اسکول کی فیس اور سرزد بچے

سپریم کورٹ نے نجی اسکولوں کی فیس میں بیس فیصد کمی کرنے، موسمِ گرما کی تعطیلات میں وصول کی جانے والی فیس نصف واپس کرنے یا پھر ماہانہ فیسوں میں ایڈجسٹ کرنے ، فیسوں میں سالانہ اوسطاً پانچ فیصد یا ریگولیٹری اتھارٹی کی آمادگی کی صورت میں زیادہ سے زیادہ آٹھ فیصد سالانہ اضافے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ نیز لگ بھگ اکیس معروف اسکولوں کے مالی معاملات کا فورنزک آڈٹ ایف آئی اے اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ذمے لگایا ہے۔ اس فیصلے سے شائد متوسط اور اعلی متوسط طبقے کے والدین کی وقتی تشفی تو ہو جائے لیکن دیگر شعبوں کی طرح نجی تعلیمی صنعت میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے پاس اپنا خسارہ پورا کرنے کے بیسیوں راستے موجود ہیں۔

سب سے آسان راستہ اسکولی عملے بالخصوص اساتذہ کی تنخواہوں میں تخفیف کا ہے۔ اساتذہ کی اسی فیصد تعداد خواتین پر مشتمل ہے اور بیشتر اساتذہ ضرورت مند ہیں۔ نجی تعلیمی اداروں کے مالکان کی ایسوسی ایشن ضرور ہے مگر سرکاری اساتذہ کے برعکس نجی اساتذہ کی کوئی تنظیم یا ٹریڈ یونین نہیں۔ نہ ہی انھیں سرکاری اساتذہ کے برعکس نوکری کا تحفظ حاصل ہے۔ لہٰذا عدالتی حکم کے بموجب نجی اسکولوں کے منافعے میں جو خسارہ ہو گا اس کی کم ازکم نصف بھرپائی سب سے کمزور طبقے یعنی اسکولی عملے سے کی جائے گی اور باقی نقصان تعلیمی سہولیات بشمول کورس میٹریل کے نرخ پر اضافی نظرثانی سے پورا ہو گا۔

نجی تعلیمی شعبہ اس تاثر کی بنیاد پر فروغ پا رہا ہے کہ بھاری فیسوں کے بدلے معیاری تعلیم دی جاتی ہے اور یہ ’’کارِ خیر ’’ نجی شعبہ اپنے بل بوتے پر کسی سرکاری سبسڈی کے بغیر انجام دے رہا ہے۔ یہ تاثر بالائی سطح کے کچھ اسکول سسٹمز کی حد تک تو درست ہے مگر نجی شعبے میں بھی اے بی سی ڈی کیٹگری کے اسکول اور اسی معیار کی تعلیم بھی پائی جاتی ہے۔ صرف کیمبرج سسٹم یا انگلش میڈیم اسکول کا بورڈ لگا دینے سے معیارِ تعلیم بلند نہیں ہوتا۔ مگر مشکل یہ ہے کہ تعلیم اٹھارویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں صوبائی ذمے داری بن گئی ہے۔ نجی تعلیمی شعبے کو باقاعدہ بنانے اور اس کے معیار پر نظر رکھنے کے لیے ہر صوبے کے ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ اسکولز کے اپنے اپنے معیارات ہیں۔ان معیارات کی تفصیل ، نوعیت اور عمل درآمد کی کیا صورتِ ہے ؟ اس کا علم یا تو عمل درآمد کروانے کے ذمے دار اہلکاروں کو ہے یا پھر نجی اسکولوں کی انتظامیہ کو۔ صارفین یعنی بچوں کے والدین اس دائرے سے بالکل باہر ہیں۔ صارف کے فرائض تو واضح ہیں مگر حقوق اتنے ہی غیر واضح۔

