ملّا عمر، امریکہ اور پاکستان

یہ 2013ء کا موسم گرما تھا۔ افغان طالبان کے رہنما ملّا محمد عمر کی وفات کو سترہ دن گزر چکے تھے۔ سترہ دن کے بعد اُن کا بیٹا یعقوب اور بھائی ملّا عبدالمنان زابل میں ملّا محمد عمر کی قبر پر کھڑے تھے اور اصرار کر رہے تھے کہ قبر کھود کر اُنہیں متوفی کا چہرہ دکھایا جائے تاکہ تسلی ہو جائے کہ واقعی ملّا محمد عمر کی وفات ہو چکی ہے۔ ملّا محمد عمر کو اس قبر میں اپنے ہاتھوں سے دفن کرنے والا عبدالجبار عمری بار بار یعقوب اور ملّا عبدالمنان کو بتا رہا تھا کہ اُس نے ملّا محمد عمر کی تدفین کی وڈیو اسی لئے بنائی تھی کہ کسی کو کوئی شک نہ رہے اور آپ نے وڈیو دیکھ بھی لی ہے لیکن جذباتی بیٹا اور بھائی قبر کھودنے پر اصرار کرتے رہے۔ آخرکار قبر کھودی گئی۔ ملّا محمد عمر کا کفن ہٹا کر اُن کا چہرہ دیکھا گیا۔ بیٹے اور بھائی کو تسلی ہو گئی تو ملّا محمد عمر کو لکڑی کے ایک تابوت میں منتقل کر کے دوبارہ دفن کر دیا گیا کیونکہ اس سے قبل وہ صرف ایک کفن میں دفن کئے گئے تھے۔

یہ زابل کا وہ علاقہ تھا جہاں ملّا محمد عمر نے اپنی زندگی کے آخری سال عبدالجبار عمری کے ساتھ گزارے تھے۔ عمری نے ملّا محمد عمر کے بیٹے اور بھائی کو وہ جگہ بھی دکھائی جہاں اس طالبان رہنما نے اپنا وقت گزارا۔ یہاں اُنہیں ملّا محمد عمر کی چار ڈائریاں ملیں لیکن کوئی باقاعدہ وصیت یا خط نہیں ملا۔ یعقوب نے یہ چار ڈائریاں اپنی تحویل میں لے لیں۔ ملّا محمد عمر کی یہ پناہ گاہ زابل میں امریکی فوجی اڈے سے چند میل کے فاصلے پر تھی اور کئی مرتبہ امریکیوں نے اس پناہ گاہ کے آس پاس چھاپے بھی مارے لیکن وہ ملّا محمد عمر کو زندہ گرفتار نہ کر سکے۔ یہ وہ حقائق ہیں جو نیدر لینڈز کی ایک صحافی بیٹ ڈیم کی کتاب ’’دی سیکرٹ لائف آف ملّا عمر‘‘ میں سامنے آئے ہیں۔ بیٹ ڈیم نے یہ کتاب پانچ سال کی تحقیق کے بعد لکھی ہے۔ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس کتاب میں کئے گئے اس دعوے کی تصدیق کر دی ہے کہ ملّا محمد عمر نے اپنی زندگی کے آخری سال افغانستان کے صوبہ زابل میں گزارے اور وہیں 23 اپریل 2013ء کو اُن کا انتقال ہوا تاہم یہ کتاب ڈچ زبان میں شائع ہوئی ہے، اس کا انگریزی ترجمہ ابھی مارکیٹ میں نہیں آیا۔ مجھے اس کتاب کے کچھ صفحات کا انگریزی ترجمہ پڑھنے کا موقع ملا ہے۔

