رافیل جہاز اسکینڈل : مودی حکومت کی اخبار ‘دی ہندو’ کے خلاف مقدمے کی دھمکی

رافیل طیاروں کی خریداری کے معاہدے میں مبینہ کرپشن اور طیاروں کی حوالگی میں تاخیر سے متعلق معاملے پر سرکاری دستاویزات شائع کرنے پر بھارت کے اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ ہو سکتا ہے وہ بھارت کے بڑے اخبار ’دا ہندو‘ کے خلاف ملک کی سب سے بڑی عدالت میں مقدمہ دائر کریں۔ اٹارنی جنرل نے دا ہندو پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے ’چرائے گئی‘ سرکاری دستاویزات کو شائع کیا ہے۔ یہ دستاویز فرانس سے 36 رافیل طیارے خریدنے کے بھارت کے معاہدے سے متعلق ہیں۔ اور یہ مقدمہ اٹارنی جنرل کے مطابق بھارت کے ’آفیشل سیکریٹس ایکٹ‘ کے تحت دائر ہو سکتا ہے۔ اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال کا مزید کہنا ہے کہ ’دا ہندو‘ کی جانب سے شائع کیے جانے والی دستاویزات کو عدالت میں پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔ تاہم، عدالت میں کی جانے والی استدعا میں کہا گیا ہے کہ اس بات پر غور کیا جائے کہ اگر دستاویزات چوری ہو گئی تھیں تو طیاروں کی خرید کا یہ معاہدہ کیسے ایوارڈ کیا گیا ؟

انہوں نے مزید کہا ہے کہ حکومت اس بات پر غور کر رہی ہے کہ ’دا ہندو‘ پر اس قانون کے تحت مقدمہ دائر کیا جائے جس کے مطابق حکومت کے رازدارانہ معاملات کا تحفظ کیا جاتا ہے۔ دوسری طرف، ’دا ہندو‘ میں اس معاملے پر شائع ہونے والے مضامین کے مصنف اور اخبار کے چئیرمین این رام کا کہنا ہے کہ یہ اشاعت مفاد عامہ میں کی گئی ہے۔ خبر رساں ادارے، رائیٹرز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’فکر کرنے کی کوئی بات نہیں ہے ۔ ہم نے جو کچھ بھی شائع کیا ہے وہ قانونی ہے۔ اور ہم اس پر قائم ہیں‘‘۔ اس معاملے کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ بھارت نے ایک تجدیدی پروگرام کے تحت فرانس سے آٹھ اعشاریہ سات بلین ڈالر مالیت کے طیاروں کا آرڈر دیا تھا تاکہ بھارتی فضائیہ میں سوویت زمانے کے طیاروں کو جدید طیاروں سے تبدیل کیا جا سکے۔

تاہم، طیاروں کی خرید کا یہ معاہدہ اس وقت اور بھی بڑے تنازعے کا شکار ہو گیا جب بھارت کی مرکزی اپوزیشن پارٹی کانگریس نے بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے ان طیاروں کی خرید کے لیے بھاری رقم دی ہے اور ساتھ ہی فرانس کی اس کمپنی ’ڈسالٹ ایوی ایشن‘ کو مجبور کیا ہے کہ وہ بھارتی بزنس مین، انیل امبانی کی کمپنی ’ریلائینس ڈیفنس‘ کو اپنے کاروبار میں شریک کریں۔ کانگریس کے مطابق، اس کمپنی کو دفاعی کانٹریکٹس کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔ ڈسالٹ سے رابطہ کیا گیا تو اس کے ترجمان نے کمپنی کے سی ای او ایرک ٹریپیئر کی جانب سے قیمتوں اور کاروباری شراکت دار کے انتخاب کا حوالہ دیا۔ ٹریپئر اس سے پہلے طیاروں کی قیمت کے معاملے کا دفاع کر چکے ہیں اور کہہ چکے ہیں کہ اس بارے میں کوئی سکینڈل نہیں ہے اور نا ہی انہیں کاروباری شراکت دار کے انتخاب پر مجبور کیا گیا ہے۔

