سقوط ڈھاکا بھلا دیا گیا

پاکستان دولخت ہوئے 47 برس گزر گئے۔ پاکستانی قوم کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ اسے اس سانحے کا دُکھ ہے۔ آج ملک بھر میں اور دنیا بھر میں کسی نہ کسی عنوان سے اس سانحے کو یاد کیا جائے گا۔ سیمینار ہوں گے، جلسے ہوں گے، کچھ مشرقی پاکستان کو، کچھ محصورین کو یاد کریں گے، مطالبات کریں گے اور پھر 17 دسمبر آجائے گی۔ پھر ہم دوسرے نئے پاکستان میں مصروف ہو جائیں گے۔ یہ سانحہ حکمرانوں کی بے حسی اور ریشہ دوانیوں کے سبب ہوا بھارت جتنا مکار آج ہے پہلے بھی تھا۔ جتنا طاقتور پہلے تھا اسی شرح سے آج بھی ہے اور جتنا ڈرپوک اس وقت تھا آج بھی ہے بلکہ پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کے بعد پہلے سے زیادہ خوفزدہ ملک ہے صرف سازشوں کے سبب ہوا اسے کوئی پنجاب پر ڈالتا ہے تو کوئی صرف فوج پر لیکن یہ بہرحال ایک گنجلک معاملہ ہے اسے حمود الرحمن کمیشن نے حل کرنے کی کوشش کی لیکن اس کی رپورٹ کو منظر عام پر آنے سے روک دیا گیا۔

اگر جنرل یحییٰ خان کو ذمے دار قرار دے بھی دیا گیا تو اسے صرف یحییٰ خان سمجھا جانا چاہیے تھا پوری فوج نہیں جس طرح آج سب متفق ہیں کہ جنرل پرویز مشرف کی حماقیتں پوری پاکستانی فوج کی غلطیاں نہیں تھیں اسی طرح اگر بھٹو اور دوسرے لوگوں کے نام آتے ہیں تو ان کو اسی طرح افراد سمجھا جائے لیکن جوں ہی جنرل یحییٰ کا نام آتا ہے فوج تحفظ کو کھڑی ہو جاتی ہے اور بھٹو کا نام آنے پر پیپلز پارٹی. اس لیے یہ معاملہ اسی طرح لٹکا ہوا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ جھوٹ ہے کہ پاکستانی قوم درد دل کے ساتھ سانحہ سقوط مشرقی پاکستان کو یاد کرتی ہے۔ ہماری قوم کے مسائل ہی بدل دیے گئے ہیں بلکہ قوم نے اختیار کر لیے ہیں۔

طویل عرصے سے صرف معاش کا حصول، روزگار کا انتظام اور خوشنما مستقبل کے خواب ہی نوجوانوں اور نئی نسل کے دل و دماغ میں بسائی جارہی ہے۔ اس قوم کے طلبہ کا رشتہ نظریہ پاکستان، قیام پاکستان، قائد اعظم اور اس نسل سے توڑ دیا گیا جس نے تحریک پاکستان چلائی تھی۔ یہ رشتہ توڑنے کا کام حکمرانوں نے کیا، میڈیا نے جی ہاں جی ہاں کہہ کر قیمت وصول کی اور دوسرا مرحلہ آگیا اب بھٹو کا نیا پاکستان، بے نظیر کا روشن پاکستان، جنرل پرویز کا روشن خیال پاکستان اور اب عمران خان کا نیا پاکستان۔ روٹی، کپڑا، مکان سے چلتے چلتے انڈا، مرغی اور مکان تک پہنچ گئے۔ جس طرح نظریہ پاکستان قوم کے ذہنوں میں راسخ کرنا تھا اسی طرح سقوط مشرقی پاکستان کو بھی راسخ کرنا تھا۔

لیکن قوم کو نظریہ پاکستان ہی سے دور کردیا گیا تو سقوط مشرقی پاکستان کے کیا معنی۔ یہ حقیقت ہے کہ حکمرانوں نے تو کبھی اس سانحے، اس کے اسباب اور حل پر غور کی ضرورت ہی محسوس نہ کی۔ بلکہ بھٹو صاحب اس سے خوفزدہ تھے کہ اس موضوع پر بات کی جائے، جب جنرل ضیا آئے تو انہیں بھی خوف تھا کہ فوج پر الزام نہ آئے۔ دسمبر 71ء میں ہتھیار ڈالنے والی فوج نے 6 سال میں حالات پلٹ دیے اور 77ء میں 5 جولائی کو فاتحانہ انداز میں جنرل ضیا الحق اقتدار میں آئے۔ بھٹو جیل میں اور پھر پھانسی پر پہنچے۔ مشرقی پاکستان کو کس نے یاد کیا۔

کیا یہ صرف سیاسی جماعتوں کی ذمے داری ہے کہ وہ اہم قومی معاملات کو یاد رکھیں۔ جھوٹ، دھوکے اور بے وفائی کا عالم یہ ہے کہ بھٹو، جنرل ضیا، نواز شریف، بے نظیر کے دو دو ادوار اور جنرل پرویز یہ سب محصور پاکستانیوں کے حوالے سے حد درجہ منافقت کا مظاہرہ کرتے رہے۔ مختلف وفود سے ملاقاتوں میں محصورین بنگلا دیش کو واپس لانے کا وعدہ کرتے لیکن کوئی عمل نہیں کرتے۔ اسلامی جمہوری اتحاد کے پہلے دور میں وزیراعلیٰ پنجاب غلام حیدر وائیں نے ایک بستی بسائی اس میں کچھ محصورین لا کر بسائے گئے اور غلام حیدر وائیں قتل کر دیے گئے۔ بات ختم ہو گئی۔ جنرل ضیا اور جنرل پرویز نے نہایت نازیبا ریمارکس دیے اور قوم انہیں پی گئی۔