یقیناً بیٹ ڈیم کو عبدالجبار عمری کے ذریعہ ملّا محمد عمر کے آخری ایام کے متعلق اہم تفصیلات ملی ہیں لیکن مجھ سمیت کئی پاکستانی اور افغان صحافیوں کے لئے بیٹ ڈیم کی کتاب میں کوئی ہوشربا انکشاف موجود نہیں ہے۔ افغان حکومت نے اس کتاب میں کئے گئے دعوئوں کو مسترد کر دیا ہے لیکن آنے والے وقت میں نہ صرف طالبان بلکہ امریکہ کو بھی اس کتاب کا بہت فائدہ ہو گا۔ کچھ پاکستانی بھی اس کتاب میں سے فائدہ تلاش کر رہے ہیں۔ یہ کتاب امریکی سی آئی اے کے ان دعوئوں کو تو جھوٹ ثابت کرتی ہے کہ ملّا محمد عمر پاکستان میں روپوش تھے لیکن اس کتاب کے مطابق ملّا محمد عمر کی چار بیویوں سمیت کئی طالبان رہنما پاکستان میں رہتے تھے۔ ملّا محمد عمر کی بیویوں کی تعداد کے بارے میں ڈچ صحافی کا دعویٰ غیر مصدقہ ہے۔ ڈچ صحافی نے یہ بھی لکھا ہے کہ مولانا سمیع الحق مرحوم یہ دعویٰ کرتے تھے کہ ملّا محمد عمر دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک سے فارغ التحصیل تھے۔

حقیقت یہ ہے کہ مولانا سمیع الحق نے کبھی ایسا دعویٰ نہیں کیا۔ مولانا مرحوم نے اپنی  انگریزی تصنیف ’’افغان طالبان، وار آف آئیڈیالوجی‘‘ میں واضح طور پر لکھا کہ اُن کے مدرسے میں ایسا کوئی ریکارڈ موجود نہیں جس سے ثابت ہو کہ ملّا محمد عمر یہاں زیر تعلیم تھے۔ بیٹ ڈیم نے یہ بالکل درست لکھا ہے کہ ملّا محمد عمر نائن الیون سے پہلے صرف ایک آدھ دفعہ پاکستان آئے تھے اور نائن الیون کے بعد کبھی پاکستان نہیں آئے۔ ڈچ صحافی کو اس کتاب کی تکمیل میں افغان حکومت نے بھرپور معاونت فراہم کی اور ملّا محمد عمر کے آخری وقت کے ساتھی عبدالجبار عمری کے ساتھ اُس کی ملاقات بھی افغان انٹیلی جنس کے ذریعہ ہوئی کیونکہ عمری انٹیلی جنس کی حراست میں ہے لیکن بیٹ ڈیم نے افغان حکومت کے مفادات کا کوئی خیال نہیں رکھا بلکہ جو سچ سمجھا وہ لکھ ڈالا۔ کتاب کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ سابق افغان صدر حامد کرزئی اور موجودہ صدر اشرف غنی سمیت افغان انٹیلی جنس کو یہ علم تھا کہ ملّا محمد عمر زابل میں روپوش ہیں اور یہ اطلاعات امریکیوں کو بھی فراہم کی گئیں لیکن وہ ہمیشہ یہ اطلاعات نظر انداز کرتے اور کہتے کہ ملّا عمر پاکستان میں روپوش ہے۔

کیا یہ پاکستان سے امریکی انٹیلی جنس اداروں کی نفرت تھی یا شاہانہ غرور جس کے باعث ایک ’’سپر پاور‘‘ 2001ء سے 2015ء تک یہ جھوٹ بولتی رہی کہ ملّا محمد عمر پاکستان میں ہے؟ کیا پاکستان کی حکومت کبھی باقاعدہ طور پر امریکہ سے یہ پوچھے گی کہ آپ سالہا سال تک ہم پر جھوٹا الزام کیوں لگاتے رہے؟ کیا امریکہ ویسا ہی جھوٹ نہیں بولتا رہا جیسا جھوٹ آج کل بھارت کی طرف سے بالاکوٹ میں جیش محمد کے مدرسے کی تباہی کے بارے میں بولا جا رہا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا ہمیں جواب چاہئے لیکن شاید ہماری حکومت کوئی جواب نہ دے۔ ہمیں یہ جواب خود تلاش کرنا پڑیں گے۔ بیٹ ڈیم کی کتاب کے مطابق عبدالجبار عمری نے بار بار ملّا عمر کو پیشکش کی کہ وہ اُنہیں پاکستان لے جا سکتا ہے لیکن ملّا عمر نے کہا کہ کچھ بھی ہو جائے، میں پاکستان نہیں جائوں گا۔