ریلائینس ڈیفنس نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور بات کرنے سے گریز کیا ہے۔ امبانی اس سے پہلے کہہ چکے ہیں کہ کانگریس پارٹی کو کارپوریٹ مخالفین اپنے مفادات کے لیے گمراہ کر رہے ہیں۔ ’دا ہندو‘ بھارت کا قدیم ترین اور سب سے زیادہ پڑھا جانے والا انگریزی روزنامہ ہے۔ گزشتہ کئی ہفتوں کے دوران اب تک اس اخبار میں اس معاملے پر پانچ مضامین شائع ہوئے ہیں جن میں حکومتی دستاویزات کے ساتھ ساتھ قیمتوں کے تعین کے سرکاری طریقہ کار کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ اس معاملے میں شامل افراد پر اگر الزام ثابت ہوا تو انہیں 14 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ اس قسم کی سزائیں بھارت کے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت اس سے پہلے صحافیوں کو دی جا چکی ہیں اور بھارت میں انسانی حقوق کے علمبردار اس قانون کی مخالفت یہ کہتے ہوئے کرتے ہیں کہ اس کے باعث آزادی اظہار پر قدغن لگتی ہے۔ اٹارنی جنرل وینو گوپال کا کہنا ہے کہ کوئی بھی دفاعی معاہدہ عوامی سطح پر دائر کی گئی کسی سڑک یا ڈیم کے خلاف پٹیشن کے برابر نہیں ہو سکتا اور سپریم کورٹ کو چاہیے کہ وہ سیاست سے دور رہے۔

بشکریہ وائس آف امریکہ

بابری مسجد : بھارتی سپریم کورٹ نے تنازع کے حل کیلئے ثالثی ٹیم بنا دی

بھارت کی سپریم کورٹ نے مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان بابری مسجد اور رام مندر کی زمین کا تنازع حل کرنے کے لیے ثالثی ٹیم تشکیل دے دی۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ‘اے پی’ کے مطابق اٹارنی وِشنو جین نے کہا کہ عدالت نے تین رکنی ٹیم کو رپورٹ پیش کرنے کے لیے 4 ہفتے کا وقت دیا ہے، جبکہ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج پینل کی سربراہی کریں گے۔ اگر مصالحت کی کوشش ناکام ہوتی ہے تو سپریم کورٹ یہ تنازع حل کرے گی۔ واضح رہے کہ بھارت کی عدالت عظمیٰ میں 2010 کے نچلی عدالت کے فیصلے کے خلاف درخواستیں زیر سماعت ہیں۔ ماتحت عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ 2.77 ایکڑ متنازع اراضی مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان تقسیم ہو گی۔

واضح رہے کہ پہلے مغل بادشادہ بابر کے حکم پر 1528 میں بابری مسجد تعمیر کی گئی جسے انتہاپسند ہندوؤں نے 6 دسمبر 1992 کو شہید کر دیا تھا۔ ایودھیا میں واقع بابری مسجد کو 1992 میں شہید کیے جانے کے بعد بھارت میں بڑے پیمانے پر ہندو مسلم فسادات ہوئے تھے، جس میں تقریباً 2 ہزار افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ انتہا پسند ہندوؤں کا کہنا ہے کہ وہ اس مقام پر ہندو دیوتا ‘رام’ کا نیا مندر تعمیر کرنا چاہتے ہیں، جو ان کی جائے پیدائش ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ 16ویں صدی کی بابری مسجد، مسلم بادشاہوں نے ہندو دیوتا کا مندر گرانے کے بعد قائم کی تھی۔ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے 2014 میں انتخابات سے قبل اس مقام پر مندر تعمیر کرنے کا وعدہ کیا تھا، جس کی وجہ سے انہیں انتہا پسند ہندوؤں کے بڑے پیمانے پر ووٹ ملے تھے۔

