بھارت کو جواب دینے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا، ترجمان پاک فوج

ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس بھارت کی دراندازی کا جواب دینے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ بھارت کی دراندازی کے جواب میں پاکستان نے بھارت کو کرارا جواب دیتے ہوئے 2 بھارتی طیاروں کو مارگرایا جس کے نتیجے میں 2 بھارتی پائلٹس ہلاک ہو گئے اور دو کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس بارے میں پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاک فضائیہ نے بھارت کے 6 اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے بھارت کے دو طیاروں کو مار گرایا، بھارت میں ایک اور طیارہ گرنے کی بھی اطلاع ہے لیکن اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں، پاکستانی مسلح افواج کے پاس بھارتی دراندازی اور جارحیت کا جواب دینے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا، یہ بھارت کی گزشتہ روز ہونے والی کارروائی کا بدلہ نہیں ہے بلکہ اپنے دفاع کی صلاحیت کا مظاہرہ ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارتی جارحیت کے بعد فیصلہ کیا تھا کہ فوجی ہدف کو نشانہ نہیں بنائیں گے اور نہ ہی کوئی جانی نقصان ہونا چاہیے، پاک فضائیہ نے اپنی حدود میں رہتے ہوئے 6 اہداف کا انتخاب کر کے انہیں نشانہ بنایا، ہم سب کچھ کر سکتے ہیں لیکن خطے کے امن کی خاطر نہیں کرتے اور جنگ کی طرف نہیں جانا چاہتے، طاقت کا ہونا ایک بات ہے لیکن اس کا ذمہ داری سے استعمال ہی اہم بات ہے۔ ترجمان پاک فوج نے بھارتی میڈیا کے پاکستانی ایف 16 کو مار گرانے کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پاک فضائیہ کے جے ایف 17 تھنڈر نے بھارتی میراج طیارے گرائے اور اس آپریشن میں ایف سولہ استعمال نہیں ہوئے، ہم نے ناریان میں دو، دو جبکہ بھمبر گلی اور کے جی ٹاپ میں ایک ایک بھارتی ہدف کو نشانہ بنایا، بھارتی جہاز تباہ ہو کر آزاد کشمیر کے علاقے پیرگلی میں گرا۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ ہم کشیدگی کو بڑھانا نہیں چاہتے، پاکستان تمام تر صلاحیت رکھنے کے باوجود امن کا پیغام دیتا ہے، جنگ پالیسی کی ناکامی ہے، جنگ شروع کرنا آسان ہے لیکن کسی کو نہیں پتہ ہوتا کہ وہ ختم کہاں ہو گی۔ ترجمان پاک فوج نے بریفنگ کے بعد میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے ہماری حدود میں آکر چار بم گرائے تو ہم نے ان کے چھ اہداف کو نشانہ بنایا، دونوں گرفتار بھارتی پائلٹس ہماری تحویل میں ہیں جن میں سے ایک زخمی ہے جسے سی ایم ایچ میں داخل کروایا گیا ہے، گرفتار پائلٹس سے انتہائی مہذب سلوک ہو رہا ہے۔ ترجمان پاک فوج نے مزید کہا کہ آج پاک بھارت ڈی جی ملٹری آپریشنز کے درمیان رابطہ نہیں ہوا، بھارت کنٹرول لائن پر کشیدگی اور جارحیت بڑھا رہا ہے، ایل او سی پر تازہ بھارتی جارحیت سے چار سویلین شہری شہید ہوئے۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز اردو