طاقتور نجی تعلیمی شعبے کو ریگولیٹ کرنے والی اتھارٹی اپنے اختیارات کا عملاً اتنا ہی استعمال کرتی ہے جتنا کہ فیکٹریوں کی انپسکشن کے ذمے دار لیبر انسپکٹر یا فارماسوٹیکل سیکٹر پر نگاہ رکھنے والے ڈرگ انسپکٹر یا ہوٹلوں اور ریستورانوں کے صحت و صفائی اور کھانے کے معیار کو جانچنے والے فوڈ انسپکٹر۔ اگر مذکورہ ریگولیٹری اتھارٹیز اتنی ہی فعال، فرض شناس اور ضابطوں کی موثر نفاذ کار ہوتیں تو آج ہمارے سرکاری و نجی تعلیمی اداروں، فیکٹریوں، فارماسوٹیکل سیکٹر اور ریستورانوں کی حالت ویسی نہ ہوتی کہ ہر ہر موڑ پر عدلیہ کو مداخلت کرنا پڑتی۔ آئین پڑھیں تو میٹرک تک معیاری اور مفت تعلیم تک رسائی ہر پاکستانی بچے کا بنیادی حق ہے۔

عملاً صورت یہ ہے کہ ریاست نے اس بابت اپنی بنیادی ذمے داریوں سے مرحلہ وار کم از کم چار عشرے پہلے ہاتھ اٹھا لیا۔ جب تک ارضِ خداداد میں نجی شعبے کے نام پر صرف مشنری یا کمیونٹی اسکول تھے اور اشرافیہ کے اکثر بچے سرکاری اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھتے تھے اور ان تمام اسکولوں کے درمیان تعلیمی معیار و نتائج کی مسابقت کے بل پر اچھی یا بری شہرت کا مقابلہ تھا تب تک سرکاری تعلیمی شعبے کا معیار کسی سے کم نہ تھا۔ تو آنکھوں دیکھی ہے کہ جس بچے کو مشنری یا سرکاری اسکول میں داخلہ نہیں ملتا تھا اسے ناچار کسی غیر مشنری و غیر سرکاری اسکول میں داخل کروانا پڑتا تھا۔جو بچے مشنری و سرکاری اداروں میں زیرِ تعلیم ہونے کے باوجود ٹیوشن پڑھتے تھے انھیں غبی سمجھا جاتا تھا اور ان کے اساتذہ کی پیشہ ورانہ اہلیت کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔

پھر ایک دن کرنا خدا کا یوں ہوا کہ مشنری اسکول قومی تحویل میں لے لیے گئے اور سرکاری اسکول سیاسی سفارشی چراگاہوں میں بدلتے چلے گئے۔ نااہلیت کے اس خلا میں وہ نجی شعبہ پروان چڑھا کہ جس نے اشرافیہ ، اعلی متوسط و تنخواہ دار متوسط طبقے کے بچوں کو اعلی و معیاری تعلیم دینے کا وعدہ کیا۔ رفتہ رفتہ نجی شعبہ ترقی اور سرکاری اسکول تنزلی کا استعارہ بنتا گیا۔ یہ سرکاری و نجی شعبے میں صحت مند مسابقت کی فضا یا پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کا معاملہ نہیں تھا۔ سنہرے مستقبل کی نجی چابی اور تعلیم کے نام پر سرکاری پیلے اسکول کی راندہِ درگاہی میں مقابلہ تھا۔ جو کہانی نجی اسکول سے شروع ہوئی وہ نجی کالج اور نجی یونیورسٹی تک جا پہنچی۔ ایک ہی علاقے میں فرسٹ ورلڈ اور تھرڈ ورلڈ کے نمونے ابھرنے لگے۔ پیسے نے میرٹ کو بھی خرید لیا۔ یوں ہیلتھ سیکٹر ہو کہ ایجوکیشنل سیکٹر دونوں نے ایک صحت مند پاکستان کے بجائے دو پاکستان تخلیق کر دیے ایک اکیسویں صدی کا اشرافی پاکستان اور دوسرا انیسویں صدی کا عوامی پاکستان۔

