خلیج فارس ایران اور جزیرہ نما عرب کے درمیان واقع ہے۔ اسے بحرہند کی توسیع تصور کیا جاتا ہے۔ خلیج فارس نے عراق ایران جنگ کا محاذ ہونے کی وجہ سے 1980ء سے 1988ء کے دوران بین الاقوامی سطح پر ذرائع ابلاغ کی توجہ حاصل کی۔ اس کے بعد 1991ء میں ہونے والی جنگ کو خلیجی جنگ کا نام دیا گیا۔ تیل کے اخراج اور صنعت کاری کی وجہ سے اس کی آبی حیات کو خاصا نقصان پہنچ چکا ہے۔ خلیج فارس تقریباً 15 ہزار برس قبل وجود میں آئی۔
خیال کیا جاتا ہے کہ خلیج فارس کا نام سب سے پہلے قدیم ایرانی ہخامنشی سلطنت کے دور میں 550 قبل مسیح میں رائج ہوا۔ خلیج فارس 96912 مربع میل پر مشتمل ہے۔ یہ 615 میل طویل اور سب سے تنگ مقام پر صرف 35 میل چوڑی ہے۔ خلیج فارس کی اوسط گہرائی 160 فٹ ہے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ گہرائی 300 فٹ ہے۔ خلیج فارس کے ساحلی علاقے دنیا میں خام تیل پیدا کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ کچھ ممالک اسے خلیج عرب کہتے ہیں۔ خلیج فارس میں بہت سے چھوٹے چھوٹے جزائر ہیں۔
روس کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ وینزویلا کےنکولس مدورو کو ملک کا جائز حکمران تسلیم کرتی ہے اور اس کی حمایت میں جو ضروری ہوا وہ کرے گی۔ ساتھ ہی روس نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکہ نے وین گواڈو کو ملک کا عبوری صدر تسلیم کر کے بغاوت کی پشت پناہی کی ہے۔ گو کہ صدر ولادی میرپو ٹن کی قوم پرست اور سماجی لحاظ سے قدامت پسند حکومت، وینزویلا کی سوشلسٹ حکومت سے نظریات میں تضاد رکھتی ہے۔ لیکن روس کی وینزویلا کے لئے حمایت نظریات میں یکسانیت کی وجہ سے نہیں، بلکہ بغضِ امریکہ میں ہے۔ آج بھی، روسی وزارت خارجہ کے صدر دفتر کی بالائی منزل پر، سوویت دور کے پرانے نشان آویزاں ہیں۔ آج بھی ماسکو کے اندرون شہر کارل مارکس کا مجسمہ آتے جاتے لوگوں کو دیکھ رہا ہے اور لینن کے مسجمے سڑکوں پر اور زیر زمین ہر جگہ موجود ہیں۔ لیکن یہ سوشلسٹ دور کی باقيات ہیں۔
ماہرین کے نزدیک پرانے نظریات، آج روس کی نکولس مدورو کے لئے حمایت کی وجہ نہیں ہیں۔ تو پھر اس حمایت کی وجہ کیا ہے۔ اس بارے میں روس کے ایک دفاعی تجزیہ کار، پیول فینجین ہور کہتے ہیں کہ روس کی وینزویلا کی کیے لئے حمایت، نظریات کی وجہ سے نہیں بلکہ امریکہ کی مخالفت ہے۔ پیول کہتے ہیں کہ پوٹن کا موقف دائیں بازو کے کرسچین قوم پرست جیسا ہے۔ ایک طرف تو پوٹن یورپ میں، دائیں بازو کے سخت گیر موقف رکھنے والے عوامیت پسندوں کی حمایت کرتے ہیں، مگر لاطینی امریکہ میں وہ بائیں باز کے نظریات رکھنے والی حکومتوں کی، یعنی کیوبا، نکارا گوا میں اورٹیگا کی اور پھر مدورو کی۔
مدورو کی حکومت کے خلاف، امریکہ کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کے نقصاندہ اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق تیل کی بڑی کمپنی لُک آئل نے، وینزویلا میں تیل کی سرکاری تحويل میں چلنے والی کمپنی کے ساتھ اپنا معاہدہ ختم کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وینزویلا اور روس کے درمیان تجارتی معاہدے زیادہ نہیں ہیں، تاہم عسکری نوعیت کے معاہدے کہیں زیادہ اہم ہیں۔ اس بارے میں بات کرتے ہوئے، رشین انٹرنیشنل افیئرز کونسل کے ڈائریکٹر آندرے کور تونوو کہتے ہیں کہ روس اور وینزویلا کے درمیان اقتصادی روابط چند ہی ہیں۔
ایک تو اس لیے کیونکہ وہ بہت دور ہے، اور خاص طور پر وینزویلا کی معیشت کے کمزور ہونے کی وجہ سے، چھوٹی اور درمیانے درجے کی کمپنیوں کے لئے وہاں سرمایہ کاری کرنا اس وقت سود مند نہیں ہے، کیونکہ حکومت مستحکم نہیں ہے، اس لئے نجی کمپنیاں وہاں جانے سے گریزاں ہیں۔ وینزویلا کے حالات نے لاکھوں افراد کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔ زیادہ تر افراد روس نہیں گئے۔ صرف چند لوگ ہی وہاں گئے ہیں۔ نقل مکانی کرنے والوں کا کہنا ہے کہ انہیں وہاں اپنا مستقبل نظر نہیں آ رہا تھا اور وہ بہتر مستقبل کی تلاش میں روس آئے۔ روس نے وینزویلا کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ بات چیت کا آغاز کرے تا کہ تعطل ختم ہو اور روس کے مفادات کو تحفظ مل سکے۔