بنگلہ دیش : انتخابات میں بے قاعدگیوں کی رپورٹ پر صحافی گرفتار

بنگلہ دیش کی پولیس نے شیخ حسینہ واجد کی کامیابی کے بعد ایک صحافی کو انتخابات میں ہونے والی بے قاعدگیوں کی رپورٹ پر ‘جھوٹی خبر’ دینے کے الزام میں گرفتار کر لیا اور دوسرے صحافی کی تلاش جاری ہے۔ خبر ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق صحافی ہدایت حسین ملاح اخبار ڈھاکا ٹریبیون کے لیے کام کرتا ہے اور انہیں گزشتہ روز ایک رپورٹ پر غلط بیانی کے الزام میں متنازع ڈیجیٹل سیکیورٹی قانون کے تحت گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مقامی پولیس چیف محبوب الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ہدایت حسین ملاح کو ایک حلقے میں رجسٹرڈ ووٹرز کے کاسٹ کیے گئے ووٹوں سے 22 ہزار 419 زائد ووٹ پڑنے کی رپورٹ دینے کے بعد جنوبی کھلنا سے گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘مجموعی ووٹ میں سے 80 فیصد ووٹ کاسٹ ہوئے تھے جبکہ صحافی پر الزام تھا کہ انہوں نے انتخابات کو متنازع بنانے کے لیے غلط خبر دی ہے۔

بنگلہ دیش کی وزیراعظم حسینہ واجد کی جانب سے گزشتہ برس متعارف کیے گئے پریس دشمن قانون کے تحت اگر ہدایت حسین ملاح کو مجرم قرار دیا گیا تو 14 سالہ قید ہوسکتی ہے۔ پولیس چیف کا کہنا تھا کہ مقامی حکومت نے متنازع قانون کے تحت دو صحافیوں کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا تاہم دوسرے صحافی کو تلاش کیا جارہا ہے۔ بنگلہ دیش کی وزیراعظم پر حزب اختلاف اور میڈیا پر قدغنیں لگانے کا الزام ہے جہاں انہوں نے اپوزیشن کی بڑی رہنما خالدہ ضیا کو جیل بھیج دیا ہے اور اس کے علاوہ مشہور صحافی ایوارڈ یافتہ فوٹوگرافر شاہد الاسلام کو بھی جیل بھیج دیا تھا۔ واضح رہے کہ شیخ حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ نے 30 دسمبر کو منعقدہ انتخابات میں 98 فیصد نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی جس کو اپوزیشن جماعتوں نے مسترد کردیا تھا۔ حکومت نے اپوزیشن کے ہزاروں کارکنون کو انتخابی مہم کے دوران ہی گرفتار کیا تھا جبکہ الیکشن کے روز پولنگ اسٹیشنز میں ووٹرز کو خوفزدہ کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں ۔  بنگلہ دیش میں الیکشن کے روز جھڑپوں میں 17 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

یورپی یونین اور امریکا کا تحقیقات کا مطالبہ
بنگلہ دیش میں انتخابات میں تنقید اور متنازع رپورٹس پر امریکا اور یورپی یونین سمیت دیگر ممالک نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بنگلہ دیش کے الیکشن کمیشن کو وضاحت دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ یورپی یونین نے اپنے بیان میں انتخابات کو داغ دار قرار دیتے ہوئے بنگلہ دیشی حکام پر زور دیا کہ الیکشن کے روز ہونے والے جرائم اور رکاوٹوں کی تفتیش کی جائے۔ امریکا کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا کہ ‘ہراسان کرنے، دھمکانے اور جرائم کی مصدقہ اطلاعات تشویش ناک ہیں۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بنگلہ دیش کا الیکشن کمیشن‘ تمام جاعتوں کی جانب سے بے قاعدگیوں کے دعووں پر تعمیری کام کرے اور انہیں مطمئن کرے۔ خیال رہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے صرف 6 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی جبکہ بے قاعدگیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے غیر جانب دار قائم مقام حکومت کے ماتحت نئے انتخابات کروائے جائیں ۔  شیخ حسینہ واجد نے انتخابات میں بے قاعدگیوں کے حوالے سے اپوزیشن جماعتوں کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے دوبارہ انتخابات کے امکان کو بھی رد کر دیا۔