بشکریہ ڈان نیوز

بی جے پی کو جو چاہیے تھا اسے مل گیا ؟

امریکی صحافی مائیکل کنرلی کا کہنا ہے کہ جب کسی سیاست دان کے منہ سے سچ نکل جائے تو اسے زبان کی لغزش کہا جا سکتا ہے۔ گزشتہ ہفتے انڈیا کی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے سرکردہ رہمنا سے یہ ہی حرکت سر زد ہو گئی۔ بی ایس یدیورپا نے کہا کہ پاکستان پر انڈیا کے فضائی حملے سے ان کی جماعت آئندہ عام انتخابات میں دو درجن سے زیادہ نشستیں حاصل کرے گی۔ کرناٹک کی ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ یدیورپا کی یہ بات حیران کن طور پر صاف گوئی پر مبنی تھی۔ لیکن ان کا یہ بیان فوراً ہی حزب اختلاف کی جماعتوں نے اُچک لیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ نریندر مودی کی جماعت کی طرف سے کھلا اعتراف ہے کہ آئندہ عام انتخابات سے صرف ایک ماہ قبل وہ جوہری صلاحیت رکھنے والے اپنے ہمسایہ ملک سے کشیدگی بڑھا رہا ہے۔ نریندر مودی مسلسل دوسری مرتبہ اقتدار حاصل کرنے کی کوششوں میں ہے۔

یدیورپا کی صاف گوئی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو بھی شرمندگی سے دوچار کر دیا ہے۔ وفاقی وزیر وی کے سنگھ کو اس بارے میں ایک بیان دینا پڑا جس میں کہا گیا کہ گزشتہ ہفتے پاکستان کے خلاف فضائی حملہ ملک کے دفاع اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا تھا نہ کہ انتخابات میں چند نشستیں جیتنے کے لیے۔ کوئی سیاسی جماعت یہ اعتراف کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی کہ وہ جنگ کی سی کیفیت پیدا کر کے انتخابی فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ جب انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر تھی اس وقت بھی نریندر مودی بہت اطمینان سے اپنے معمولات میں مشغول تھے۔ انڈین فضائیہ کے بالاکوٹ پر حملے کے چند گھنٹوں بعد ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہا کہ ملک محفوظ ہاتھوں میں ہے اور وہ دہشت گردی کے خلاف اب بے بسی کا شکار نہیں ہو گا۔

اگلے روز پاکستان نے جوابی حملہ کیا اور انڈین فضائیہ کے ایک مگ 21 طیارے کو اپنے علاقے میں گرا لیا جس کا پائلٹ بھی پاکستان فوج کے ہاتھ چڑھ گیا۔ دو دن بعد پاکستان نے اس پائلٹ کو رہا کر دیا۔ نریندر مودی نے سائنسدانوں کے ایک اجلاس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا کا فضائی حملہ ایک ‘پائلٹ پراجیکٹ’ تھا ابھی اس طرح کے حملے اور ہوں گے۔ ایک اور موقعے پر خطاب کرتے ہوئے ان کی جماعت کے سربراہ امت شاہ نے پاکستان پر فضائی حملے میں 250 افراد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا جبکہ انڈیا کے اعلیٰ دفاعیٰ اہلکاروں کا کہنا تھا کہ انھیں نہیں معلوم کے اس حملے میں کتنے افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ملک کے کئی شہروں میں مودی کے فاتحانہ پوسٹر لگائے گئے جن میں انھیں فوجیوں کے درمیان ایک جدید ترین گن اٹھائے ہوئے دکھایا گیا اور پس منظر میں لڑاکا طیاروں اور زمین سے اٹھتے ہوئے شعلے دکھائے گئے۔

انڈیا کی مشہور ٹی وی اینکر برکھا دت نے اس پوسٹر پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ فوجیوں کی تصویریں انتخابی پوسٹر اور سٹیج پر لگی دیکھ کر وہ یقینی طور پر پریشان ہوئی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس پر پابندی ہونی چاہیے کیونکہ وردی کو ووٹ حاصل کرنے کے لیے استعمال کرنے سے وردی کی حرمت پر حرف آتا ہے۔ مودی نے حزب اختلاف کی جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ سرحدوں پر کشیدگی کو سیاست کے لیے استعمال نہ کریں۔ حزب اختلاف کی جماعتیں اس بات پر جھنجھلاٹ کا شکار ہیں کہ مودی نے اپنے ہی الفاظ کی پاسداری نہیں کی۔ گزشتہ ہفتے انھوں نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ قومی سلامتی کو چھوٹے چھوٹے سیاسی مفادات سے بالا تر رکھنا چاہیے۔