بھارت نے گھٹنے ٹیک دیئے، سشما سوراج کی جنگ سے گریز کی دہائی

جنگ کی گردان کرنے والا بھارت اپنے دو طیاروں کے تباہ ہونے کے بعد کشیدگی کے خاتمے کی دہائی دینے لگا۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق جنگ کی گردان کرنے والا بھارت پاک فوج کی صرف ایک کارروائی کے بعد گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گیا ہے اور عالمی سطح پر کشیدگی کے خاتمے کی دہائی دینے لگا ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا ہے کہ بھارت تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مزید کشیدگی نہیں چاہتا، کیونکہ جنگ سے کسی کو فائدہ نہیں ہو گا، دونوں ممالک کے سرحدوں کے درمیان کشیدگی سے پورے خطے میں منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کشیدگی کے خاتمے کی خواہش کا اظہار چین میں آر آئی سی (روس، انڈیا،چین) کے وزرائے خارجہ کے اہم اجلاس میں شرکت کے دوران دیا۔ جہاں بھارتی وزیر خارجہ کو بھارتی جارحیت پر تنقید کا سامنا تھا۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز بھارتی فضائیہ کے طیاروں نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی تاہم پاک فضائیہ کے شاہینوں نے بزدل بھارتیوں کو بھاگنے پر مجبور کر دیا تھا اور آج پاکستان نے دو بھارتی طیاروں کو گرایا ہے۔

عراق کی مشہور بندرگاہیں

 عراق پر عربوں کے قبضے سے پہلے بصرہ کے قریب واقع ابلہ نامی بندرگاہ خلیج فارس کی سب سے بڑی اور مشہور بندرگاہ تھی ۔ ابلہ سے ہندوستان کی تجارتی آمدورفت اس کثرت سے تھی کہ اہل عرب ابلہ کو ہندوستان ہی کا ایک ٹکڑا سمجھتے تھے۔ چین اورہندوستان سے آنے والے جہاز یہیں ٹھہرتے، اور یہیں سے روانہ ہوتے تھے۔ عراق کی فتح کے بعد حضرت عمرؓ نے 14ء میں اس پر قبضہ کرنے اور اسے مسلمانوں کا تجارتی شہر بنانے کی ہدایت دی ۔ چنانچہ اس وقت سے لے کر 256ھ تک یہ بندرگاہ قائم رہی۔ مگر زنگیوں کی لڑائی میں ،256ھ میں یہ بندرگاہ تباہ ہو گئی۔

عراق کی دوسری مشہور بندرگاہ بصرہ کے نام سے 14ء ہی میں عربوں نے بنالی تھی مگر وہ ابلہ کی تجارتی حیثیت کو کم نہ کر سکی۔ اس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ بصرہ تجارتی مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ جنگی اور سیاسی مرکز بھی بن گیا تھا۔ ہندوستان کے علاوہ چین اور حبشہ سے بھی تاجرآنے لگے ۔ اس نے سیاسی انقلابات کے باوجود بڑی رونق حاصل کر لی۔ خصوصاً پہلی صدی ہجری کے آخر میں سندھ پر عربوں کا قبضہ ہو جانے کے سبب یہ ہندوستان کی آمد و فت کا مرکز بن گئی۔ کشتیوں اور جہازوں پرعائد داخلہ محصول بڑھنے سے یہ خلافت کی آمدنی کا بڑا ذریعہ بھی بن گئی تھی۔

سید سلیمان ندوی

خود سمندر میں ڈوب جانے والا ایلان کردی اب دوسروں کو بچائے گا

ایلان کردی ایک ایسے معصوم تارک وطن بچے کا نام تھا، جس کی ترکی کے ایک ساحل سے ملنے والی لاش پوری دنیا کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا بن گئی تھی۔ اب اس بچے کے نام کا ایک جرمن بحری جہاز سمندر میں تارکین وطن کو ڈوبنے سے بچائے گا۔ ایلان کردی شام کا کرد نسل کا ایک ایسا بچہ تھا، جو ستمبر 2015ء میں اپنے خاندان کے ہمراہ یورپ کی طرف سفر میں تھا۔ اس کے والد عبداللہ کردی نے انسانوں کے اسمگلروں کو رقوم دے کر یہ انتظام کیا تھا کہ اس کے خاندان کو ایک کشتی کے ذریعے ترکی سے یونان کے ایک جزیرے پر پہنچایا جانا تھا۔ اس خاندان کو اسمگلروں کی طرف سے مہیا کی گئی ربڑ کی کشتی میں ایلان، اس کا بھائی غالب، والدہ ریحانہ، والد عبداللہ کردی اور کئی دیگر تارکین وطن بھی سوار تھے۔ یہ کشتی طوفانی لہروں کی وجہ سے سمندر میں ڈوب گئی تھی۔ اس واقعے میں ایلان، اس کا بھائی اور اس کی والدہ سمندر میں ڈوب گئے تھے جبکہ اس کا والد زندہ بچ گیا تھا۔