اس وقت عدلیہ و انتظامیہ کی ساری توجہ اور بحث کا محور پرائیویٹ اسکول کی ہوش ربا فیسیں اور متوسط طبقے کے بچے ہیں۔ سرکاری اسکولوں اور مدارس میں آج بھی پاکستان کے ستر فیصد بچے زیرِ تعلیم ہیں۔ مگر وہ فیس اور معیار کی گیم سے بالکل باہر ہیں۔ ان سے بالکل الگ ساٹھ لاکھ وہ بچے بھی ہیں جن کے مقدر میں سرکاری اسکول تک نہیں۔ ان بچوں کے وجود کی حیثیت پرچھائیں سے زیادہ نہیں۔ ہر چند کہ ہیں پر نہیں ہیں۔ وہ کسی مکینک کی ورکشاپ ، کسی ریستوران کے کچن، کسی بھٹے کے پیچھے یا کسی متوسط گھر میں کسی اور کے بچے کی یونیفارم دھونے اور استری کرنے میں مصروف ہیں۔ وہ کسی بھی ازخود نوٹس کی حدود سے دور بہت دور ہیں۔ وہ کب بڑے ہوتے ہیں، کیوں بڑے ہوتے ہیں اور کب مر جاتے ہیں۔ یہ تو انھیں جننے والے بھی نہیں جانتے۔ یہ وہ بچے ہیں جو پیدا نہیں ہوتے بس سرزد ہو جاتے ہیں۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے بھاری فیسوں کے بوجھ سے جوج رہے اعلی و نیم متوسط طبقے کے والدین کو کچھ نہ کچھ ریلیف ضرور ملے گا۔ مگر اس وقت میری توجہ پانچ چھ سال کا یہ بچہ لگاتار بھٹکا رہا ہے جو مجھ سے اجازت لیے بغیر جلدی جلدی میری کار کے ونڈ اسکرین کو اچک اچک کر گیلے برش سے صاف کرنے کی اپنی سی کوشش کر رہا ہے۔ اس کی آدھی توجہ میرے اسپاٹ چہرے پر اور آدھی لال سگنل پر ہے جو جانے کب ہرا ہو جائے۔

وسعت اللہ خان

توانائی کا بحران، پاکستانی معیشت کو 18 ارب ڈالر کا نقصان

پاکستانی معیشت کو مالی سال 2015 اور 2016 کے دوران 18 ارب ڈالر کا نقصان ہوا جو مجموعی قومی پیدوار کا 6 اعشاریہ 5 فیصد ہے۔ اس بات کا انکشاف عالمی بینک نے اپنی ایک رپورٹ میں کیا ہے ۔ رپورٹ میں توانائی کےشعبے میں ہونے والے اس نقصان کی وجہ شعباجاتی خامیاں اور توانائی کا بحران بتایا گیا ہے عالمی بینک کے مطابق یہ نقصان قبل ازیں لگائے گئے اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔ عالمی بینک کی جانب سے جاری کی جانے والی اس رپورٹ میں پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے 2 دیگر ملکوں بھارت اور بنگلا دیش میں توانائی کی شعبے کی خامیوں کی وجہ سے خطے کی معیشت کو پہنچے والے نقصانات کا احاطہ کرتے ہوئے ان پر قابو پانے کے لیے تجاویز بھی دی گئی ہیں۔

’توانائی کے شعبے میں بگاڑ سے جنوبی ایشیاکے تین ممالک میں پھیلتے اندھیرے سے کتنا نقصان ہوا‘ اس نام سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ پاکستان نے توانائی کی پیداوار میں اضافے اور اس کی عوام تک رسائی کے معاملے میں نمایاں ترقی کی ہے اور 1990 سے 2010 کے دوران مزید 9 کروڑ 10 لاکھ لوگوں کو بجلی کی سہولت فراہم کی گئی ہے تاہم رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 5 کروڑ سے زائد افراد اب بھی بجلی سے محروم ہیں اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کاروبار کے ساتھ صارفین کے معیار زندگی اور صحت کے نقصان کا بھی باعث بن رہی ہے۔

