آئی ایم ایف پیکیج اور معاشی اصلاحات

زبوں حال ملکی معیشت کی بحالی کیلئے دوست ملکوں اور عالمی ذرائع سے مالی معاونت اور طویل المیعاد قرضوں کے حصول کی کوششوں کے سلسلے میں حکومت کو ایک اور کامیابی ملی ہے۔ دبئی میں وزیراعظم عمران خان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لیگارڈ کے درمیان تقریباً پون گھنٹہ جاری رہنے والی ملاقات میں پاکستان کے لئے تقریباً 6 ارب ڈالر کے معاشی پیکیج پر اتفاق رائے ہو گیا۔ معاہدے کی تکنیکی تفصیلات ابھی طے ہونا باقی ہیں، تاہم فریقین اس کے بنیادی نکات پر متفق ہو گئے ہیں اور توقع ہے کہ اپریل تک پیکیج کی شرائط کو حتمی شکل دے دی جائے گی جس کے بعد جون میں اس پر عملدرآمد شروع ہو جائے گا اور یہ بیل آئوٹ پیکیج اگلے مالی سال کے بجٹ کا حصہ ہو گا، پیکیج اور اس کی شرائط پر فریقین کے حکام میں کئی ماہ سے مذاکرات جاری تھے۔

آئی ایم ایف جو شرائط منوانا چاہتا تھا وہ پاکستان کیلئے قابل قبول نہیں تھیں جس کی وجہ سے صورت حال بے یقینی کا شکار تھی۔ آئی ایم ایف کے ماہرین پاکستان میں معاشی اصلاحات چاہتے تھے جن کے نتیجے میں عوام پر بوجھ پڑنا فطری امر تھا۔ تاہم اعلیٰ ترین سطح سے مداخلت کے نتیجے میں فریقین میں وسیع البنیاد مفاہمت ہو گئی اور وزیراعظم عمران خان اور آئی ایم ایف کی سربراہ کے درمیان بات چیت کے بعد اعلان کیا گیا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف معاشی اصلاحات پر متفق ہو گئے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے ورلڈ گورنمنٹ سمٹ میں خطاب کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ وہ پاکستان میں معاشی اصلاحات کر رہے ہیں جو اگرچہ مشکل ہیں لیکن ضروری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں پاکستان کو بہت اوپر لے کر جانا چاہتا ہوں، یہاں سرمایہ کاری کا بہترین وقت ہے، سرمایہ کار یہاں آکر پیسہ بنانے کا موقع ضائع نہ کریں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ معاشی اصلاحات کے عمل سے کم آمدنی والے طبقے کو تحفظ ملے گا۔ آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر نے کہا کہ پاکستانی معیشت میں استحکام، معاشی اصلاحات اور فیصلہ کن پالیسیوں سے آئے گا، ہم پاکستان کی مدد کیلئے تیار ہیں۔ بہتر گورننس اور غریب کا معیارِ زندگی بلند کرنے کیلئے مضبوط مالیاتی پیکیج ضروری ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ پاکستان کی حکومت درست سمت میں معاشی اقدامات کر رہی ہے۔ بیل آئوٹ پیکیج کیلئے پاکستان نے آئی ایم ایف سے کیا مراعات حاصل کیں اور کون سی شرائط میں اسے نرمی پر آمادہ کیا اس حوالے سے زیادہ تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم سینئر حکام اور ماہرین نے اپنی معلومات کی بنا پر بتایا ہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اپنی معیشت میں اسڑکچرل اصلاحات لائے گا۔ ریونیو اکٹھا کرنے کا ہدف بھی وہی طے کرے گا جو موجودہ سال کے 4.39 کھرب کے مقابلے میں 4.7 کھرب روپے ہو سکتا ہے۔

اس کے علاوہ اس کی لازمی شرائط میں تیل، بجلی اور گیس کے نرخوں میں ردو بدل، ٹیکس نیٹ میں توسیع، سرکاری سیکٹر کے اداروں کے خسارے میں کمی لانا، اسٹیٹ بینک کو مزید خود مختاری دینا، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی شرح مارکیٹ ریٹس کی شرح کے مطابق بنانا اور وسیع البنیاد اسٹرکچرل ریفارمز شامل ہیں۔ یہ بھی طے ہے کہ معاہدے کی تفصیلات حتمی شکل دینے سے قبل عوام کے سامنے نہیں لائی جائیں گی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ بجٹ میں زیادہ تر معاشی اقدامات آئی ایم ایف کے مطالبات پر مبنی ہوں گے۔ بجلی اور گیس مزید مہنگی ہو گی اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت مزید کم کی جائے گی۔ ا ٓگے چل کر آئی ایم ایف پیکیج کے بہتر نتائج برآمد ہو سکتے ہیں مگر فوری طورپر مہنگائی میں اضافہ ہو گا جو پہلے ہی کافی بڑھ چکی ہے۔ مجموعی طور پر اس قرضے کے منفی اثرات کا بوجھ عوام ہی کو برداشت کرنا ہو گا۔ بنا بریں آئی ایم ایف بیل آئوٹ پیکیج کو معیشت کی بہتری کیلئے بروئے کار لانے کی خاطر زیادہ دوررس اقدامات کرنا ہوں گے۔ قرضے بڑھانے کے جو الزامات حکومت ماضی کے حکمرانوں پر لگا رہی ہے وہ پہلے ہی خود اس پر لگنا شروع ہو چکے ہیں اس لئے اسے بہتر معاشی حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنا ہو گا۔