پھر ایلان کردی کی ننھی لاش کو سمندر کی لہروں نے لا کر ترکی میں بودرُم کے ساحل پر پھینک دیا تھا۔ اس بچے کی لاش کی دنیا بھر میں گردش کرنے والی تصویریں عالمی ضمیر کے لیے ایک بڑا دھچکا اور انتہائی تکلیف دہ منظر ثابت ہوئی تھیں۔ اب کھلے سمندروں میں یورپ آنے کے خواہش مند تارکین وطن کو بچانے والی ایک جرمن تنظیم نے اپنے ایک چھوٹے امدادی بحری جہاز کا نام ایلان کردی کے نام پر رکھ دیا ہے۔ اس کے لیے ایک باقاعدہ تقریب منعقد کی گئی اور اس رسم کے لیے ایلان کردی کے والد عبداللہ کردی کو خاص طور پر مدعو کیا گیا۔ اس جرمن بحری جہاز کا نام ماضی میں ’پروفیسر البریشت پَینک‘ تھا اور اسے ایلان کردی سے موسوم کرنے کی تقریب اسپین میں پالما دے مایورکا کی ایک بندرگاہ میں منعقد کی گئی۔ یہ جہاز جرمن شہر ریگنزبرگ میں قائم بحری امدادی تنظیم ’سی آئی‘ (Sea Eye) کی ملکیت ہے۔

سب سے اہم بات
’سی آئی‘ کے ترجمان گورڈن اِیزلر کے مطابق، ’’اس ریسکیو شپ کا نام ’ایلان کردی‘ رکھنے کا واحد مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو یاد رہے کہ اہم ترین بات کیا ہے؟ واحد بہت اہم بات یہی ہے کہ ان انسانوں کے بدقسمتی اور ان کے لواحقین کے لامتناہی درد کو یاد رکھا جانا چاہیے، جو بہتر مستقبل کے لیے یورپ پہنچنے کی کوشش میں ہر روز بحیرہ روم کے پانیوں میں ڈوب جاتے ہیں۔‘‘ اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایلان کردی کے والد عبداللہ کردی نے کہا، ’’میں Sea Eye کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اپنے اس جہاز کا نام تبدیل کر کے میرے بیٹے کا نام پر رکھا ہے۔ اب اس معصوم بچے کا نام کسی اچھے مقصد کے لیے استعمال ہو سکے گا اور اس کی روح کو بھی چین ملے گا۔‘‘ عبداللہ کردی کے مطابق ایسے کئی ہزار دیگر خاندان بھی ہیں، جنہوں نے اپنے بہت پیارے اور معصوم بچے اسی طرح کی المناک اموات کی صورت میں گنوا دیے ہیں۔

ساٹھ سے زائد سمندری امدادی مشن
’سی آئی‘ تارکین وطن کی مدد کرنے والی ایک ایسی جرمن امدادی تنظیم ہے، جو 2016ء سے لے کر اب تک بحیرہ روم کے پانیوں میں اپنے 60 سے زائد ریسکیو مشنوں کے ذریعے غیر محفوظ کشتیوں میں یورپ کی طرف سفر کرنے والے 14 ہزار سے زائد انسانوں کو سمندر میں ڈوبنے سے بچا چکی ہے۔ اب اس جرمن تنظیم کو بھی کئی دیگر جرمن اور یورپی امدادی تنظیموں کی طرح یورپی یونین کے رکن متعدد ممالک کی طرف سے اپنی امدادی کارروائیوں کے خلاف مسلسل سخت سے سخت تر ہوتے ہوئے اقدامات کا سامنا ہے۔

 بشکریہ DW اردو