تاہم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ توانائی کے شعبے میں دورس اصلاحات سے توانائی کے شعبے کی خامیوں کو دور کر کے پاکستان کی معیشت کو پہنچنے والے نقصان میں 8 ارب 40 کروڑ ڈالر کی کمی کی جا سکتی ہے اور اس کے ساتھ انفرادی سطح پر ہونے والی مجموعی آمدنی کو 4 ارب 50 کروڑ ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ رپورٹ کے اجرا کے موقع پر جاری ہونے والے ایک بیان میں بینک کے پاکستان میں نمائندے پیچا متھو ایلانگو نے کہا کہ پاکستان توانائی کے شعبوں کی خامیوں پر قابو پا کر اقتصادی نمو کو فروغ دے کر روزگار کے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اصلاحات جو ان خامیوں کو دور کر سکتی ہیں، ان میں موجودہ سہولتوں کا بہتر استعمال ہے جس سے نقصان کا خاتمہ ہو گا ، صاف توانائی اور توانائی کے شعبے میں نجی سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا ۔‘‘

عالمی بینک کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پیدا ہونے والی بجلی کا 20 فیصد خراب بنیادی ڈھانچے ، ناقص میٹریل اور بجلی کی چوری کی وجہ سے ضائع ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ توانائی کے شعبے میں ہونے والے بہت زیادہ نقصانات اور سبسڈری لوڈشیڈنگ کا باعث بنتی ہے جس کی وجہ سے سرمایہ کار ی پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گرڈ کی بجلی تک رسائی نا ہونے کی وجہ مٹی کے تیل کے استعمال بڑھنے سے صحت عامہ پر منفی اثر پڑ رہا ہے جس کی وجہ سے گھروں کے اندر آلودگی میں اضافے سے سانس کی بیماریوں مثلاً تپ دق وغیرہ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ رپورٹ میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ صرف توانائی کی قیمتوں کو آزادنہ طریقے سے مقرر کرنےکے سبب اس کے ترسیلی نظام کی خامیوں سے بجلی کی قیمت میں بہت زیادہ اضافہ ہو سکتا ہے اور اس کی اثرات غریب لوگو ں پر ہوں گے۔

اس صورت حا ل کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی بینک کی رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ توانائی کے شعبے میں دورس اصلاحات وضع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بجلی کی پیداوار کے لیے گیس کی سپلائی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ایسا ٹیرف اختیار کیا جا سکے جو پیداواری کمپنیوں کی کارکردگی کو بہتر بنا سکے۔ رپورٹ کے مصنف اور عالمی بینک کے سینئر ماہر اقتصادیات فین ذاہنگ، رپورٹ کے نتائج اخذ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے کیونکہ چند ایک اصلاحات سے ہی تیزی کے ساتھ اقتصادی فائدے حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ اگر ان اصلاحات کو موثر طریقے سے وضع کیا گیا تو ان کی بدولت غریب لوگوں کو بجلی تک رسائی حاصل ہو گی اور سپلائی کو یقینی بنا کر بجلی کی قیمت میں کمی کے ساتھ ساتھ آلودگی پر قابو پانے میں بھی مدد ملے گی۔

بشکریہ وائس آف امریکہ

پاکستان کو مزید ایک ارب ڈالر سعودی عرب سے موصول

پاکستانی حکام نے سعودی عرب کی جانب سے ایک ارب ڈالر کا امدادی پیکج ملنے کی تصدیق کر دی ہے۔ بی بی سی سے گفتگو میں سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ترجمان عابد قمر نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب نے مزید ایک ارب ڈالر پاکستان کو بھجوا دیے ہیں۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ دوسری قسط کے بعد اب ایک ارب ڈالر کی تیسری اور آخری قسط اگلے ماہ مل جائے گی۔ یاد رہے کہ اکتوبر میں وزیراعظم کے دورہ سعودی عرب کے موقع پر دفتر خارجہ نے اپنے اعلامیے میں بتایا تھا کہ سعودی عرب نے پاکستان کو معاشی بحران سے نمٹنے میں مدد کے لیے ایک سال کے لیے تین ارب ڈالر دینے پر اتفاق کیا ہے۔ اس وقت سعودی عرب تین سال تک مؤخر ادائیگیوں پر تقریباً نو ارب ڈالر مالیت تک کا تیل دینے پر بھی رضامند ہو گیا ہے۔ اس سے قبل پاکستان نے سعودی عرب کو سی پیک منصوبے میں شمولیت کی دعوت بھی دی تھی۔