وہ پاکستان پر اعتماد نہیں کرتے تھے۔ اس کی وجہ نائن الیون کے بعد پاکستانی ریاست کی پالیسیاں تھیں۔ کتاب کے مطابق ملّا محمد عمر نے 5 دسمبر 2001ء کو روپوش ہونے سے قبل ملّا عبید اللہ کو اپنا جانشین مقرر کیا۔ یہ وہی ملّا عبید اللہ ہیں جو 2010ء میں پاکستان کی حراست میں موت کا شکار ہوئے۔ بیٹ ڈیم کی کتاب میں کہا گیا کہ افغان طالبان اور القاعدہ کے نظریات میں فرق ہے۔ اس کتاب میں ملّا محمد عمر کا تعلق نقشبندی سلسلے کے صوفیاء سے جوڑا گیا ہے اور مصنفہ نے لکھا ہے کہ ملّا محمد عمر زندگی کے آخری ایام میں خود بھی ایک صوفی بن چکے تھے۔ اس کتاب کی مدد سے اقوام متحدہ افغان طالبان پر عائد پابندیاں ختم کر سکتی ہے اور یوں افغان طالبان کے ساتھ امریکہ کا مذاکراتی عمل مزید آگے بڑھ سکتا ہے۔ آج کل امریکی انتظامیہ کی طرف سے افغان طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل میں پاکستان کے مثبت کردار کا بار بار اعتراف کیا جا رہا ہے لیکن پاکستان کو کسی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہئے۔

بیٹ ڈیم کی کتاب کے مطابق جب افغان طالبان کی کوئٹہ میں موجود قیادت یہ فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی کہ قطر میں طالبان کا دفتر کھولا جائے یا نہیں تو ملّا محمد عمر سے رابطہ کیا گیا اور انہوں نے دفتر کھولنے کی حمایت کر دی۔ اس طرح یہ کتاب طالبان اور امریکہ میں مذاکرات کے عمل کو ملّا محمد عمر کی تائید فراہم کرتی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ طالبان قیادت کی کوئٹہ میں موجودگی بھی ثابت کرتی ہے۔ پاکستان کی طرف سے کالعدم تنظیموں کے خلاف کتنی ہی کارروائیاں کر لی جائیں لیکن امریکہ کا پاکستان پر دبائو ختم نہیں ہو گا۔ افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں بریک تھرو کے بعد کابل میں جو بھی حکومت آئے گی امریکہ اُس حکومت کو تعمیر نو کے لئے مالی امداد کے نام پر پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی کوششیں جاری رکھے گا۔ خدارا! یہ مت سمجھئے گا کہ مجھے امریکہ سے کوئی ذاتی بیر ہے۔ بالکل نہیں! میں تو دنیا بھر میں امن چاہتا ہوں لیکن تاریخ یہ بتاتی ہے کہ امریکہ کا اصل مسئلہ طالبان یا کالعدم تنظیمیں نہیں بلکہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام ہے اس لئے خاطر جمع رکھیے۔ ڈچ صحافی کی کتاب کا پاکستان کو کوئی فائدہ نہیں ہونے والا ہے۔ جو اُس نے لکھا وہ ہم 2006ء سے کہہ رہے تھے۔ پاکستان کو امن پسندی کے ساتھ ساتھ اپنے بارے میں جھوٹ بولنے والوں سے ہمیشہ ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

