ایسے میں جب پاکستان میں آرمی پبلک سکول پر ہیبت ناک حملے کو چار سال مکمل ہونے پر دہشتگردی کا نشانہ بننے والے بچوں اور اساتذہ کو یاد کیا جا رہا ہے، ملک میں ایک بار پھر فوجی عدالتوں کی افادیت، ان کی آئینی حیثیت اور انسانی حقوق موضوع گفتگو ہیں۔ پاکستان کی فوج نے جو اعدادوشمار جاری کیے ہیں ان کے مطابق سال 2015 میں فوجی عدالتوں کے قیام کے بعد دہشتگردی کے 717 مقدمات میں سے 546 کا فیصلہ سنا دیا گیا۔ 310 افراد کو پھانسی کی سزا سنائی گئی جبکہ جن 56 افراد کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا ان میں اے پی ایس سکول پر حملے کے ملزمان بھی شامل تھے۔
کیا پاکستان میں دہشتگردی کے مقدمات کی سماعت کے لیے فوجی عدالتوں کو کام کرتے رہنا چاہیے یا یہ مقدمے واپس سویلین عدالتوں میں آنے چاہییں وہ بھی ایسے وقت میں جب سپریم کورٹ پر جیوڈشل ایکٹوازم کا اعتراض عائد کیا جا رہا ہے؟ ان عدالتوں کے دو ہزار پندرہ میں قیام پر انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں حتی کہ سیاسی راہنماوں نے بھی تحفظات کا اظہار کیا تھا مگر نہ صرف دو سال کے لیے یہ عدالتیں قائم ہوئیں بلکہ جنوری 2017 میں ان عدالتوں کی آئین مدت مکمل ہونے کے بعد مارچ میں ان کے دورانیے میں مزید دو سال کی توسیع کی گئی۔
پاکستان میں انسانی حقوق کمشن کی سابق سربراہ زہرا یوسف نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے میں جب فوجی عدالتوں کی مدت مکمل ہونے والی ہے، اور سپریم کورٹ بذات خود بہت فعال ہے، عام شہریوں کے خلاف مقدمات واپس سول عدالتوں میں جانے چاہیں۔ آئی ایس پی آر کے سابق عہدیدار کرنل فاروق احمد کہتے ہیں کہ فوج کے اقدامات اور عدالتوں سے سریع فیصلوں کے سبب ملک میں دہشتگردی کا گراف بہت نیچے آ چکا ہے۔ ’’ میرے خیال میں ( فوجی عدالتوں کے قیام کے) اثرات بہت گہرے اور دور رس رہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ دہشتگردی کا گراف بہت نیچے آ چکا، میں یہ نہیں کہہ رہا کہ مکمل ختم ہو گئی مگر بہت کامیابی ملی ہے‘‘
زہرا یوسف کے بقول اعدادو شمار ہی کامیابیوں کے عکاس نہیں ہوتے، مسئلے کا حل عدالتی نظام میں اصلاحات میں ہے۔ ’’ میری نظر میں اس سے کامیابی نہیں ثابت ہوتی ہے۔ اس وقت بھی یہی ضرورت تھی کہ انصاف کے نظام میں اصلاحات لائی جائیں۔ آپ جلدی جلدی فیصلے کر کے نمبر بڑھائیں گے تو ضروری نہیں کہ وہاں انصاف بھی ہو رہا ہو‘‘۔ بیرسٹر داود غزنوی انسانی حقوق کے سرگرم کارکن بھی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ خصوصی حالات میں قائم کی گئی فوجی عدالتوں کی افادیت سے انکار نہیں لیکن یہ بندوبست زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، دہشتگردی کے مقدمات میں نہ صرف گواہوں بلکہ بذات خود جج صاحبان کو تحفظ حاصل نہ ہونے کے سبب دہشتگرد گروپ با آسانی انصاف کے عمل پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے مقدمات فوجی عدالتوں میں بھجوائے جاتے ہیں۔ زہرا یوسف کہتی ہیں گواہوں اور ججوں کو درکار مسائل حقیقی ہیں مگر ان کو تحفظ دینے کے لیے اصلاحات لائی جائیں۔ اور اصلاحات کے لیے شروعات عدلیہ سے ہونی چاہیں پھر پارلیمنٹ اس میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہے۔ ’’ سپریم کورٹ کافی متحرک ہے اور حکومت کہتی بھی ہے کہ سب ادارے ایک صفحے پر ہیں تو پھر چاہیے یہی کہ عدالت قدم اٹھائے، پارلیمنٹ ساتھ دے، اصلاحات لائی جائیں۔‘‘
فوجی عدالتوں کے قیام کے بعد دو سال کی دوسری مدت مارچ میں مکمل ہو رہی ہے، کیا فوجی عدالتوں ختم ہو جائیں گی یا انہیں مزید توسیع مل سکتی ہے۔؟ پاکستان کے انسانی حقوق کمشن کی سابق سربراہ زہرا یوسف کا اس بارے میں کہنا ہے کہ فوجی عدالتوں میں انصاف کے تقاضے پورے نہ ہونے کا احتمال رہتا ہے۔ اب جبکہ مدت مکمل ہونے جا رہی ہے وقت ہے کہ معاملات سویلین عدالتوں کی طرف آنے چاہیے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے سابق عہدیدار کرنل فاروق کہتے ہیں کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے کہ آیا توسیع ملے گی یا نہیں لیکن بظاہر تمام قومی ادارے ایک صفحے پر ہیں تو وہ اس بارے میں متفقہ طور پر فیصلہ کر سکتے ہیں۔