اداریہ روزنامہ جنگ

بھارت میں سردی سے بچنے کے لیے جیل جانے کی خواہش

بھارت میں جاری غیر معمولی سردی کی لہرکے دوران قومی دارالحکومت دہلی میں بے گھر افراد خود کو سردی سے بچانے کے لیے ایک نادر طریقہ اپناتے ہوئے چھوٹے موٹے جرائم کر کے جیل جانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ یہ انکشاف اس وقت ہوا جب جنوبی ایشیا کے سب سے بڑے جیل کمپلکس دہلی کی تہاڑ جیل میں پچھلے چند دنوں کے دوران قیدیوں کی تعداد میں اچانک اضافہ ہو گیا۔ تہاڑجیل حکام کے مطابق قیدیوں کی تعداد تقریباً سولہ ہزار ہو گئی جب کہ وہاں صرف لگ بھگ دس ہزار قیدیوں کے لیے ہی گنجائش ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان نئے قیدیوں میں بیشتر بہت چھوٹے جرائم مثلاً جیب تراشی اورچاقو لے کر چلنے کے الزام میں گرفتار کیے گئے تھے۔ حکام نے گزشتہ برس کے تجربہ کی بنیاد پر بتایا کہ انہوں نے دیکھا کہ بہت سے افراد خود جیل جانا چاہتے تھے کیوں کہ وہ کھلے آسمان میں سرد راتیں گزارنے کے مقابلے میں جیل کی چہار دیواری کو اپنے لیے ’زیادہ محفوظ اور آرام دہ‘ محسوس کرتے ہیں۔

دراصل بھارت ان دنوں سخت سردی کی گرفت میں ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ دسمبر دہلی میں پچاس برسوں کے دوران تیسرا سرد ترین دسمبر رہا۔ گزشتہ مسلسل دس دنوں تک رات میں درجہ حرارت چھ ڈگری سے نیچے رہا، جوکہ پچھلے تیرہ برسوں میں سب سے طویل دورانیہ ہے۔ اس دوران کم از کم درجہ حرارت دو اعشاریہ چھ ڈگری تک گر گیا۔ سردی سے بچنے کے لیے جیل جانے کے خواہش مند یہ قیدی بالعموم چھوٹے جرائم کے الزام میں تین ماہ تک جیل میں رہنے کے بعد رہا ہو جاتے ہیں۔ اس طرح جاڑے کا موسم آسانی سے گزر جاتا ہے۔ جیل میں قید کے دوران جہاں وہ رہائش کی فکر سے آزاد ہو جاتے ہیں وہیں انہیں مفت میں گرما گرم کھانا، کمبل اور دودھ بھی مل جاتا ہے۔ جیل میں واقع اسپتال میں علاج کی مفت سہولت بھی دستیاب ہے اور اگر وہ کام کرنا پسند کریں تو جیل کے اندر واقع چھتیس چھوٹے کارخانوں میں سے کسی میں کام کر کے پیسے بھی کما سکتے ہیں۔

جیل کے ایک افسر کا اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا تھا، ’’قیدیوں کے ساتھ بات چیت کرنے سے ہمیں یہ پتہ چلا کہ کچھ قیدی جاڑے کا موسم گزارنے کے لیے خود کو گرفتار کروا لیتے ہیں۔ ایسے قیدیوں کی حتمی تعداد تو معلوم نہیں ہے تاہم ان کی تعداد درجنوں میں ہے اور یہ تعداد دسمبر، جنوری اور فروری کے مہینے میں بڑھ جاتی ہے۔ ان میں بیشتر وہ لوگ ہیں جو سڑکوں یا فٹ پاتھ پر سوتے ہیں۔‘‘ تہاڑ جیل میں قیدیوں کے لیے لاء افسر کے طور پر کام کرنے والے سنیل گپتا بھی اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’’تہاڑ جیل میں دستیاب بعض سہولیات باہر دستیاب سہولتوں سے کہیں زیادہ بہتر ہیں۔‘‘ تہاڑجیل سے جاری اعداد و شمار کے مطابق یکم جنوری 2018 کو جب دہلی کا درجہ حرارت چار ڈگری تک گر گیا تھا قیدیوں کی تعداد 15488 تھی جب کہ اس سے چھ ماہ قبل یکم جون2017 کو یہ تعداد 15244 تھی۔ سال 2017 میں بھی اسی طرح کا رجحان دیکھا گیا تھا۔

بشکریہ DW اردو