حامد میر

دنیا بھر میں بوئنگ 737 میکس عارضی طور پر گراؤنڈ کر دیا گیا

امریکی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ عارضی طور پر اپنے جدید ترین بوئنگ 737 میکس طیاروں کو گراؤنڈ کر رہی ہے۔ بوئنگ کے اس نتیجے ہر پہنچنے سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تمام بوئنگ 737 میکس طیاروں کو گراؤنڈ کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ جاری بیان میں بوئنگ نے کہا کہ اسے اپنے 737 میکس کی سیفٹی پر پورا یقین ہے۔ مگر امریکی ہوابازی کے نگران ادارے ایف اے اے، امریکی ٹرانسپورٹ سیفٹی بورڈ اور ہوابازی کے حکام اور اپنے دنیا بھر میں پھیلے صارفین سے صلاح مشورے کے بعد بوئنگ اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ حفظِ ماتقدم کو مقدم رکھتے ہوئے اور فضائی سفر کرنے والی عوام کا اعتماد بحال کرنے کی غرض وہ ایف اے اے کو تجویز دیتا ہے کہ وہ عارضی طور پر دنیا بھر میں پرواز کرنے والے 371 بوئنگ 737 میکس طیاروں کو گراؤنڈ کر دے۔

امریکی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ کے جدید اور نئے طیارے بوئنگ 737 میکس کے دوسرے حادثے کے بعد ایک عالمی ردِ عمل سامنے آ رہا ہے جس میں ہر گزرتے لمحے شدت آ رہی ہے۔ امریکی طیارہ ساز بوئنگ کے حصص میں دس فیصد گراوٹ دیکھنے میں آئی جو آگے آنے والی مشکلات کا پیش خیمہ لگتی ہے۔ اس ساری بحث میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی کود پڑے جن کے بیان پر بھی کافی ردِ عمل آیا۔ اب آئیے اب تک کی صورتحال کا جائزہ لیں گے اور اس کے عالمی ہوابازی کی صنعت پر اثرات بھی دیکھیں گے کہ یہ کس طرح عالمی ہوابازی کو متاثر کر سکتا ہے۔ ایتھوپین ایئرلائن کے طیارے کے حادثے کے بعد دنیا بھر سے ردِ عمل آہستہ آہستہ آنا شروع ہوا۔ اگرچہ اب تک حادثے کی وجوہات کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا مگر دنیا کے مختلف ممالک نے یا تو اس طیارے کو اپنی حدود میں داخل ہونے سے روک دیا ہے۔

یہاں تک کہ گذشتہ روز ترکش ایئرلائنز کے دو طیارے جو یورپ پہنچ چکے تھے مڑ کر واپس ترکی گئے کیونکہ ان طیاروں کے لیے فضائی حدود بند کر دی گئی تھیں۔ پہلے ہانگ کانگ، ویتنام اور نیوزی لینڈ نے اس ماڈل کے طیاروں کی اپنے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کر دی جس کی بعد کینیڈا نے بھی ان طیاروں کے ملک میں داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔ اس سے پہلے چین، برطانیہ، آسٹریلیا اور یورپی یونین نے اپنی فضائی حدود اس طیارے کے لیے بند کر دی ہیں۔ امریکہ کی سب سے بڑی فلائٹ اٹینڈنٹ یونین نے، جس میں بیس سے زیادہ ایئرلائنز کے پچاس ہزار فلائٹ اٹنڈنٹ شامل ہیں، امریکی ریگولیٹر فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ‘عارضی طور پر 737 میکس طیاروں کو امریکہ میں حفظ ماتقدم کے طور پر گراؤنڈ کر دے۔’

یونین کی صدر سارا نیلسن نے ایک بیان میں کہا کہ ‘امریکہ کا دنیا میں ہوا بازی کا محفوظ ترین ریکارڈ ہے اور امریکی اس غیر یقینی کی صورتحال میں رہنمائی کے لیے دیکھ رہے ہیں۔ ایف اے اے عوام کا اس نظام پر اعتماد بحال کرنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرے۔’ دوسری جانب امریکہ میں پائلٹس کی نمائندہ لیبر یونین الائیڈ پائلٹ ایسوسی ایشن نے، جس کے 16700 اراکین ہیں، اپنے اراکین سے کہا ہے کہ ‘آپ کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ اگر آپ 737 میکس پر کام کرنے کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں تو آپ کو اس پر کوئی مجبور نہیں کر سکتا۔’ مگر امریکی ہوابازی کے نگران ادارے ایف اے اے نے اب تک اپنے آپ کو اس سارے معاملے سے علیحدہ رکھا ہے۔

