اوبر 3 ارب 10 کروڑ ڈالر میں کریم کو خریدنے کیلئے تیار

دنیا بھر کے مختلف براعظموں میں کام کرنے والی آن لائن سفری سہولیات فراہم کرنے والی کمپنی اوبر اپنے مشرق وسطیٰ کے حریف کریم کو 3 ارب 10 کروڑ ڈالر میں خریدنے کے لیے تیار ہے ۔ خبررساں ادارے بلوم برگ اور دیگر 2 نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے رپورٹ کیا کہ اس بات کا امکان ہے کہ معاہدے کا اعلان کردیا جائے۔ بلوم برگ نے اس معاملے کی معلومات کرنے والے افراد کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اوبر ایک ارب 40 کروڑ ڈالر نقد ادا کرے گی جبکہ باقی ایک ارب 70 کروڑ ڈالر اوبر شیئرز کی صورت میں کریم کو ادا کرے گا۔ یہ پیش رفت ایک ایسے موقع پر ہوئی ہے جب اوبر اپنے شیئرز کی عوام میں فروخت کی تیاری کر رہا ہے، جو آئندہ ماہ متوقع ہے جبکہ ایک محتاط اندازے کے مطابق سفری سہولیات فراہم کرنے والی کمپنی کی مالیات 100 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔

دوسری جانب اس معاملے پر کریم کی جانب سے کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا جبکہ اوبر نے فوری طور پر اس پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔ خیال رہے کہ کریم، جس کے پیچھے سعودی شہزادے الولید بن طلال کی سرمایہ کاری کمپنی اور جاپان کی بڑی ای کامرس کمپنی راکوتین ہیں، انہوں نے 2016 میں فنڈنگ مرحلے میں اس کی لاگت 1 ارب ڈالر لگائی تھی اور اسے مشرق وسطیٰ میں تیزی سے ابھرتے ہوئے ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپس میں سے ایک بنا دیا تھا۔ واضح رہے کہ دبئی سے تعلق رکھنے والی کمپنی کریم کے 90 شہروں میں 10 لاکھ سے زائد ڈرائیورز اور 3 کروڑ صارفین ہیں جبکہ اوبر ٹیکنالوجیز امریکا سے تعلق رکھنے والی ایک عالمی لاجسٹکس اور ٹرانسپورٹیشن کمپنی ہے۔ یہ کمپنی اپنی ترقی کے مزید مواقع ڈھونڈ رہی ہے کیونکہ اسے اپنے حریف لفٹ سے سخت کاروباری مقاملے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اوبر کے لیے یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ میں اپنے عزم کی طرف ایک اشارہ ہو گا، جہاں اس کے بڑے سرمایہ کاروں میں سے ایک سعودی عرب خودمختار دولت فنڈ کا تعلق وابستہ ہے۔

بشکریہ ڈان نیوز

سمجھوتہ ایکسپریس کے شعلے بجھے نہیں

میری بچی 16 سال کی تھی میں آپ کو کیا بتاؤں جب میں نے اس کی لاش دیکھی تو وہ کس حال میں تھی ؟ اس کے جسم پر کوئی کپڑا نہیں تھا۔ شوکت علی دھاڑیں مار کر رونے لگے۔ فیصل آباد کے علاقے نیو مراد کالونی کے رہائشی شوکت علی فروری 2007 میں دہلی میں ایک شادی میں شرکت کے بعد اپنی بیوی اور چھ بچوں کے ساتھ سمجھوتہ ایکسپریس پر پاکستان واپس آ رہے تھا کہ پانی پت کے علاقے دیوانہ کے قریب ریل گاڑی میں دھماکے ہوئے۔ دھماکوں کے بعد لگنے والی آگ میں رانا شوکت کے پانچ بچے درجنوں دوسرے افراد کے ساتھ زندہ جل گئے تھے۔ شوکت علی کے آنسو تھمے تو انہوں نے بات چیت دوبارہ شروع کی۔