ادنیٰ سیاسی مفاد
کیا حالیہ بحران سے مودی کو زیادہ ووٹ حاصل کرنے میں مدد ملے گی؟ دوسرے لفظوں میں کیا قومی سلامتی انتخابی مہم میں ایک مرکزی نکتہ بن سکتی ہے؟ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ مودی اپنی انتخابی مہم قومی سلامتی کے مسئلہ پر ہی چلائیں گے۔ گزشتہ ماہ پلوامہ پر دہشت گردی کے حملے میں چالیس فوجیوں کی ہلاکتوں کے واقع سے قبل مودی سیاسی طور پر کمزور نظر آ رہے تھے۔ ان کی جماعت نے پانچ ریاستی انتخابات میں سے تین میں شکست سے دوچار ہو گئی تھی۔ اس کے علاوہ ملک میں کسانوں کی حالت اور بڑھتی ہوئی بے روز گاری جیسے اہم مسائل سے حکومت نمٹنے میں ناکام نظر آ رہی تھی۔

اب بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ مودی کے جیتنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں کہ کیونکہ اب وہ ملک کی سرحدوں کے طاقتور محافظ کے طور پر اپنے آپ کو پیش کر رہے ہیں۔ انتخابی اعداد و شمار کے ماہر اور سیاست دان یوگندر یادیو کا کہنا ہے کہ یہ جنگ اور قومی سلامتی کو انتخاب میں کامیابی حاصل کرنے کی بدترین مثال ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ کیا مودی اس میں کامیاب ہوں گے کہ نہیں۔ قومی سلامتی کے مسئلہ پرانتخاب لڑنے والی حکمران جماعت کیا کامیابی حاصل کر پائے گی اس کے بارے میں ملے جلے اشارے مل رہے ہیں۔

امریکی کی براؤن یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر آشوتوش واراناسی کا کہنا ہے کہ ماضی میں عام انتخابات سے اتنے قریب قومی سلامتی کا کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔ چین سے سنہ 1962 میں اور 1971 میں جنگ عام انتخابات کے بعد ہوئی تھیں۔ سنہ 1965 میں جب پاکستان سے جنگ ہوئی تو عام انتخابات دو سال بعد ہونا تھے۔ انڈین پارلیمنٹ پر سنہ 2001 میں حملے کا واقعہ جس کی وجہ سے انڈیا اور پاکستان جنگ کے دہانے تک پہنچ گئے تھے عام انتخابات سے دو سال بعد ہوا تھا۔ ممبئ پر سنہ 2008 میں دہشت گردی کے جو حملے ہوئے تھے اس وقت عام انتخابات پانچ ماہ بعد ہونا تھے اور کانگریس نے قومی سلامتی کو اپنے انتخابی مہم کا حصہ بنائے بغیر انتخابات میں کامیابی حاصل کر لی تھی۔

پروفیسر واراناسی نے کہا کہ ایک انتہائی منقسم ملک میں قومی سلامتی سے متعلق یہ واقعہ عام انتخابات سے صرف چند ہفتوں قبل پیش آیا ہے۔ شہروں میں متوسط طبقے میں اضافے کا مطلب ہے کہ قومی سلامتی کا مسئلہ بہت بڑی آبادی کے لیے بہت اہم ہے۔ پروفیسر وارانسی کے مطابق سب سے بڑھ کر یہ بات اہم کہ دلی میں کسی کی حکومت قائم ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہندو قوم پرست دائیں بازو کی جماعت ہمیشہ سے ہی کانگریس کے مقابلے میں قومی سلامتی کے معاملات میں سخت گیر موقف کی حامل رہی ہے۔ علاقائی جماعتوں کے لیے ماسوائے چند ایک کے قومی سلامتی کا معاملہ اتنا بڑا انتخابی مسئلہ نہیں بنتا کیونکہ یہ علاقی شناخت اور ذات پات کی بنیادوں پر سیاست کرتی ہیں۔