امریکہ میں 737 میکس کے مسائل
امریکی ویب سائٹ پولیٹیکو میں شائع شدہ کیتھرین اے وولف کی خبر میں انہوں نے لکھا ہے گذشتہ برس لائن ایئر کے طیارے کے حادثے کے بعد کم از کم پانچ بار پائلٹس نے طیارے میں مسائل کے بارے میں رپورٹ کیا۔ انہوں نے لکھا کہ نومبر 2018 کو ایک پائلٹ نے رپورٹ کی کہ اڑان بھرنے کے دو منٹ میں آٹو پائلٹ کو جب انگیج کیا گیا تو دو تین سیکنڈ میں اس نے طیارے کی ناک نیچی کر دی۔ جس کے نتیجے میں وارننگ کا اعلان شروع ہو گیا۔ پولیٹیکو کے اس آرٹیکل میں پائلٹس نے شدید اعتراضات اٹھائے ہیں اور تنقید کی ہے۔

بوئنگ 737 میکس 8
اگست 2011 میں بوئنگ نے اپنے اس مقبول طیارے کو نئے انجن اور نظام کے ساتھ لانچ کیا اور اسے میکس کا نام دیا۔ میکس سیریز میں چار ورژن فراہم کیے گئے جن میں میکس 7، میکس 8، میکس 9 اور میکس 10 شامل ہیں۔ جن میں زیادہ سے زیادہ 230 مسافر سوار ہو سکتے ہیں۔ یہ طیارے چھ ہزار سے سات ہزار کلومیٹر تک پرواز کر سکتا تھا جو بہت ساری چھوٹی اور درمیانے سائز کی ایئرلائنز کے لیے بہترین طیارہ ہے۔ جیسا کہ کوالالپمپور سے لاہور کی پرواز کے لیے مالنڈو ایئر اس طیارے کا استعمال کرتی ہے

جبکہ چائنہ سدرن ایئر لائن اس طیارے کے ساتھ گوانگزو اور اورمچی سے لاہور اور اسلام آباد کی پروازیں چلا پاتی ہے۔ یہ طیارہ اتنا کامیاب تھا کہ اسے چند ہی مہینوں میں 100 سے زیادہ ایئرلائنز سے 5000 سے زیادہ آرڈر موصول ہوئے۔ اور اب تک دنیا بھر میں 350 طیارے پرواز کر رہے ہیں یا ان دنوں گراؤنڈ کر دیے گئے ہیں۔ اس کا سب سے پہلا طیارے انڈونیشیا کے ایئرلائن گروپ لائن ایئر کی کمپنی مالنڈو ایئر نے 6 مئی 2017 کو وصول کیا اور اس نے 22 مئی 2017 سے پروازیں شروع کیں۔

737 میکس
بوئنگ کا 737 طیارہ جدید ہوابازی کا سب سے کامیاب طیارہ ہے جس کے اب تک 10478 سے زیادہ طیارے بنا کر فروخت کیے جا چکے ہیں۔ بوئنگ نے 1964 میں ایک نیرو باڈی یعنی درمیانے حجم یا ایک ایسے طیارے کی منصوبہ بندی شروع کی جس کے دونوں جانب نشستیں جبکہ درمیان راستہ ہوتا ہے۔ جسے سنگل آئزل طیارہ کہتے ہیں۔ اس منصونہ بندی کے نتیجے میں پہلا طیارہ 737-100 وجود میں آیا جس نے 1967 میں پہلی پرواز کی۔ اگلے سال بوئنگ نے اسے تھوڑا کھینچ کر لمبا کیا اور 737-200 وجود میں آیا جس کے ساتھ کے طیارے اب سے کچھ سا قبل تک شاہین ایئر پاکستان میں استعمال کرتی رہی جو اب بھی کراچی کے ہوائی اڈے پر کھڑے زنگ آلود ہو رہے ہیں۔

