امریکا کی پوری کوشش ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین تازہ شدید کشیدگی ایک تیسرے ملک کو متاثر نہ کرے۔ یہ ملک افغانستان ہے، جہاں 17 برسوں سے زائد عرصے سے جاری جنگ میں امریکا کو اب طالبان کے ساتھ قیام امن کی امید ہے۔ اس پس منظر میں امریکا میں ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ اہلکاروں نے بتایا کہ امریکا نے اسلام آباد میں پاکستان کے اعلیٰ حکام سے رابطوں میں اس بات پر زور دیا کہ بھارت کے ساتھ کسی بھی مسلح تصادم کے خطرے کو کم کیا جائے۔ ان رابطوں کے دوران اسلام آباد کی طرف سے مبینہ طور پر امریکہ کو افغانستان کے حوالے سے ‘تنبیہی پیشکشیں’ بھی کی گئیں۔
ایک امریکی اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پاکستانی حکام کی طرف سے امریکا سے کہا گیا کہ اگر پاکستان اور بھارت کے مابین موجودہ کشیدگی ایک باقاعدہ اور بھرپور ‘بحران’ کی شکل اختیار کر گئی، تو اس سے اسلام آباد کی افغان امن مذاکرات کے لیے تائید و حمایت کی اہلیت بھی خطرے میں پڑ جائے گی۔ ایک اور اعلیٰ امریکی اہلکار نے پاکستان کی طرف سے واشنگٹن تک پہنچائی گئی تنبیہات میں دئیے گئے پیغام کو دوہراتے ہوئے بتایا، وہ ان مذاکرات کے سہولت کار ہونے سے ہاتھ کھینچ لیں گے۔ وہ اس دباؤ سے بھی ہاتھ کھینچ لیں گے، جو وہ (افغان طالبان پر) ڈال رہے ہیں۔
پاکستان ایک سے زائد مرتبہ اور باضابطہ طور پر ان الزامات کی تردید کر چکا ہے کہ پلوامہ میں ہوئے خود کش بم حملے میں اس کا کسی بھی قسم کا کوئی کردار تھا۔ اب جب کہ امریکا افغان طالبان کے ساتھ امن مذاکرات شروع کر چکا ہے اور اس عمل میں پاکستان نے پس پردہ رہتے ہوئے طالبان کو مذاکرات کی میز تک لانے میں بھی اپنا کردار ادا کیا ہے، واشنگٹن یہ نہیں چاہتا کہ نئی دہلی اور اسلام آباد کے مابین کشیدگی سے امریکا کے افغان طالبان کے ساتھ کسی ممکنہ امن معاہدے کے لیے بات چیت پر اثر پڑے اس سلسلے میں امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سابق اعلیٰ اہلکار لارل ملر نے بتایا، ‘‘میرے خیال میں پاکستان اس بات کا اہل ہے کہ (افغانستان میں) قیام امن کا راستہ روک دے ۔’’
اسی بارے میں امریکا کے پاکستان اور افغانستان کے لیے سابق خصوصی مندوب ڈین فیلڈمین نے بتایا کہ پاکستان میں کئی اعلیٰ حکام ایسے ہیں جو بھارت کے ساتھ روابط کے نگران بھی ہیں اور افغانستان کے ساتھ تعلقات کے بھی۔ ‘‘اسی لیے وہ افغان امن مذاکرات پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔’’ڈین فیلڈ مین کے مطابق امریکا میں ٹرمپ انتظامیہ نے جنوبی ایشیا پر اپنی توجہ کے جس فقدان کا اب تک مظاہرہ کیا ہے، وہ مختلف مسائل کی وجہ بن رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ٹرمپ انتظامیہ کو اس خطے کے لیے اپنی حکمت عملی میں زیادہ گہری اور مرکوز سوچ اور پھر اسی سوچ پر عمل درآمد کی ضرورت ہے۔
انڈیا میں بین الاقوامی امور کے ماہرین کے سالانہ اجلاس انڈیا ٹوڈے کانکلیو میں مشہور دانشور پرتاپ بھانو مہتا نے آنے والے عام انتخابات کو بے حد اہم بتایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ متعدد ماہرین کا خیال ہے انڈین جمہوریت کا وجود ان انتخابات کا مرکز ہو گا۔ انڈیا میں گزشتہ چند برسوں میں ہونے والی سیاسی اور سماجی تبدیلیوں کے بارے میں پرتاپ بھانو مہتا نے کہا کہ اصلیت یہ نہیں ہے کہ انڈیا کی جمہوریت خطرے میں ہے بلکہ یہ کہ موجودہ حالات میں بہتری کی امید بھی مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔ انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر 2019 کے عام انتخابات کے بعد نئی حکومت میں توازن نہیں ہو گا تو انڈین جمہوریت خطرے میں آ جائے گی۔
