امریکہ نے 9/11 کے بعد کتنی تباہی مچائی ؟ ان جنگوں کے نتیجے میں 5 لاکھ لوگ مارے گئے

امریکہ 9/11 کے حملوں کے بعد سے جنگوں پر تقریبا 6 ٹریلین ڈالر خرچ کر چکا ہے، ان جنگوں کے نتیجے میں 5 لاکھ لوگ مارے گئے۔ امریکی جریدے نیوز ویک کے مطابق چند دن قبل براؤن یونیورسٹی کے واٹسن انسٹی ٹیوٹ نے جنگی اخراجات کے حوالے سے اپنی سالانہ رپورٹ جاری کی ہے۔ جس میں پینٹاگون کے بیرون ممالک آپریشنز کے اخراجات، جنگ سے متعلق وزارت خارجہ کے اخراجات، جنگ سے متاثرہ فوجیوں کی دیکھ بھال کے اخراجات، جنگی اخراجات کیلئے لئے گئے قرضوں پر سود کی ادائیگی اور وزارت داخلہ کی جانب سے دہشت گردی کی روک تھام کیلئے کئے گئے پیشگی اقدامات کے اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

حتمی تخمینے کے مطابق امریکہ نے 9/11 کے حملوں کے بعد سے مالی سال 2019 تک دہشت گردی کیخلاف جنگ کیلئے 5.9 ٹریلین ڈالر کی رقوم مختص کی ہیں۔ جس میں دوران جنگ کئے گئے براہ راست اخراجات اور جنگ سے متعلق بلواسطہ اخراجات شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 6 ٹریلین ڈالر کے نا قابل برداشت جنگی اخراجات نے نیشنل سکیورٹی کے حوالے سے شدید خدشات کو جنم دیا ہے۔ عوامی مفاد میں ضروری ہے کہ ان اخراجات میں شفافیت کو مزید بڑھایا جائے اور جنگوں کے خاتمے کیلئے ایک جامع حکمت عملی تشکیل دی جائے تاکہ دیگر ضروری نوعیت کی نیشنل سکیورٹی ترجیحات سے نمٹا جا سکے۔

گیارہ ستمبر 2001 کو القاعدہ کے حملوں کے نتیجے میں 3 ہزار افراد مارے گئے، جس کے جواب میں امریکہ نے دہشت گردی کیخلاف عالمی جنگ کا آغاز کیا۔ 9/11 کے حملوں کے ایک ہفتے بعد ہی امریکہ نے القاعدہ کے اتحادی طالبان کے زیر قبضہ افغانستان پر حملہ کر دیا۔ مارچ 2003 میں واشنگٹن نے عراقی صدر صدام حسین کا اقتدار ختم کر دیا، امریکہ نے صدام حسین پر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار بنانے اور دہشت گرد تنظیموں کو پناہ دینے کا الزام عائد کیا تھا۔ ابتدائی کامیابی کے بعد امریکی فوج کو دونوں ممالک میں شدید اور نہ ختم ہونے والی مسلح بغاوت کاسامنا کرنا پڑا

جس کے بعد انسداد دہشت گردی آپریشنز کو پاکستان، لیبیا، صومالیہ اور یمن سمیت پورے خطے میں پھیلا دیا گیا۔ 2014 میں امریکہ نے داعش کا مقابلہ کرنے کیلئے ایک بین الاقوامی اتحاد قائم کیا، داعش نے عراق میں سنی بغاوت کے بعد جنم لیا تھا اور وہ دیکھتے ہی دیکھنے پڑوسی ملک شام سمیت کئی علاقوں میں پھیل گئی۔ واٹسن انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے انسداد دہشت گردی آپریشنز کو بہت زیادہ وسیع کر دیا، امریکی فوج 76 ممالک میں انسداد دہشت گردی آپریشنز انجام دے رہی ہے، جو دنیا بھر کے ممالک کا 39 فیصد بنتا ہے۔