اس کے بعد بوئنگ نے 737-300 کا اجرا کیا جسے کلاسک جنریشن کا پہلا طیارہ کہا جاتا ہے۔ پی آئی اے نے اس سیریز کے پانچ طیارے 1985 میں حاصل کیے جو جون 2014 تک ایئرلائن کے استعمال میں رہے انہیں بعد میں ریٹائر کر دیا گیا۔ کلاسک سیریز میں 737-300، 400 اور 500 طیارے تھے۔ پاکستان میں شاہین ایئر نے 737-400 کچھ عرصہ کے لیے استعمال کیے۔ اس کے بعد بوئنگ نے نیکسٹ جنریشن سیریز کا اجرا کیا جس میں 600، 700 اور 800 طیارے شامل تھے۔ 800 سیریز کے تین طیارے پاکستان کی نجی کمپنی سرین ایئر استعمال کرتی ہے۔

طاہر عمران
بشکریہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام

چین نے مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دینے کی کوشش ناکام بنا دی

چین نے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں مولانا مسعود اظہر کو عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کی کوشش کو ایک مرتبہ پھر ناکام بنا دیا۔ سلامتی کونسل میں امریکا، فرانس، اور برطانیہ کی جانب سے مولانا مسعود اظہر کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کے لیے قرارداد 27 فروری کو پیش کی گئی تھی لیکن چین نے اس کو ناکام بنا دیا۔ قرارداد کو ناکام بنانے کے بعد بریفنگ میں چین کے وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ چین کی حکومت سیکیورٹی کونسل میں اپنا ذمہ دارانہ کردار ادا کرتی رہے گی۔ خیال رہے کہ چین اس سے قبل 3 مرتبہ عالمی طاقتوں کی اسی کوشش کو ناکام بنا چکا ہے۔

بھارتی ویب سائٹ ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لو کینگ کا کہنا تھا کہ ‘چین ایک ذمہ دار رویہ اپنائے گا اور گفتگو میں بدستور شریک ہو گا’۔ دوسری جانب بھارت کے وزارت خارجہ امور کے بیان میں چین کے اقدام پر مایوسی کا اظہار کیا گیا جبکہ سلامتی کونسل میں قرار داد لانے پر دیگر طاقتوں کا شکریہ ادا کیا گیا ہے۔ قبل ازیں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کی قرار داد پیش کی جائے گی تاہم سلامتی کونسل کے مستقل رکن اور ماضی میں ان کوششوں کو روک دینے والے چین کا کہنا تھا کہ ’معاملے کا ذمہ دارانہ حل‘ صرف بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ’لو کانگ‘ نے سوال کے جواب میں عالمی برادری کو اس قسم کے مسائل اجاگر کرنے کے ساتھ مسئلہ کشمیر کی جانب بھی توجہ دینے کا کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘1267 پابندی کمیٹی کی جانب سے کسی دہشت گرد کی حیثیت پر چین کا موقف اصولی اور واضح ہے‘۔ واشنگٹن میں موجود سفارتی ذرائع کا کہنا تھا کہ امریکا، جس نے برطانیہ اور فرانس کے ہمراہ اس قراداد کو پیش کیا، چاہتا ہے کہ اس مرتبہ اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل اسے منظور کر لے، جس کے لیے امریکا نے چین سے مذکورہ قرار داد کو ویٹو نہ کرنے کا مطالبہ اور اس معاملے پر چینی مخالفت نرم کرنے کے لیے پاکستان پر اپنے اثر رسوخ کا استعمال کیا۔

یاد رہے کہ 5 مارچ کو نیشنل ایکشن پلان کے تحت سیکیورٹی اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے مولانا مسعود اظہر کے بیٹے حماد اظہر اور بھائی مفتی عبدالرؤف سمیت کالعدم تنظیموں کے 44 افراد کو ’اصلاحی حراست‘ میں لے لیا تھا۔ وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے تحت وزارتِ داخلہ میں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں کالعدم تنظیموں کے رہنماؤں اور کارکنان کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بیان میں یہ بتایا گیا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی) کے اجلاس کے دوران بھی نیشنل ایکشن پلان کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ کالعدم تنظیموں کے رہنماؤں اور کارکنان کو اصلاحی حراست میں لینے کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