’اڈیالہ نہیں، کوٹ لکھپت جیل بھیج دیں‘

سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ ریفرنسز کا فیصلہ آنے کے بعد انہیں کمرہ عدالت سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ نواز شریف نے سزا سننے کے بعد اڈیالہ جیل کے بجائے کوٹ لکپت جیل لاہور میں رکھے جانے کی استدعا کی ہے جس پر عدالت کے جج ارشد ملک نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے جو کچھ دیر بعد سنایا جائے گا۔ سابق وزیر اعظم کو عدالت سے جیل منتقل کرنے کے لیے عقبی راستے سے پہلے ہی بکتر بند گاڑیاں پہنچا دی گئی تھیں۔ واضح رہے کہ آج اسلام آباد کی احتساب عدالت کی جانب سے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں 7 سال قید اور جرمانے کی سزا سنا دی گئی جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں انہیں بری کیا گیا ہے۔

کیا افغان جنگ نے پاکستان کو ایٹمی ہتھیار رکھنے میں مدد دی ؟

امریکی دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان کو افغان جنگ نے اپنے ایٹمی ہتھیار رکھنے میں مدد دی جبکہ چین کی جانب سے بھی پاکستان کی حمایت کرنے پر زور دیا گیا۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ انکشافات امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری ہونے والی 1980 کی دہائی کی دستاویزات میں سامنے آئے۔ تقریباً 30 برس بعد جاری ہونے والے ان دستاویز میں بتایا کہ چین کے سینٹرل ملٹری کمیشن کے سابق چیئرمین ڈینگ شیاپنگ نے امریکا پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کے باوجود اس کی مدد جاری رکھے۔ امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں اگست 1984 کی خفیہ دستاویز پر مشتمل رپورٹ کے مطابق واشنگٹن کو اس وقت یہ معلوم ہوگیا تھا کہ پاکستان نے ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ پاکستانی حکام کی جانب سے انکار کے باوجود امریکی کو یہ خفیہ اطلاعات موصول ہوگئی تھیں کہ پاکستان ایٹمی ہتھیار کے ایک پرفیکٹ ڈیزائن کو تیار کرنے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اس وقت اس رپورٹ میں کہا گیا کہ ‘پاکستان کی یورینیم حاصل کرنے کی حالیہ پیش رفت کے مطابق بہت جلد یہ صورتحال پیدا ہو جائے گی جہاں ہم اس بات کو نظر انداز نہیں کر پائیں گے کہ پاکستان ایٹمی ہتھیار بنانے سے متعلق اقدامات کر رہا تھا۔ مذکورہ پیش رفت نے واشنگٹن کو مجبور کر دیا کہ وہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق سرگرمیوں کو برداشت کرے اور دنیا میں اپنے ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی ساکھ کو خراب کرے جس کی وجہ سے اسے پاکستان کی سیکیورٹی امداد کے لیے کانگریس کے اقدامات کے خلاف جانا تھا جبکہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں بھارت پاکستان کے ایٹمی پروگرم پر حملہ بھی کر سکتا تھا۔

دوسری جانب امریکا کے پاس یہ صرف یہ آپشن باقی تھا کہ وہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی وجہ سے اس کے ساتھ سیکیورٹی تعلقات کو ختم کردے، تاہم اس فیصلے کی وجہ سے سوویت یونین کے خلاف طالبان مزاحمت کمزور پڑ جاتی اور جنوبی ایشیا میں امریکا کے طویل مدتی سیاسی و سیکیوٹی مفادات کو خطرات لاحق ہوجاتے جبکہ یہ آپشن پاکستان کو اپنے ایٹمی ہتھیار سے متعلق فیصلہ کرنے میں بھی بالکل آزاد بنا دیتا۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا تھا کہ ان دونوں میں سے کسی بھی فیصلے کے ناقابلِ تلافی نقصانات ہو سکتے ہیں۔ تاہم رپورٹ میں بتایا گیا کہ واشنگٹن کی جانب سے 6 سال کے عرصے پر محیط 3 ارب 20 کروڑ ڈالر کا سیکیورٹی پیکیج جاری کیا گیا۔

