دنیا کا مصروف ترین ایئر پورٹ ’ دبئی ‘ پھر پہلے نمبر پر

دبئی انٹر نیشنل ایئر پورٹ اس سال بھی بین الاقوامی پروازوں اور مسافروں کی آمدورفت میں دنیا کے مصروف ترین ہوائی اڈوں میں پہلے نمبر پر رہا۔ رپورٹ کے مطابق سال 2018 ء میں دبئی ایئر پورٹ پر آنے اور گزرنے والے مسافروں کی تعداد 9 کروڑ رہی۔ دبئی ایئر پورٹ سے چار لاکھ آٹھ ہزار پروازوں نے لینڈ اور ٹیک آف کیا ۔ دبئی ایئر پورٹ ایمیریٹس ایئر لائن کا مرکز بھی ہے ، جس کا شما ر دنیا کی بڑی اور لگژری ایئرلائنز میں ہوتا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق دبئی ایئرپورٹ مسلسل پانچ سالوں سے دنیا کا مصروف ترین ہوائی اڈہ چلا آرہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دبئی ایئر پورٹ نے لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ سے سال 2014ء میں بین الاقوامی مسافروں کی تعداد کے اعتبار سے دنیا کا مصروف ترین ہوائی اڈہ ہونے کا اعزاز چھینا تھا جس کے بعد سے دبئی نے اپنا یہ اعزاز برقرار رکھا ہے۔

امریکا میں سردی کا 37 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

امریکا میں سردی کا 37 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا، سرد ترین موسم، یخ بستہ ہوائوں اوربرف باری کا سلسلہ جاری ہے۔ جھیلیں دریا جم گئے جھلیں ، دریا، پانی کی لائنیں جم گئیں اورگیس کی فراہمی معطل ہو گئی، پارا منفی 30 تک گر گیا جبکہ شدید سرد موسم کے باعث مختلف ریاستوں میں اموات کی تعداد 21 ہو گئی، کئی ریاستوں میں پارا منفی 30 سے کم، تعلیمی اور تجارتی ادارے بند، ہزاروں لوگ گیس، بجلی سے محروم، ٹرین سروسز معطل، 2 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ متاثرہ علاقوں میں تعلیمی اور تجارتی ادارے بند ہیں، خراب موسم کے باعث ہزاروں لوگ بجلی سے محروم ہیں۔

 

 

 

 

 

 

ینزویلا کو امریکی دھمکی

امریکہ نے وینزویلا کو متنبہ کیا ہے کہ امریکی سفیروں یا اپوزیشن رہنما خوان گوئیدو کے خلاف کسی بھی خطرے کا ’بھر پور جواب‘ دیا جائے گا۔ امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کا کہنا ہے اس طرح کی ’دھمکی‘ قانون کی حکمرانی پر ’ایک بڑا حملہ‘ ہو گا۔ جان بولٹن کی یہ دھمکی امریکہ اور 20 سے زیادہ ممالک کی جانب سے گوائیدو کو وینزویلا کا نگران صدر تسلیم کرنے کے بعد سامنے آئی ہے۔ دوسری جانب گوئیدو نے حکومت مخالف مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔ وینزویلا میں جاری سیاسی بحران اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے اسی دوران جب حزبِ مخالف کے صدر مدورو کو اقتدار سے الگ کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

خیال رہے کہ امریکہ کے گوائیدو کو نگران صدر تسلیم کرنے کے بعد مدورو نے امریکہ سے سفارتی تعلقات منقطع کرتے ہوئے امریکی سفارت کاروں کو ملک چھوڑنے کے لیے 72 گھنٹوں کی مہلت دی تھی۔ اس کے جواب میں امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی حکومت صدر مدورو کے ذرائع آمدن پر پابندیاں لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔ صدر مدورو نے سنہ 2013 میں ہوگو شاویز کے مرنے کے بعد بحیثیت صدر ملک کا اقتدار سنبھالا تھا۔ مئی سنہ 2018 کے انتخابات کے بعد صدر مدورو نے دوسری مرتبہ اپنے عہدے کا حلف لیا تھا۔

وینزویلا کی حزب مخالف نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا اور صدر مدورو پر بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات بھی عائد کیے تھے۔ وینزویلا کی فوج کے ایک اعلیٰ نمائندے جوز لیوس سلوا نے صدر مدورو کی حکومت سے الگ ہو کر کہا کہ وہ گوئیدو کو وینزویلا کا صدر تسلیم کرتے ہیں۔ امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے ٹوئٹر پر واشنگٹن کی پوزیشن کی وضاحت کرتے ہوئے ’کسی کے خلاف تشدد اور دھمکی‘ کے حوالے سے خبردار کیا۔

اب کیا ہو گا ؟
متعدد یورپی ممالک جن میں سپین، جرمنی، فرانس اور برطانیہ شامل ہیں نے کہا کہ اگر آٹھ روز میں انتخابات کروانے کا اعلان نہ کیا گیا تو وہ گوئیدو کو وینزویلا کا صدر تسلیم کر لیں گے۔ تاہم وینزویلا کے صدر مدورو نے یورپی ممالک کے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ الٹی میٹم ہر صورت واپس لیا جانا چاہیے انھوں نے سی این این ترک کو بتایا ’وینزویلا یورپ کے ساتھ منسلک نہیں ہے۔ یہ مکمل گستاخی ہے۔

مدورو کا مزید کہنا تھا کہ ’وہ اپنی صدارت کے مخالفین کے ساتھ جامع مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔‘ اور انھوں نے صدر ٹرمپ کو ’متعدد پیغامات‘ بھیجے ہیں۔ صدر مدورو نے امریکہ سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے بعد امریکی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کے لیے 72 گھنٹوں کی مہلت دی تھی۔