بیرسٹر داود غزنوی کہتے ہیں کہ کچھ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا ہے کہ فوجی عدالتوں میں توسیع ہو گی یا نہیں مگر یہ طے ہے کہ ان کے قیام کا فیصلہ زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکتا۔ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور علی محمد خان سے اس بارے میں معلومات کے لیے رابطہ کیا گیا تو ان کے فون سے جواب موصول نہیں ہوا۔
حکومت کی جانب سے افغان سرحدی علاقوں سے منسلک قبائلی علاقوں میں تعلیم کی صورتحال کے حوالے سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ سرکاری اسکولوں میں داخل ہونے والی طالبات کی تعداد کا محض پانچواں حصہ ہی 5 جماعت تک تعلیم حاصل کر پاتا ہے۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ساتوں قبائلی علاقہ جات کے حوالے سے مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 73 فیصد طالبعلم، جن میں 69 فیصد لڑکے اور 79 فیصد لڑکیاں شامل ہیں تعلیم کے ابتدائی سالوں میں ہی اسکول سے کنارہ کشی اختیا ر کر لیتے ہیں۔ ایجوکیشن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (ای ایم آئی ایس) کی جانب سے جاری کردہ 102 صفحات پر مشتمل شماریاتی رپورٹ کے مطابق مڈل اور ثانوی تعلیم کی صورتحال بھی انتہائی ابتر ہے اور اس سطح پر لڑکیوں کی تعلیم سے کنارہ کشی اختیار کرنے کی شرح 50 فیصد ہے۔
دوسری جانب عسکریت پسندی سے متاثرہ شمالی وزیرستان میں تعلیم چھوڑنے کی شرح 63 فیصد ہے جس میں لڑکیوں کا تناسب 73 فیصد ہے جو ساتوں اضلاع میں سب سے زیادہ ہے تاہم رپورٹ میں اس کی وجوہات کا تذکرہ نہیں کیا گیا۔ خیال رہے کہ قبائلی علاقہ جات میں 5 ہزار 8 سو 90 سرکاری اسکول موجود ہیں جس میں داخل ہونے والے طالبعلموں کی تعداد 6 لاکھ 77 ہزار ایک سو 57 ہے۔ رپورٹ میں مذکورہ علاقے میں تعلیم کی صورتحال کے ساتھ اسکولوں کی بدتر حالت کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا جس میں زیادہ تر سرکاری اسکولوں میں بجلی، پپینے کے پانی اور ٹوائلٹس کی سہولت موجود نہیں جبکہ تعلیم کا کل بجٹ 12 ارب روپے ہے اور امداد کی رقم ملا کر ترقیاتی بجٹ 5 ارب روپے ہے۔
رپورٹ کے مطابق قبائلی علاقوں کے صرف 43 فیصد اسکولوں میں بجلی، 45.2 فیصد اسکولوں میں پینے کے پانی، 45 فیصد میں ٹوائلٹس کی سہولت ہے جبکہ 70 فیصد اسکولوں کی چار دیواری موجود ہے۔ مذکورہ رپورٹ جسے ابھی منظرِ عام پر لایا جانا باقی ہے ، میں تجویز دی گئی ہے کہ ان اضلاع میں موجود سرکاری تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی تعداد کم ہو رہی ہے جو 10-2009 میں 20 ہزار 7 سو 9 تھی وہ 18-2017 میں کم ہو کر 18 ہزار 6 سو21 رہ گئی۔ اس بارے میں گفتگو کرتے ہوئے حکام کا کہنا تھا کہ اسکولوں میں لیب اسسٹنٹس اور اساتذہ کی 5 ہزار آسامیاں خالی ہیں جبکہ ان کی بھرتیوں پر بھی غیر اعلانیہ پابندی عائد ہے، ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن وفاقی حکومت سے متعدد مرتبہ ان عہدوں پر بھرتیوں اور تازہ دم عملے کی فراہمی کا مطالبہ کر چکا ہے۔ حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ قبائلی علاقہ جات میں شورش اور فوجی آپریشن کی وجہ سے شعبہ تعلیم کو خاصہ نقصان پہنچا ہے اور صرف گزشتہ ایک دہائی میں 15 سو سے زائد اسکول مسمار کیے جاچکے ہیں۔ دوسری جانب اساتذہ کی بڑی تعداد ریٹائر ہو چکی ہے جن پر حکومت کی جانب سے بھرتیاں نہ ہونے کے سببب خلا پیدا ہو گیا ہے اس کے علاوہ اسکولوں میں سہولیات کا فقدان بھی ہے۔