ایک علیحدہ دستاویز میں یہ بات سامنے آئی کہ بتایا گیا کہ چین کے سینٹرل ملٹری کمیشن کے سابق چیئرمین ڈینگ شیاپنگ نے امریکا پر زور دیا تھا کہ وہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو برداشت کرتے ہوئے اس کی حمایت کرے۔ ڈینگ شیاپنگ نے جمی کارٹر انتظامیہ کو قائل کیا تھا کہ اندرا گاندھی کی سربراہی میں بھارت سوویت یونین کا حامی ہو گا، اس لیے پاکستان کو مستحکم بنانا امریکا اور چین کے مفاد میں ہو گا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ چینی رہنما نے امریکا سے کہا کہ یہ ‘مثبت اقدام ہے’، اور مزید کہا کہ ‘پاکستان کے پاس اپنا ایٹمی پروگرام تیار کرنے کی وجہ ہے’۔ اپنی بات کی وضاحت دیتے ہوئے ڈینگ شیاپنگ نے واشنگٹن سے کہا ‘جنوبی ایشیا میں پہلے بھارت ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہوا جس نے پاکستان کو اپنا ایٹمی پروگرام تیار کرنے کی وجہ فراہم کی’۔

بشکریہ روزنامہ ڈان اردو

پینٹاگون نے ٹرمپ کے فوج بلانے کے فیصلے کی مخالفت کر دی

امریکی محکمہ دفاع نے کانگریس کو بتایا ہے کہ وہ جنگ زدہ افغانستان میں امن مرحلے کی حمایت کرتے ہوئے طالبان پر بالواسطہ اور بلا واسطہ دباؤ برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ پینٹاگون کی جانب سے حکمت عملی دستاویزات کانگریس میں جمع کروا دیے گئے جس میں انہوں نے واضح طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کا افغانستان سے تقریباً آدھی امریکی فوج واپس بلانے کے فیصلے کی مخالفت کی۔ دفاعی سیکریٹری جیمز میٹس نے بھی امریکی صدر کی جانب سے ان کے شام اور افغانستان میں فوجیوں کی موجودگی برقرار رکھنے کی تجویز کو مسترد کیے جانے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کی مخالفت کرتے ہوئے رواں ہفتے کے آغاز میں استعفیٰ دیا تھا۔

پاکستان کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کی حمایت کی گئی ہے اور اسے تازہ امن مرحلے کے لیے بہتر اقدام قرار دیا ہے۔ تاہم واشنگٹن میں جنوبی ایشیا کے امور کی ماہر مارون وین بوم نے امریکا کو خبردار کیا کہ انہیں افغانستان سے نکلنے کا تاثر نہیں دینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کا افغانستان میں لمبے عرصے تک رہنے کے پاکستان پر تاثر کے بغیر ہم ان کی طالبان کے حوالے سے تعاون کھو دیں گے۔ پینٹاگون نے قدم بڑھاتے ہوئے کانگریس کو بتایا کہ امریکا کو افغانستان میں نہ صرف اپنی فوج کی موجودگی کو یقینی بنانا چاہیے بلکہ فوجیوں کی طالبان کے خلاف کارروائیوں کو بھی برقرار رکھنا چاہیے۔ پینٹاگون کے حکمت عملی دستاویزات میں کہا گیا کہ ’پینٹاگون بالواسطہ اور بلا واسطہ طالبان پر دباؤ برقرار رکھے جس کے ساتھ ساتھ افغان حکومت کی مقامی امن اقدام میں بھی تعاون جاری رکھے‘۔ ان کا ماننا ہے کہ امریکی فوج کی افغانستان میں موجودگی سے طالبان پر امن مذاکرات کا دباؤ بڑھا ہے۔