نیوز ایجنسی روئٹرز کے ایک تازہ جائزے کے مطابق نصف سے زائد امریکی شہریوں کے خیال میں امریکا کی ’آئندہ چند برسوں میں‘ ایران کے ساتھ جنگ ہو گی۔ چالیس فیصد سے بھی کم افراد نے کہا کہ صدر ٹرمپ یہ تنازعہ حل کرنے کے اہل ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے حالیہ چند ماہ کے دوران ایران کے خلاف اپنی ’آخری حدوں تک دباؤ‘ بڑھا دیا ہے، جس کی وجہ سے ایسے خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ دونوں ممالک جنگ کے راستے پر گامزن ہیں۔ روئٹرز کے مطابق سروے میں شامل 64 فیصد افراد نے سن دو ہزار پندرہ کے اس عالمی جوہری معاہدے کی حمایت کی، جس کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے روکنا ہے۔ ایسی رائے دینے والے زیادہ تر افراد کا تعلق ریپبلکنز سے تھا۔ امریکا گزشتہ برس اس عالمی معاہدے سے دستبردار ہو گیا تھا۔
ایران اور امریکا کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے سروے میں شامل 51 فیصد امریکی شہریوں کا کہنا تھا کہ آئندہ چند برسوں کے دوران ان دونوں ممالک کے درمیان جنگ ہو سکتی ہے۔ گزشتہ برس جون میں کروائے گئے ایک سروے کے مقابلے میں اس مرتبہ ایسی رائے رکھنے والوں کی تعداد میں آٹھ فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ تقریبا 49 فیصد امریکیوں نے صدر ٹرمپ کے ایران کے ساتھ رویے کو غلط قرار دیا جبکہ ان میں سے 31 فیصد نے کہا کہ وہ امریکا کی ایران کے حوالے سے پالیسی کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔ سروے میں شامل 39 فیصد امریکیوں نے صدر ٹرمپ کی ایران پالیسی کی حمایت کی۔
دوسری جانب 54 فیصد امریکی ایران کو ’’سنگین‘‘ یا ’’انتہائی‘‘ خطرہ بھی قرار دیتے ہیں۔ سروے میں شامل 79 فیصد کا کہنا تھا کہ اگر ایران امریکی افواج کو پہلے نشانہ بناتا ہے تو اس کا جواب دیا جانا چاہیے۔ 40 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ ایسی صورت میں ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جائے جبکہ 39 فیصد کا خیال تھا کہ ایسے حالات میں ایران کے خلاف مکمل جنگ کا آغاز کر دینا چاہیے۔
روئٹرز کی طرف سے یہ سروے سترہ سے بیس مئی کے دوران کروایا گیا تھا اور اس میں ایک ہزار سات بالغ امریکی شہریوں نے حصہ لیا۔ ان میں سے 350 ڈیموکریٹ رجسٹرڈ ووٹر تھے جبکہ 289 کا تعلق ری پبلکنز سے تھا۔ ان میں سے 181 آزاد رجسٹرڈ ووٹر تھے۔
بھارت میں انتخابات کے بعد وجود میں آنے والی نئی پارلیمنٹ کے 40 فیصد سے زائد ارکان کو قتل اور ریپ سمیت مختلف جرائم پر مقدموں کا سامنا ہے۔ انتخابی اصلاحات کے گروپ ’ایسوسی ایشن آف ڈیموکریٹک ریفارمز (اے ڈی آر)‘ کے مطابق، اپوزیشن کی مرکزی جماعت کانگریس کے ایک رکن پارلیمنٹ کو قتل عام اور ڈکیتی سمیت 204 مقدموں کا سامنا ہے۔ اے ڈی آر کا کہنا ہے کہ جیتنے والے 543 نو منتخب ارکان اسمبلی میں سے کم از کم 233 پر مقدمے چل رہے ہیں۔ اے ڈی آر کے الیکشن چیف انیل ورما نے اس ’پریشان کن رجحان‘ کو جمہوریت کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔ گروپ نے 539 کامیاب ارکان اسمبلی کے ریکارڈ چیک کرنے کے بعد کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کے 303 نو منتخب ارکان میں سے 116 کے خلاف مقدمے چل رہے ہیں۔
اسی طرح، کانگریس کے 52 میں سے 29 کو مقدمات کا سامنا ہے۔ اے ڈی آر کے مطابق گذشتہ ایک دہائی کے دوران اراکین پارلیمنٹ کے خلاف سنگین نوعیت کے مقدمات میں دگنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جن میں 11 قتل، تین ریپ اور 30 قتل عام کے مقدمات شامل ہیں۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق، بھارت میں ایسے افراد کے انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی ہے جن پر بطور رکن اسمبلی فرد جرم عائد ہو چکی ہو یا وہ کسی جرم میں دو یا دو سال سے زیادہ سزا کاٹ چکے ہوں۔ گوپہلی بار انتخابات میں حصہ لینے والوں کو فرد جرم عائد ہونے کے باوجود الیکشن میں حصہ لینے کی آزادی ہے۔ گذشتہ پارلیمنٹ میں مقدمات کا سامنا کرنے والے 185 میں سے ایک بھی ممبر پر فرد جرم نہیں عائد کی گئی تھی۔ ان میں سے کئی دوبارہ منتخب ہو چکے ہیں۔
بھارتی تاریخ کے سب سے بڑے انتخابات سے متعلق حقائق اور اعدادوشمار بی جے پی سے تعلق رکھنے والی نو منتخب رکن اوراشتعال انگیز تقریروں کے حوالے سے مشہور سادھوی پراگیا ٹھاکر، جو 2008 میں ایک مسجد پر حملے میں دہشت گردی کے مقدمے کا سامنا کر رہی ہیں، ان الزامات کی تردید کرتی ہیں۔
سادھوی کا دعویٰ ہے کہ ان پر الزامات سابقہ کانگریس حکومت میں پھنسانے کے لیے لگائے گئے اور یہ سیاسی بنیادوں پر قائم کیا جانے والا مقدمہ تھا۔ اس سال بھارت کے الیکشن کمیشن نے امید واروں کے لیے یہ لازم قرار دیا تھا کہ وہ اپنی الیکشن مہم کے دوران اپنا کریمنل ریکارڈ بھی شائع کریں۔ اے ڈی آر کی جانب سے بھارتی جمہوریت میں احتساب کے عمل کو بہتر بنانے کے لیے مہم چلائی گئی جس کے بعد ان کی پٹیشن پر سپریم کورٹ نے امیدواروں کے تعلیمی، مالی اور کریمنل ریکارڈز ظاہر کرنے کا حکم دیا تھا۔ ورما کہتے ہیں: سیاسی طبقہ چاہتا ہے کہ اصلاحات نا ہوں لیکن ہم اس صورتحال کا مقابلہ قانونی طور پر کرتے ہوئے یقینی بنائیں گے کہ عدالت امیدواروں کے مجرمانہ ریکارڈ ظاہر کرنے کو ضروری قرار دے۔