ان آپریشنز کے دوران امریکہ اور دیگر ممالک میں انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کی شدید خلاف ورزی بھی کی گئی ہیں۔ محققین کے مطابق 9/11 کے حملوں کے بعد عراق، افغانستان اور پاکستان میں امریکی جنگوں میں تقریباً 4 لاکھ 80 ہزار سے لیکر 5 لاکھ 7 ہزار تک افراد مارے گئے۔ اس میں شام میں جنگ کے دوران مارے گئے 5 لاکھ افراد شامل نہیں ہیں۔ ان تمام امریکی آپریشنز کے دوران افغانستان، عراق اور پاکستان میں 6 ہزار 951 امریکی فوجی، 21 عام شہری اور 7 ہزار 820 کنٹریکٹرز مارے گئے۔

بشکریہ دنیا نیوز

بیروزگاری مودی کو ڈبو سکتی ہے

بیروزگاری کا عفریت بھارت کو نگلنے لگا ہے اور مودی حکومت نے نوجوانوں کو مایوسی کے سوا کچھ نہ دیا جس کی ایک مثال یہ ہے کہ ایک سال میں ایک نوجوان نے 50 انٹرویوز دئیے لیکن اسے چپڑاسی کی نوکری بھی نہ مل سکی۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ملازمت فراہم کرنا بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو رہا ہے۔ بھارتی نوجوان وشال چودھری ایم بی اے کی ڈگری کا حامل ہے لیکن نوکری سے محروم ہے۔ وشال نے کہا کہ میں نے پچھلے ایک سال میں تقریباً پچاس انٹرویوز دئیے ہیں۔ تاہم میں ملازمت کے حصول میں کامیاب نہ ہو سکا۔

ایک کمپنی نے مجھے نوکری پر رکھا، پھر اس نے بھی کئی لوگوں کو فارغ کر دیا اور میں پھر اسی مقام پر پہنچ گیا، جہاں سے میں نے شروع کیا تھا۔ جب پریشانی حد سے بڑھ گئی، تو دلبرداشتہ ہو کر میں بھی ان 23 ہزار درخواست گزاروں کا حصہ بن گیا، جو پانچ سرکاری نوکریوں کے لیے اپنی قسمت آزما رہے تھے۔  رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت ایشیا کی تیسری بڑی معیشت ہے لیکن وہاں روزگار کی منڈی میں یہ اعداد و شمار غیر معمولی نہیں ہیں۔ پچھلے سال بھی بھارتی ریلوے کی 63 ہزار ملازمتوں کے لیے ایک کروڑ 90 لاکھ درخواستیں جمع کرائی گئی تھیں۔ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے میں نئی دہلی حکومت زیادہ کامیاب دکھائی نہیں دیتی۔

یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا ووٹ بینک بھی اس سے متاثر ہو سکتا ہے۔ اپنی انتخابی مہم کے دوران انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ ملک میں ہر ماہ 10 لاکھ نئی ملازمتیں سامنے آئیں گی۔ مگر یہ وعدہ وفا نہیں ہو پایا۔ بھارت کی 65 فیصد آبادی پینتیس سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔ حال ہی میں ملک کی اقتصادی نمو کی شرح بھی 8 فیصد سے کم رہی، جو ملازمت کے نئے مواقع کے لیے درکار ہوتی ہے۔ بھارت کے ایک اخبار نے حکومت کی ایک خفیہ رپورٹ کے حوالے سے لکھا کہ ملک میں بے روزگاری کی شرح سن 1970 کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر ہے۔

بھارتی حزب اختلاف کی پارٹی کانگریس کے سربراہ راہول گاندھی کے مطابق اس تباہی کے ذمہ دار نریندر مودی ہیں۔ ان کی دو پالیسیوں کا بھارت کو بہت نقصان پہنچا ہے، جن میں ایک پرانی کرنسی کو نئی سے تبدیل کر دینا اور دوسری سروسز ٹیکس ہے۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں پروفیسر سنتوش مہروترا نے کہا نوجوانوں کے لیے تعلیم اور روزگار دو بہت اہم موضوعات ہیں۔ موجودہ حکومت ان کی فراہمی میں ناکام ہو گئی ہے۔ ایسی کارکردگی کے بعد حکومت ووٹ کی حقدار نہیں ہے۔

بشکریہ دنیا نیوز