امریکی فوج کی سالِ نو سے متعلق متنازع ٹوئٹ پر شدید تنقید

امریکی فوج کے جوہری ہتھیار کے نگراں ادارے امریکی اسٹریٹیجک کمانڈ کی جانب سے سالِ نو کے موقع پر کی گئی متنازع ٹوئٹ پر شدید تنقید کی گئی، جس کے بعد ادارے نے معافی مانگ لی۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکی اسٹریٹیجک کمانڈ نے سالِ نو کےموقع پر کی گئی ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ’ ٹائمز اسکوائر کی روایت کے مطابق نئے سال کا آغاز بال گرا کر کیا جاتا ہے، اگر کبھی ضرورت پڑی تو ہم اس سے زیادہ بڑی بال گرانے کے لیے تیار ہیں‘۔ ٹوئٹ میں ایک ویڈیو بھی شامل تھی جس میں بی 2 بمبار طیارے کو ہتھیار پھینکتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ یہ متنازع ٹوئٹ نیویارک میں سالِ نو کے موقع پر بال ڈراپ سے چند گھنٹے قبل کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ نیویارک میں قائم ون ٹائمز اسکوائر کی عمارت پر 43 میٹر کے فلیگ پول سے چمکتی ہوئی بال گرانے کی روایت کا آغاز 1907 میں کیا گیا تھا ، یہ بال ہر برس کے آخری 60 سیکنڈز میں گرائی جاتی ہے اور نیا سال شروع ہونے پر روک دی جاتی ہے۔ بعد ازاں اسٹریٹیجک کمانڈ نے یہ ٹوئٹ ڈیلیٹ کرتے ہوئے اس پر معذرت کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’سالِ نوکے موقع پر ہمارا گزشتہ ٹوئٹ ہماری اقدار کی عکاسی نہیں کرتا ، جس کے لیے ہم معذرت خواہ ہیں ، ہم امریکا اور اس کے اتحادیوں کی حفاظت کے لیے پُرعزم ہیں‘۔ اس حوالے سے اسٹریٹیجک کمانڈ کے ترجمان بروک ڈیوالٹ نے کہا کہ ٹوئٹ ’ ہماری کمانڈ کی ترجیحات کے اعادے کے حصہ ہے‘، جس میں امریکا کے عوام کو ایک مرتبہ پھر اس بات کا یقین دلایا گیا کہ امریکی فوج ہمہ وقت تیار ہے یہاں تک کہ سالِ نو کے موقع پر بھی۔

تاہم ناقدین کی جانب سے سالِ نو کے آغاز پر امریکی اسٹریٹیجک کمانڈ کے بیان پر شدید غم و غصے کا اظہار اور مذمت کی گئی۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اخلاقی امور سے متعلق سرکاری ادارے کے سابق سربراہ والٹر شواب جونیئر نے ٹوئٹ کی کہ ’ کس طرح کے خبطی اس ملک کو چلا رہے ہیں‘۔ نیوکلیئر نائٹ میئرز، سیکیورنگ دی ورلڈ بیفور اِٹ اِز ٹو لیٹ ‘ نامی کتاب کے مصنف کا کہنا تھا کہ ’پہلے مجھے یقین نہیں آیا کہ ایسا حقیقت میں ہو سکتا ہے، ایک صنعتی اشتہار کو ہمارے اسٹریٹیجک کمانڈ کی جانب سے لطیفے کی طرح پیش کیا جا رہا ہے، یہ انتہائی شرمناک ہے‘۔ خیال رہے کہ امریکی اسٹریٹیجک کمانڈ امریکی شعبہ دفاع کے 10 منفرد کمانڈز میں سے ایک ہے جو نیبراسکا آفیٹ ایئرفورس بیس میں مقیم ہے۔ اسٹریٹیجک کمانڈ کا نعرہ ہے ’ امن ہمارا پیشہ ہے جسے متنازع ٹوئٹ میں ہیش ٹیگ استعمال کیا گیا تھا۔