پرتاپ بھانو مہتا نے کہا میں حکومت کے پانچ برس کے کام کاج کے بارے میں رپورٹ کارڈ کی طرح بات نہیں کروں گا۔ میں ان موضوعات کے بارے میں بات کروں گا جن کے بارے میں ہم گزشتہ پانچ برسوں میں بات نہیں کر پائے۔ ایک بات تو واضح ہے کہ انڈین جمہوریت نہ صرف خطرے میں ہے بلکہ 2019 کے انتخابات میں بہت کچھ داؤ پر لگا ہے اور امید بہت کم ہے۔ سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ جمہوریت بچے گی یا نہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں جو ماحول بنا ہے اس سے گزشتہ 10-15 برسوں میں جو امیدیں پیدا ہوئی تھیں وہ سب داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔‘ایسا اس لیے ہے کیونکہ مجھے لگ رہا ہے کہ ہماری جمہوریت کے ساتھ کچھ ایسا ہو رہا ہے جو جمہوریت کی روح کو ختم کر رہا ہے۔ ہم غصے سے جلتے دلوں، چھوٹی ذہنیت اور چھوٹی روح والے ملک کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔
پرتاپ بھانو مہتا نے کہا کہ جمہوریت آزادی اور جشن کا نام ہے جہاں یہ معلوم کرنا اہم ہوتا ہے کہ لوگ کہاں جا رہے ہیں اور نہ ہی یہ کہ وہ ماضی میں کہاں سے آئے ہیں۔ قوم پرستی یا اپنی قوم کے مفادات کا والہانہ جذبہ اب ثابت کرنے کی چیز ہو گئی ہے۔ قوم پرستی کا استعمال لوگوں کو بانٹنے میں کیا جا رہا ہے ۔ آپ جتنی چاہیں قوم پرستی کی باتیں کر لیں لیکن یہ معاملہ اب آپ کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ سچائی یہ ہے کہ ہر سماج میں پراپیگنڈا ہوتا ہے۔ ہر حکومت اپنے حساب سے سچائی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتی ہے۔ ہر حکومت اپنے فائدے کے لیے ماحول بنانا چاہتی ہے۔
لیکن کیا آپ نے یہ محسوس کیا ہے کہ گزشتہ بیس برسوں میں معلومات پیدا کرنے کا مقصد صداقت نہیں ہے ؟ آپ سوچئے نہیں، سوال نہ پوچھئے ورنہ آپ ملک مخالف ہو جائیں گے۔ پبلک ڈسکورس کا ڈھانچہ ہی ایسا بنایا جا رہا ہے۔ جمہوریت کا سب سے اہم عنصر آزادی ہے۔ ہمیں یہاں یہ بھی یاد رکھنا ہو گا کہ غریب افراد کی مدد کرنے والے لوگ جیل میں ہیں۔ اصلیت یہ ہے کہ انڈیا کی کوئی بھی حکومت، چاہے وہ کسی بھی پارٹی کی رہی ہو، شہری آزادیوں کی بات نہیں کرتی۔ شہریوں کی آزادی کے تحفظ کے موضوع پر حکومت حزب اختلاف کی پارٹیوں کو بھی ساتھ لے کر نہیں چلنا چاہتی۔ جمہوریت کے بارے میں بات کرنا اب خطرناک ہو گیا ہے۔ ملک گیا، صداقت گئی، آزادی گئی۔
دانشور پرتاپ بھانو مہتا نے مزید کہا جدید بھارت میں مذہب کے آئیڈیا میں تیزی سے بنیادی تبدیلی آ رہی ہے۔ اس کے تین زاویے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اقتدار کی طاقت کے لیے مذہب کا استعمال ہو رہا ہے ۔ مذہبی رہنما اقتدار کے سامنے جھک رہے ہیں۔ دوسرا یہ کہ بڑی بڑی باتیں کرنے کا رواج بڑھ رہا ہے۔ جیسے یہ کہ ہم اپنے خدا کی حفاظت کریں گے، بجائے اس کے کہ خدا ہماری حفاظت کرے گا۔ اور تیسری اور اہم بات یہ کہ سبھی مذاہب کو ایک ہی حکومتی ڈھانچے میں آنا ہو گا۔ مذہبوں کو ایسی ایک جیسی شکل دے دی جائے کہ وہ ایک مشترکہ طاقت میں تبدیل ہو جائے۔ اصل میں مذہب ہمیں عدم مشابہت کی جانب لے جاتا ہے لیکن اب مذہب کو آپ کی شناخت میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
جس کی وجہ سے کسی بھی شخص پر حملہ کیا جا سکتا ہے۔ کچھ معاملوں میں سماج ہمیشہ ہی بدتہذیب رہا ہے۔ لیکن تہذیب کے بارے میں اقدار طاقتور لوگ طے کرتے ہیں۔ دیکھا جائے تو یہ ان کا ایک واحد کام ہے۔ ان کا کام یہ طے کرنا ہے کہ کب کیا کہا جانا صحیح ہو گا اور کیا غلط۔ لیکن جب وہی لوگ آپ کو دھمکانے کا کام کریں اور لوگوں کو ملک مخالف قرار دیں تو کیا بچے گا ؟ تہذیب بھی گئی۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ان تمام باتوں نے جمہوریت کو زخمی کر دیا ہے۔ ہر اس یقین کو توڑا گیا ہے جو انڈیا کی جمہوریت اپنے شہریوں کو ایک دوسرے کے لیے دیتی ہے ۔ اگر پانچ برسوں میں بننے والی یہ ثقافت جاری رہی تو آپ اپنی آزادی، صداقت، اپنے مذہب اور یہاں تک کہ اپنے ملک کو واپس نہیں لوٹا پائیں گے ۔ یہی 2019 کے عام انتخابات کا سب سے بڑا چیلنج ہے ۔