یہ بات کسی صورت تسلیم نہیں کی جا سکتی کہ اب سانحہ سقوط مشرقی پاکستان یا محصور پاکستانیوں کا مسئلہ کسی طرح بھی پاکستانی قوم کا مسئلہ رہ گیا ہے۔ بنگلا دیش کے محصورین کیمپوں میں ڈھائی تین لاکھ لوگ صرف پاکستانی ہونے کی سزا بھگت رہے ہیں اور سازشیں کرنے والے اور سقوط کے ذمے دار معزز حکمران اور سیاستدان بنے ہوئے ہیں۔ یہ قوم کا مسئلہ ہوتا دل و جان سے مشرقی پاکستان، نظریہ پاکستان اور محصورین پاکستان کو یاد رکھتے تو ایسے لوگوں کو اسمبلیوں میں نہ لائے جو قادیانی نواز، ختم نبوت کے بارے میں لاعلم اور شراب کے حامی ہوں۔ اگر عوام لائے تو وہ مجرم ہیں اور کوئی اور لایا تو وہ مجرم ہے۔ سقوط ڈھاکا کے ایک ایک کردار کا انجام بھی سب کو یاد ہے اپنے انجام کے لیے تیار رہیں اللہ کی لاٹھی بے آواز بھی ہے اور زبردست بھی۔

اداریہ روزنامہ جسارت

خسارے کے شکار ادارے 5 ماہ میں ایک سو 15 ارب روپے قرض لے چکے

پاکستان کے پہلے سے خسارے میں چلنے والے قومی اداروں نے رواں مالی سال کے ابتدائی 5 ماہ کے دوران بینکوں سے ایک سو 15 ارب 46 کروڑ روپے قرض لے لیا۔ پاکستان تحریک انصاف  کی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد اعلان کیا تھا کہ وہ پبلک سیکٹر انٹرپرائزز کا خسارہ کم کرنے کی کوشش کریں گے تاہم حکومت نے ان کی نجکاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان اداروں نے گزشتہ مالی سال کے دوران اسی عرصے میں صرف 2 ارب 58 کروڑ روپے قرض لیا تھا۔ جن قومی اداروں نے قرض لیا ان میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے)، پاکستان اسٹیل ملز (پی ایس ایم)، پاکستان ریلوے (پی آر) اور واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) شامل ہیں۔

صرف پی آئی اے، اسٹیل ملز اور ریلوے کی وجہ سے گزشتہ 3 سال کے دوران مجموعی طور پر 7 سو 5 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق قومی ادارے ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ تیزی سے مقروض ہو رہے ہیں۔ گزشتہ برس ان اداروں نے مجموعی طور پر بینکوں سے 2 سو 45 ارب 40 کروڑ روپے کا قرض لیا تھا لیکن گزشتہ مالی سال کے ابتدائی 6 ماہ میں یہ قرض بہت کم تھا جبکہ صرف 5 ماہ میں 2 ارب 58 کروڑ کے قرض لیے گئے۔ تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک قومی ادارے قرض لینے میں ریکارڈ لگا سکتے ہیں کیونکہ 18-2017 کے اختتام پر 10 کھرب 68 ارب 20 کروڑ روپے کا قرض لیا گیا جبکہ مالی سال 17-2016 کے دوران 8 سو 22 ارب 50 کروڑ روپے قرض لیا گیا۔

حکومت کی جانب سے خواہش کا اظہار کیا گیا کہ وہ ان اداروں کے نقصان کو کم کرنے کی کوشش کریں گے جبکہ اس حوالے سے واضح پلان نہیں دیا گیا۔ حکومت کی جانب سے پہلے مرحلے میں پی آئی اے اور اسٹیل ملز کو بہتر کرنے کا ہدف بنایا گیا جبکہ دوسرے مرحلے پر وزیرِ ریلوے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کے ابتدائی 100 روز کے دوران اس محکمے میں بہتری لائی گئی ہے۔ گزشتہ دورِ حکومت کے دوران اس وقت کے وزیرِ ریلوے خواجہ سعد رفیق نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ ریلوے کو خسارے سے نکال لیا گیا ہے جبکہ ان کے اقتدار کے 5 سال بعد بھی یہ محکمہ خسارے میں ہی رہا۔ حکومت نے ان اداروں کے ملازمین کی ملازمت کو جاری رکھنے کے لیے اربوں روپے مختص کیے۔

حال ہی میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے بتایا کہ گیا کہ 13-2012 کے دوران ان اداروں کا خسارہ جی ڈی پی کا 1.7 فیصد تھا، جو بڑھ کر 2016 میں 2.3 فیصد ہو گیا تھا۔ آئی ایم ایف کی جانب سے تجویز پیش کی گئی تھی کہ پاکستان ان اداروں کی نجکاری کرنے کے اقدام کو پورا کرے۔ خیال رہے کہ پاکستانی حکام کی آئندہ برس کے آغاز میں ہی آئی ایم ایف حکام سے ملاقات متوقع ہے جہاں خسارے میں چلنے والے اداروں کی نجکاری سے متعلق بات چیت کی جائے گی۔

بشکریہ ڈان نیوز اردو