اس روز مجھے نہ جانے کیوں خوف محسوس ہو رہا تھا۔ خاص طور پر جب سے گاڑی میں دو ایسے لوگوں کی موجودگی کا پتا چلا تھا جن کے پاس پاسپورٹ نہیں تھے۔ شوکت نے خلا میں گھورنا شروع کیا، جیسے وہ واقعات کو یاد کرنے کی کوشش کر رہے ہوں۔ بچوں کو لٹانے کے بعد میں بھی ایک برتھ پر آنکھیں موند کر لیٹ گیا۔ سردی سخت تھی۔ سب نے کمبل اور لحاف اوڑھ رکھے تھے۔ مجھے نیند نہیں آ رہی تھی۔ پھر ایک دم سے دھماکے کی آواز آئی۔’میں تھوڑا چوکس ہوا لیکن پھر وہ آواز ٹرین کے شور میں دب گئی ۔ شوکت آہستہ آہستہ تفصیلات بیان کر رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد شوکت کا دم گھٹنے لگا۔ میں نے آواز دینا چاہی تو گلے سے آواز نہ نکل سکی۔ ٹرین کی بتی بھی گل ہو چکی تھی۔

شوکت کہتے ہیں کہ انہوں نے اُٹھ کر دروازے تک پہنچنے کی کوشش کی اور دھکا دے کر دروازہ کھول دیا تاکہ وہ سانس لے سکیں لیکن دروازہ کھلتے ہی آکسیجن اندر داخل ہوئی اور آگ نے پورے ڈبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ شوکت اور ان کی بیوی رخسانہ نے اپنی ایک دودھ پیتی بچی اقصیٰ کے ساتھ سمجھوتہ ایکسپریس سے کود کر جان بچائی لیکن ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے پانچ بچے جل کر مر گئے۔ ہم چلاتے رہے ہمارے بچے بچاؤ، ہمارے بچے بچاؤ‘ لیکن جب تک مدد آئی بچے جل کر راکھ ہو چکے تھے۔ شوکت اور رخسانہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ شوکت نے بتایا کہ ان کے ہاتھ اور ماتھا جل چکا تھا اور گھٹنوں پر چلتی گاڑی سے چھلانگ لگانے کی وجہ سے شدید چوٹ آئی تھی لیکن انہیں کسی درد کا احساس نہیں تھا۔ میری آنکھوں کے سامنے آگ کے شعلوں میں لپٹی ٹرین تھی۔ اس ٹرین میں میرا ہنستا بستا گھر راکھ ہو رہا تھا۔

شوکت اور ان کی بیوی رخسانہ کو تھوڑی دیر بعد دہلی کے صفدر جنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ایک ہفتے کے علاج کے بعد انہیں پاکستان بھیجنے کی تیاری کی جانے لگی۔ لیکن انہوں نے اپنے بچوں کی لاشوں کے بغیر پاکستان آنے سے انکار کر دیا۔ رخسانہ کو اب بھی وہ لمحہ یاد ہے جب وہ اپنے بچوں کی لاشیں دیکھنے مردہ خانے گئی تھی، وہ ایک قیامت کا سماں تھا، رخسانہ کی آواز بھرا گئی۔ ہم نے بہت مشکل سے ساتھ چپکے کپڑوں اور چیزوں سے اپنے تین بیٹوں اور دو بیٹیوں کو شناخت کیا۔ سوائے ہڈیوں کے کچھ بھی نہیں بچا تھا۔ میری دنیا برباد ہو گئی تھی۔ رخسانہ کی سب سے بڑی بیٹی عائشہ 16 برس کی تھی۔ جب ہمیں زبردستی ہسپتال لے جایا جا رہا تھا تو میں نے آگ بجھانے والوں کو تاکید کی تھی کہ عائشہ پرکپڑا ڈال کر نکالیں۔ میری بچی بہت حیادار تھی ، اس نے تو کبھی سر سے دوپٹہ نہیں ہٹایا تھا۔ رخسانہ پھر دھاڑیں مار کر رونے لگی۔