گذشتہ روز بی بی سی ورلڈ کے پروگرام ہارڈ ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر خزانہ اسد عمر نے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد مغربی ممالک کی سعودی عرب سے دوری اور اس دوران پاکستان کی جانب سے سعودی عرب سے بیل آؤٹ پیکیج لیے جانے کے بارے میں سوال کے جواب میں سعودی امداد کا دفاع کیا۔ ’ہو سکتا ہے کہ مغربی رہنماؤں کو خود سے شرمندگی محسوس ہو جو جمہوریت اور آزادی کی بات کرتے ہیں اور پھر انہی سعودی پیسوں کے لیے جاتے ہیں تاکہ اربوں ڈالر مالیت کے معاہدے کر سکیں۔ مغربی دنیا کے رہنما صدر ٹرمپ اٹھ کھڑے ہوئے اور کھلے عام کہا کہ وہ سعودی عرب سے بہت زیادہ بزنس لے رہے ہیں اور میرے لیے پریشانی نہیں کہ خاشقجی کے ساتھ کیا ہوا۔ ‘

حمیرا کنول
بی بی سی اردو ڈاٹ کام آسلام آباد

تین کروڑ سے زائد پاکستانیوں کی انٹرنیٹ تک رسائی

سینٹرل امریکن انٹیلیجنس یعنی سی آئی اے کی ویب سائٹ ، جو کہ دنیا کے ہر ملک کا اس کی آبادی ، ٹرانسپورٹیشن، کمیونیکیشن سے لے کر عسکری استعداد وغیرہ تک کا ڈیٹا رکھتی ہے اس کےمطابق اس وقت پاکستان میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد تین کروڑ سے زائد ہے۔ جب کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی ویب سائٹ پر موجود اعداد وشمار کے مطابق اس وقت ملک میں 13 کروڑ 99 لاکھ 70 ہزار 7 سو 62 افراد موبائل فون استعمال کر رہے ہیں اور اس کے ذریعے تھری جی اور فور جی استعمال کرنے والوں کی تعداد قریباََ ساڑھے 4 کروڑ ہے۔

براڈ بینڈ سبسکرائبرز کی تعداد تقریباََ پونے 5 کروڑ ہے۔ جس کی وجہ تھری جی اور فور جی کی سہولت اور کم قیمت اسمارٹ فونز کی دستیابی ہے اور ای کامرس اور دیگر ڈیجیٹل ایپلی کیشنز کے استعمال کی وجہ سے گھر اور بزنس اب ایک جگہ اکٹھے ہو گئے ہیں یعنی ہم گھر بیٹھ کر بزنس بھی کر سکتے ہیں اور خریداری بھی کیونکہ بہت سی آن لائن شاپنگ کی ویب سائٹس ہیں جنھیں بہت سے انٹرنیٹ صارفین استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اب اوبر اور کریم کے ذریعے سفر کی سہولت بغیر اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ کے حاصل نہیں ہو سکتی جو کہ ضرورت بنتی جا رہی ہے۔

پاکستان میں انٹرنیٹ کے روز مرہ استعمال میں اضافے کی وجہ سے اس وقت پاکستان انٹرنیٹ استعمال کرنے والی 10 معیشتوں کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔ اس رینکنگ میں پاکستان 9 ویں پوزیشن پر ہے جبکہ ایران 7 اور بنگلہ دیش 10 ویں پوزیشن پر ہے۔ اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی ( یو این سی ٹی اے ڈی) کی جانب سے جاری ہونے والی سالانہ رپورٹ کے مطابق 2012 ء سے 2015 ء کے دوران 16 ملین سے زائد پاکستانی آن لائن ہوئے جو ملک میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کی مجموعی تعداد کا 47 فیصد بنتا ہے۔ جبکہ ایک سروے کے مطابق اسمارٹ فون رکھنے والے 73 فیصد صارفین موٹر رائیڈ سروس کیلئے معاون ایپلیکیشنز استعمال کر رہے ہیں۔

