 12000 واقعات رونما ہوئے‘ درجنوں چرچ بھی جلا دیے گئے اورسیکڑوں عیسائی قتل بھی کر دیے گئے‘ گائے کا گوشت فروخت کرنے کے ’’جرم‘‘ میں گزشتہ پانچ سالوں میں 104 مسلمان مار دیے گئے‘ مسلمانوں کے قتل کی ویڈیوز بھی جان بوجھ کر وائرل کی گئیں‘ پاکستان پر بھی الزامات کی بوچھاڑ ہو گئی‘ پٹھان کوٹ کا واقعہ ہو یا پھر پلواما کا ایشو ہو‘ نریندر مودی نے آنکھیں بند کر کے پاکستان پر الزام لگا دیے ‘ مقبوضہ کشمیر میں بھی خوفناک کارروائیاں شروع ہو گئیں‘ مودی نے کشمیر کا اسٹیٹس تبدیل کرنے کے لیے آئین کے آرٹیکل 370 میں تبدیلی کا اعلان بھی کر دیا۔
کشمیر میں کریک ڈاؤنز کا سلسلہ بھی بڑھا دیا گیا اور پانچ برسوں میں اڑھائی ہزار کشمیری شہری شہید‘ 25 ہزار زخمی اور 15 ہزار جیلوں میں پھینک دیے گئے ‘ چھ ہزار بچے پیلٹ گنز کی وجہ سے بینائی بھی کھو بیٹھے یوں آپ اگر نریندر مودی کے پانچ سال کا جائزہ لیں تو آپ کو یہ پانچ برس بھارت کی اقلیتوں کے لیے سیاہ رات محسوس ہوں گے‘ بھارت 72 برسوں میں پہلی مرتبہ کٹر ہندو ریاست بن کر سامنے آگیا‘ اپریل 2019 میں نریندر مودی کی مدت ختم ہو گئی اور نئے الیکشن شروع ہو گئے‘ تجزیہ نگاروں کا خیال تھا نریندر مودی اپنے شدت پسند خیالات کی وجہ سے دوسری مرتبہ نہیں جیت سکیں گے۔ بھارت کا سیکولر مائینڈ ان کو ووٹ نہیں دے گا لیکن جب الیکشن کے نتائج نکلے تو مودی نے 2014 کے مقابلے میں 21 نشستیں زیادہ حاصل کر لیں.
دنیا یہ دیکھ کر بھی حیران رہ گئی عوام ہر الیکشن میں بی جے پی کو پہلے سے زیادہ ووٹ اور سیٹیں دے رہے ہیں‘بی جے پی نے2009 میں116سیٹیں لیں‘ یہ سیٹیں 2014ء میں بڑھ کر 282 اور 2019 میں 303 ہو گئیں‘ بھارت کی 12 ریاستوں میں اس وقت بھی بی جے پی کی حکومتیں ہیں‘ یہ ٹرینڈ کیا ثابت کرتا ہے‘ یہ ثابت کرتا ہے بھارت میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہندو ازم میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ بھارتی عوام سیکولر ازم سے دور ہو کر کٹر اور شدت پسند ہندو بنتے جا رہے ہیں ‘ یہ اب ’’دھرتی ماتا‘‘ پر کسی غیر مذہب کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور یہ ٹرینڈ انتہائی خطرناک ہے‘ بھارت میں اس وقت بھی 20 کروڑ مسلمان‘ اڑھائی کروڑ سکھ‘ تین کروڑ عیسائی اور 93 لاکھ بودھ ہیں‘ بھارت اگر صرف اور صرف ہندوؤں کا ملک ہے تو پھر یہ 26 کروڑ لوگ کہاں جائیں گے‘ کیا یہ قتل ہوتے اور مرتے چلے جائیں گے‘ کیا ان کے گلوں میں مسلسل جلتے ہوئے ٹائر ڈالے جائیں گے یا پھر انھیں مستقل دہشت گرد ڈکلیئر کر دیا جائے گا؟
بھارت کے عوام نے 2019 میں نریندر مودی کو دوسری بار وزیراعظم منتخب کر کے ثابت کر دیا بھارت سیکولر تھا اور نہ ہو گا‘ یہ کٹر ہندوؤں کا ملک ہے‘ ایسے کٹر ہندوؤں کا ملک جو اپنے علاوہ ہر شخص کو ملیچھ اور دھرتی کا بوجھ سمجھتے ہیں اور جن کا خیال ہے ہندوستان میں ہو تو ہندو بن کر رہو یا پھر ہندوستان چھوڑ دو۔ میرے سمیت ملک کے زیادہ تر نیم خواندہ لوگ یہ سمجھتے تھے ہم نے شاید 1947 میں بھارت سے الگ ہو کر غلطی کی‘ ہم بھارت کی ترقی سے بھی جیلس ہوتے تھے اور ہم کبھی کبھی قائداعظم محمد علی جناح کے وژن کو بھی شک کی نظروں سے دیکھنے لگتے تھے لیکن آج 2019 میں قائداعظم کا وژن سچ ثابت ہو گیا‘ آج قائداعظم کا دو قومی نظریہ جیت گیا اور موہن داس کرم چند گاندھی اور جواہر لال نہرو کا سیکولر ازم ہار گیا‘ آج ثابت ہو گیا قائداعظم سچے تھے‘ وہ کہا کرتے تھے ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں۔
یہ مزید ہزار سال اکٹھے رہ کر بھی اکٹھے نہیں ہوں گے‘ گائے کو ماں کہنے اور گائے کا گوشت کھانے والے کبھی ایک میز پر نہیں بیٹھ سکیں گے‘ نریندر مودی کی جیت نے ثابت کر دیا قائد اعظم نے پاکستان ٹھیک بنایا تھا اور ہم آج اگر بھارت کے شہری ہوتے تو ہم بھی کیڑے مکوڑوں جیسی زندگی گزار رہے ہوتے اور ہمیں بھی گائے کا پیشاب پینے اور سور کا گوشت کھانے پر مجبور کیا جاتا رہتا‘ ہمیں ہماری مسجدوں میں گھس کر قتل بھی کیا جاتا اور ہم سسک سسک کر بھی مر رہے ہوتے۔ میں آج دل سے سمجھتا ہوں 2019 میں نریندر مودی نہیں جیتے قائداعظم جیتے ہیں‘ آج دو قومی نظریئے کی فتح ہوئی ہے چنانچہ میرا بھارت کی اقلیتوں کو مشورہ ہے آپ آج سے اپنے اپنے گھروں میں قائداعظم محمد علی جناح کی تصویر لگا لیں‘ آپ آج سے دو قومی نظریئے کی تسبیح شروع کر دیں‘ کیوں؟ کیونکہ بھارت کے لوگوں نے ثابت کر دیا ہندوستان صرف اور صرف ہندوؤں کا ملک ہے‘ اس میں کسی دوسرے کی کوئی گنجائش نہیں۔