رخسانہ اور شوکت علی کچھ روز بعد پانچ تابوتوں کے ساتھ پاکستان واپس آئے لیکن حادثے میں ہلاک ہونے والے 43 پاکستانیوں میں کچھ ایسے بھی تھے جنھیں اپنے ملک آنا نصیب نہ ہو سکا۔ شوکت کہتے ہیں کہ انہیں انڈیا اور پاکستان کی حکومتوں کی طرف سے مالی امداد دی گئی لیکن انہیں انڈیا کی کسی عدالت نے چشم دید گواہ کے طور پر گواہی کیلئے نہیں بلایا۔ مجھے سب کچھ یاد ہے۔ اور میں چاہتا ہوں کہ مرنے سے پہلے مجھے موقع ملے کہ میں دنیا کو بتا سکوں کہ 18 فروی 2007 کی رات کو سمجھوتہ ایکسپریس میں سفر کرنے والے درجنوں بدقسمت مسافروں کے ساتھ کیا ہوا۔

بشکریہ دنیا نیوز

یورپی یونین کی طرف سے گوگل کو ڈیڑھ ارب یورو کا نیا جرمانہ

یورپی یونین کے صحت مند کاروباری مقابلے کے نگران ادارے نے انٹرنیٹ سرچ انجن گوگل کے خلاف ایک نئے فیصلے میں اس امریکی کمپنی کو ڈیڑھ ارب یورو جرمانہ کر دیا ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ گوگل کو اتنا بڑا جرمانہ کیا گیا ہے۔ برسلز میں یورپی یونین کے صدر دفاتر سے ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق یورپی یونین کے ریگولیٹرز نے گوگل کو یہ سزا آن لائن اشتہارات کے شعبے میں اس ادارے کے غلبے کی وجہ سے سنائی۔ گوگل کو 1.49 ارب یورو جرمانہ کیا گیا ہے، جو 1.68 ارب امریکی ڈالر کے برابر بنتا ہے۔یورپی یونین کا یہ ریگولیٹری ادارہ یونین کی اینٹی ٹرسٹ اتھارٹی بھی کہلاتا ہے اور مجموعی طور پر یہ تیسرا موقع ہے کہ اس ادارے کی طرف سے گوگل کو اربوں مالیت کا جرمانہ کیا گیا ہے۔

امریکا میں سیلیکون ویلی کی اس بہت بڑی ٹیکنالوجی کمپنی کو ماضی میں بھی دو مرتبہ بہت بڑے بڑے جرمانے کیے جا چکے ہیں، جن کا سبب اس کمپنی کے کاروباری طریقہ کار سے متعلق یورپی یونین کی طرف سے کی جانے والی چھان بین کے نتائج بنے تھے۔ گوگل کے خلاف اس فیصلے کا اعلان یورپی یونین کی صحت مند کاروباری مقابلے سے متعلقہ معاملات کی نگران خاتون کمشنر مارگریٹے ویسٹاگر نے برسلز میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونین نے اس کمپنی کے اشتہارات سے متعلق بزنس اور ’ایڈسینس‘ (AdSense) نامی ادارے کے بارے میں جو تحقیقات کیں، ان کی روشنی میں ثابت ہو گیا کہ گوگل نے اس شعبے میں اپنی بہت غالب حیثیت کو ناجائز اجارہ داری کے لیے استعمال کیا۔ انہی نتائج کی روشی میں اب گوگل کو ایک بار پھر تقریباﹰ ڈیڑھ ارب یورو جرمانہ کر دیا گیا ہے۔