براؤن یونیورسٹی کے ایک اور پروفیسر بھانو جوشی کے خیال میں مودی کی سخت گیر اور جارحانہ خارجہ پالیسی اور ان کے بیرون ملکوں دوروں میں عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں ان کے ووٹروں کے لیے دل جیتنے کا باعث بن سکتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ انڈیا کے شمالی حصوں میں کام کے دوران انھیں لگا کہ لوگ بین الاقوامی سطح پر انڈیا کے اثر و رسوخ میں اضافے کا اکثر ذکر کرتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ بالاکوٹ پر فضائی حملے اور پاکستان اور انڈیا کے درمیان پائی جانے والی دشمنی کے پس منظر میں یہ تاثر مزید تقویت پڑے گا۔

سوتک بسواس
بشکریہ بی بی سی ہندی

بھارت کا روس سے جوہری آبدوز کیلئے تین ارب ڈالر کا معاہدہ

بھارت نے روس سے دس سالہ لیز پر تیسری جوہری آبدوز کے حصول کے لیے 3 ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں جس سے بھارت نے روایتی حریف پاکستان اور چین کے خلاف بحیرہ ہند میں اپنی طاقت میں اضافہ کر لیا۔ خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق معاہدے کی تکمیل میں کئی مہینے لگے جو پاکستان کے خلاف بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطے میں چین کے اثر و رسوخ کے پیش نظر سامنے آیا ہے۔ غیرملکی خبرایجنسی کو بھارتی وزارت دفاع کے ترجمان نے معاہدے کی تصدیق نہیں کی لیکن رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے روس سے تیسری آبدوز لیز پر لینے کا معاہدہ کیا ہے جو 2025 میں فراہم کی جائے گی۔

یاد رہے کہ روس اور بھارت سرد جنگ کے اتحادی ہیں اور بھارت کو اسلحہ فروخت کرنے کے حوالے سے روس اہم ملک ہے جبکہ امریکا نے ماسکو سے اسلحے کی خریداری پر پابندیاں بھی عائد کر دی ہے۔ گزشتہ برس اکتوبر میں روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں بھارت کا روس سے ایس-400 ائرمیزائل کے 5 ارب 20 کروڑ ڈالر کے دفاعی منصوبے کا معاہدہ ہوا تھا۔ میڈیا نے بھارت کے آبدوز کے معاہدے کو نہ صرف پاکستان سے کشیدگی کا نتیجہ قرار دیا ہے بلکہ بحیرہ ہند میں چین کے بڑھتی ہوئی دفاعی طاقت کے مقابلے کی تیاری بھی قرار دیا ہے۔

امریکا کی طرح بھارت کو بھی چین کی خطے میں بڑھتی ہوئی دفاعی طاقت سے خوف ہے کیونکہ بھارت بھی اثر و رسوخ کو بڑھانا چاہتا ہے۔ چین اور بھارت کی فوجیں 2017 میں ہمالیہ میں آمنے سامنے آئی تھیں جس پر چین اور بھارتی اتحادی بھوٹان دونوں ممالک کا دعویٰ ہے۔ بیلٹ اینڈ روڑ منصوبے کے تحت چین کے سری لنکا اور مالدیپ سے رابطوں کو بھارت خطے میں اثر و رسوخ کے طور پر دیکھتا ہے۔ خیال رہے کہ بھارت نے چین اور پاکستان کے درمیان پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) میں آزاد کشمیر کو بھی شامل کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

بھارت نے روس سے آبدوز کا معاہدہ ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے کیونکہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں فوجیوں پر حملے کے بعد 26 فروری کو بھارت نے پاکستانی حدود میں داخل ہو کر فضائی کارروائی کا دعویٰ کیا تھا۔ پاکستان نے اگلے روز بھارتی کی جانب سے دخل اندازی کی دوسری کوشش کو ناکام بناتے ہوئے دو طیارے مار گرا دیے تھے اور ایک پائلٹ کو بھی گرفتار کر لیا تھا جس کے بعد کشیدگی عروج کو پہنچ گئی تھی اور دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان جنگ کے خطرات منڈلانے لگے تھے تاہم پاکستان نے خیرسگالی کے طور پر بھارتی پائلٹ کو رہا کیا تھا۔ بعد ازاں پاکستان نیوی نے بھارتی آبدوز کی پاکستانی حدود میں داخلے کی کوشش کو ناکام بنا دیا تھا۔

بشکریہ DW اردو