گوگل کے تحت ایک ہزار سے زائد پاکستانیوں کے سروے کے بعد جاری کی گئی ’’پاکستان ڈیجیٹل کنزیومر اسٹڈی‘‘ نامی رپوٹ کے مطابق پاکستانی ڈیجیٹل صارفین اب انٹرنیٹ سے پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ منسلک رہتے ہیں۔ سروے میں شامل 70 فیصد افراد روزانہ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں جبکہ 60 فیصد کے مطابق انٹرنیٹ ہی وہ جگہ ہے جہاں وہ اپنا زیادہ تر ذاتی وقت گزارنا پسند کرتے ہیں۔
پاکستان میں ٹی وی دیکھنے والے افراد 41 فیصد اور اخبار پڑھنے والے افراد 24 فیصد ہیں، جبکہ 2012ء میں یہ تناسب انٹرنیٹ کو ترجیح دینے والوں سے کم تھا۔ پاکستانی صارفین کیلئے انٹرنیٹ استعمال کرنے کیلئے سب سے زیادہ قابل ترجیح جگہ گھرہے، جبکہ صرف موبائل فون استعمال کرنے والے صارفین بھی گھر کے وائی فائی کنکشن کی مدد سے انٹرنیٹ استعمال کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ڈیسک ٹاپ اور موبائل انٹرنیٹ پر ہونیوالی 3 بنیادی سرگرمیوں میں سوشل میڈیا، ای میل اور عام ریسرچ شامل ہیں، جبکہ دلچسپ بات یہ ہے کہ علوم سیکھنے اور سیکھانے کیلئے آج کے ڈیجیٹل پاکستانی اپنے اسمارٹ فونز پر آنے والے علمی مواد کو ترجیح دیتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان میں اسمارٹ فونز پر آن لائن بینکنگ، مالی خدمات اور سرمایہ کاری کے حوالے سے ریسرچ اور بلوں کی ادائیگی نے بھی مقبولیت حاصل کی ہے۔ یہ تو تھی پاکستان کی صورتحال لیکن ابھی بھی دنیا کی آدھی آبادی کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں ہے تاہم کچھ ممالک میں اسے استعمال کرنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ ایک رپورٹ میں یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ تمام ممالک کی حکومتوں کو اپنی عوام کو انٹرنیٹ استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے تاکہ کوئی بھی ڈیجیٹلائزیشن میں پیچھے یا اس سے محروم نہ رہ جائے۔

بین الاقوامی سطح پر 2015ء میں ای کامرس کے ذریعے 25 کھرب کی خرید و فروخت ہوئی اور آئی سی ٹی سروسز کی برآمدات میں 2010ء سے 2015ء کے درمیان 40 فیصد اضافہ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق اس صنعت میں 100 ملین لوگ موجود ہیں۔ 2016ء میں دنیا بھر میں تھری ڈی پرنٹرز کی خرید و فروخت دگنی رہی اور سب سے زیادہ روبوٹس فروخت ہوئے۔ 3 کروڑ 80 لاکھ افراد نے دوسرے ممالک سے انٹرنیٹ کے ذریعے خریدو فروخت کی۔ رپورٹ میں یہ بھی پیش گوئی کی گئی ہے کہ دنیا میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد 2019ء میں 2015ء کے مقابلے میں 66 فیصد زیادہ ہو جائے گی۔

تاہم رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ انٹرنیٹ کی مختلف سروسز کے استعمال کا تناسب مختلف ہے۔ مثلاً دنیا بھر میں صرف 16 فیصد افراد انٹرنیٹ کے ذریعے بل ادا کرتے ہیں اور لاطینی امریکا اور افریقا میں اب بھی تھری ڈی پرنٹرز کا استعمال فقط 4 فیصد ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں انٹرنیٹ کے استعمال کے تناسب میں مردوں اور عورتوں میں بہت فرق ہے۔ اس رپورٹ میں 25 ممالک کی فہرست بنائی گئی ہے اور وہاں سوشل نیٹ ورک اور آن لائن خریدو فروخت کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس میں ایران بھی شامل ہے جہاں آن لائن خرید و فروخت کا تناسب تو 10 فیصد ہے تاہم سوشل نیٹ ورکس پر صارفین کی شمولیت کا تناسب 60 فیصد ہے۔

فاروق احمد انصاری

بشکریہ روزنامہ جنگ