گوگل کو یورپی یونین کی طرف سے گزشتہ برس بھی 3.34 ارب یورو یا تقریباﹰ پانچ ارب امریکی ڈالر کے برابر جرمانہ کیا گیا تھا۔ تب اس کا سبب اس کمپنی کے اینڈروئڈ آپریٹنگ سسٹم سے متعلق کی جانے والی تفتیش بنی تھی۔ اس سے قبل سن 2017ء میں بھی یونین نے گوگل کو 2.42 ارب یورو کا جرمانہ کیا تھا۔ تب اس کی وجہ وہ تحقیقات بنی تھیں، جو اس سرچ انجن کی طرف سے آن لائن شاپنگ سے متعلق صارفین کو دکھائے جانے والے نتائج کے بارے میں کی گئی تھیں۔ ان میں بھی گوگل نے ایسے کاروباری رویوں کا مظاہرہ کیا تھا، جو غیر قانونی اجارہ داری کے عکاس تھے۔

قزاقستان کے صدر نور سلطان نذربائیف کئی دہائیوں بعد مستعفی

کئی دہائیوں سے قزاقستان کے صدر چلے آ رہے نور سلطان نذربائیف نے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ نذربائیف سن انیس سو نوے سے اس ملک کے صدر تھے۔ ان پر انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں کے الزامات بھی عائد کیے جاتے ہیں۔ حالیہ چند برسوں میں انہوں نے آئینی اصلاحات متعارف کراتے ہوئے اپنے کئی اختیارات ملکی پارلیمان کو منتقل کیے تھے۔ سابق سوویت یونین کی اس ریاست کے اٹھہتر سالہ صدر نے اپنے استعفے کا اعلان کیا۔ اپنے ٹیلی وژن خطاب میں ان کا کہنا تھا، میں نے صدارتی عہدے چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور افراط زر میں اضافے کی وجہ سے نذربائیف نے چند ہفتے قبل ملکی حکومت کو برطرف کرنے کا اعلان کیا تھا۔ قزاقستان کے ایک بڑے تجارتی پارٹنر روس کے خلاف مغربی پابندیوں نے اس ملک کی معیشت کو بھی متاثر اور حکومت میں بے چینی پیدا کی ہے۔ آئین کے مطابق نذربائیف نے بقیہ مدت صدارت کے لیے ایوان بالا کے اسپیکر اور اپنے قریبی ساتھی قاسم جومارت توکائیف کو قائم مقام صدر منتخب کیا ہے۔ ان کی مدت صدارت مارچ دو ہزار بیس میں ختم ہو گی۔

انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور بدعنوانی
نذر بائیف کمیونسٹ پارٹی کے رہنما اسی وقت بن گئے تھے، جب قزاقستان 1989ء میں ابھی سوویت یونین کے زیر انتظام تھا۔ اس کے ایک برس بعد ہی وہ اس نئی آزاد اور خود مختار ریاست کے صدر بن گئے تھے۔ بعد ازاں ہر مرتبہ وہ نوے فیصد ووٹ لے کر کامیاب ہوتے رہے ہیں اور اس حوالے سے ان پر انتخابات میں دھاندلی کے شدید الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان پر کرپشن کو فروغ دینے، اپنے مخالفین کی آوازوں کو خاموش کروانے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات بھی عائد کیے جاتے ہیں۔

وسطی ایشیائی ریاستیں روسی اور امریکی مسابقت کا ممکنہ میدان
سن دو ہزار دس میں انہوں نے اصلاحات متعارف کروانے کا سلسلہ شروع کیا تھا تاکہ ملک میں مزید سیاسی جماعتوں کو متعارف کروایا جا سکے۔ سن دو ہزار سترہ میں انہوں نے آئینی اصلاحات متعارف کراتے ہوئے اپنے متعدد اختیارات ملکی پارلیمان کے حوالے کر دیے تھے۔ نذر بائیف کو اپنے ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری لانے کا بھی کریڈٹ دیا جاتا ہے جب کہ ان کے روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے بھی قریبی روابط ہیں۔ قزاقستان آزاد تجارتی بلاک ’یورو ایشین اکنامک یونین‘ (ای اے ای یو) کا رکن بھی ہے۔ اس بلاک میں روس اور بیلاروس بھی شامل ہیں۔

بشکریہ DW اردو